Archive for the ‘میری یادیں’ Category

مثلث

میں سٹوڈیو سے نکل کر ہمیشہ کی طرح بوفیز میں پہنچا تو دیکھا کہ میری مخصوص میز پر کچھ الٹرا ماڈرن قسم کی لڑکیوں نے قبضہ کیا تھا، ویٹر جو میری پسندیدہ جگہ جانتا تھا، میری طرف دیکھ کر مجبور سی مسکراہٹ کے ساتھ ایک خالی میز کی طرف اشارہ کیا، میں بھی مسکرا کر ابھی کرسی پیچھے کر ہی رہا تھا کہ ایک آواز آئی
ارے اطہر تم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اوہ عابد ۔ ۔۔ ۔ تم ۔۔۔ ۔
پھر ہم گرمجوشی سے گلے ملے ، یار تم ، کہاں ہوتے ، یار تم مجھے بھول جاؤ گے یہ تو میں سوچ بھی نہیں سکتا،
ارے ملتے ہی گلے، میں نے منہ بنا کر کہا
ہاں گلہ نہ کروں تو کیا کروں پتہ ہے پورے تین سال بعد ملے ہو، انسٹی ٹیوٹ کے بعد ۔ ۔۔ اسکے الفاظ مجھے ماضی میں لے گئے
ہاں، تین سال ، آٹھ مہینے ، بارہ دن ، چار گھنٹے ۔ ۔۔ میرے منہ سے الفاظ جیسے بہنے لگے ۔ ۔ ۔ ۔
ہونہہ ، ابھی بھی وہیں ہو ۔ ۔ ۔ ۔ عابد کا لہجہ عجیب ہو گیا،
پتہ نہیں، میں جیسے کسی گہری نیند سے جاگا تھا، ارے یار، مجھے تو بھوک لگ رہی ہے ، قسم سے پچھلے پانچ گھنٹے سے کچھ نہیں کھایا ۔۔ ۔ ۔۔
اطہر ، ا ب کیا کہوں تم سے ،ذرا بھی نہیں بدلے ۔ ۔ ۔
کیسے بدلوں ۔ ۔ ۔
یار سچی بات تو یہ ہے کہ ، میں تم سے کافی عرصے سے ملنا چاہتا تھا، اور وہ کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا
ارے یار چائے تو پی لو،
نہیں یار، دیر ہو جائے گی ، اور میری بی وی مجھے گھر میں گھسنے نہیں دے گی ۔۔ ۔
ہیں ۔۔۔ تم نے شادی کر لی ۔ ۔۔ کب
یار تم میرے ساتھ گھر چلو ، میں نے اسکے لہجے میں ایک عجیب سی بے بسی محسوس کی ۔ ۔ ۔ وہیں کھانا کھا لیں گے
مگر ۔۔۔ میں نے عابد کی آنکھوں میں التجا دیکھی تو بول اٹھا
ٹھیک ہے ، ٹھیک ہے ، میں بھی گھر فون کر لوں ۔ ۔ ۔
تو کیا تم نے بھی ۔ ۔ ۔۔ ۔
ارے نہیں یار ، میں تو آوارہ پنچھی ہوں ۔ ۔ ۔ اکیلا ہی ان سڑکوں کا راہی ، ہم سڑک پر تھے ، عابد ایک ٹیکسی کو روک چکا تھا ، وہ دراصل ماما پریشان ہو جاتیں ہیں ۔ ۔
یار گھر سے ہی کر لینا ، وہ میرے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا، آنٹی کیسی ہیں ،
اچھی ہیں ، تمہیں کبھی کبھی یاد کرتیں ہیں ۔۔۔۔
اور تم ۔ ۔ ۔
میں تو صرف ایک ہی یاد کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو ۔۔ ۔
میں اسی کے سلسلے میں تم سے ملنا چاہتا تھا، عابد نے مجھے چونکا دیا
رافعہ کے لئے ۔۔۔ میرے منہ سے نکلا
ہاں ۔۔ ۔ مگر پھر ایک دم اسکا لہجہ بدل گیا، میں بھی کیا ذکر لے بیٹھا
نہیں عابد آج بہت دن بعد میرے ہونٹوں پر اسکا نام آیا ہے، میں تو ۔۔ ۔ میں تو ۔ ۔ ۔
دھیرے یار ۔۔ ۔ میری آواز شاید کافی بلند ہو گئی تھی، میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں ۔ ۔۔
کیا ، ۔ ۔ ۔ مجھے اسکا لہجہ بہت پرسرار لگا ۔ ۔ ۔
