اظہر اظہر مرے اظہر

آگ میں جلا دیا
مجھے یوں مٹا دیا
کہا تھا پیار ہے مجھے
نہیں نہیں کہلا دیا

رگوں میں زہر ہے بھرا
زہر سا مجھے بنا دیا
لگا تھا یوں کہ زندگی
پل میں موت کو لا دیا

وہ خواب تھا مگر مرا
نہیں تھا اسے بتا دیا
وہ تھا مگر نہیں بھی تھا
وہ ہے مگر یہ لگا پتا

اظہر اظہر مرے اظہر
نو نے مجھے ہے کیا دیا
وفا جفا کے بیچ میں
دیکھ تو نے لا کھڑا کیا

Advertisements

میرے نصیب میں اظہر ، کیوں کوئی بھی نہیں

آج دل اداس ہے ، کوئی تو سکون دے
کوئی تو آرام دے ، کوئی تو جنون دے

مر کہ بھی نہ مرے ، عجیب ہہے یہ زندگی
کوئی تو قرار دے ، کوئی تو سکون دے

ابھی صدائیں نہ دو ، ابھی سانس ہے میری
مجھے موت سی زندگی ، کرب سا سکون دے

گلی گلی میں خاک ہے ، جو سر میں ہے پڑی
جنون جنون ہے مگر مجھے جنوں سا جنون دے

میرے نصیب میں اظہر ، کیوں کوئی بھی نہیں
مجھے کوئی ملا نہیں جو مجھے جنون دے

اظہر یہ دنیا ، سب جھوٹی ، پھر بھی تو کیوں نہیں سمجھا

جب کوئی بہت بڑا دُکھ دے ، اور وہ دے جسے آپ اپنی زندگی سمجھتے ہو ، تو بے ساختہ ایسے ہی اشعار نکلتے ہیں ، جنہیں لوگ لائیک کرتے ہیں ، مگر کبھی نہیں سوچتے کہ کس کرب سے گذر کر یہ لکھا گیا ہے

ہم پیاسے لوگوں کی تو یہاں، کوئی پیاس بجھانے آیا نہیں
ہم ہنستے رہے ہم گاتے رہے ، دکھ میں بھی کسی کو رلایا نہیں

جو درد دیا اپنوں نے دیا ، جو دکھ سہے اپنوں کے سہے
کیا لٹاتے ہم اس دنیا میں ، کہ پاس اپنے سرمایا نہیں

جو بھی ملا ، اُس نے کھیلا ، کھیل کہ پھر تنہا چھوڑ دیا
میرے نصیب میں یار رب ، پیار کے کا کیوں کوئی سایا نہیں

جب دن نکلا ، امید بندھی ، جب شام ہوئی ، دل ٹوٹا
دھوپ نے ہم کو جلا کہ راکھ کیا ، رات میں سُکھ کوئی پایا نہیں

اظہر یہ دنیا ، سب جھوٹی ، پھر بھی تو کیوں نہیں سمجھا
جس نے بھی یہاں پیار کیا ، سُکھ اس نے کبھی بھی پایا نہیں

