پاکستان – ضروری تو نہیں

جی ہاں ، پاکستان ضروری تو نہیں ، دنیا پاکستان کے بنا بھی چل رہی تھی نا تو پاکستان کیوں بنا ؟ اس اگست میں میں نے سوچا ہے کہ پاکستان کے حق میں کوئی بات نہ کی جائے ، کہ پاکستان کے حق میں تو بات کرنے والے بہت ہیں ، پاکستان کے مخالف تو نہ ہونے کے برابر ہیں ، اس لیے میں پاکستان کے خلاف بولوں گا ۔ ۔ ۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی تقریری مقابلے میں حق میں اور مخالفت میں تقاریر ہوتی ہیں ، میں کسی مقابلے کا حصہ تو نہیں ہوں ۔ ۔ مگر میں نے موضوع کی مخالفت میں بولنا ہے ، کر لو جو کرنا ہے !!

تو بات ہو رہی تھی کہ پاکستان ضروری تو نہیں تھا ، بلکہ بقول ہمارے الطاف بھائی کے پاکستان دنیا کا سب سے بڑا “بلنڈر“ تھا ، پہلی بات ہے یہ نام ہی غلط ہے ، پاکستان یعنی پاک سر زمین ، یعنی ہندوستان کی زمین ناپاک تھی جو یہ پاک زمین بنائی گئی ، اور یہ پاک زمین بھی تو ناپاک ہندوستان ہی تو تھی ، ہم نے تو نام بدل دیا ، بالکل ایسے جیسے بمبئی کا نام ممبئی کر دیا گیا یا کلکتہ کا نام کولکتہ ہو گیا ۔ ۔ ۔ تو بنارس چنائی بن کہ بدل تو نہیں گیا ؟ اس لیے پاکستان کی زمین بھی پاک نہیں ہوئی ، گو آزادی کے وقت اسے لاکھوں بے گناہوں کے خون سے بھی دھویا گیا اور آج تک دھویا جا رہا ہے

اصل میں لوگ پاکستان کے قیام کو ہی غلط سمجھتے ہیں کیونکہ آج ساٹھ سال بعد ہمیں پتہ چلا ہے کہ پاکستان ایک سیکولر ملک کے طور پر بنا تھا ، اور آج تک ہم جو اسلام کو پاکستان سے جوڑتے رہے ہیں وہ سب غلط ہے ، اس سلسلے میں ہمارے بہت بڑے بڑے دانشور اپنی تحقیق سے ثابت کر چکے ہیں کہ اسلام کا پاکستان سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ، قائد اعظم (یعنی جناح صاحب) بہت ہی بڑے سیکولر انسان تھے ، بھائی جس شخص نے ایک پارسی لڑکی سے عشق لڑا کر شادی کی ہو ، گوکلے جس کا بیسٹ فرینڈ ہو ، سروجنی نائیڈو جسکی تعریف کرتے نہ تھکے ۔ ۔۔ جو اپنی بہن کی شادی تک نہ ہونے دے ۔ ۔۔ اسکا بھلا اسلام سے کیا تعلق ۔ ۔ ۔ جس شخص نے ہمیشہ لباس ہی انگریزی پہنا ہو ، بولتا ہی انگریزی ہو ، زندگی کے بہترین سال اسنے پیسہ کمانے میں گزارے ہوں ، بھلا اسکا اسلام سے کیا تعلق ۔ ۔۔ اور اُس نے ایسا ملک کیوں بنانا تھا کہ جو اسلام کی بنیاد پر بنا ہو ۔ ۔ ۔؟؟ جناح صاحب کی زندگی پر بعد میں نظر ڈالیں گے پہلے پاکستان کو تو دیکھ لیں