دیکھ ہی لو گے ۔ ۔ ۔اس نے چپ سادھ لی ۔ ۔ ۔ ٹیکسی جانی پہچانی سڑکوں سے گذرنے لگی ، پھر ایک موڑ پر میں چونک اٹھا ، اسی موڑ پر میں پہلی بار رافعہ سے ملا تھا، اور پھر اسی کا ہو کر رہ گیا تھا، مگر اسنے مجھے ٹھکرا دیا تھا ۔ ۔ ۔ بہرحال عابد میرا ہمراز دوست تھا، ہم تینوں کلاس فیلو تھے ، ٹیکسی انٹی ٹیوٹ کے سامنے سے گذر رہی تھی ۔ ۔۔ ۔

اطہر تمہیں یہ جگہ یاد ہے ؟ ۔۔۔ ۔
ہاں ۔ ۔۔ ۔ یہ بھول سکتا ہوں میں ۔ ۔ ۔ میں جب بھی ادھر سے گذرتا ہوں ۔ ۔۔ تو بہت کچھ یاد آتا ہے ۔ ۔ ۔ بہت کچھ میں نے گہری سانس لی ۔ ۔ ۔ مگر کافی عرصہ ہوا ادھر آیا نہیں ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں کیا کچھ بدل گیا ہو ۔ ۔ ۔
بہت بدل گیا ہے ، سب پرانے لوگ چلے گئے ہیں ۔۔ ۔ ۔ نئے ٹیچر ہیں سارے ۔ ۔ ۔ ۔
ہاں ۔ ۔ ۔ پرانے لوگ چلے ہی جاتے ہیں۔ ۔ ۔ مگر یادیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں ۔ ۔ ۔ کبھی نہیں جاتیں کہیں نہیں جاتیں ۔ ۔ ۔
لگتا ہے تم ابھی تک اسی شاک میں ہو ، کچھ نہیں بھولے
کون بھول سکتا ہے اس طرح ٹھکرائے جانے کو ۔ ۔ ۔

ہاں میں نے تمہارے کچھ ڈرامے دیکھے ہیں ، ان میں تمہارا یہ احساس مجھے بہت نمایاں نظر آتا ہے ۔ ۔ اور تم خود ایسے رول بھی تو کرتے ہو ۔ ۔اسنے ٹیکسی کو ایک سڑک پر مڑنے کا اشارہ کیا ۔ ۔ ۔
ہونہہ ۔ ۔۔ شاید صحیح کہ رہے ہو ۔ ۔ ۔ آں ۔ ۔ تم نے اپنی شادی کا نہیں بتایا کب ہوئی ۔ ۔ ۔ ۔میں نے موضوع بدلتے ہوئے پوچھا ۔ ۔ ۔
بتا دوں گا ، ہاں ادھر روک دینا ۔ ۔ ۔ عابد نے ٹیکسی ڈرائیور کو رکنے کو کہا ۔۔ ۔اور اپنا ویلٹ نکال کر کرایہ ادا کر دیا
لو بھائی یہ ہے ہمارا غریب خانہ ۔ ۔۔ عابد نے میرے ہاتھ سے سکرپٹ لیتے ہوئے کہا ۔ ۔ ۔
ہونہہ ۔ ۔۔ غریب خانہ ۔ ۔ میں نے اسکے وصیح و عریض بنگلے پر نظر ڈوڑائی ۔۔ ۔عابد نے بیل پر ہاتھ رکھ دیا
گاڑی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ میں نے پتہ نہیں کیوں پوچھا
یار دونوں ورکشاپ میں ہیں ۔ ۔ آفس کی گاڑی یوز کر رہا ہوں ۔۔۔ آجکل ۔ ۔۔
دروازہ کسی ملازمہ نے کھولا تھا ، عابد میرا ہاتھ پکڑ کر اند ر داخل ہو ۔۔ ۔ وعلیکم سلام ۔ ۔ رجو ۔ ۔ بیگم صاحبْہ کہاں ہیں ، عابد نے اسکے سلام کا جواب دیا
وہ جی اپنے کمرے میں آرام کر رہی ہیں
جاؤ ان سے کہو اپنے ہاتھ کی اچھی سی چائے بنا لائیں، آج ایک بہت ہی خاص مہمان ہمارے گھر آیا ۔ ۔ ۔ مجھے پتہ نہیں کیوں عابد کا لہجہ کھوکھلا لگا ۔ ۔
اچھا جی ۔ ۔ رجو دوسری طرف مڑ گئی ، آؤ اطہر ۔ ۔ وہ مجھے ایک طرف کھنچ کر ڈرائنگ روم میں لے گیا ۔ ۔ ۔
واہ بھئی خوب ٹھاٹھ ہیں، میں نے سجاوٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ۔ ۔
بس یار ۔ ۔ ۔اللہ کا کرم ہے ، اور ہماری بیگم صاحبْہ کا کمال ہے، اچھا تم کیا کر رہے ہو آج کل اداکاری و فنکاری کے علاوہ
اداکاری کے علاوہ بھی اداکاری ہی کر رہا ہوں زندگی کے سٹیج پر ، میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔ ۔ ۔ اور تم ؟؟