بہت پرانی بات نہیں

بہت پرانی بات نہیں ، ملک خداداد پاکستان میں ایک ہی ٹی وی چینل ہوا کرتا تھا ، ایک ہی ریڈیو تھا ، پی ٹی وی کی ایک سلائیڈ ہوا کرتی تھی ، جس میں اسکے پانچ مراکز دکھائے جاتے تھے ، یعنی کراچی کے لیے بابائے قوم کا مزار ، لاہور کے مینار پاکستان ، پشاور کے لیے درہ خیبر ، کوئٹہ کے لیے زیارت ریزیڈنسی اور درمیان میں ڈائمنڈ کی شکل میں فیصل مسجد ، یعنی اسلام آباد ، کہنے کو یہ ایک چھوٹی سی سلائیڈ تھی ، مگر اس میں سارا پاکستان تھا ، کراچی ٹی وی سے اگر انکل عرفی ، تنہایاں یا ہوائیں نشر ہوتا تھا جو گلیاں ویران کرتا تھا ، تو لاہور کا اندھیرا اجالا ، سورج کے ساتھ ساتھ ، وارث بھی سارے خاندان کو ٹی وی کے آگے بیٹھنے پر مجبور کرتا تھا ، کوئٹہ کا دھواں ہو یا دشت ، ہر گھر میں “الکومونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا “ سنائی دیتا تھا تو پشاور کے بینجو ملنگ برادار اپنی قوالیوں سے بے ساختہ ہنسنے پر مجبور کرتے تھے ، اسلام آباد اگر خبرنامہ دیتا تھا تو کلیاں بھی تو تھا ، انکل سرگم ، ہے گا ، نونی پا ۔ ۔ ۔ اپنے ہی گھر کے فرد تھے ۔ ۔۔ عینک والا جن ، منگو میرا نام ، ربوٹ ، ٹک ٹک کمپنی ، بہادر علی ۔۔ ۔ ۔ بچوں کے ایسے دوست تھے کہ خواب انکے ہی دیکھتے تھے ۔ ۔ ۔
کسی کو انگریزی آتی تھی یا نہیں ، نائیٹ رائیڈر ، ائیر وولف ، جیمنی مین ۔ ۔ ۔اور پھر فرائیڈے نائیٹ سینما سے ہی تو ہم نے جیری لوئیس ، باب ہوپ ، گریگری پیک ، بیٹی ڈیوس ، عمر شریف کو جانا ۔ ۔ ۔
مجھے وہ دن بھی یاد ہیں جب ففٹی ففٹی لگا کرتا تھا ، جب شو شا لگتا تھا جب الف نون تھے ، جب مسٹر شیطان ۔ ۔ ۔ ہمارے ہونٹوں پے ہنسی کے گول گپے کھلتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔
محمد علی شہکی ، اے نئیر ، نیرہ نور ، مہناز ۔ ۔۔ ۔ غلام عباس ۔ ۔ ۔ اور پھر “سارے دوست ہمارے“ کے انکل سہیل رانا کے گیت ، چاہے وہ “تیری وادی وادی گھوموں“ ہو ۔ شاوا بھئی شاوا ہو یا پھر “پورب کا دروازہ کھلا ، ٹھنڈی ٹھنڈی چلی ہوا“ جیسے ہونٹوں پر مچلتی نظمیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
پانج بجے تلاوت کلام پاک سے شروع ہونے والا ٹی وی ، رات بارہ بجے فرمان الہی کے بعد قومی ترانے پر بند ہوتا ۔ ۔ ۔ سب آرام سے سو جاتے ۔ ۔ ۔صبح کا آغاز ریڈیو پاکستان کی تلاوت سے ہوتا ۔ ۔ ۔۔ جی تو ۔ ۔ ۔۔ یہ تھا ہمارا ٹی وی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی پرانا ٹی وی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پی ٹی وی
