Posts Tagged ‘pakistan’

ایک بوڑھے فوجی کے آنسو ،اس سے بچھڑنے کے بیالیس سال بعد ۔ ۔۔

رشتے میں تو میرے ماموں لگتے ہیں ، اور کیونکہ میرا گھرانہ تھوڑا “دقیانوسی“ ہے اس لیے بے تکلفی سے بات نہیں ہوتی ، مگر آج میں نے ان سے خصوصی ریکویسٹ کی کہ آج مجھے کچھ بتائیں ، آپ اکہتر کی جنگ میں جے سور (مشرقی پاکستان ) میں تھے ، اور پھر ان نوے ہزار ہتھیار ڈالنے والوں میں تھے جو بعد میں جنگی قیدی بنے ، اور پھر واپس آئے اور ایک ٹوٹے ہوئے پاکستان کو دیکھا ، اور اب تک بدلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ۔۔ ۔ ۔ آج بتائیں مجھے کچھ ۔ ۔ ۔اور میں ایک بے درد صحافی کی طرح اور ظالم وکیل کی طرح جرح بھی کرنا چاہتا ہوں ، اور آپ نمائندگی کریں اس وقت کے پاکستانی کی جو ڈھاکہ کو ڈبونے کا حصے دار تھا ۔ ۔ ۔ ۔ تو جو گفتگو ہوئی ، اسے پیش کر رہا ہوں ، میری گذارش ہو گی ، کہ پوری پڑھیے گا ، شاید آپ کو بھی کچھ جواب مل جائیں

پوچھو کیا پوچھنا ہے
آپ کیسے گئے مشرقی پاکستان؟
مجھ سے سی او نے پوچھا کہ بنگال جاؤ گے ، میں نے کہا کیوں نہیں ، وہ بھی پاکستان ہے ، ضرور جاؤں گا
پوچھا کیوں تھا ؟
لوگ نہیں جانا چاہتے تھے وہاں ؟
نفرت کرتے تھے بنگالیوں سے ؟
نفرت ، نہیں نفرت کیوں کرتے ، بنگال بہت دور ہے ، اور وہاں پوری پوری یونٹ جاتی تھی ، اور بہت عرصہ رہتی تھی ، اسلیے فوجی گھر سے دور زیادہ دیر نہیں رہ پاتے تھے
اچھا، تو جب آپ گئے تو وہاں فسادات ہو رہے تھے
نہیں نہیں ، ہم الیکشن کی سیکیورٹی کے لیے گئے تھے ، فسادات تو بہت بعد ہوئے ، ہاں ٹنشن بہت تھی
کیوں ؟
وہاں بہت پہلے زہر گھول دیا گیا تھا ، اسکولوں میں زیادہ تر استاد ہندو تھے ، اور پاکستان بننے کے بعد والی نسل جوان ہو چکی تھی ، جنکے ذھنوں میں زہر بھرا تھا
کیا وہ اسلام سے نفرت کرنے لگے تھے ؟
نہیں ایسا بھی نہیں تھا، ہاں بھارتی لٹریچر بہت تھا ، حتہ کہ اسکولوں کالجوں میں جب بھی کچھ ہوا ، تو وہاں سے بھارتی مواد بہت ملتا تھا
تو اس پر کوئی ایکشن نہیں ہوتا تھا ؟
نہیں ۔۔ ۔ ۔عام عوام کو اس زہر کا اندازہ نہیں تھا ۔ ۔۔ ۔ کیونکہ اسلام کے خلاف نہ تھا ، ہاں یہ کہا جاتا تھا کہ مغربی پاکستان تماری محنت کھا رہا ہے ۔ ۔۔ اور تم سے اپنا کھانا پینا لیتا ہے تمہیں کچھ نہیں دیتا
تو کیا ایسے ہی تھا ؟
نہیں ، مشرقی پاکستان میں چاول ، چائے ، پٹ سن پیدا ہوتی تھی ، جن میں صرف چائے ہی ایسی تھی جو مغربی پاکستان میں زیادہ جاتی تھی ، مغربی پاکستان والے گندم میں خود کفیل تھے ، چاول انکی دوسری بھی نہیں تیسری غذا تھی ، اور کپاس بھی بہت تھی
تو پھر زبان کی وجہ سے نفرت ہوئی ؟