ایک فرم کا ڈائریکٹر ہوں ۔ ڈرامے کا نہیں ، کام کا ۔ ۔
میں ہنس دیا ۔ ۔ ۔ پھر کچھ دیر ہم خاموش ہو گئے ۔ ۔۔ جیسے کچھ کہنے کو نہ ہو، کہ اندر والے دروزے سے کھڑکھڑاہٹ کی آواز آئی ۔ ۔ ۔ ۔
لو بھئی چائے آگئی اور ہماری بیگم بھی ، میں اٹھ کھڑا ہوا، عابد کہ رہا تھا، یہ میرے دوست ۔۔ ۔ ۔ مگر نہیں تمہیں تعارف کی کیا ضرورت ، تم تو ایک دوسرے کو جانتے ہو

پھر میری آنکھیں جیسے چندھیا گئیں، ایک دھچکا سا لگا دل کو ، زبان کنگ ہو گئی ۔ ۔ ۔۔ میرے منہ سے اتنا ہی نکلا ۔ ۔

رافعہ ۔ ۔۔ آپ ۔۔۔۔۔۔ عا۔۔۔۔بد ۔۔۔۔۔ یہ یہ ۔۔۔۔ میرا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا، آنکھوں میں ایک دم اندھیرا چھا گیا ۔۔۔۔ میرے سامنے ، میری تمنا، میری آرزو، میری چاہت ۔۔۔ رافعہ ۔۔۔۔عابد کی بی وی کے روپ میں کھڑی تھی ۔۔۔۔ وہ ہی رافعہ جس نے مجھے ٹھکڑا دیا تھا، میں صوفے میں گرتا چلا گیا ، عابد میری کیفیت سمجھ چکا تھا ارے ارے کر کے میری طرف لپکا ۔۔ ۔ اور پھر جیسے میں بے ہوش ہو گیا ۔ ۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اطہر، اطہر کیا ہوا، آنکھیں کھولو ۔۔ ۔ ۔اسکے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا ۔ ۔۔۔ایک ہلکی سی سسکی سنی میں نے ، عابد مجھے سہارا دے کر اٹھا رہا تھا، مگر میں نے اسے اشارے سے منع کر دیا،میں ٹھیک ہوں۔ ۔۔ ۔ یہ سب ۔۔۔ یہ سب کیا خواب ہے ؟ میں نے لڑکھڑاتے ہوئے لہجے میں پوچھا ۔۔۔۔
نہیں ، یہ حقیقت ہے، بھیانک حقیقت ، تمہارے لئے بھی اور میرے لئے بھی ۔۔۔۔وہ مجھ سے نظر چراتے ہوئے بولا
مگر مگر یہ ہوا کیسے ۔۔۔۔ تم تم تو اسے صحیح طرح سے جانتے بھی نہ تھے ۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ ہے کہاں ۔۔۔ میں نے رافعہ کمرے میں نہ پا کر بولا
اپنے کمرے میں چلی گئی ہے ، کہ رہی تھی مجھے تمہیں ادھر نہیں لانا چاہیے تھا، وہ ایک لمبی سی سانس لے کر بولا
ہاں ٹھیک ہی تو کہ رہی ہے ، مجھے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔ مجھے چلا جانا چاہیے ، میں اٹھ کھڑا ہواء

نہیں تم نہیں جاؤ گے۔۔۔ تمہیں وہ سب جاننا ہو گا جو میرے ساتھ ہواء ، اطہر قدرت کے اس مذاق پر میں بھی ہنسوں گا تم بھی ہنسو گے ، اسنے مجھے کندھوں سے پکڑ کر بیٹھا دیا
نہیں یار میں تمہاری زندگی میں زہر نہیں گھولنا چاہتا۔ ۔۔ میں نے ایک بار پھر اٹھنے کی کوشش کی
اور خود کڑہ کڑہ کر مرنا چاہتے ہو ؟ عابد نے تیز لہجے میں جواب دیا
یکطرفہ محبت کا یہی انجام ہوتا ہے ، میری آواز بھرا گئی
یکطرفہ ، وہ چیخ اٹھا ، کس نے کہا کہ تمہاری محبت یکطرفہ تھی، کس نے کہا؟ اسنے ایک بار پھر مجھے بٹھا دیا اور میرے پہلو میں آبیٹھا
یکطرفہ نہیں تو اور کیا ۔۔۔۔ اسنے کبھی میرے متعلق سوچا ہی نہ تھا
جھوٹ ہے یہ۔۔۔ وہ تمہیں چاہتی تھی ۔ ۔۔ اور ۔۔۔ اور شاید چاہتی ہے ۔ ۔۔ تمہیں پتہ ہے تمہارے سارے ڈراموں کا انتخاب ہے اسکے پاس اور اکثر تمہارے سین باربار دیکھتی ہے