تو پاکستان ایک سیکولر ملک بنا تھا ، اسے بعد میں ملاؤں نے ہائی جیک کر کہ اسلامی جمہوریہ بنا ڈالا ، اور ہاں یہ جو لاکھوں بے وقوف مرے تھے پاکستان آنے کے لیے ۔۔ ۔ انہیں لازمی مِس گائیڈ کیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ ورنہ ایک سیکولر ملک سے دوسرے سیکولر ملک میں جانے کے لیے جان دینا بے وقوفی نہیں تو اور کیا تھا ۔ ۔ ۔ اور پاکستان تو تھا ہی سیکولر ، بھئی جس کا وزیر خارجہ ایک قادیانی ہو (جو جناح کا جنازہ تک نہ پڑھے ) ، جس کی کابینہ میں ہندو وزیر ہو ، جسکی فوج کا سربراہ عیسائی انگریز ہو ۔ ۔ ۔ تو اسلامی ممللکت کہاں سے آ گئی ؟؟ جناح صاحب گیارہ اگست والی تقریر میں چیخ چیخ کر کہتے رہے کہ پاکستان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں مگر کوئی سنتا ہی نہیں انکی تقریر (کیونکہ ملتی نہیں ہے پوری )

مگر سمجھ نہیں آتی جب اقبال نے کہا تھا کہ انتظامی طور پر مسلم ریاستیں الگ کر دی جائیں تو پاکستان کی ضرورت کیا تھی ؟؟ اور پھر اسلام کا تڑکا کیوں لگایا گیا ؟ اصل میں پاکستان بنگالی جاگیرداروں نے بنایا تھا ۔ ۔۔ اور اسی لیے بنگال لے کر علیحدہ ہو گئے ، باقی رہا موجودہ پاکستان ۔ ۔ ۔ تو اسکی آزادی تو تھی ہی غلط ۔ ۔ ۔ لفظ آزادی بھی غلط ہے ، علیحدگی ۔۔ ۔ میرے خیال میں یہ بھی غلط ہے ۔ ۔۔ ہندوستان کا بٹوارہ ۔ ۔ ۔ ہاں یہ ٹھیک ہے ، بھئی انگریزوں سے آزاد تو ہندوستان ہوا تھا نا ، پھر ہم ہندوستان سے الگ ہو گئے ، پھر بنگال ہم سے الگ ہو گیا ، اور اب بلوچستان اور سندھ علیحدگی کے لیے تیار ہے ، پنجاب میں سرائیکی الگ ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ پوٹھوہار الگ ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔۔ میرے خیال میں کچھ عرصے بعد راولپنڈی کے جی ایچ کیو کے کسی جنرل کی ٹیبل کا نام پاکستان رہ جائے گا ہے نا ۔ ۔۔ باقی رہی آزادی کی بات ۔ ۔۔ تو اس سرزمین میں بے وقوفوں کی کمی نہیں جو لوگ لاکھوں کی تعداد میں ایک “ہندو“ پروپگنڈے پر اپنی جانیں دے دیتے ہیں کہ پاکستان اسلامی ملک بنے گا ۔ ۔۔ اور تو اور یہاں ایسے بھی لوگ موجود تھے کہ جو لندن جا کہ کہتے تھے کہ مجھے اب ایک غلام ملک میں جا کہ نہیں مرنا اور آزاد ملک میں ہی مر جاتے تھے (جزباتی لوگ) ۔ ۔ ۔۔ اور ابھی بھی ایسے موجود ہیں جو لندن جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں آزاد پاکستان میں واپس نہیں آنا ۔۔ ۔ ۔ مگر جذباتی نہیں ہوتے ۔ ۔۔ کیونکہ پتہ نہیں کب ہوا کا رُخ بدل جائے اور انہیں پاکستان آنا پڑے ایک آزاد ملک سے ۔ ۔ ۔ اور پاکستان کے بننے کی غلطی کو ختم کرنا پڑ جائے ۔ ۔ کیونکہ ۔۔ ۔ ۔ پاکستان ۔۔ ۔ ضروری تو نہیں ۔ ۔ ۔۔
(جاری ہے )

