Posts Tagged ‘Bangladesh’

ایک بوڑھے فوجی کے آنسو ،اس سے بچھڑنے کے بیالیس سال بعد ۔ ۔۔

رشتے میں تو میرے ماموں لگتے ہیں ، اور کیونکہ میرا گھرانہ تھوڑا “دقیانوسی“ ہے اس لیے بے تکلفی سے بات نہیں ہوتی ، مگر آج میں نے ان سے خصوصی ریکویسٹ کی کہ آج مجھے کچھ بتائیں ، آپ اکہتر کی جنگ میں جے سور (مشرقی پاکستان ) میں تھے ، اور پھر ان نوے ہزار ہتھیار ڈالنے والوں میں تھے جو بعد میں جنگی قیدی بنے ، اور پھر واپس آئے اور ایک ٹوٹے ہوئے پاکستان کو دیکھا ، اور اب تک بدلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ۔۔ ۔ ۔ آج بتائیں مجھے کچھ ۔ ۔ ۔اور میں ایک بے درد صحافی کی طرح اور ظالم وکیل کی طرح جرح بھی کرنا چاہتا ہوں ، اور آپ نمائندگی کریں اس وقت کے پاکستانی کی جو ڈھاکہ کو ڈبونے کا حصے دار تھا ۔ ۔ ۔ ۔ تو جو گفتگو ہوئی ، اسے پیش کر رہا ہوں ، میری گذارش ہو گی ، کہ پوری پڑھیے گا ، شاید آپ کو بھی کچھ جواب مل جائیں