تمہارے سامنے ، میں نے حیرت سے پوچھا
ہاں اس نے مجھ سے کچھ نہیں چھپایا ۔ ۔ ۔ اپنی زندگی کا ایک ایک پل مجھ پر عیاں کر دیا ، وہ محبت کی پیاسی تھی ۔۔۔ اسے بھی چاہے جانے کا ارمان تھا ۔۔۔ میں نے اسے پیار دیا ۔ ۔ ۔ مگر شاید عابد کا نہیں ۔ ۔۔ تمہارا ۔ ۔ ۔ اطہر کا۔ ۔۔ وہ تمہیں اب بھی چاہتی ہے اطہر ۔ ۔ ۔ اب بھی ۔ ۔ ۔

وہ مجھے اب بھی چاہتی ہے ، میرے دل میں ایک لہر اٹھی ، وہ مجھے چاہتی ہے مگر وہ تو اسکی بیوی ہے ۔۔۔۔ اور یہ وہ سب مجھے کیوں بتا رہا ہے ۔۔ ۔ میں سوچ رہا تھا مگر کچھ بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا وہ کہ رہا تھا

اطہر وہ تمہیں چاہتی ہے ، پہلے بھی چاہتی تھی اب بھی چاہتی ہے
نہیں نہیں ۔۔۔ میں چیخ اٹھا۔۔۔ اسنے کبھی مجھے نہیں چاہا۔۔۔ تم لوگوں کے سامنے انکار کیا تھا ۔۔ ۔ نہیں عابد اسنے مجھے کبھی نہیں چاہا ۔ ۔ ۔
اطہر تمہیں اصل حالات کا علم نہیں۔۔۔ تمہیں مسرت یاد ہے، وہی جس کے تھرو تم نے اس تک پیغام پہنچایا تھا ۔ ۔۔ ارے وہ لمبی سی لڑکی۔ ۔ ۔ اسکی ایک ہی تو سہیلی تھی ۔ ۔۔
ہاں ہاں مجھے یاد ہے ، میں نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا
وہی اصل کردار ہے تمہارے ڈرامے کی ۔ ۔
وہ ۔۔۔ مگر کیسے ۔۔۔ میں حیران ہو گیا تھا
میں تمہیں تفصیل بتاتا ہوں
نہیں عابد مجھے اندھیرے میں ہی رہنے دو ، میں تمہاری زندگی کوخراب نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔ مجھے اندھیرے میں ہی رہنے دو ، ایسا نہ ہو کہ ۔ ۔۔ میں ۔۔۔۔ میں ۔۔۔ میرا سر جھک گیا ۔ ۔ ۔
نہیں اطہر ۔۔۔ تمہیں جاننا ہو گا ۔۔۔ تم گھر فون کر کہ بتا دو کہ آج رات تم یہاں رہو گے میرے پاس ۔ ۔۔
تمہارے پاس۔۔۔۔
ہاں میرے پاس ۔۔۔ گھر کا نمبر بتاؤ ۔۔ اسنے کارڈلیس اٹھاتے ہوئے کہا۔۔۔ اور پھرمیں گھر میں بتا دیا

رجو ۔۔رجو ۔۔۔ کھانا تیار ہو گیا ہے کیا ۔۔۔ عابد نے آواز لگائی۔۔۔۔
رجو چلی گئی ہے ۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوئی تو میرے دل میں پھر سے وہی ہلچل شروع ہو گئی۔۔۔ مگر خود کو سنبھالنا پڑا۔۔۔۔ میں نے نظر اٹھا کر دیکھا۔۔۔ اسکی مترنم آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ روئی تھی
چلیں کھانا لگا دیا ہے میں نے
مجھے اسکی آواز کوسوں دور محسوس ہوئی ، حتہ کہ ہمارے درمیان فاصلہ بہت کم تھا۔۔۔ ہم کھانے کی میز پر آئے ۔۔۔ کھانا خاموشی سے کھایا گیا۔۔۔ بلکہ کیا کھایا گیا ۔۔۔ میں تو چمچ اور کانٹے سے کھیلتا رہا ۔۔۔ اور شاید وہ دونوں بھی ۔۔۔ کھانے کے بعد ہم صوفوں پر بیٹھ گئے
اطہر چائے پیو گے ۔۔۔ عابد نے پوچھا
نہیں
تم نے کچھ کھایا بھی تو نہیں
میں زیادہ نہیں کھاتا ۔۔۔ تم تو جانتے ہی ہو
ہاں جانتا ہوں
اچھا اب جانے دو مجھے
کیسے جانے دوں ابھی تو کوئی بات ہوئی ہی نہیں
نہیں عابد میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا
عابد نے میرے لہجے کی سختی محسوس کی تو وہ رافعہ کی طرف مڑا
رافعہ تم اسے حقیقت بتاؤ
حقیقت ۔۔۔ رافعہ کے منہ سے نکلا۔۔۔۔ آپ جانتے ہیں کہ اب میں سب بھول جانا چاہتی ہوں۔۔۔ میری حقیقت صرف آپ ہیں ۔۔۔صرف آپ ہیں عابد
رہی بات انکی تو میں انہیں ایز اے رائٹر لائیک کرتی ہوں ۔۔۔ اور کوئی واسطہ نہیں ۔۔۔کوئی رشتہ نہیں
وہ منہ پر ہاتھ رکھکر اندر چلی گئی
میں اٹھ کھڑا ہواء
عابد مجھے جانے دو ، کیوں میری وجہہ سے اپنی ازداوجی زندگی خراب کرتے ہو مجھے جانے دو عابد مجھے جانے دو
نہیں اطہر تمہیں سننا ہو گا۔۔۔ جو میں کہوں گا۔۔۔ عابد کا لہجہ سخت ہو گیا
اچھا کہو ۔۔۔ میں نے ہی ہار مان لی
جب تم نے رافعہ کو پروپوز کیا تھا تو اس سے دو ہفتے پہلے ہی مسرت رافعہ کو تمہارے متعلق اپنے جذبات بتا چکی تھی ۔۔۔ اسلئے رافعہ نے تمہیں ریجیکٹ کیا ۔۔۔ اور پھر مسرت کے ساتھ تم رافعہ کے لئے اٹیچ رہے تو مسرت کی غلط فہمی نے تمہیں اسکی نظروں میں ایک نیا روپ دے دیا۔۔۔ اور پھر تم تینوں کے درمیان ایک مثلث بن گئی۔۔۔ رافعہ اگر تمہیں اپناتی تو مسرت کو دکھ ہوتا۔۔ اور اگر تمہیں مسرت کے جذبوں کا علم ہوتا تم اسے انکار کر دیتے ۔۔۔ اور مسرت تمہیں کچھ کہتی تو رافعہ کو دکھ ہوتا ۔۔۔ غرض تم تینوں ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے۔۔۔ مگر تمہارے درمیان ایک مثلث تھی ۔۔۔ اور پھر تم تینوں نے قربانی دی ۔۔۔ رافعہ نے تمہیں چھوڑا ۔۔۔ تم نے رافعہ کو اور مسرت نے تم کو ۔۔۔ یعنی تم نے ایک دوسرے کو ایک دوسرے کی خاطر چھوڑا۔۔۔
اور تم نے اپنا لیا۔۔۔۔ پتہ نہیں میرا لہجہ تلخ کیوں تھا
وہ پھیکی سی ہنسی سے میرے لہجے کو اگنور کر گیا
نہیں میں تو رافعہ کے متعلق جانتا بھی نہ تھا ، صرف تمہارے توسط سے وہ ذہن میں تھی ، گھر والوں نے رشتہ طے کیا ، مجھے جب نام پتہ چلا تو میں صرف اسے مشہابہت سمجھا۔۔۔ مگر جب پتہ چلا تو میں کچھ نہ کر سکا ۔۔۔ میری شادی میری والدہ کی خواہش تھی ۔۔۔ میں انکار نہ کر سکا۔۔۔ پھر بعد میں میں نے تمہیں بہت ڈھونڈا مگر۔۔۔
میں تو یہیں تھا۔۔۔۔ ایک دنیا مجھے جانتی ہے ۔۔۔ میں تمہیں نہیں ملا ۔۔۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا
ہاں ایک دنیا تمہیں جانتی ہے ۔۔۔ تب مجھے احساس ہوا کہ ایک مشہور آدمی سے ملنا کتنا مشکل کام ہے ۔۔۔ خیر اب ملے ہو تو مجھے بہت کچھ سوچنا ہے
تم کچھ نہ سوچوعابد ۔۔۔ سب بھول جاؤ ۔۔۔اسی میں تمہاری بھلائی ہے ، میری بھلائی ہے ، ہم سب کی بھلائی ہے
مگر اطہر تم نے اپنی زندگی کو دکھوں کی آماجگاہ بنا رکھا ہے ، تمہارے خیالات ایک ہی محور پر گھومتے ہیں کہ ، تمہیں ٹھکرایا گیا ہے
نہیں عابد۔۔۔ اب تم میرے خیالات کو بلند پاؤ گے، بس یہی قلق تھا ۔۔۔ کہ مجھے کسی نے نہیں چاہا۔۔۔ مگر آج جانا کہ مجھے بھی چاہا گیا تھا اور چاہا جاتا ہوں
اطہر تمہیں ایک دنیا چاہتی ہے اور تم کہتے ہو تمہیں نہیں چایا گیا
