بہت پرانی بات نہیں

بہت پرانی بات نہیں ، ملک خداداد پاکستان میں ایک ہی ٹی وی چینل ہوا کرتا تھا ، ایک ہی ریڈیو تھا ، پی ٹی وی کی ایک سلائیڈ ہوا کرتی تھی ، جس میں اسکے پانچ مراکز دکھائے جاتے تھے ، یعنی کراچی کے لیے بابائے قوم کا مزار ، لاہور کے مینار پاکستان ، پشاور کے لیے درہ خیبر ، کوئٹہ کے لیے زیارت ریزیڈنسی اور درمیان میں ڈائمنڈ کی شکل میں فیصل مسجد ، یعنی اسلام آباد ، کہنے کو یہ ایک چھوٹی سی سلائیڈ تھی ، مگر اس میں سارا پاکستان تھا ، کراچی ٹی وی سے اگر انکل عرفی ، تنہایاں یا ہوائیں نشر ہوتا تھا جو گلیاں ویران کرتا تھا ، تو لاہور کا اندھیرا اجالا ، سورج کے ساتھ ساتھ ، وارث بھی سارے خاندان کو ٹی وی کے آگے بیٹھنے پر مجبور کرتا تھا ، کوئٹہ کا دھواں ہو یا دشت ، ہر گھر میں “الکومونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا “ سنائی دیتا تھا تو پشاور کے بینجو ملنگ برادار اپنی قوالیوں سے بے ساختہ ہنسنے پر مجبور کرتے تھے ، اسلام آباد اگر خبرنامہ دیتا تھا تو کلیاں بھی تو تھا ، انکل سرگم ، ہے گا ، نونی پا ۔ ۔ ۔ اپنے ہی گھر کے فرد تھے ۔ ۔۔ عینک والا جن ، منگو میرا نام ، ربوٹ ، ٹک ٹک کمپنی ، بہادر علی ۔۔ ۔ ۔ بچوں کے ایسے دوست تھے کہ خواب انکے ہی دیکھتے تھے ۔ ۔ ۔
کسی کو انگریزی آتی تھی یا نہیں ، نائیٹ رائیڈر ، ائیر وولف ، جیمنی مین ۔ ۔ ۔اور پھر فرائیڈے نائیٹ سینما سے ہی تو ہم نے جیری لوئیس ، باب ہوپ ، گریگری پیک ، بیٹی ڈیوس ، عمر شریف کو جانا ۔ ۔ ۔
مجھے وہ دن بھی یاد ہیں جب ففٹی ففٹی لگا کرتا تھا ، جب شو شا لگتا تھا جب الف نون تھے ، جب مسٹر شیطان ۔ ۔ ۔ ہمارے ہونٹوں پے ہنسی کے گول گپے کھلتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔
محمد علی شہکی ، اے نئیر ، نیرہ نور ، مہناز ۔ ۔۔ ۔ غلام عباس ۔ ۔ ۔ اور پھر “سارے دوست ہمارے“ کے انکل سہیل رانا کے گیت ، چاہے وہ “تیری وادی وادی گھوموں“ ہو ۔ شاوا بھئی شاوا ہو یا پھر “پورب کا دروازہ کھلا ، ٹھنڈی ٹھنڈی چلی ہوا“ جیسے ہونٹوں پر مچلتی نظمیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
پانج بجے تلاوت کلام پاک سے شروع ہونے والا ٹی وی ، رات بارہ بجے فرمان الہی کے بعد قومی ترانے پر بند ہوتا ۔ ۔ ۔ سب آرام سے سو جاتے ۔ ۔ ۔صبح کا آغاز ریڈیو پاکستان کی تلاوت سے ہوتا ۔ ۔ ۔۔ جی تو ۔ ۔ ۔۔ یہ تھا ہمارا ٹی وی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی پرانا ٹی وی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پی ٹی وی
آئیے زرا یاد کرتے ہیں ریڈیو کو ۔ ۔ ۔ ۔۔ جی ہاں ریڈیو پاکستان ، قومی نشریاتی رابطہ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا کسی کو عبدالسلام کی یہ آواز یاد ہے ، یہ ریڈیو پاکستان ہے ، اس وقت رات کے نو بجے ہیں ۔ ۔ ۔۔ اور پھر فوجی بھائیوں کا پروگرام ۔ ۔ پنڈی والوں کے لیے جمہور نی آواز اور سندھ والوں کے لیے کچہری ، پشاور والوں کے لیے بیٹھک اور بلوچستان والوں کا واجہ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر رات کے گیارہ بجے آپ کی فرمائش ۔۔ ۔ ۔ اگر کراچی کے حامد میاں کے ہاں لوگ روز جاتے تھے تو پنجاب کے تلقین شاہ کی باتیں بھی تو سنی جاتیں تھیں ۔ ۔ ۔
آئیے ملتے ہیں ایک اور انٹرٹینمنٹ میڈیا سے جسے ہم فلم کہتے ہیں ، فلم ایک مکمل تفریح تھی ۔ لالی وڈ اسے کہنا مناسب نہیں لگتا ، یہ لاہور کی فلم نگری تھی جو شاہ نور اسٹوڈیو میں آباد تھی ، یا کراچی کے ایسٹرن فلم اسٹوڈیو میں ، یہ وہ جگہیں تھیں ، جہاں “تیری یاد“ سے لیکر “گھر واپس کب آؤ گے“ تک فلمائیں گئیں ، جہاں سورن لتا سے لیکر میرا تک ۔ ۔ ۔ اور ناصر خان سے لیکر شان تک ہمیں اپنے حصار میں لیے رکھے ہیں ، وہ ایس سلمان ہوں یا سید نور ، وہ فیروز نظامی ہوں یا طافو ، وہ زبیدہ خانم ہوں یا حمیرا چنا ، وہ منیر احمد ہوں یا جواد ۔۔ ۔ سب اسی نگری کے باسی تھے ۔ ۔۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کالج کے بچے اپنی دوستی کا آغاز “میں شبنم تو ندیم“ کہ کہ کیا کرتے تھے ، وحید مراد کی چھاپ تو کبھی نہیں جائے گی ، اور سلطان رہی ہو یا بدر منیر ۔ ۔ ۔ اسمائیل شاہ ہو یا معمر رانا ۔ ۔ ۔ لالہ سدھیر ہو یا ساقی ، منور ظریف ہو یا رنگیلا ۔ ۔۔ کس کس کا نام لوں ۔ ۔ ۔ کیا یہ سب ہمارے دلوں پہ راج نہیں کرتے تھے ؟ اور کیا یہ سب ہمارے نہیں تھے ؟
لیجیے یاد آیا ، اسی دیس میں کچھ ٹھیٹر بھی ہوا کرتے تھے ، خواجہ ناظم الدین ۔ ۔ ۔ مرزا غالب کو بندر روڈ پر کیا لائے ، سارے ملک کے اسٹیج پر تعلیم بالغاں سج گیا ۔ ۔ ۔ ۔ اگر کراچی کے لوگ شکسپئر کو اسٹیج کرتے تھے تو لاہور والے بھی تو اوپن ائیر میں رومیو جولیٹ دیکھا کرتے تھے ۔ ۔ ۔۔ اگر سائیں اختر کی صدا پنجاب میں گونجتی تھی تو مائی بھاگی کی کوک بھی تو سندھ سے آتی تھی ، خمیسو خان کی بانسری تھی تو زرسانگا کے ٹپے ۔ ۔ ۔ ۔ کشمیر سے جوگی اتر پہاڑوں آتا تھا تو ۔ ۔ ۔ مور ٹوڑ ٹلے رانا پر سب جھومتے تھے ۔۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ سارے گیت اپنے تھے ، سارے رنگ ہمارے تھے ۔ ۔ کوئی یہ نہیں کہتا تھا کہ یہ تو کراچی کا مہاجر ہے ، یہ لاہور کا پینڈو ہے ، یہ پشاور کا بے وقوف پٹھان ہے ، یہ کالا خبشی بلوچی واجہ ہے ۔ ۔ ۔ حتہ کہ ہم تو اسلام آباد کے مکینوں کو بھی ۔ ۔ سر جناب کہا کرتے تھے ۔ ۔ ۔
ہمارے بچوں کو پاکستان کا پتہ تھا ، ہمارے بڑوں کو یہ خیال تھا کہ یہ ملک کیا ہے ، ہمارے بزرگوں کو ناز تھا