پوچھو کیا پوچھنا ہے
آپ کیسے گئے مشرقی پاکستان؟
مجھ سے سی او نے پوچھا کہ بنگال جاؤ گے ، میں نے کہا کیوں نہیں ، وہ بھی پاکستان ہے ، ضرور جاؤں گا
پوچھا کیوں تھا ؟
لوگ نہیں جانا چاہتے تھے وہاں ؟
نفرت کرتے تھے بنگالیوں سے ؟
نفرت ، نہیں نفرت کیوں کرتے ، بنگال بہت دور ہے ، اور وہاں پوری پوری یونٹ جاتی تھی ، اور بہت عرصہ رہتی تھی ، اسلیے فوجی گھر سے دور زیادہ دیر نہیں رہ پاتے تھے
اچھا، تو جب آپ گئے تو وہاں فسادات ہو رہے تھے
نہیں نہیں ، ہم الیکشن کی سیکیورٹی کے لیے گئے تھے ، فسادات تو بہت بعد ہوئے ، ہاں ٹنشن بہت تھی
کیوں ؟
وہاں بہت پہلے زہر گھول دیا گیا تھا ، اسکولوں میں زیادہ تر استاد ہندو تھے ، اور پاکستان بننے کے بعد والی نسل جوان ہو چکی تھی ، جنکے ذھنوں میں زہر بھرا تھا
کیا وہ اسلام سے نفرت کرنے لگے تھے ؟
نہیں ایسا بھی نہیں تھا، ہاں بھارتی لٹریچر بہت تھا ، حتہ کہ اسکولوں کالجوں میں جب بھی کچھ ہوا ، تو وہاں سے بھارتی مواد بہت ملتا تھا
تو اس پر کوئی ایکشن نہیں ہوتا تھا ؟
نہیں ۔۔ ۔ ۔عام عوام کو اس زہر کا اندازہ نہیں تھا ۔ ۔۔ ۔ کیونکہ اسلام کے خلاف نہ تھا ، ہاں یہ کہا جاتا تھا کہ مغربی پاکستان تماری محنت کھا رہا ہے ۔ ۔۔ اور تم سے اپنا کھانا پینا لیتا ہے تمہیں کچھ نہیں دیتا
تو کیا ایسے ہی تھا ؟
نہیں ، مشرقی پاکستان میں چاول ، چائے ، پٹ سن پیدا ہوتی تھی ، جن میں صرف چائے ہی ایسی تھی جو مغربی پاکستان میں زیادہ جاتی تھی ، مغربی پاکستان والے گندم میں خود کفیل تھے ، چاول انکی دوسری بھی نہیں تیسری غذا تھی ، اور کپاس بھی بہت تھی
تو پھر زبان کی وجہ سے نفرت ہوئی ؟
نہیں ، یہ بھی وجہ نہیں تھی ، بلکہ وہاں تو لوگ اردو کو پسند کرتے تھے ، مگر ایک بیج تھا نفرت کا جو بویا گیا ، اور یہ بیج تقسیم کے وقت ہی بویا گیا ، اور ہمارے ناعاقبت اندیش قیادت نے اسے پروان چڑھا دیا ، اور ٧١ تک یہ فصل پک گئی ، تو علیحدگی کی تحریک بن گئی ۔ ۔۔
اچھا ٹھیک ہے ، تو اس علیحدگی کی تحریک میں آپ نے مطلب فوجی ہونے کی وجہ سے ، آپ نے اپنے پاکستانی بھائیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا ، کیوں ؟
ہم نے ، یہ کون کہتا ہے ؟ میرے اس سوال پر انکا رنگ متغیر ہو گیا تھا
ہم نے تو آخری دم تک لڑے ، ہماری کمک بند ہو گئی تھی ، گھٹنوں گھٹنوں تک دن رات پانی میں رہتے تھے ، جسم پر پھوڑے بن گئے تھے ، روز کہتے تھے کہ آج کمک آئے گی ، کل آئے گی ، مگر کمک نہ آئی اور آرڈر گیا ، سرنڈر کا
اور آپ نے سرنڈر کر دیا ۔ ۔۔
ہاں ، ہم فوجی ہیں ، ہم اپنی کمان کے انڈر ہوتے ہیں ، پھر بھی ہم ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں تھے ، مگر جب مغربی پاکستان سے حکم آیا ، تو جنرل نیازی نے رات کو سب کے سامنے یہ حکم رکھا ، اور مشورہ مانگا ۔ ۔
کہ میں جنرل اروڑاہ کو گندے لطیفے سنانے لگا ہوں