آئیے زرا یاد کرتے ہیں ریڈیو کو ۔ ۔ ۔ ۔۔ جی ہاں ریڈیو پاکستان ، قومی نشریاتی رابطہ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا کسی کو عبدالسلام کی یہ آواز یاد ہے ، یہ ریڈیو پاکستان ہے ، اس وقت رات کے نو بجے ہیں ۔ ۔ ۔۔ اور پھر فوجی بھائیوں کا پروگرام ۔ ۔ پنڈی والوں کے لیے جمہور نی آواز اور سندھ والوں کے لیے کچہری ، پشاور والوں کے لیے بیٹھک اور بلوچستان والوں کا واجہ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر رات کے گیارہ بجے آپ کی فرمائش ۔۔ ۔ ۔ اگر کراچی کے حامد میاں کے ہاں لوگ روز جاتے تھے تو پنجاب کے تلقین شاہ کی باتیں بھی تو سنی جاتیں تھیں ۔ ۔ ۔
آئیے ملتے ہیں ایک اور انٹرٹینمنٹ میڈیا سے جسے ہم فلم کہتے ہیں ، فلم ایک مکمل تفریح تھی ۔ لالی وڈ اسے کہنا مناسب نہیں لگتا ، یہ لاہور کی فلم نگری تھی جو شاہ نور اسٹوڈیو میں آباد تھی ، یا کراچی کے ایسٹرن فلم اسٹوڈیو میں ، یہ وہ جگہیں تھیں ، جہاں “تیری یاد“ سے لیکر “گھر واپس کب آؤ گے“ تک فلمائیں گئیں ، جہاں سورن لتا سے لیکر میرا تک ۔ ۔ ۔ اور ناصر خان سے لیکر شان تک ہمیں اپنے حصار میں لیے رکھے ہیں ، وہ ایس سلمان ہوں یا سید نور ، وہ فیروز نظامی ہوں یا طافو ، وہ زبیدہ خانم ہوں یا حمیرا چنا ، وہ منیر احمد ہوں یا جواد ۔۔ ۔ سب اسی نگری کے باسی تھے ۔ ۔۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کالج کے بچے اپنی دوستی کا آغاز “میں شبنم تو ندیم“ کہ کہ کیا کرتے تھے ، وحید مراد کی چھاپ تو کبھی نہیں جائے گی ، اور سلطان رہی ہو یا بدر منیر ۔ ۔ ۔ اسمائیل شاہ ہو یا معمر رانا ۔ ۔ ۔ لالہ سدھیر ہو یا ساقی ، منور ظریف ہو یا رنگیلا ۔ ۔۔ کس کس کا نام لوں ۔ ۔ ۔ کیا یہ سب ہمارے دلوں پہ راج نہیں کرتے تھے ؟ اور کیا یہ سب ہمارے نہیں تھے ؟
لیجیے یاد آیا ، اسی دیس میں کچھ ٹھیٹر بھی ہوا کرتے تھے ، خواجہ ناظم الدین ۔ ۔ ۔ مرزا غالب کو بندر روڈ پر کیا لائے ، سارے ملک کے اسٹیج پر تعلیم بالغاں سج گیا ۔ ۔ ۔ ۔ اگر کراچی کے لوگ شکسپئر کو اسٹیج کرتے تھے تو لاہور والے بھی تو اوپن ائیر میں رومیو جولیٹ دیکھا کرتے تھے ۔ ۔ ۔۔ اگر سائیں اختر کی صدا پنجاب میں گونجتی تھی تو مائی بھاگی کی کوک بھی تو سندھ سے آتی تھی ، خمیسو خان کی بانسری تھی تو زرسانگا کے ٹپے ۔ ۔ ۔ ۔ کشمیر سے جوگی اتر پہاڑوں آتا تھا تو ۔ ۔ ۔ مور ٹوڑ ٹلے رانا پر سب جھومتے تھے ۔۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ سارے گیت اپنے تھے ، سارے رنگ ہمارے تھے ۔ ۔ کوئی یہ نہیں کہتا تھا کہ یہ تو کراچی کا مہاجر ہے ، یہ لاہور کا پینڈو ہے ، یہ پشاور کا بے وقوف پٹھان ہے ، یہ کالا خبشی بلوچی واجہ ہے ۔ ۔ ۔ حتہ کہ ہم تو اسلام آباد کے مکینوں کو بھی ۔ ۔ سر جناب کہا کرتے تھے ۔ ۔ ۔
ہمارے بچوں کو پاکستان کا پتہ تھا ، ہمارے بڑوں کو یہ خیال تھا کہ یہ ملک کیا ہے ، ہمارے بزرگوں کو ناز تھا