رگوں میں اندھیرا

1983 پی ٹی وی کا ڈرامہ "رگوں میں اندھیرا” ، آج جانے کیوں یاد آیا تو دیکھا جب تو بہت کچھ آنکھوں میں پھر گیا ، خاص کر جمیل فخری کو دیکھ کر آنکھیں بوجھل ہو گئیں ، زیب رحمٰن ، عابد بٹ ، نگہٹ بٹ ، انور علی ، عرفان کھوسٹ ، منا لاہوری اور مرکزی کردار میں راحت کاظمی ، ایسے پتہ چلا کہ آج کی کہانی ہی تھی ، ہمارے رائٹر سوئے نہیں تھے جیسے آج سو گئے ہیں ، وہ مستقبل دیکھ رہے تھے ۔ ۔ ۔۔ بے مثال اداکاری ، لاجواب کردار نگاری اور بہترین سکرپٹ ، زبردست ڈائریکشن ۔ ۔۔ تعریف کے الفاظ کم ہیں

مگر جو سین دل کو کاٹ گیا ، اسے اس تصویر میں پیش کر رہا ہوں ، مرحوم جمیل فخری اور سارہ (میں نام اگر بھول گیا ہوں تو بتا دیجیے گا ) ، آج کے مسنگ پرسن کی یاد دلا گیا ۔۔ ۔ ۔ یہ سین دس بار دیکھیں اور یاد رکھیں کہ کل ایک کے ساتھ یہ ہوا تھا اب ہزاروں کے ساتھ ہو رہا ہے ، کیونکہ اب ہم خاموش ہیں ۔ ۔۔ ۔ ۔
ragon-mai-andheera

ایک بوڑھے فوجی کے آنسو ،اس سے بچھڑنے کے بیالیس سال بعد ۔ ۔۔

رشتے میں تو میرے ماموں لگتے ہیں ، اور کیونکہ میرا گھرانہ تھوڑا “دقیانوسی“ ہے اس لیے بے تکلفی سے بات نہیں ہوتی ، مگر آج میں نے ان سے خصوصی ریکویسٹ کی کہ آج مجھے کچھ بتائیں ، آپ اکہتر کی جنگ میں جے سور (مشرقی پاکستان ) میں تھے ، اور پھر ان نوے ہزار ہتھیار ڈالنے والوں میں تھے جو بعد میں جنگی قیدی بنے ، اور پھر واپس آئے اور ایک ٹوٹے ہوئے پاکستان کو دیکھا ، اور اب تک بدلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ۔۔ ۔ ۔ آج بتائیں مجھے کچھ ۔ ۔ ۔اور میں ایک بے درد صحافی کی طرح اور ظالم وکیل کی طرح جرح بھی کرنا چاہتا ہوں ، اور آپ نمائندگی کریں اس وقت کے پاکستانی کی جو ڈھاکہ کو ڈبونے کا حصے دار تھا ۔ ۔ ۔ ۔ تو جو گفتگو ہوئی ، اسے پیش کر رہا ہوں ، میری گذارش ہو گی ، کہ پوری پڑھیے گا ، شاید آپ کو بھی کچھ جواب مل جائیں