وہ ہنس پڑے ، جنرل نیازی کیا کرتا ، جب اسکے پاس کچھ تھا ہی نہیں ، ہم نے ہر پہلو پر غور کیا تھا ، ایسے ہتھیار نہیں ڈالے تھے ، ہمارے پاس جو کچھ تھا اس سے ہم ایک دو دن لڑ سکتے تھے ، ہمیں نہیں معلوم تھا ہماری فوج میں کون ہمارے ساتھ ہے کون نہیں ، پھر ہم لڑتے کس سے ؟ اپنوں سے ؟ بھارت کی طرف جاتے تو پیچھے سے مکتی باہنی شانتی باہنی مارتی ، انکو روکتے تو سر پر بھارتی گولہ باری تھی ۔ ۔۔ اور ہائی کمان ہار مان چکی تھی ۔ ۔۔ ڈسپلن کے مطابق ہم کمان کے پابند تھے
اچھا تو فوجیوں نے کسی بنگالی کو نہیں ؟
مارا ، مگر جب وہ سامنے آئے ، ہتھیاروں کے ساتھ ، اور پھر یہ ہتھیار ایک اور وجہ سے بھی ڈالے گئے
کیا ؟
نہتے نوجون ، جئے بنگہ بندھو کا نعرہ لگاتے ، اور سینہ تان کہ سامنے آ کہ کہتے مارو گولی ۔ ۔ ۔
اور آپ مار دیتے ؟
ہاں ایسا بھی ہوا ہے ۔ ۔ ۔۔ ہم سمجھتے تھے کہ یہ انڈینز ہیں ، پھر بھارتی ان میں ایسے مکس ہو گئے کہ پہچان ممکن نہ رہی ۔۔ ۔ ۔
اچھا، مشرقی پاکستان کیسا تھا ؟
کیسا تھا ؟ ۔ ۔ ۔ انکی آواز بھرا گئی ، بہت خوبصوت ، ہرا بھرا ، دریا ، سمندر ، اور مچھلیاں ایسے آتیں کہ جھرنوں میں بھر جاتیں ۔ ۔۔ اور پھر انکی آنکھیں نم ہوتی چلی گئیں
سلہٹ ، ڈھاکہ، کُھلنہ ، جے سور ، چٹاگانگ ۔ ۔۔ پتہ ہے وہاں ناریل خود رو اگتے تھے ، اللہ نے درختوں کو کھیتوں کو بھرا دیا تھا وہاں ۔۔ ۔ ۔ وہ ہری بھری جنت تھی ہماری ۔۔ ۔ آنسو بہ نکلے تھے ۔۔ ۔
اور پھر آپ انڈیا کے قیدی بن گئے ۔ ۔۔ ۔
ہاں ، اور پتہ ہے جب ہم نے ہتھیار پھینک دیے گے ، ایک ٹیلے پر بیٹھے ریڈیو پاکستان سُن رہے تھے ، جو ابھی تک کہ رہا تھا کہ ہماری فوجیں بہادری سے لڑ رہی ہیں ، اور ہم اس کھلے جھوٹ پر بھارتیوں کے آگے شرمندہ ہو رہے تھے
خیر تو آپ کے خیال میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذمہ دار کون تھا؟
سیاستدان ۔ ۔ ۔ ۔ مجیب اور بھٹو ۔ ۔ دونوں تھے
اور یحییٰ ؟؟
وہ بھی تھا ، مگر اس سے بہت پہلے فوج غلط راستے پر چل چکی تھی
کیا مطلب ؟
مارشل لاء کے بعد فوجیوں کو پتہ چلا کہ ہم تو دن رات سخت ترین زندگی گزارتے ہیں ، اور جنکی حفاظت کرتے ہیں وہ تو سب کچھ کھا رہے ہیں ، اور پھر فوج کو بھی خون لگ گیا ، جب فوج نے سیاست میں قدم رکھا
اچھا بھارتی قید کیسی تھی ؟
بہت اچھی ، بس قید تھی ، جو وردی تھی وہ ہی پاس رہی ، کھانا اچھا تھا ، سلاٹر ہاؤس میں مسلمان ہی ذبیحہ کرتے تھے ۔ ۔ ۔۔
اچھا جب آپ آزاد ہوئے پاکستان آئے تو کیا بدلا
کچھ بھی نہیں ؟ سب ویسے کا ویسا تھا
یعنی کوئ دُکھ کہ پاکستان کٹ گیا ۔۔ ۔ کوئی افسوس تھا
نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک درد سے بھری آواز تھی انکی اور پھر انکی آنکھیں بھیگ گئیں