میں آج جس ملک میں رہتا ہوں ، یہ وہاں کے ماضی کی ایک جھلک ہے ، آج میرے دیس میں سو سے اوپر ٹی چینل ہیں ، اور بھانت بھانت کے ریڈیو اسٹیشن ہیں ۔ ۔۔ ۔ مگر نہ وہ میرے گیت سناتے ہیں ، نہ میرا دیس دکھاتے ہیں ، ہمارے ڈرامے دبئی میں شوٹ ہوتے ہیں ، ہمارے گیت انڈیا میں جا کہ بنتے ہیں ، ہماری فلمیں مر چکی ہیں ، ہمارا اسٹیج بے ہودگی کا گڑھ بن گیا ہے ۔ ۔۔ اور ہمارے بچے اب صبح اٹھ کہ چھوٹا بھیم دیکھتے ہیں ، ہمارے جوان “ایٹم سانگز“ پر ناچتے ہیں ، ہمارے بزرگ یہ سب دیکھ کر چُپ بیٹھے ہیں ۔ ۔۔
میں آج پھر اپنی ایک پرانی نظم کو یاد کر رہا ہوں ۔۔ ۔۔ ۔ ۔
—————————————

یہ لڑنے جھگڑنے والوں کی بستی
یہ نفرت کی سیاست چالوں کی بستی
یہ آگ اور انگاروں سے بنی ہے دنیا
یہ بندوقوں بموں بھالوں کی بستی

جیسا ہے یہ تو ایسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا

بنایا تھا اسکو خوں دے کہ اپنا
سجایا تھا ہم نے مل کہ یہ سپنا
مل کہ ہم نے کیا تھا حاصل
اک ساتھ تھا سب کے دل کا دھڑکنا

اک تھا ،ٹکروں کے جیسا نہیں تھا

میرا دیس تو ایسا نہیں تھا

آندھی بھی آئی ، طوفاں بھی آئے

بادل بھی گرجے ، سیلاب بھی آئے
روکا سب نے دیوار بن کہ
دشمن کے گولے سینے پے کھائے

جینا اور مرنا تو ایسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا

کوئی بھوک سے بلکتا نہیں تھا
دکھوں سے کوئی سسکتا نہیں تھا
چوری تو تھی پر ڈاکا نہیں تھا
زردار تھے مگر کوئی اندھا نہیں تھا

مقصد جیون کا پیسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا

میرا خدا ہم کو اتحاد دے دے
اجڑے ہوؤں کو آباد دے دے
دے دے ہمیں تو رحمتیں اپنی
ٹوٹے دلوں کو تو شاد دے دے

خدا سے یوں جدا سا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا

کتنا بُرا ہوں میں

نہیں جانتا کہ دنیا کیا ہے ، نہیں جانتا کہ مذہب کیا ہے ، نہیں جانتا کہ گناہ کسے کہتے ہہیں ، نہیں معلوم کہ ثواب کا منبہ کیا ہے ، مگر اتنا جانتا ہوں کہ میں ایک بُرا انسان ہوں ، اتنا بُرا کہ شاید میرا جسم بدبودار ہو چکا ہے ، میں گلا سڑا ہوا ہوں ، جسے نہ تو یہ معاشرہ قبول کر نا چاہتا ہے ، نہ ہی خدا ۔ ۔۔ ۔
کبھی خدا کا باغی ہوں تو کبھی انسانوں کا ، دولت کا پجاری ہوں تو کبھی ہوس کا غلام ، میں بہت بُرا انسان ہوں ، بہت ہی برا ، جس میں اچھا صرف یہ ہے کہ میں ہوں ، اگر میں نہ ہوتا تو کیا ہوتا ، کائنات ایسے ہی چلتی ، محبتیں ہوتیں ، نفرتیں ہوتیں ، عزب ملتی ، بے عزتی ہوتی ۔ ۔۔ ۔ مگر مجھ جیسا بے کیف انسان کوئی نہ ہوتا ۔ ۔ ۔
اب کیا کروں ؟ جیوں یا مروں ، جلوں یا دکھوں ۔ جاگوں یا سو جاؤں ۔ ۔۔ ۔
کیا کروں کیا نہ کروں ، کہ جو بھی کروں گا وہ بُرا ہو جائے گا ، ہماری کفن کی دُکان اس لیئے دیوالیہ ہو جائے گی کہ لوگوں نے مرنا چھوڑ دینا ہے ، ہمارے لیے تو شاید کفن بھی نہ ملے ۔ ۔ ۔۔
مایوسیاں شاید مقدر ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور مقدر سے کیسے کوئی لڑے
اور لڑنے والے تو بُرے ہی ہوتے ہیں
اور میں
کتنا بُرا ہوں ۔ ۔ ۔

About Aaamir Khan Boxer

http://p.videofy.me/v/329701

His grand parents shifted to UK in 1970 , and he born there and since childhood he puts gloves in his hand , and then show his talent in boxing. Peoples watch him as another boxing champion after Mohammad Ali. He is famous in Pakistan as a hero who’s roots in Pakistan.
In this video some of his unique and exclusive pictures from his childhood to be a champion . . .we pray for his upcoming fight.