پوچھو کیا پوچھنا ہے
آپ کیسے گئے مشرقی پاکستان؟
مجھ سے سی او نے پوچھا کہ بنگال جاؤ گے ، میں نے کہا کیوں نہیں ، وہ بھی پاکستان ہے ، ضرور جاؤں گا
پوچھا کیوں تھا ؟
لوگ نہیں جانا چاہتے تھے وہاں ؟
نفرت کرتے تھے بنگالیوں سے ؟
نفرت ، نہیں نفرت کیوں کرتے ، بنگال بہت دور ہے ، اور وہاں پوری پوری یونٹ جاتی تھی ، اور بہت عرصہ رہتی تھی ، اسلیے فوجی گھر سے دور زیادہ دیر نہیں رہ پاتے تھے
اچھا، تو جب آپ گئے تو وہاں فسادات ہو رہے تھے
نہیں نہیں ، ہم الیکشن کی سیکیورٹی کے لیے گئے تھے ، فسادات تو بہت بعد ہوئے ، ہاں ٹنشن بہت تھی
کیوں ؟
وہاں بہت پہلے زہر گھول دیا گیا تھا ، اسکولوں میں زیادہ تر استاد ہندو تھے ، اور پاکستان بننے کے بعد والی نسل جوان ہو چکی تھی ، جنکے ذھنوں میں زہر بھرا تھا
کیا وہ اسلام سے نفرت کرنے لگے تھے ؟
نہیں ایسا بھی نہیں تھا، ہاں بھارتی لٹریچر بہت تھا ، حتہ کہ اسکولوں کالجوں میں جب بھی کچھ ہوا ، تو وہاں سے بھارتی مواد بہت ملتا تھا
تو اس پر کوئی ایکشن نہیں ہوتا تھا ؟
نہیں ۔۔ ۔ ۔عام عوام کو اس زہر کا اندازہ نہیں تھا ۔ ۔۔ ۔ کیونکہ اسلام کے خلاف نہ تھا ، ہاں یہ کہا جاتا تھا کہ مغربی پاکستان تماری محنت کھا رہا ہے ۔ ۔۔ اور تم سے اپنا کھانا پینا لیتا ہے تمہیں کچھ نہیں دیتا
تو کیا ایسے ہی تھا ؟
نہیں ، مشرقی پاکستان میں چاول ، چائے ، پٹ سن پیدا ہوتی تھی ، جن میں صرف چائے ہی ایسی تھی جو مغربی پاکستان میں زیادہ جاتی تھی ، مغربی پاکستان والے گندم میں خود کفیل تھے ، چاول انکی دوسری بھی نہیں تیسری غذا تھی ، اور کپاس بھی بہت تھی
تو پھر زبان کی وجہ سے نفرت ہوئی ؟
نہیں ، یہ بھی وجہ نہیں تھی ، بلکہ وہاں تو لوگ اردو کو پسند کرتے تھے ، مگر ایک بیج تھا نفرت کا جو بویا گیا ، اور یہ بیج تقسیم کے وقت ہی بویا گیا ، اور ہمارے ناعاقبت اندیش قیادت نے اسے پروان چڑھا دیا ، اور ٧١ تک یہ فصل پک گئی ، تو علیحدگی کی تحریک بن گئی ۔ ۔۔
اچھا ٹھیک ہے ، تو اس علیحدگی کی تحریک میں آپ نے مطلب فوجی ہونے کی وجہ سے ، آپ نے اپنے پاکستانی بھائیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا ، کیوں ؟
ہم نے ، یہ کون کہتا ہے ؟ میرے اس سوال پر انکا رنگ متغیر ہو گیا تھا
ہم نے تو آخری دم تک لڑے ، ہماری کمک بند ہو گئی تھی ، گھٹنوں گھٹنوں تک دن رات پانی میں رہتے تھے ، جسم پر پھوڑے بن گئے تھے ، روز کہتے تھے کہ آج کمک آئے گی ، کل آئے گی ، مگر کمک نہ آئی اور آرڈر گیا ، سرنڈر کا
اور آپ نے سرنڈر کر دیا ۔ ۔۔