ہونہہ دنیا کی چاہت۔۔۔ یہ دنیا تو ہر اس چیز کو چاہتی ہے جو سامنے ہو ۔۔۔ذرا اوجھل ہونے پر یوں بھولتی ہے جیسے اسکا وجود ہی نہ تھا
آخر ہو نا ڈرامہ نگار ڈائلاگ ہی بولو گے ۔۔۔ میں تو چاہتا ہوں ۔۔۔ کہ اگر تم اسے اپناؤ تو میں ۔۔۔ میں رافعہ کو تمہاری خاطر چھوڑ سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔میں چیخ اٹھا اور اسکا گریبان پکڑلیا ۔۔۔ عابد ۔۔میرا ذہن گھومنے لگا ۔۔۔ کیا کہا تم نے ۔۔۔۔ کیوں کہا تم نے یہ ۔۔۔ اسکے الفاظ میرے لئے ایٹم بم سے کم نہ تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں عابد نہیں ۔۔۔۔ میں اپنی زندگی کا دکھ بڑھانا نہیں چاہتا ۔۔۔اور تمہیں کوئی دکھ نہیں دینا چاہتا
ارے میرے لئیے لڑکیوں کی کیا کمی ہے
نہیں ۔۔۔۔اور لڑکیوں اور رافعہ میں بہت فرق ہے دوست ۔۔۔ نہیں تو لڑکیاں تو میرے ساتھ بھی بہت ہیں ، ہر ڈھب کی ، چاہنے والیاں ، جان دینے والیاں
مگر کوئی رافعہ نہے۔۔۔۔۔اسنے جیسے زبردستی بولا
بیشک نہ ہو۔۔ مگر میرے لئے تم یہ قربانی نہ دو۔۔۔میں نے تو اسے صرف چاہا ہے۔۔ اور وہ بھی یکطرفہ طور پر۔۔۔ مگر تم نے تو اسے پایا ہے ۔۔۔ اپنایا ہے۔۔۔ یاد رکھو اس چیز کے جانے کا اتنا غم نہیں ہوتا ۔۔جو تمہاری پہنچ سے دور ہو ۔۔۔مگر جو چیز تمہارے پاس ہو اسکی جدائی مشکل سے برداشت ہوتی ہے
تم صحیح کہ رہے ہو اطہر ۔۔۔ شاید اسی لئیے رافعہ مجھے چاہنے بھی لگی ہے ۔۔۔ بہت چاہتی ہے وہ مجھے۔۔۔ اسکا لہجہ عجیب تھا مجھے جیسے ایک زخم لگا گیا ۔۔۔ میں پھیکی سی مسکراہٹ سے بولا
ہاں عابد ہر وفا شعار بی وی اپنے مجازی خدا کو یونہی چاہتی ہے ۔۔ خدا تم دونوں کو خوش رکھے۔۔۔ اور مجھے اجازت دو۔۔۔ میں اٹھ کھڑا ہواء
اس وقت کہاں جاؤ گے ، رات کے دو بج رہے ہیں ۔۔ ٹیکسی بھی نہیں ملے گی ۔۔۔
ہم آوارہ منش ہیں یار ۔۔۔ پیدل ہی نکلیں گے
نہیں اطہر رات ادھر ہی رہو
نہیں عابد اب میرا یہاں رکنا بہتر نہیں
اطہر ۔۔۔۔ اسکے لہجے میں احساس جرم تھا
عابد ۔۔۔ سمجھا کرو
میں نے اسکا کندھا تھپتپایا اور پھر باہر آ گیا۔۔۔باہر کی سنسان سڑکوں پر میں اکیلا چل رہا تھاْ۔۔۔ ایک طوفان سا تھا خیالات کا۔۔۔ عابد ۔۔۔۔ رافعہ ۔۔۔۔ مسرت ۔۔۔میرے زہن میں یہ نام گڈمڈ ہو رہے تھے ۔۔۔میں نے واقع ہی رافعہ کو دل و جان سے چاہا تھا۔۔۔اور اسکے ٹھکرائے جانے کے بعد سے زندگی کو بے کیف سمجھتا تھا ۔۔۔۔ مگر زمانے کی رنگینناں مجھے بہت کچھ بھلا دیتی تھیں ۔۔۔اور آج کا واقعہ ۔۔۔۔
میں ایک فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا ۔۔۔ایک گاڑی والے نے لفٹ کی آفر کی اور میں گھر آ گیا۔۔۔ کئی دن گذر گئے عابد نے مجھے چار پانچ بار فون کیا اور مجھ سے ملنے کی کوشش بھی کی ۔۔۔ مگر میں جان بوجھ کر اجتناب کیا ۔۔۔۔