ہم تو سوچتے تھے کہ ہمیں آتے ہی محاذ پر بھیجھا جائے گا ، مگر ۔ ۔ ۔۔ مغربی پاکستان کے لوگ تو ایسے تھے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ، میں حیران تھا کہ یہ وہ ہی قوم ہے جو ٦٥ کی جنگ میں جذبے کی بلندی پر تھی اور آج ۔ ۔ ۔ بالکل بے حس ۔ ۔ ۔
یعنی ہمیں کوئی دُکھ نہیں تھا ۔۔ ۔
نہیں ۔۔ ۔ بالکل نہیں ۔۔ ۔ ۔ شاید یہ وہ پہلی بے حسی تھی ۔۔ ۔ جسکا نتیجہ آج کی بے بسی ہے ۔ ۔۔ ۔
کیا بنگالیوں کو بھی دُکھ تھا پاکستان سے الگ ہونے کا ؟
میں سمجھتا ہوں کہ ہے اور دن بہ دن یہ دُکھ اور احساس بڑھ رہا ہے ، مگر اس پاکستان کی بے حسی کی وجہ سے شاید انکا احساس پنپ نہ پائے ۔ ۔۔ ۔
یعنی آپ پاکستان سے مایوس ہیں
نہیں ، بہت جلد پاکستان بدل جائے گا ، میری خواہش ہے وہ ہنستا ہوا پاکستان میں دیکھوں ۔ ۔۔ جو اکہتر سے پہلے کا تھا ۔ ۔ ۔ ۔
کیسے؟
نئی نسل کو اپنا ماضی بتا کر ، پاکستان سے محبت کر کہ ۔ ۔ ۔۔ اب اسے ٹوٹنے نہیں دینا ۔۔ ۔ ۔ ۔ دشمن کو سب سے بڑا ڈر ہمارے نظریے سے ہے ، جو وہ توڑ رہا ہے ، ہماری نئی نسل کو بتانا ہے کہ پاکستان کیوں ضروری ہے
کیا آپ کے پاس مشرقی پاکستان کی کچھ یادیں تصویروں میں ہیں ؟
نہیں ، ہم تو بس ایک دری اور فوجی بوٹوں میں قید ہوئے ۔ ۔۔ سب وہاں رہ گیا ۔ ۔ ۔۔ شاید یہ ہی رشتہ ہے وہاں سے کہ وہاں ہماری یادیں بہت ہیں ، شاید وہاں کے کچھ لوگ یاد کرتے ہوں ہمیں ؟
کیا نوے ہزار قیدیوں میں ہزار فوجی ایسے نہیں جو یہ کہ سکیں کہ ہم پر جھوٹا الزام ہے ، ہم نے وہاں ظلم نہیں ،تم یہ سب دنیا کو بتاؤ گے تو یہ بات بھی کہنا کہ ، نوے ہزار قیدیوں کو اب بولنا ہو گا کہ پاکستانی فوج پر الزام غلط ہے ۔ ۔ ۔ ہمارا اصل دشمن بھارت ہے ، اور وہ کبھی بھی ہمارا دوست نہیں بنے گا اور کبھی بھی ہمیں زندہ نہیں دیکھنا چاہے گا ۔ ۔ ۔۔ کاش کوئی تمہاری طرح اس وقت کے فوجیوں سے یہ باتیں پوچھے جو تم نے آج مجھ سے پوچھیں ۔ ۔۔
میں چُپ ہو گیا ، کہ میرا میڈیا ۔۔ ۔ ۔ تو امن کی آشا کے نشے میں ہے ۔۔ ۔ ۔ وہاں بنگال کی سسکتی بھاشا کہاں سنائی دے گی ۔۔ ۔
آج مجھے اپنے ماموں کے بہتے ہوئے آنسوؤں میں اپنا مشرقی پاکستان ایسے ہی آنسو بہاتا نظر آیا ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ شکایت کرتا نظر آیا

ہم کہ ٹہرے اجنبی ، اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا، کتنی ملاقاتوں کے بعد ۔۔ ۔ ۔

میں ٹوٹے ہوئے پاکستان میں پیدا ہوا تھا ، مگر مشرقی پاکستان کو اپنی فلموں میں دیکھا ، درشن ، چکوری ، جہاں ہم وہاں تم ، شبانہ ، مصطفٰی جیسے اداکار ۔ ۔۔ وہ بلیک اینڈ وائٹ بھی کلر تھا
اور آج کا کلر صرف بلیک ہے ۔ ۔ ۔ ۔

اے میرے پیارے وطن ، اے میرے بچھڑے چمن
تجھ بہ دل نثار ہے ، تجھ سے مجھکو پیار ہے

آج اپنے مشرقی پاکستان کے لیے میرے آنسو بہے ہیں ، اس سے بچھڑنے کے بیالیس سال بعد ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔Image