نہیں ، یہ بھی وجہ نہیں تھی ، بلکہ وہاں تو لوگ اردو کو پسند کرتے تھے ، مگر ایک بیج تھا نفرت کا جو بویا گیا ، اور یہ بیج تقسیم کے وقت ہی بویا گیا ، اور ہمارے ناعاقبت اندیش قیادت نے اسے پروان چڑھا دیا ، اور ٧١ تک یہ فصل پک گئی ، تو علیحدگی کی تحریک بن گئی ۔ ۔۔
اچھا ٹھیک ہے ، تو اس علیحدگی کی تحریک میں آپ نے مطلب فوجی ہونے کی وجہ سے ، آپ نے اپنے پاکستانی بھائیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا ، کیوں ؟
ہم نے ، یہ کون کہتا ہے ؟ میرے اس سوال پر انکا رنگ متغیر ہو گیا تھا
ہم نے تو آخری دم تک لڑے ، ہماری کمک بند ہو گئی تھی ، گھٹنوں گھٹنوں تک دن رات پانی میں رہتے تھے ، جسم پر پھوڑے بن گئے تھے ، روز کہتے تھے کہ آج کمک آئے گی ، کل آئے گی ، مگر کمک نہ آئی اور آرڈر گیا ، سرنڈر کا
اور آپ نے سرنڈر کر دیا ۔ ۔۔
ہاں ، ہم فوجی ہیں ، ہم اپنی کمان کے انڈر ہوتے ہیں ، پھر بھی ہم ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں تھے ، مگر جب مغربی پاکستان سے حکم آیا ، تو جنرل نیازی نے رات کو سب کے سامنے یہ حکم رکھا ، اور مشورہ مانگا ۔ ۔
کہ میں جنرل اروڑاہ کو گندے لطیفے سنانے لگا ہوں
وہ ہنس پڑے ، جنرل نیازی کیا کرتا ، جب اسکے پاس کچھ تھا ہی نہیں ، ہم نے ہر پہلو پر غور کیا تھا ، ایسے ہتھیار نہیں ڈالے تھے ، ہمارے پاس جو کچھ تھا اس سے ہم ایک دو دن لڑ سکتے تھے ، ہمیں نہیں معلوم تھا ہماری فوج میں کون ہمارے ساتھ ہے کون نہیں ، پھر ہم لڑتے کس سے ؟ اپنوں سے ؟ بھارت کی طرف جاتے تو پیچھے سے مکتی باہنی شانتی باہنی مارتی ، انکو روکتے تو سر پر بھارتی گولہ باری تھی ۔ ۔۔ اور ہائی کمان ہار مان چکی تھی ۔ ۔۔ ڈسپلن کے مطابق ہم کمان کے پابند تھے
اچھا تو فوجیوں نے کسی بنگالی کو نہیں ؟
مارا ، مگر جب وہ سامنے آئے ، ہتھیاروں کے ساتھ ، اور پھر یہ ہتھیار ایک اور وجہ سے بھی ڈالے گئے
کیا ؟
نہتے نوجون ، جئے بنگہ بندھو کا نعرہ لگاتے ، اور سینہ تان کہ سامنے آ کہ کہتے مارو گولی ۔ ۔ ۔
اور آپ مار دیتے ؟
ہاں ایسا بھی ہوا ہے ۔ ۔ ۔۔ ہم سمجھتے تھے کہ یہ انڈینز ہیں ، پھر بھارتی ان میں ایسے مکس ہو گئے کہ پہچان ممکن نہ رہی ۔۔ ۔ ۔
اچھا، مشرقی پاکستان کیسا تھا ؟
کیسا تھا ؟ ۔ ۔ ۔ انکی آواز بھرا گئی ، بہت خوبصوت ، ہرا بھرا ، دریا ، سمندر ، اور مچھلیاں ایسے آتیں کہ جھرنوں میں بھر جاتیں ۔ ۔۔ اور پھر انکی آنکھیں نم ہوتی چلی گئیں
سلہٹ ، ڈھاکہ، کُھلنہ ، جے سور ، چٹاگانگ ۔ ۔۔ پتہ ہے وہاں ناریل خود رو اگتے تھے ، اللہ نے درختوں کو کھیتوں کو بھرا دیا تھا وہاں ۔۔ ۔ ۔ وہ ہری بھری جنت تھی ہماری ۔۔ ۔ آنسو بہ نکلے تھے ۔۔ ۔
اور پھر آپ انڈیا کے قیدی بن گئے ۔ ۔۔ ۔