میں آج جس ملک میں رہتا ہوں ، یہ وہاں کے ماضی کی ایک جھلک ہے ، آج میرے دیس میں سو سے اوپر ٹی چینل ہیں ، اور بھانت بھانت کے ریڈیو اسٹیشن ہیں ۔ ۔۔ ۔ مگر نہ وہ میرے گیت سناتے ہیں ، نہ میرا دیس دکھاتے ہیں ، ہمارے ڈرامے دبئی میں شوٹ ہوتے ہیں ، ہمارے گیت انڈیا میں جا کہ بنتے ہیں ، ہماری فلمیں مر چکی ہیں ، ہمارا اسٹیج بے ہودگی کا گڑھ بن گیا ہے ۔ ۔۔ اور ہمارے بچے اب صبح اٹھ کہ چھوٹا بھیم دیکھتے ہیں ، ہمارے جوان “ایٹم سانگز“ پر ناچتے ہیں ، ہمارے بزرگ یہ سب دیکھ کر چُپ بیٹھے ہیں ۔ ۔۔
میں آج پھر اپنی ایک پرانی نظم کو یاد کر رہا ہوں ۔۔ ۔۔ ۔ ۔
—————————————

یہ لڑنے جھگڑنے والوں کی بستی
یہ نفرت کی سیاست چالوں کی بستی
یہ آگ اور انگاروں سے بنی ہے دنیا
یہ بندوقوں بموں بھالوں کی بستی

جیسا ہے یہ تو ایسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا

بنایا تھا اسکو خوں دے کہ اپنا
سجایا تھا ہم نے مل کہ یہ سپنا
مل کہ ہم نے کیا تھا حاصل
اک ساتھ تھا سب کے دل کا دھڑکنا