ہاں ، ہم فوجی ہیں ، ہم اپنی کمان کے انڈر ہوتے ہیں ، پھر بھی ہم ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں تھے ، مگر جب مغربی پاکستان سے حکم آیا ، تو جنرل نیازی نے رات کو سب کے سامنے یہ حکم رکھا ، اور مشورہ مانگا ۔ ۔
کہ میں جنرل اروڑاہ کو گندے لطیفے سنانے لگا ہوں
وہ ہنس پڑے ، جنرل نیازی کیا کرتا ، جب اسکے پاس کچھ تھا ہی نہیں ، ہم نے ہر پہلو پر غور کیا تھا ، ایسے ہتھیار نہیں ڈالے تھے ، ہمارے پاس جو کچھ تھا اس سے ہم ایک دو دن لڑ سکتے تھے ، ہمیں نہیں معلوم تھا ہماری فوج میں کون ہمارے ساتھ ہے کون نہیں ، پھر ہم لڑتے کس سے ؟ اپنوں سے ؟ بھارت کی طرف جاتے تو پیچھے سے مکتی باہنی شانتی باہنی مارتی ، انکو روکتے تو سر پر بھارتی گولہ باری تھی ۔ ۔۔ اور ہائی کمان ہار مان چکی تھی ۔ ۔۔ ڈسپلن کے مطابق ہم کمان کے پابند تھے
اچھا تو فوجیوں نے کسی بنگالی کو نہیں ؟
مارا ، مگر جب وہ سامنے آئے ، ہتھیاروں کے ساتھ ، اور پھر یہ ہتھیار ایک اور وجہ سے بھی ڈالے گئے
کیا ؟
نہتے نوجون ، جئے بنگہ بندھو کا نعرہ لگاتے ، اور سینہ تان کہ سامنے آ کہ کہتے مارو گولی ۔ ۔ ۔
اور آپ مار دیتے ؟
ہاں ایسا بھی ہوا ہے ۔ ۔ ۔۔ ہم سمجھتے تھے کہ یہ انڈینز ہیں ، پھر بھارتی ان میں ایسے مکس ہو گئے کہ پہچان ممکن نہ رہی ۔۔ ۔ ۔
اچھا، مشرقی پاکستان کیسا تھا ؟
کیسا تھا ؟ ۔ ۔ ۔ انکی آواز بھرا گئی ، بہت خوبصوت ، ہرا بھرا ، دریا ، سمندر ، اور مچھلیاں ایسے آتیں کہ جھرنوں میں بھر جاتیں ۔ ۔۔ اور پھر انکی آنکھیں نم ہوتی چلی گئیں
سلہٹ ، ڈھاکہ، کُھلنہ ، جے سور ، چٹاگانگ ۔ ۔۔ پتہ ہے وہاں ناریل خود رو اگتے تھے ، اللہ نے درختوں کو کھیتوں کو بھرا دیا تھا وہاں ۔۔ ۔ ۔ وہ ہری بھری جنت تھی ہماری ۔۔ ۔ آنسو بہ نکلے تھے ۔۔ ۔
اور پھر آپ انڈیا کے قیدی بن گئے ۔ ۔۔ ۔
ہاں ، اور پتہ ہے جب ہم نے ہتھیار پھینک دیے گے ، ایک ٹیلے پر بیٹھے ریڈیو پاکستان سُن رہے تھے ، جو ابھی تک کہ رہا تھا کہ ہماری فوجیں بہادری سے لڑ رہی ہیں ، اور ہم اس کھلے جھوٹ پر بھارتیوں کے آگے شرمندہ ہو رہے تھے
خیر تو آپ کے خیال میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذمہ دار کون تھا؟
سیاستدان ۔ ۔ ۔ ۔ مجیب اور بھٹو ۔ ۔ دونوں تھے
اور یحییٰ ؟؟
وہ بھی تھا ، مگر اس سے بہت پہلے فوج غلط راستے پر چل چکی تھی
کیا مطلب ؟
مارشل لاء کے بعد فوجیوں کو پتہ چلا کہ ہم تو دن رات سخت ترین زندگی گزارتے ہیں ، اور جنکی حفاظت کرتے ہیں وہ تو سب کچھ کھا رہے ہیں ، اور پھر فوج کو بھی خون لگ گیا ، جب فوج نے سیاست میں قدم رکھا
اچھا بھارتی قید کیسی تھی ؟
بہت اچھی ، بس قید تھی ، جو وردی تھی وہ ہی پاس رہی ، کھانا اچھا تھا ، سلاٹر ہاؤس میں مسلمان ہی ذبیحہ کرتے تھے ۔ ۔ ۔۔