ہاں ، اور پتہ ہے جب ہم نے ہتھیار پھینک دیے گے ، ایک ٹیلے پر بیٹھے ریڈیو پاکستان سُن رہے تھے ، جو ابھی تک کہ رہا تھا کہ ہماری فوجیں بہادری سے لڑ رہی ہیں ، اور ہم اس کھلے جھوٹ پر بھارتیوں کے آگے شرمندہ ہو رہے تھے
خیر تو آپ کے خیال میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذمہ دار کون تھا؟
سیاستدان ۔ ۔ ۔ ۔ مجیب اور بھٹو ۔ ۔ دونوں تھے
اور یحییٰ ؟؟
وہ بھی تھا ، مگر اس سے بہت پہلے فوج غلط راستے پر چل چکی تھی
کیا مطلب ؟
مارشل لاء کے بعد فوجیوں کو پتہ چلا کہ ہم تو دن رات سخت ترین زندگی گزارتے ہیں ، اور جنکی حفاظت کرتے ہیں وہ تو سب کچھ کھا رہے ہیں ، اور پھر فوج کو بھی خون لگ گیا ، جب فوج نے سیاست میں قدم رکھا
اچھا بھارتی قید کیسی تھی ؟
بہت اچھی ، بس قید تھی ، جو وردی تھی وہ ہی پاس رہی ، کھانا اچھا تھا ، سلاٹر ہاؤس میں مسلمان ہی ذبیحہ کرتے تھے ۔ ۔ ۔۔
اچھا جب آپ آزاد ہوئے پاکستان آئے تو کیا بدلا
کچھ بھی نہیں ؟ سب ویسے کا ویسا تھا
یعنی کوئ دُکھ کہ پاکستان کٹ گیا ۔۔ ۔ کوئی افسوس تھا
نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک درد سے بھری آواز تھی انکی اور پھر انکی آنکھیں بھیگ گئیں
ہم تو سوچتے تھے کہ ہمیں آتے ہی محاذ پر بھیجھا جائے گا ، مگر ۔ ۔ ۔۔ مغربی پاکستان کے لوگ تو ایسے تھے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ، میں حیران تھا کہ یہ وہ ہی قوم ہے جو ٦٥ کی جنگ میں جذبے کی بلندی پر تھی اور آج ۔ ۔ ۔ بالکل بے حس ۔ ۔ ۔
یعنی ہمیں کوئی دُکھ نہیں تھا ۔۔ ۔
نہیں ۔۔ ۔ بالکل نہیں ۔۔ ۔ ۔ شاید یہ وہ پہلی بے حسی تھی ۔۔ ۔ جسکا نتیجہ آج کی بے بسی ہے ۔ ۔۔ ۔
کیا بنگالیوں کو بھی دُکھ تھا پاکستان سے الگ ہونے کا ؟
میں سمجھتا ہوں کہ ہے اور دن بہ دن یہ دُکھ اور احساس بڑھ رہا ہے ، مگر اس پاکستان کی بے حسی کی وجہ سے شاید انکا احساس پنپ نہ پائے ۔ ۔۔ ۔
یعنی آپ پاکستان سے مایوس ہیں
نہیں ، بہت جلد پاکستان بدل جائے گا ، میری خواہش ہے وہ ہنستا ہوا پاکستان میں دیکھوں ۔ ۔۔ جو اکہتر سے پہلے کا تھا ۔ ۔ ۔ ۔
کیسے؟
نئی نسل کو اپنا ماضی بتا کر ، پاکستان سے محبت کر کہ ۔ ۔ ۔۔ اب اسے ٹوٹنے نہیں دینا ۔۔ ۔ ۔ ۔ دشمن کو سب سے بڑا ڈر ہمارے نظریے سے ہے ، جو وہ توڑ رہا ہے ، ہماری نئی نسل کو بتانا ہے کہ پاکستان کیوں ضروری ہے
کیا آپ کے پاس مشرقی پاکستان کی کچھ یادیں تصویروں میں ہیں ؟
نہیں ، ہم تو بس ایک دری اور فوجی بوٹوں میں قید ہوئے ۔ ۔۔ سب وہاں رہ گیا ۔ ۔ ۔۔ شاید یہ ہی رشتہ ہے وہاں سے کہ وہاں ہماری یادیں بہت ہیں ، شاید وہاں کے کچھ لوگ یاد کرتے ہوں ہمیں ؟