اک تھا ،ٹکروں کے جیسا نہیں تھا

میرا دیس تو ایسا نہیں تھا

آندھی بھی آئی ، طوفاں بھی آئے

بادل بھی گرجے ، سیلاب بھی آئے
روکا سب نے دیوار بن کہ
دشمن کے گولے سینے پے کھائے

جینا اور مرنا تو ایسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا

کوئی بھوک سے بلکتا نہیں تھا
دکھوں سے کوئی سسکتا نہیں تھا
چوری تو تھی پر ڈاکا نہیں تھا
زردار تھے مگر کوئی اندھا نہیں تھا

مقصد جیون کا پیسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا

میرا خدا ہم کو اتحاد دے دے
اجڑے ہوؤں کو آباد دے دے
دے دے ہمیں تو رحمتیں اپنی
ٹوٹے دلوں کو تو شاد دے دے

خدا سے یوں جدا سا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا

کتنا بُرا ہوں میں

نہیں جانتا کہ دنیا کیا ہے ، نہیں جانتا کہ مذہب کیا ہے ، نہیں جانتا کہ گناہ کسے کہتے ہہیں ، نہیں معلوم کہ ثواب کا منبہ کیا ہے ، مگر اتنا جانتا ہوں کہ میں ایک بُرا انسان ہوں ، اتنا بُرا کہ شاید میرا جسم بدبودار ہو چکا ہے ، میں گلا سڑا ہوا ہوں ، جسے نہ تو یہ معاشرہ قبول کر نا چاہتا ہے ، نہ ہی خدا ۔ ۔۔ ۔
کبھی خدا کا باغی ہوں تو کبھی انسانوں کا ، دولت کا پجاری ہوں تو کبھی ہوس کا غلام ، میں بہت بُرا انسان ہوں ، بہت ہی برا ، جس میں اچھا صرف یہ ہے کہ میں ہوں ، اگر میں نہ ہوتا تو کیا ہوتا ، کائنات ایسے ہی چلتی ، محبتیں ہوتیں ، نفرتیں ہوتیں ، عزب ملتی ، بے عزتی ہوتی ۔ ۔۔ ۔ مگر مجھ جیسا بے کیف انسان کوئی نہ ہوتا ۔ ۔ ۔
اب کیا کروں ؟ جیوں یا مروں ، جلوں یا دکھوں ۔ جاگوں یا سو جاؤں ۔ ۔۔ ۔
کیا کروں کیا نہ کروں ، کہ جو بھی کروں گا وہ بُرا ہو جائے گا ، ہماری کفن کی دُکان اس لیئے دیوالیہ ہو جائے گی کہ لوگوں نے مرنا چھوڑ دینا ہے ، ہمارے لیے تو شاید کفن بھی نہ ملے ۔ ۔ ۔۔
مایوسیاں شاید مقدر ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور مقدر سے کیسے کوئی لڑے
اور لڑنے والے تو بُرے ہی ہوتے ہیں
اور میں
کتنا بُرا ہوں ۔ ۔ ۔

About Aaamir Khan Boxer

http://p.videofy.me/v/329701

His grand parents shifted to UK in 1970 , and he born there and since childhood he puts gloves in his hand , and then show his talent in boxing. Peoples watch him as another boxing champion after Mohammad Ali. He is famous in Pakistan as a hero who’s roots in Pakistan.
In this video some of his unique and exclusive pictures from his childhood to be a champion . . .we pray for his upcoming fight.

میرا ایک خواب ہے

میرا ایک خواب ہے ، یہ تاریخی الفاظ ایک بہت بڑے امریکی رہنما کے ہیں ، جس کا نام تھا مارٹن کنگ لوتھر ، وہ اگست کا ہی مہینہ تھا شاید اٹھائیس اگست ، ہزاروں لوگ جمع تھے ، لنکن میموریل پر ، وہ تحریک ایک عورت کو بس کی سیٹ سے نسلی بنیاد پر اٹھائے جانے سے شروع ہوئی تھی ، اور پھر ایک جم غفیر تھا جو اس تحریک میں شامل ہو گیا تھا اور مارٹن کنگ لوتھر نے اسے لیڈ کیا ، اور پھر لنکن میموریل پر کہا

I have a dream that one day this nation will rise up and live out the true meaning of its creed: "We hold these truths to be self-evident: that all men are created equal.”
ترجمہ؛ میرا ایک خواب ہے ، کہ ایک دن یہ قوم اٹھ کھڑی ہو گی اور اپنے اصل پہچان کے ساتھ زندہ رہے گی ، ہم ان سچائیوں کے مالک ہیں جو ظاہر ہیں ، اور سب برابر ہیں

اور پھر کہا

I have a dream that my four little children will one day live in a nation where they will not be judged by the color of their skin but by the content of their character.