اچھا جب آپ آزاد ہوئے پاکستان آئے تو کیا بدلا
کچھ بھی نہیں ؟ سب ویسے کا ویسا تھا
یعنی کوئ دُکھ کہ پاکستان کٹ گیا ۔۔ ۔ کوئی افسوس تھا
نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک درد سے بھری آواز تھی انکی اور پھر انکی آنکھیں بھیگ گئیں
ہم تو سوچتے تھے کہ ہمیں آتے ہی محاذ پر بھیجھا جائے گا ، مگر ۔ ۔ ۔۔ مغربی پاکستان کے لوگ تو ایسے تھے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ، میں حیران تھا کہ یہ وہ ہی قوم ہے جو ٦٥ کی جنگ میں جذبے کی بلندی پر تھی اور آج ۔ ۔ ۔ بالکل بے حس ۔ ۔ ۔
یعنی ہمیں کوئی دُکھ نہیں تھا ۔۔ ۔
نہیں ۔۔ ۔ بالکل نہیں ۔۔ ۔ ۔ شاید یہ وہ پہلی بے حسی تھی ۔۔ ۔ جسکا نتیجہ آج کی بے بسی ہے ۔ ۔۔ ۔
کیا بنگالیوں کو بھی دُکھ تھا پاکستان سے الگ ہونے کا ؟
میں سمجھتا ہوں کہ ہے اور دن بہ دن یہ دُکھ اور احساس بڑھ رہا ہے ، مگر اس پاکستان کی بے حسی کی وجہ سے شاید انکا احساس پنپ نہ پائے ۔ ۔۔ ۔
یعنی آپ پاکستان سے مایوس ہیں
نہیں ، بہت جلد پاکستان بدل جائے گا ، میری خواہش ہے وہ ہنستا ہوا پاکستان میں دیکھوں ۔ ۔۔ جو اکہتر سے پہلے کا تھا ۔ ۔ ۔ ۔
کیسے؟
نئی نسل کو اپنا ماضی بتا کر ، پاکستان سے محبت کر کہ ۔ ۔ ۔۔ اب اسے ٹوٹنے نہیں دینا ۔۔ ۔ ۔ ۔ دشمن کو سب سے بڑا ڈر ہمارے نظریے سے ہے ، جو وہ توڑ رہا ہے ، ہماری نئی نسل کو بتانا ہے کہ پاکستان کیوں ضروری ہے
کیا آپ کے پاس مشرقی پاکستان کی کچھ یادیں تصویروں میں ہیں ؟
نہیں ، ہم تو بس ایک دری اور فوجی بوٹوں میں قید ہوئے ۔ ۔۔ سب وہاں رہ گیا ۔ ۔ ۔۔ شاید یہ ہی رشتہ ہے وہاں سے کہ وہاں ہماری یادیں بہت ہیں ، شاید وہاں کے کچھ لوگ یاد کرتے ہوں ہمیں ؟
کیا نوے ہزار قیدیوں میں ہزار فوجی ایسے نہیں جو یہ کہ سکیں کہ ہم پر جھوٹا الزام ہے ، ہم نے وہاں ظلم نہیں ،تم یہ سب دنیا کو بتاؤ گے تو یہ بات بھی کہنا کہ ، نوے ہزار قیدیوں کو اب بولنا ہو گا کہ پاکستانی فوج پر الزام غلط ہے ۔ ۔ ۔ ہمارا اصل دشمن بھارت ہے ، اور وہ کبھی بھی ہمارا دوست نہیں بنے گا اور کبھی بھی ہمیں زندہ نہیں دیکھنا چاہے گا ۔ ۔ ۔۔ کاش کوئی تمہاری طرح اس وقت کے فوجیوں سے یہ باتیں پوچھے جو تم نے آج مجھ سے پوچھیں ۔ ۔۔
میں چُپ ہو گیا ، کہ میرا میڈیا ۔۔ ۔ ۔ تو امن کی آشا کے نشے میں ہے ۔۔ ۔ ۔ وہاں بنگال کی سسکتی بھاشا کہاں سنائی دے گی ۔۔ ۔
آج مجھے اپنے ماموں کے بہتے ہوئے آنسوؤں میں اپنا مشرقی پاکستان ایسے ہی آنسو بہاتا نظر آیا ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ شکایت کرتا نظر آیا