ایک دن میں سٹوڈیو میں اپنے ڈرامے کی ریکارڈنگ میں مصروف تھا ، کہ پتہ چلا کہ کوئی خاتون مجھ سے ملنا چاہتی ہیں ، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ رافعہ ایسے مجھ سے ملے گی ، میں نے اسے اندر بلا لیا ، اور اسے کہا کہ میں اپنی ریکارڈنگ پوری کرتا ہوں آپ شوٹنگ دیکھیں۔۔۔ اور میں سیٹ پر اپنے ڈائلاگ بولنے لگا
روبی ۔۔۔تم جانتی ہو جب کسی انسان کو ٹھکرا دیا جاتا ہے تو وہ جیتے جی مر جاتا ہے ، غھکرائے ہوئے انسان کی پہچان مٹ جاتی ہے ، وہ خود کو تنہا کر دیتا ہے ، گمنام کر دیتا ہے ۔۔ مگر ایسے انسان مرنے کے بعد ایک نیا جنم لیتے ہیں ۔۔۔جس میں وہ صدا کے لئیے زندہ رہتے ہیں ۔۔۔۔ یہ دنیا انہیں چاہتی ہے۔۔۔ انہیں پوجتی ہے ۔۔۔ مگر یہ نہیں سوچتی ۔۔۔ کہ اگر اس شخص کو زندگی میں اتنا چاہا جاتا تو شاید وہ زیادہ عظیم ہوتا ۔۔۔ اور زیادہ عظیم ہوتا۔۔۔۔

کٹ ۔۔۔ پروڈیوسر کی آواز ابھری ۔۔۔ گڈ شو اطہر۔۔۔ اوکے پیک اپ۔۔۔۔میں رافعہ کی طرف بڑھتا چلا گیا
ارے آپکی آنکھوں میں آنسو؟
اطہر آپ ایسے کردار کیوں کرتے ہیں
کیوں کہ میں ہوں ہی ایسا
نہیں آپ ایسے نہیں ہیں ۔۔۔۔ میں آپ سے کہنے آئی تھی ۔۔۔
جی کہیے۔۔۔۔
اطہر آپکی آمد نے ہماری ۔۔۔ میرا مطلب ہے ۔۔۔ میری اور عابد کی زندگی میں ایک دھماکہ کر دیا ہے ۔۔۔آپ کی آمد سے ہمارے درمیان پھر سے ایک مثلث بن گئی ہے ۔۔۔ میں عابد اور آپ ۔۔۔ مثلث بن گئے ہیں
مثلث ۔۔۔ میں چونک گیا
نہیں رافعہ میں یہ مثلث نہیں بننے دوں گا۔۔۔ میں دور چلا جاؤں گا۔۔۔ میں سمجھ گیا تھا کہ میری وجہہ سے انکے درمیان کیا ہو رہا تھا۔۔۔۔
اطہر میرا مطلب یہ نہیں ۔۔ آپ عابد کو سمجھائیں جو ہونا تھا ہو چکا ۔۔۔اور اب آپ ہماری زندگی میں زہر نہ گھولیں ۔۔ پلیز
رافعہ ۔۔۔ آپ مطمئن رہیں ۔۔۔ ایسا کبھی نہیں ہو گا
رافعہ چلی گئی ۔۔۔ میں اسے جاتے دیکھتا رہا اور سوچتا رہا، زندگی ایسے بھی دور ہوتی ہے ۔۔۔۔
دوسرے دن عابد کو فون کیا ۔۔۔
عابد کچھ مت کہنا۔۔۔صرف میری بات سننا۔۔۔ میں جا رہا بہت دور ۔۔۔زندگی کے کسی موڑ پر تم سے ملوں تو اجنبی سمجھ کر فراموش کر دینا۔۔۔ میں تمہارے اور رافعہ کے اور اپنے درمیان وہ منحوس مثلث نہیں بنانا چاہتا جو کبھی میرے ، مسرت اور رافعہ کے درمیان میں تھی ۔۔۔ جسکی وجہہ سے آج ہم تینوں کی زندگی جہنم بنتی جا رہی ہے
اسئلیے یہ مثلث اب کبھی بھی نہیں بنے گی ۔۔۔
میں نے رسیور رکھ دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گو عابد کو کہ تو دیا تھا مگر ۔۔۔ اسے نبھانا ۔۔۔۔ اور جیسے وقت کی رفتارتھم گئی تھی ، شاید میں اسے بھلا نہ پایا تھا، اسنے کہا تھا کہ میں نے اسکی زندگی میں زہر بھر دیا ہے ، مگر اسکی ایک جھلک نے مجھ سے میرا آپ چھین لیا تھا۔۔۔میں نے لکھنا چھوڑ دیا تھا۔۔ تمام پرفارمنگ آرٹس کو بھی ختم کر دیا تھا۔۔۔ رات رات بھر صفحے کالے کرتا ۔۔۔ اور میری ردی کی ٹوکری بھرتی رہتی ۔۔۔
گھر میں ماما کے سوا کون تھا۔۔۔ اور ماں تو سب جان لیتی ہے ۔۔۔ ایک دن انکے بھی صبر کا پیمانہ چھلک گیا ۔۔۔
زی یہ کیا ہے ۔۔۔۔۔ وہ مجھے پیار سے زی کہتی تھیں