ترجمعہ ؛ میرا ایک خواب ہے ، میرے چار بچے اس قوم کا حصہ بنیں گے ، جہاں رنگ و نسل سے انکی پچان نہیں ہوگی بلکہ انکے کردار انکی پہچان ہو گا

یہ خواب دیکھنے والے نے اپنے اس خواب کو پورا کر دیکھایا ، آج کا امریکہ دنیا کی نظر میں کچھ بھی ہو ، اس میں نسل پرستی ختم ہو چکی ہے ، یہ سچا رہنما تھا جب اسے کہا گیا کہ آپ ماؤنٹین ہل پر نہ جاؤ کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے ، تو اسنے کہا کہ میں چند نااقابت اندیش لوگوں کی وجہ سے میں اپنی قوم کو کیسے چھوڑ دوں ؟ اور پھر جب اسے قتل کر دیا گیا ، تو اس وقت تک وہ ایک عظیم رہنماء بن چکا تھا ۔ ۔ ۔

آج مارٹن کنگ لوتھر کا کیوں یاد آیا ، اس لیے کہ میرے ملک کے ایک صوبائی وزیر بھی خواب دیکھنے لگے ہیں ، مگر ان خوابوں کا تعلق کسی بھی طرح عوام سے نہیں ہے ، انہیں مخصوص خواب آتے ہیں ، اور خواب بھی سچے ، اور خواب آنے کے بعد امن ہونے کے بجائے ، لاشیں گرتیں ہیں ، مگر وہ اپنے “بِل“ سے نہیں نکلتے ، آج مجھے بہت کمی محسوس ہو رہی ہے ، میرے ملک میں کوئی مارٹن کنگ لوتھر نہیں ، جو کوئی خواب دیکھے سکے اور کہ سکے

"Free at last! free at last! thank God Almighty, we are free at last

اب اسکا کیا ترجمہ کروں ؟ یہ مارٹن کنگ لوتھر کی تاریخی تقریر کے آخری الفاظ ہیں ، انہوں نے کہا

اور ہم کہ سکیں کہ ، ہم آخرکار آزاد ہیں ، شکر ہے اللہ کا ، کہ ہم آزاد ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

میرا بھی خواب ہے ، کہ میں یہ کہ سکوں ۔ ۔ ۔ ۔۔ شکر ہے ہم آزاد ہیں ۔ ۔ ۔ اور میں اپنے وزیر کو بتا سکوں کہ خواب کیسے دیکھے جاتے ہیں ۔ اور خواب سچے ہوں یا نہ ہوں تعبیر خود سچی کرنی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔

الحمدوللہ میں مسلمان ہوں

میں ایک تاجر ہوں ، کاروبار بہت پھیلا ہوا ہے ، تین فیکٹریاں ہیں ، ایک شوگر مل ہے ، اور ان سب کے علاوہ میری ایک بروکر فرم بھی ہے ، جو میرے شئیر کے کاروبار کو دیکھتی ہے ، ملک سے باہر بھی مختلف بزنس ہیں میرے ، جن میں یورپ میں ایک سپر سٹور کی چین ہے ، ہاں فیملی ایک دو بیٹے ہیں ایک بیٹی ہے ، دو بیویاں بھی ہیں ، سب کچھ ہے مگر چین نہیں ہیں ، اتنا بزنس ہونے کے باوجود گذارا مشکل سے ہی ہوتا ہے ، کبھی یہ مسلہ کبھی وہ مسلہ ، سارا دن رات بزنس میں گذر جاتا ہے ، پیسہ کمانا آسان نہیں ہے جناب ، ہاں جی لوگ بھی کام چور ہو گئے ہیں ، اب دیکھیں میری فیکٹریوں میں کوئی دو ہزار افراد کام کرتے ہیں ، جنکو اچھی خاصی تنخواہ دیتا ہوں ، مگر انکا پیٹ ہی نہیں بھرتا ، ہر دوسرے دن مہنگائی کا رونا روتے ہیں ، ارے بھائی مہنگائی ہر ایک کے لیے ہے ، اب دیکھیں نا میں ہر سال نئے ماڈل کی کار بدلتا ہوں ، مگر اس سال بہت مشکل ہو گئی ہے ، ہماری حکومت کو تو بس جتنا دو اتنا ہی کم ہے ، میری نئے ماڈل کی کار پورٹ پر کلیرنس کی منتظر ہے ، اوپر سے بیٹی کی فرمائش ہے کہ اسے اپنی گریجویشن کی تقریب میں نئی سپورٹ کار میں جانا ہے، اب مہنگائی ہمارے لیے بھی ہے سوچنا پڑتا ہے ، مگر یہ کیا یہ چھوٹے لوگوں کے پیٹ ہی نہیں بھرتے ، میں اس دن ایسے فیکٹری کا چکر لگانے چلا گیا ، وہاں لنچ بریک تھا ، مزدور ایسے کھانے پر ٹوٹے تھے کہ کیا کہوں ، اور ایک مزدور اتنا کھانا کھا رہا تھا جتنا میں ہفتے میں بھی نہ کھا سکوں ، کھانے پر یاد آیا ، ڈاکٹر بھی عجیب ہوتے ہیں ، اب مجھے شوگر ہے تو ہر چیز سے احتیاط ، اوپر سے صرف چار کلو ہی وزن بڑھا تھا ، بیگم نے ورزش پر لگا دیا ، وہ تو اچھا ہے ڈآکٹر نے سخت ورزش سے منہ کیا ہے کہ ہارٹ پرابلم بھی ہے نا تھوڑا سا ، کچھ گردوں کا درد بھی ہو جاتا ہے ، اسلیے تو بھئی میں تو بہت احتیاط سے کھاتا ہوں ، مگر یہ مزدور ۔ ۔ ۔ تبھی تو انکو ہر بیماری لگتی ہے ، اور پچھلے دنوں کیا ہوا ، ہمارے سینئر اکاؤنٹنٹ کا انتقال ہو گیا ، سوچا کہ یہ متوسط طبقے کا بندہ تھا تو اسکے گھر چلا گیا ، اف اللہ ، کیا بتاؤں ، میری گاڑی کا تو کباڑا ہو گیا ، اتنی دھول ، مجھے تو ویسے بھی ڈسٹ الرجی ہے ، پھر اسکے بچوں سے ملا وہ بھی عجیب تھے ، نہ رو رہے تھے نہ ہنس رہے تھے ، میں نے اسکے گھر والوں کو دو لاکھ کا چیک دیا ، بھئی وہ ہمارے ساتھ اس وقت سے تھا جب میرے پاس صرف ایک سپر سٹور تھا ، جو میں نے اپنے والد کی جائداد بیچ کر بنایا تھا ، یہ جائداد کا چکر بھی عجیب ہوتا ہے ، بھئی میں بیچ سکتا تھا بیچ دیا ، میرا چھوٹا بھائی ناراض ہو گیا تھا ، اب تک ناراض ہے ، ویسے اگر میں اس وقت اسے اسکا اور دوسرے بھائی کا حصہ دے دیتا پھر تو یہ میری انڈسٹری کیسے بنتی ؟ آج میرا ٹرن اور ماہانہ دو بلین سے بھی اوپر ہے ، یہ سب میری محنت کا نتیجہ ہے ، ورنہ اگر میں بھی یہ سوچنے بیٹھتا کہ بھائی ناراض ہے ، یا بہن یا ماں ناراض ہے تو اتنی عزت اور دولت کیسے کماتا ؟ بس جی اس دنیا میں آگے بڑھنے کا ایک ہی طریقہ ہے وہ ہے آگے والے کو گرا کہ اس پر چھڑھ کہ آگے بڑھ جاؤ ، ورنہ کوئی تمہیں گرا کہ آگے چلا جائے گا ، اور یہ سلسلہ کبھی رکتا نہیں ہے ، بزنس کو بڑھانے کے سب سے ضروری چیز ہے ٹیکٹس ، کچھ لوگ اسے دھوکا دہی یا جھوٹ بھی کہتے ہیں ، مگر بھئی اگر دھوکا نہیں دو گے تو دھوکا کھا جاؤ گے ، اور اگر سچ پر چلے تو سب سے زیادہ مار کھاؤ گے ، اب مثال لے لیں نا ، اگر میں ٹیکس میں اپنے سارے اثاثے شو کر دوں تو پھر مجھے کتنا زیادہ ٹیکس دینا ہو گا ؟ بھئی یہ سب کرنا پڑتا ہے بزنس ہے نا ، اب میں نے اپنا بہت سارا پیسہ فکسڈ انکم میں لگا دیا ہے ، اب ہر مہینے اتنا سود اس پر مل جاتا ہے کہ میں اگر کچھ بھی نہ کروں تو موجودہ اسٹیٹس کو برقرار رکھ سکتا ہوں ،اب لوگ کہتے ہیں کہ سود برا ہے ، ارے بابا پیسہ آنا برا نہیں ہوتا جانا برا ہوتا ہے ، مجھے سب سے زیادہ ڈر ہی اسی چیز کا ہے کہ اگر کبھی یہ پیسہ (میرے منہ میں خاک) میرے پاس نہ رہا تو میں کیا کروں گا ، بس یہ دھڑکا لگا رہتا ہے ، اسی لیے میں نے اپنا معمول بنا رکھا ہے ، کہ اپنی فیکٹریوں سے ہر سال پچاس لوگوں کو حج کرواتا ہوں ، ویسے تو میرا اور میری فیملی کا بھی اصول ہے کہ رمضان کا آخری عشرہ حجاز میں ہی گذارا جائے ، اسکے لیے میں ہر سال بیس سے پیچس دن کی چھٹی کرتا ہوں بزنس سے ، رمضان کا آخری ہفتہ ہم لوگ عمرہ وغیرہ کرتے ہیں ، میں اور بیگم آخری تین چار روزے بھی رکھ لیتے ہیں ، عید کے دن واپس آتے ہیں وطن ، اور پھر کم سے کم دو ہفتے کے یورپ ٹور پر جاتے ہیں ، مجھے تو میلان بہت پسند ہے ، ویگاس اور ٹیکساس کے کسینو کی راتیں بہت دلکش ہوتیں ہیں ، بہت انجوائے ہوتا ہے ، دن بھر گھومتے ہیں اور رات کو جھومتے ہیں ، ہاں میری بیگم کو میامی بیچ بہت پسند ہے ، وہاں اسے آزادی محسوس ہوتی ہے ، ظاہر ہے وہ اپنے وطن کی بیچ پر مختصر لباس نہیں پہن سکتی ، پتہ نہیں ہمارے لوگ کب اس دقیانوسی ملا کریسی سے نکلیں گے ، بند ذھن کے بند لوگ ، اسی لیے میری بیٹی یہاں ایڈجسٹ نہیں کر پا رہی ، میں نے اسکے لیے لندن میں ایک پینٹ ہاؤس لیا ہے ، اسکی شادی کا سرپرائز گفٹ ، مگر وہ سیریز ہی نہیں ہوتی ، کبھی ایک کے ساتھ ہینگ آؤٹ کبھی دوسرے کے ساتھ ، خیر یہ نوجوانوں کے مزہ کرنے کی عمر ہے ، شادی تو ہو ہی جائے گی ، ہاں چھوٹا بیٹا بہت نالائق ہے ، میں نے اسے امریکہ پڑھنے کے لیے بھیجا اسنے وہاں شادی کر لی ، وہ بھی ایک دوسرے لڑکے سے ، کہتا ہے کہ اسے اب پتا چلا ہے کہ وہ گے ہے ، اپنے وطن میں تو اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا ، مگر مغرب میں تو اب یہ عام بات ہے ، بڑے بیٹے نے اپنا ہی دھندا شروع کر رکھا ہے ، پارٹی بوائے ہے ، مگر پیتا کچھ زیادہ ہے ، بالکل اپنی ماں پر گیا ہے ، وہ تو اب اتنی عادی ہے کہ رات کو پیے بنا اسے نیند ہی نہیں آتی ۔ اور اسکی بھی پارٹیاں ختم نہیں ہوتیں ، مگر اچھا ہے اسکی پارٹیوں سے مجھے اچھی کمپنی ملتی ہے ، آج کل کی خواتین تو بہت ہی ایڈوانس ہیں ، ڈسپوزیبل ریلیشن پسند کرتیں ہیں ، بھئی یہ سب کچھ ہماری پہچان ہے ، جب اوپر والے نے دیا ہے تو پھر انجوائے کیوں نہ کریں ، ہاں بھولنا نہیں چاہیے اسے ، میں بھی نہیں بھولتا ، ہر ہفتے دو سے تین غریبوں کو دس بیس ہزار بانٹ دیتا ہوں ، بھی اللہ کو بھی تو خوش رکھنا ہے ، اور پھر رمضان کے روزوں کا صدقہ دے دیتا ہوں ، اور ڈبل ٹرپل کر کہ دیتا ہوں ، مجھے پتہ ہے کہ کل اسکو بھی منہ دیکھانا ہے ، آخر میں مسلمان ہوں ، الحمدوللہ