ہم کہ ٹہرے اجنبی ، اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا، کتنی ملاقاتوں کے بعد ۔۔ ۔ ۔

میں ٹوٹے ہوئے پاکستان میں پیدا ہوا تھا ، مگر مشرقی پاکستان کو اپنی فلموں میں دیکھا ، درشن ، چکوری ، جہاں ہم وہاں تم ، شبانہ ، مصطفٰی جیسے اداکار ۔ ۔۔ وہ بلیک اینڈ وائٹ بھی کلر تھا
اور آج کا کلر صرف بلیک ہے ۔ ۔ ۔ ۔

اے میرے پیارے وطن ، اے میرے بچھڑے چمن
تجھ بہ دل نثار ہے ، تجھ سے مجھکو پیار ہے

آج اپنے مشرقی پاکستان کے لیے میرے آنسو بہے ہیں ، اس سے بچھڑنے کے بیالیس سال بعد ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔Image

مجھے جینے دہ ۔ ۔

میں ایک عام عادمی ہوں ، نہ تو بہت پڑھا لکھا ہوں نہ ہی میرا آئی کیو لیول ایکسٹرا آدینری ہے ، میں بے روزگار ہوں ، بیمار ہوں ، فیملی والا ہوں ، کرائے پہ رہتا ہوں ، مجھے جینے کے لیے کھانے کے ساتھ دوا بھی ضروری ہے ، مگر کیا کروں اب یہ سب کچھ چھن رہا ہے ، جو تھوڑی بہت جینے کی لگن تھی وہ بھی نہیں رہی ، کیونکہ میں مایوس ہو چکا ہوں ، اگر مایوسی کفر ہے تو میں کافر ہو چکا ہوں ، پتہ نہیں کافر کسے کہتے ہیں ، میرے ملک میں تو ہر کوئی ایک دوسرے کو کافر کہتا ہے ، اتنے کافروں میں ایک اور کافر کا اضافہ ہو گیا تو کیا فرق پڑے گا ؟ کیا کہا مجھے امید رکھنی چاہیے ، کیسی امید کونسی امید ؟ ارے یار یہاں عجیب دستور ہے ، گوالا پٹرول مہنگا ہونے پر دودھ مہنگا کر دیتا ہے ، سبزی مہنگی ہو جاتی ہے ، گھی چینی آٹا سب مہنگا ہو جاتا ہے ، کسی کی زندگی میں فرق نہیں آتا ، جسکو اللہ نے دیا ہے تو بس اب اسکو کوئی کمی نہیں ، میں اپنے بچپن سے سُنتا آیا ہوں کہ اگر کوئی بُرا کرے تو اسکے ساتھ بُرا ہوتا ہے ، اگر اچھے دن نہیں رہے تو برے دن بھی نہیں رہتے ، مگر شاید یہ بات میرے لیے نہیں ہے ، یا اس ملک کے غریبوں کے لیے نہیں ہے ، یا یہاں کا خُدا کوئی اور ہے ؟؟ اب کہو گے کہ شرک کر رہا ہے ، ارے میں کہاں شرک کروں گا ؟ جب اللہ نے خود دولت و طاقت والوں کو اختیار دیا ہے تو میں کیوں شرک کروں گا، اللہ نے ان لوگوں کو اپنے ساتھ دولت اور طاقت میں شراکت دی ہے ، اب وہ بندہ جس کے پاس زرا سا بھی اختیار ہے وہ ہی خُدا بنا پھرتا ہے ، چاہے وہ دودھ والا ہو یا میرا مالک مکان ۔۔ ۔ ۔ وہ سڑک پے بیٹھا سپاہی ہو یا میرے ملک کا وزیراعظم ۔ ۔ ۔ ہر کوئی اپنا اختیار جتا رہا ہے اور اپنی “خُدائی“ طاقت کا بھر پور مظاہرہ کر رہا ہے ۔ ۔۔ ۔ میں اور بھی بہت کچھ کہ سکتا ہوں ۔ ۔ ۔ مگر ابھی صرف اتنا کہوں گا ۔۔۔ ۔ میں جینا چاہتا ہوں ۔۔ ۔ خدا را ، مجھے جینے دو ۔ ۔ ۔۔ مجھے جینے دو ۔۔ ۔ ۔ مجھے جینے دو ۔ ۔۔