کیا نوے ہزار قیدیوں میں ہزار فوجی ایسے نہیں جو یہ کہ سکیں کہ ہم پر جھوٹا الزام ہے ، ہم نے وہاں ظلم نہیں ،تم یہ سب دنیا کو بتاؤ گے تو یہ بات بھی کہنا کہ ، نوے ہزار قیدیوں کو اب بولنا ہو گا کہ پاکستانی فوج پر الزام غلط ہے ۔ ۔ ۔ ہمارا اصل دشمن بھارت ہے ، اور وہ کبھی بھی ہمارا دوست نہیں بنے گا اور کبھی بھی ہمیں زندہ نہیں دیکھنا چاہے گا ۔ ۔ ۔۔ کاش کوئی تمہاری طرح اس وقت کے فوجیوں سے یہ باتیں پوچھے جو تم نے آج مجھ سے پوچھیں ۔ ۔۔
میں چُپ ہو گیا ، کہ میرا میڈیا ۔۔ ۔ ۔ تو امن کی آشا کے نشے میں ہے ۔۔ ۔ ۔ وہاں بنگال کی سسکتی بھاشا کہاں سنائی دے گی ۔۔ ۔
آج مجھے اپنے ماموں کے بہتے ہوئے آنسوؤں میں اپنا مشرقی پاکستان ایسے ہی آنسو بہاتا نظر آیا ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ شکایت کرتا نظر آیا

ہم کہ ٹہرے اجنبی ، اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا، کتنی ملاقاتوں کے بعد ۔۔ ۔ ۔

میں ٹوٹے ہوئے پاکستان میں پیدا ہوا تھا ، مگر مشرقی پاکستان کو اپنی فلموں میں دیکھا ، درشن ، چکوری ، جہاں ہم وہاں تم ، شبانہ ، مصطفٰی جیسے اداکار ۔ ۔۔ وہ بلیک اینڈ وائٹ بھی کلر تھا
اور آج کا کلر صرف بلیک ہے ۔ ۔ ۔ ۔

اے میرے پیارے وطن ، اے میرے بچھڑے چمن
تجھ بہ دل نثار ہے ، تجھ سے مجھکو پیار ہے

آج اپنے مشرقی پاکستان کے لیے میرے آنسو بہے ہیں ، اس سے بچھڑنے کے بیالیس سال بعد ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔Image

الحمدوللہ میں مسلمان ہوں

میں ایک تاجر ہوں ، کاروبار بہت پھیلا ہوا ہے ، تین فیکٹریاں ہیں ، ایک شوگر مل ہے ، اور ان سب کے علاوہ میری ایک بروکر فرم بھی ہے ، جو میرے شئیر کے کاروبار کو دیکھتی ہے ، ملک سے باہر بھی مختلف بزنس ہیں میرے ، جن میں یورپ میں ایک سپر سٹور کی چین ہے ، ہاں فیملی ایک دو بیٹے ہیں ایک بیٹی ہے ، دو بیویاں بھی ہیں ، سب کچھ ہے مگر چین نہیں ہیں ، اتنا بزنس ہونے کے باوجود گذارا مشکل سے ہی ہوتا ہے ، کبھی یہ مسلہ کبھی وہ مسلہ ، سارا دن رات بزنس میں گذر جاتا ہے ، پیسہ کمانا آسان نہیں ہے جناب ، ہاں جی لوگ بھی کام چور ہو گئے ہیں ، اب دیکھیں میری فیکٹریوں میں کوئی دو ہزار افراد کام کرتے ہیں ، جنکو اچھی خاصی تنخواہ دیتا ہوں ، مگر انکا پیٹ ہی نہیں بھرتا ، ہر دوسرے دن مہنگائی کا رونا روتے ہیں ، ارے بھائی مہنگائی ہر ایک کے لیے ہے ، اب دیکھیں نا میں ہر سال نئے ماڈل کی کار بدلتا ہوں ، مگر اس سال بہت مشکل ہو گئی ہے ، ہماری حکومت کو تو بس جتنا دو اتنا ہی کم ہے ، میری نئے ماڈل کی کار پورٹ پر کلیرنس کی منتظر ہے ، اوپر سے بیٹی کی فرمائش ہے کہ اسے اپنی گریجویشن کی تقریب میں نئی سپورٹ کار