نیا افسانہ

پتہ نہیں میری محبت اتنی سچی کیوں نہیں تھی کہ اسے منوں مٹی کے نیچے جانے سے نہ روک سکی ، میں نے اسکی قبر پر پانی چھڑکتے ہوئے دانستہ طور پر اسکی قبر کی مٹی ہاتھوں سے صاف کر دی ، اور ایک الوداعی نظر مٹی کے اس ڈھیر پر ڈالی ، جو تازہ پھولوں میں ڈھک چکا تھا ، ایسا لگا کہ جیسے یہ پھول مٹی کے جیسے ہی ہوں ، ہم انسان بھی عجیب ہوتے ہیں ، ہماری زندگی بھی پھولوں جیسی ہی ہوتی ہے ، کھلتے ہیں اور پھر خوشبو بکھرا کر مٹی میں مل جاتے ہیں ، انسان کی زندگی پھول کی زندگی سے کہاں مختلف ہے ، میں جانے کے مڑا تو ایسا لگا جیسے اس نے آواز دی ہو ، رکو ۔ ۔۔ ۔۔ میں ٹہر گیا ، میں مڑ کر پھر مٹی کے ڈھیر کو دیکھا ، اور اسی طرح قبرستان سے باہر نکل آیا جیسے ایک دن اسنے میرے “رکو“ کہنے پر ایسے ہی مجھے اس دنیا کے قبرستان میں اکیلا چھوڑ دیا تھا ۔۔ ۔ ۔ ۔ کیا یہ انتقام تھا ؟
ہماری ملاقات کوئی اتفاق نہیں تھا ، اس نے میری کہانیاں پڑھیں تھیں ، اور پھر اسنے مجھے خط لکھے ، عجب بات تھی ، اسکی تعریف بھی تنقید لگتی تھی اور تنقید بھی تعریف ، میرے افسانے میں جب میں نے اپنے ایک کردار کو خود کُشی کرا دی تھی تو اسنے مجھے بہت سنائی تھیں ، کردار میرا تھا منظر کشی اسنے کر دی تھی ، کہانی کے اتنے رخ بتائے کہ میں خود بھی سوچنے لگا کہ میں اپنے کردار کو مار کہ واقعٰی ہی کوئی جرم کیا ہے ، پھر ایک دفعہ اس نے مجھے دفتر میں آ لیا ، اور میں نے اسے پہچان لیا ، ہم بہت دیر خاموش بیٹھے رہے ، اور پھر اسی نے خاموشی توڑی ، لکھنے والے لگتے نہیں آپ ، میں ہنس دیا ، اور پھر میری کہانیوں میں تبدیلی آتی چلی گئی ، میری ہر کہانی کا انجام اسکی مرضی سے ہوتا ، اور کتنی ہی کہانیوں کا آغاز بھی اسی کی وجہ سے ہوتا ، پھر جب میرا پہلا ناول “آگ کا ستون“ چھپا تو مجھ سے زیادہ خوشی اسے ہوئی ، اور جب اس ناول کو بیسٹ سیلر ایوارڈ ملا تو اسنے میرے آفس کو پھولوں سے بھر دیا ، عجب انداز تھا اسکا ، ایسا لگتا تھا کہ وہ اس گیت کی تصویر ہو “اب تو تم سے ہر خوشی اپنی ، تم پے مرنا ہے زندگی اپنی “ اور پھر ایک دن اسنے کہا ، جدائی آ پہنچی ، اور میں بُت بن گیا ، اسے جاتے دیکھتا رہا ، بس منہ سے نکلا “رکو“ مگر ۔ ۔ ۔ ۔ اسنے میری زندگی قبرستان کر دی ۔ ۔۔ ۔ ۔ کہانیاں بدل گئیں ، بے انجام کہانیاں ، آغاز تو ہوتا مگر انجام نہیں ۔ ۔۔ ۔ تھا ، میں ان بے انجام کہانیوں میں دفن ہو گیا تھا
مگر ایک دن اسکا فون آیا ، میرے جنازے کو کاندھا ضرور دینا ، کل چار بجے شارپ ۔ ۔۔ ۔ ۔ اسنے فون رکھ دیا ، ہر کہانی کی طرح اسے اپنی کہانی کا انجام بھی پتا تھا ، میں چار بجے جب اسکے گھر پہنچا تو جنازہ نکل رہا تھا ، میں نے آگے بڑھ کہ سرہانے والی سائیڈ سنبھال لی ، ہوا چل رہی تھی ، آیتوں بھری چادر اڑتی تو ایک سفید کپڑے کی جھلک نظر آتی ، پتہ نہیں مجھے لگا کہ اس سفید کپڑے میں سے میری کہانیوں کا انجام نکل رہا ہو، جنازہ میت گاڑی میں رکھ دیا گیا ، میں اسکے سامنے والی جگہ بیٹھ گیا ، کون ہے اس سفید کپڑے میں لپٹا ، میں سوچتا رہا ، مگر میں جان گیا تھا ، کہ یہ وہ ہی ہے جسنے میری ہر کہانی کو اپنی کہانی بنا ڈالا ، آج اپنے انجام میں مجھے بھی شامل کر لیا ، میرا دل کر رہا تھا یہ سفید پردہ گرا دوں اور پوچھوں کہ میں نے تمہارا کیا بگاڑا تھا کہ تم نے مجھے رونے بھی نہیں دیا ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔
اور پھر اسے منوں مٹی تلے دفنا دیا گیا ، میں دفتر پہنچا تو کورئیر والا منتظر تھا ، ایک بڑا لفافہ دیا ، اس کی طرف سے تھا ، اس کی اپنی کہانی تھی ، جس کا کردار میں تھا ، مگر انجام ۔ ۔ ۔ ۔ اسنے دو صفحے خالی بھیجھے تھے ۔ ۔ ۔۔ ۔ یعنی انجام باقی تھا ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے وہ خالی صفحے پھاڑ کہ ڈسٹ بن میں ڈالے ، اور اپنا نیا افسانہ لکھنا شروع کیا
پتہ نہیں میری محبت اتنی سچی کیوں نہیں تھی ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔

پاکستان یا مسجد ضرار

کہنے کو ایک معمولی سا سوال ہے مگر اسکا جواب ہی ہمارے مستقبل کی بنیاد ہے ، آج ساٹھ سالوں کے بعد ہمیں یاد آئی ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا کہ نہیں ؟ ہم روز اخبارات اور دیگر میڈیا میں یہ بحث زور و شور سے دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کا اسلام سے کوئی تعلق ہے کہ نہیں ، ہمارے ہاں یہ تقسیم واضح نظر آ رہی ہے ، ایک طبقہ جو صرف مذہبی ریاست کی بات کرتا ہے ، اور دوسرا طبقہ خلافت راشدہ سے کم پر راضی نہیں ، ایک طبقہ مذہب کو ذاتی فعل قرار دے کر اسے عملی زندگی سے الگ کرتا ہے ، تو ایک اور طبقہ مذہب کو ہی ہر فساد کی جڑ سمجھتا ہے ۔ ترقی کا سرچشمہ سیکولرازم کو قرار دیا جاتا ہے ، مگر دوسری طرف نہ تو پوری طرح سیکولرازم کو قبول کیا جاتا ہے اور نہ ہی چھوڑا جاتا ہے