اظہر اظہر مرے اظہر

آگ میں جلا دیا
مجھے یوں مٹا دیا
کہا تھا پیار ہے مجھے
نہیں نہیں کہلا دیا

رگوں میں زہر ہے بھرا
زہر سا مجھے بنا دیا
لگا تھا یوں کہ زندگی
پل میں موت کو لا دیا

وہ خواب تھا مگر مرا
نہیں تھا اسے بتا دیا
وہ تھا مگر نہیں بھی تھا
وہ ہے مگر یہ لگا پتا

اظہر اظہر مرے اظہر
نو نے مجھے ہے کیا دیا
وفا جفا کے بیچ میں
دیکھ تو نے لا کھڑا کیا

میرے نصیب میں اظہر ، کیوں کوئی بھی نہیں

آج دل اداس ہے ، کوئی تو سکون دے
کوئی تو آرام دے ، کوئی تو جنون دے

مر کہ بھی نہ مرے ، عجیب ہہے یہ زندگی
کوئی تو قرار دے ، کوئی تو سکون دے

ابھی صدائیں نہ دو ، ابھی سانس ہے میری
مجھے موت سی زندگی ، کرب سا سکون دے

گلی گلی میں خاک ہے ، جو سر میں ہے پڑی
جنون جنون ہے مگر مجھے جنوں سا جنون دے

میرے نصیب میں اظہر ، کیوں کوئی بھی نہیں
مجھے کوئی ملا نہیں جو مجھے جنون دے

اظہر یہ دنیا ، سب جھوٹی ، پھر بھی تو کیوں نہیں سمجھا

جب کوئی بہت بڑا دُکھ دے ، اور وہ دے جسے آپ اپنی زندگی سمجھتے ہو ، تو بے ساختہ ایسے ہی اشعار نکلتے ہیں ، جنہیں لوگ لائیک کرتے ہیں ، مگر کبھی نہیں سوچتے کہ کس کرب سے گذر کر یہ لکھا گیا ہے

ہم پیاسے لوگوں کی تو یہاں، کوئی پیاس بجھانے آیا نہیں
ہم ہنستے رہے ہم گاتے رہے ، دکھ میں بھی کسی کو رلایا نہیں

جو درد دیا اپنوں نے دیا ، جو دکھ سہے اپنوں کے سہے
کیا لٹاتے ہم اس دنیا میں ، کہ پاس اپنے سرمایا نہیں

جو بھی ملا ، اُس نے کھیلا ، کھیل کہ پھر تنہا چھوڑ دیا
میرے نصیب میں یار رب ، پیار کے کا کیوں کوئی سایا نہیں

جب دن نکلا ، امید بندھی ، جب شام ہوئی ، دل ٹوٹا
دھوپ نے ہم کو جلا کہ راکھ کیا ، رات میں سُکھ کوئی پایا نہیں

اظہر یہ دنیا ، سب جھوٹی ، پھر بھی تو کیوں نہیں سمجھا
جس نے بھی یہاں پیار کیا ، سُکھ اس نے کبھی بھی پایا نہیں