میں جانا ہے، اب مہنگائی ہمارے لیے بھی ہے سوچنا پڑتا ہے ، مگر یہ کیا یہ چھوٹے لوگوں کے پیٹ ہی نہیں بھرتے ، میں اس دن ایسے فیکٹری کا چکر لگانے چلا گیا ، وہاں لنچ بریک تھا ، مزدور ایسے کھانے پر ٹوٹے تھے کہ کیا کہوں ، اور ایک مزدور اتنا کھانا کھا رہا تھا جتنا میں ہفتے میں بھی نہ کھا سکوں ، کھانے پر یاد آیا ، ڈاکٹر بھی عجیب ہوتے ہیں ، اب مجھے شوگر ہے تو ہر چیز سے احتیاط ، اوپر سے صرف چار کلو ہی وزن بڑھا تھا ، بیگم نے ورزش پر لگا دیا ، وہ تو اچھا ہے ڈآکٹر نے سخت ورزش سے منہ کیا ہے کہ ہارٹ پرابلم بھی ہے نا تھوڑا سا ، کچھ گردوں کا درد بھی ہو جاتا ہے ، اسلیے تو بھئی میں تو بہت احتیاط سے کھاتا ہوں ، مگر یہ مزدور ۔ ۔ ۔ تبھی تو انکو ہر بیماری لگتی ہے ، اور پچھلے دنوں کیا ہوا ، ہمارے سینئر اکاؤنٹنٹ کا انتقال ہو گیا ، سوچا کہ یہ متوسط طبقے کا بندہ تھا تو اسکے گھر چلا گیا ، اف اللہ ، کیا بتاؤں ، میری گاڑی کا تو کباڑا ہو گیا ، اتنی دھول ، مجھے تو ویسے بھی ڈسٹ الرجی ہے ، پھر اسکے بچوں سے ملا وہ بھی عجیب تھے ، نہ رو رہے تھے نہ ہنس رہے تھے ، میں نے اسکے گھر والوں کو دو لاکھ کا چیک دیا ، بھئی وہ ہمارے ساتھ اس وقت سے تھا جب میرے پاس صرف ایک سپر سٹور تھا ، جو میں نے اپنے والد کی جائداد بیچ کر بنایا تھا ، یہ جائداد کا چکر بھی عجیب ہوتا ہے ، بھئی میں بیچ سکتا تھا بیچ دیا ، میرا چھوٹا بھائی ناراض ہو گیا تھا ، اب تک ناراض ہے ، ویسے اگر میں اس وقت اسے اسکا اور دوسرے بھائی کا حصہ دے دیتا پھر تو یہ میری انڈسٹری کیسے بنتی ؟ آج میرا ٹرن اور ماہانہ دو بلین سے بھی اوپر ہے ، یہ سب میری محنت کا نتیجہ ہے ، ورنہ اگر میں بھی یہ سوچنے بیٹھتا کہ بھائی ناراض ہے ، یا بہن یا ماں ناراض ہے تو اتنی عزت اور دولت کیسے کماتا ؟ بس جی اس دنیا میں آگے بڑھنے کا ایک ہی طریقہ ہے وہ ہے آگے والے کو گرا کہ اس پر چھڑھ کہ آگے بڑھ جاؤ ، ورنہ کوئی تمہیں گرا کہ آگے چلا جائے گا ، اور یہ سلسلہ کبھی رکتا نہیں ہے ، بزنس کو بڑھانے کے سب سے ضروری چیز ہے ٹیکٹس ، کچھ لوگ اسے دھوکا دہی یا جھوٹ بھی کہتے ہیں ، مگر بھئی اگر دھوکا نہیں دو گے تو دھوکا کھا جاؤ گے ، اور اگر سچ پر چلے تو سب سے زیادہ مار کھاؤ گے ، اب مثال لے لیں نا ، اگر میں ٹیکس میں اپنے سارے اثاثے شو کر دوں تو پھر مجھے کتنا زیادہ ٹیکس دینا ہو گا ؟ بھئی یہ سب کرنا پڑتا ہے بزنس ہے نا ، اب میں نے اپنا بہت سارا پیسہ فکسڈ انکم میں لگا دیا ہے ، اب ہر مہینے اتنا سود اس پر مل جاتا ہے کہ میں اگر کچھ بھی نہ کروں تو موجودہ اسٹیٹس کو برقرار رکھ سکتا ہوں ،اب لوگ کہتے ہیں کہ سود برا ہے ، ارے بابا پیسہ آنا برا نہیں ہوتا جانا برا ہوتا ہے ، مجھے سب سے زیادہ ڈر ہی اسی چیز کا ہے کہ اگر کبھی یہ پیسہ (میرے منہ میں خاک) میرے پاس نہ رہا تو میں کیا کروں گا ، بس یہ دھڑکا لگا رہتا ہے ، اسی لیے میں نے اپنا معمول بنا رکھا ہے ، کہ اپنی فیکٹریوں سے ہر سال پچاس لوگوں کو حج کرواتا ہوں ، ویسے تو میرا اور میری فیملی کا بھی اصول ہے کہ رمضان کا آخری عشرہ حجاز میں ہی گذارا جائے ، اسکے لیے میں ہر سال بیس سے پیچس دن کی چھٹی کرتا ہوں بزنس سے ، رمضان کا آخری ہفتہ ہم لوگ عمرہ وغیرہ کرتے ہیں ، میں اور بیگم آخری تین چار روزے بھی رکھ لیتے ہیں ، عید کے دن واپس آتے ہیں وطن ، اور پھر کم سے کم دو ہفتے کے یورپ ٹور پر جاتے ہیں ، مجھے تو میلان بہت پسند ہے ، ویگاس اور ٹیکساس کے کسینو کی راتیں بہت دلکش ہوتیں ہیں ، بہت انجوائے ہوتا ہے ، دن بھر گھومتے ہیں اور رات کو جھومتے ہیں ، ہاں میری بیگم کو میامی بیچ بہت پسند ہے ، وہاں اسے آزادی محسوس ہوتی ہے ، ظاہر ہے وہ اپنے وطن کی بیچ پر مختصر لباس نہیں پہن سکتی ، پتہ نہیں ہمارے لوگ کب اس دقیانوسی ملا کریسی سے نکلیں گے ، بند ذھن کے بند لوگ ، اسی لیے میری بیٹی یہاں ایڈجسٹ نہیں کر پا رہی ، میں نے اسکے لیے لندن میں ایک پینٹ ہاؤس لیا ہے ، اسکی شادی کا سرپرائز گفٹ ، مگر وہ سیریز ہی نہیں ہوتی ، کبھی ایک کے ساتھ ہینگ آؤٹ کبھی دوسرے کے ساتھ ، خیر یہ نوجوانوں کے مزہ کرنے کی عمر ہے ، شادی تو ہو ہی جائے گی ، ہاں چھوٹا بیٹا بہت نالائق ہے ، میں نے اسے امریکہ پڑھنے کے لیے بھیجا اسنے وہاں شادی کر لی ، وہ بھی ایک دوسرے لڑکے سے ، کہتا ہے کہ اسے اب پتا چلا ہے کہ وہ گے ہے ، اپنے وطن میں تو اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا ، مگر مغرب میں تو اب یہ عام بات ہے ، بڑے بیٹے نے اپنا ہی دھندا شروع کر رکھا ہے ، پارٹی بوائے ہے ، مگر پیتا کچھ زیادہ ہے ، بالکل اپنی ماں پر گیا ہے ، وہ تو اب اتنی عادی ہے کہ رات کو پیے بنا اسے نیند ہی نہیں آتی ۔ اور اسکی بھی پارٹیاں ختم نہیں ہوتیں ، مگر اچھا ہے اسکی پارٹیوں سے مجھے اچھی کمپنی ملتی ہے ، آج کل کی خواتین تو بہت ہی ایڈوانس ہیں ، ڈسپوزیبل ریلیشن پسند کرتیں ہیں ، بھئی یہ سب کچھ ہماری پہچان ہے ، جب اوپر والے نے دیا ہے تو پھر انجوائے کیوں نہ کریں ، ہاں بھولنا نہیں چاہیے اسے ، میں بھی نہیں بھولتا ، ہر ہفتے دو سے تین غریبوں کو دس بیس ہزار بانٹ دیتا ہوں ، بھی اللہ کو بھی تو خوش رکھنا ہے ، اور پھر رمضان کے روزوں کا صدقہ دے دیتا ہوں ، اور ڈبل ٹرپل کر کہ دیتا ہوں ، مجھے پتہ ہے کہ کل اسکو بھی منہ دیکھانا ہے ، آخر میں مسلمان ہوں ، الحمدوللہ