میرا ایک خواب ہے

میرا ایک خواب ہے ، یہ تاریخی الفاظ ایک بہت بڑے امریکی رہنما کے ہیں ، جس کا نام تھا مارٹن کنگ لوتھر ، وہ اگست کا ہی مہینہ تھا شاید اٹھائیس اگست ، ہزاروں لوگ جمع تھے ، لنکن میموریل پر ، وہ تحریک ایک عورت کو بس کی سیٹ سے نسلی بنیاد پر اٹھائے جانے سے شروع ہوئی تھی ، اور پھر ایک جم غفیر تھا جو اس تحریک میں شامل ہو گیا تھا اور مارٹن کنگ لوتھر نے اسے لیڈ کیا ، اور پھر لنکن میموریل پر کہا

I have a dream that one day this nation will rise up and live out the true meaning of its creed: "We hold these truths to be self-evident: that all men are created equal.”
ترجمہ؛ میرا ایک خواب ہے ، کہ ایک دن یہ قوم اٹھ کھڑی ہو گی اور اپنے اصل پہچان کے ساتھ زندہ رہے گی ، ہم ان سچائیوں کے مالک ہیں جو ظاہر ہیں ، اور سب برابر ہیں

اور پھر کہا

I have a dream that my four little children will one day live in a nation where they will not be judged by the color of their skin but by the content of their character.

ترجمعہ ؛ میرا ایک خواب ہے ، میرے چار بچے اس قوم کا حصہ بنیں گے ، جہاں رنگ و نسل سے انکی پچان نہیں ہوگی بلکہ انکے کردار انکی پہچان ہو گا

یہ خواب دیکھنے والے نے اپنے اس خواب کو پورا کر دیکھایا ، آج کا امریکہ دنیا کی نظر میں کچھ بھی ہو ، اس میں نسل پرستی ختم ہو چکی ہے ، یہ سچا رہنما تھا جب اسے کہا گیا کہ آپ ماؤنٹین ہل پر نہ جاؤ کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے ، تو اسنے کہا کہ میں چند نااقابت اندیش لوگوں کی وجہ سے میں اپنی قوم کو کیسے چھوڑ دوں ؟ اور پھر جب اسے قتل کر دیا گیا ، تو اس وقت تک وہ ایک عظیم رہنماء بن چکا تھا ۔ ۔ ۔

آج مارٹن کنگ لوتھر کا کیوں یاد آیا ، اس لیے کہ میرے ملک کے ایک صوبائی وزیر بھی خواب دیکھنے لگے ہیں ، مگر ان خوابوں کا تعلق کسی بھی طرح عوام سے نہیں ہے ، انہیں مخصوص خواب آتے ہیں ، اور خواب بھی سچے ، اور خواب آنے کے بعد امن ہونے کے بجائے ، لاشیں گرتیں ہیں ، مگر وہ اپنے “بِل“ سے نہیں نکلتے ، آج مجھے بہت کمی محسوس ہو رہی ہے ، میرے ملک میں کوئی مارٹن کنگ لوتھر نہیں ، جو کوئی خواب دیکھے سکے اور کہ سکے

"Free at last! free at last! thank God Almighty, we are free at last

اب اسکا کیا ترجمہ کروں ؟ یہ مارٹن کنگ لوتھر کی تاریخی تقریر کے آخری الفاظ ہیں ، انہوں نے کہا

اور ہم کہ سکیں کہ ، ہم آخرکار آزاد ہیں ، شکر ہے اللہ کا ، کہ ہم آزاد ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

میرا بھی خواب ہے ، کہ میں یہ کہ سکوں ۔ ۔ ۔ ۔۔ شکر ہے ہم آزاد ہیں ۔ ۔ ۔ اور میں اپنے وزیر کو بتا سکوں کہ خواب کیسے دیکھے جاتے ہیں ۔ اور خواب سچے ہوں یا نہ ہوں تعبیر خود سچی کرنی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