پاکستان کے بانی پاکستان کو کیسا دیکھنا چاہتے تھے ؟ یہ سوال بار بار پوچھا جاتا ہے ، اور اسپر تبصرے کیے جاتے ہیں اور پھر ان تبصروں پر تبرے بھی بھیجھے جاتے ہیں ، کچھ بڑے دانشور قائد اعظم کو سیکولر مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ کبھی بھی مذہبی نہیں رہے ، بلکہ انکا رہن سہن اور حتہ کہ کھانا پینا تک مغربی طرز کا تھا ، بلکہ انہیں عطا ترک ثانی تک بنا ڈالا ، مگر بھول گئے کہ اتا ترک نے مسجدوں میں تالے لگوائے تھے اور اذان پر پابندی لگا دی تھی ہر طور سے مغربی نظر آنے کی کوشش کی تھی مگر آج تک مغرب ترکی کو اپنا نہیں سکا اور اب ترکی واپس اپنی مذہبی پہچان کی طرف جا رہا ہے ، مگر ہم ان سے کیوں سیکھیں ، ہم نے تو مغربی بننا ہے

ہمارا معاشرہ بھی عجیب تضاد کا شکار ہے ، ایک طرف ہم نے نماز کو عادت بنا لیا ہے اور دوسری طرف مغرب کی نقالی میں ہم مغرب کو بھی مات کر رہے ہیں ، ہمارے نوجوان اتنے زیادہ مغربی ہو چکے ہیں کہ اگر وہ آدم کا پسر ہے تو ممنوعہ پھل کھانے کے لیے بے چین ہے ، اور اگر حوا کی دختر ہے تو سانپ کا زہر چوس رہی ہے ، اور اب تو باغ عدن بھی کسی اکھاڑے کا منظر پیش کر رہا ہے ، جہاں ممنوعہ پھل ایسے بانٹا جا رہا ہے جیسے کسی مندر میں پرشاد بانٹا جاتا ہے ، اور ظاہر ہے ممنوعہ پھل کھانے کے بعد سب کے سب ننگے ہو چکے ہیں مگر کوئی بھی اب ستر پوشی نہیں چاہتا ، کہ یہ ملک نیوڈ بیچ ہے ۔ ۔ ۔ جس میں ننگا ہونا عزت و تکریم کی علامت ہے

بات ننگے پن کی ہو رہی ہے ، آپ تو جانتے ہیں کہ عیسائیوں کے ہاں معصوم فرشتے ننگے ہی ہوتے ہیں ، ہمارے ملک کے یہ دو فیصد فرشتے جن کے لیے یہ ملک باغ عدن سے کم نہیں ، اور یہ بات بھی ہے کہ انہیں عدن سے نکالا نہیں جاتا بلکہ یہ خود وقت آنے پر عدن سے بھاگ نکلتے ہیں ، اور دوزخی لوگوں میں جا کہ جنت کے مزے لیتے ہیں ، جب تک دوبارہ عدن کے حالات انکے لیے سازگار نہیں ہو جاتے ۔

اس لیے اب عدن میں اگر اسلام آ جائے تو ننگے فرشتے کیا کریں گے ؟ ویسے میں بھی اب سوچ رہا ہوں کہ ہمیں اسلام نے کیا دیا ہے ، سب ترقی کے راستے بند ، فرقے بندیوں اور بنیاد پرستیوں نے معاشرے کو ناسور بنا دیا ہے ، کیا یہ اسلام ہے ؟ جو صرف خود کش بمبار پیدا کرتا ہے ؟ کیا یہ اسلام ہے جو ترقی کو روکتا ہے ؟ کیا یہ اسلام ہے جو نہ خوش ہونے دیتا ہے اور نہ اداس ۔ ۔۔ ۔

عجب مخمصے میں جان پھنسی ہے ، جسے دیکھو وہ حسین (رض) کا پیروکار بنتا ہے ، مگر کربلا میں پانی سب سے پہلے خود بند کرتا ہے ، خود کو یزدییت کا دشمن گردانتا ہے ، اور یزید کی طرح چاہتا ہے کہ ہر کوئی اسکی بیت بھی کرے ، عجب لوگ ہیں یہ ، خیمے بھی جلاتے ہیں ، اور حلیم بھی پکاتے ہیں ، یہ جو چوں چوں کا مربع بنی ہے قوم ہماری ، اور دن بدن ہم جس دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں ، اسکا علاج اسلام بھی نہیں کر سکے گا ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ کیونکہ ہم سلامتی تو چاہتے ہیں مگر صرف اپنی ذات کی ۔ ۔ ۔ اور قوم جب ہجوم بن جاتی ہے تو اسکا حال اس ریوڑ جیسا ہو جاتا ہے جسپر درندے بار بار جھپٹ کر اسے ختم کر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔۔

لہذا اب پاکستان کو ہرگز اسلامی مملکت نہ سمجھا جائے ، ہم منافقین کا ٹولہ ہیں ، اور ہماری پوری کوشش ہے کہ یہ مسجد زرار بن جائے ۔ ۔۔ ۔ ۔ تا کہ اسے سچے مسلمان آ کر گرا دیں یا پھر اس کا وہ ہی حشر کریں جو مسجد قرطبہ کا عیسائیوں نے کیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔۔ اور ہمارے لیے بھی کہیں حکم نہ آ جائے “بے شک یہ ہی لوگ جھوٹے ہیں“