ماما ۔۔ ماما ۔۔۔میں نے کچھ کھو دیا ہے ۔۔۔ ماما ۔۔۔ میں کسی کے لئیے دکھ کا باعث بنا ہوں۔۔۔ میں نے انکے گھٹنوں میں سر رکھ دیا ۔۔۔
زی ۔۔۔ تم نے کسی کو دکھ دیا۔۔۔ ناممکن ۔۔۔ کتنا مان تھا انہیں مجھ پر۔۔۔ میرا بیٹا سب کچھ کر سکتا ہے ۔۔۔ مگر کسی کو دکھ نہیں دے سکتا۔۔۔ ناممکن ۔۔۔ انہوں نے میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا
اچھا ۔۔ بتاؤ کیا ہواء ہے ؟ مجھے نہیں بتاؤ گے ۔۔۔ اپنی ماما کو ۔۔ اپنی فرینڈ کو۔۔۔۔
ماما۔۔۔ ایک دوست اپنی دوستی کو امر کر گیا ۔۔۔ اور دوسرا اسکے لئیے۔۔۔ میری آواز بھرا گئی ۔۔۔۔ ماما میرا ماضی مجھے ایک تحفہ دے گیا ہے ۔۔۔اور میرا حال ۔۔۔ میرا مستقبل۔۔۔ کچھ نہیں کچھ نہیں ۔۔۔۔ میں بے ربط بول رہا تھا۔۔۔
زی ۔۔۔ وہ کسی شاعر نے کہا ہے نا
کل کاماضی ، آج کا حال ، کل کا مستقبل ہو گیا
جسنے پیچھے مڑ کہ دیکھا، وہ پتھر کا ہو گیا
زی زندگی جمود کا نام نہیں ۔۔۔ حرکت کا نام ہے ۔۔۔ ماضی کبھی حال نہیں ہو سکتا ۔۔۔ اور حال کبھی مستقبل نہیں ہو سکتا۔۔ سو جیو تو آج میں ۔۔۔ سیکھو تو ماضی سے ۔۔۔ سوچو تو مستقبل کا ۔۔۔
مگر ماما ۔۔۔ یاد ماضی ۔۔۔ میں نے کچھ کہنا چاہا ۔۔۔
نہیں زی کچھ نہیں ۔۔۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔ ٹی وی پر حامد علی کی آواز آ رہی تھی
گذر گیا جو زمانہ اسے بھلا بھی دو
جو نقش بن نہیں سکتا اسے مٹا بھی دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پتہ نہیں یہ محبت بھی کیا چیز ہے ۔۔۔ اسکا کوئی قانون نہیں کوئی قاعدہ نہیں ۔۔۔ اور جب یہ ہو جائے تو بس ہو جاتی ہے۔۔۔ اور یہ دوستی ۔۔۔ یہ اس سے بھی عجیب ہوتی ہے ۔۔۔۔ یار کی خاطر دنیا کو لٹا دیا جاتا ہے ۔۔۔ کسی مذہب کسی قانون ۔۔۔ کسی معاشرے کی نہیں سنتے یہ لوگ۔۔۔ اور قربان ہو جاتے ہیں۔۔۔
عاشق اور دوست سدا روتے ہیں ۔۔۔ عاشق محبوب سے وصل کی خاطر ، ہر نظام سے ٹکرا کر خود کو پاش پاش کر لیتا ہے ۔۔۔ اور دوست ۔۔۔دوست کی خاطر اپنا جیون اندھیر کر لیتا ہے ۔۔۔
ہمارے لئے دوستی اور محبت دو الگ الگ رشتے ہیں ۔۔۔ مگر دونوں کا مقصد ایک ہی ہے ۔۔۔قربانی ۔۔۔ ہم ایک دوسرے کی خاطر جیتے ہیں مرتے ہیں ۔۔۔ مگر اپنی بے بسی اور بے ثباتی کی وجہہ نہیں مانتے۔۔۔
اور جب بھی کوئی ۔۔۔ دل کو بھا جائے یا دل کسی کی طرف کھنچا چلا جائے تو ۔۔۔ محبوب کا اکثر جواب نفی میں ہوتا ہے ۔۔۔ گو وہ سب جانتا ہے ۔۔۔ مگر محبوب ۔۔اگر عشق کو تسلیم کر لے ۔۔۔ تو شاید یہ دنیا ۔۔۔۔ برائیوں سے پاک ہو جائے ۔۔۔ مگر ایسا ہوتا نہیں۔۔۔۔ یہاں دوستی نبھانے کے لئیے قربانی چاہیے ۔۔۔ یہاں عشق کے لئیے اپنی ذات کو بھولنا پڑتا ہے ۔۔ ۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔۔۔۔

میں نے رافعہ کے بعد کچھ عرصہ ۔۔۔آوارگی میں گذارا ۔۔۔ مگر جب کہیں سکوں نہ ملا تو ۔۔۔صرف ماما کے کہنے پر جاب کی تلاش شروع کر دی ۔۔۔ اور پھر شاید وقت کو مجھ پر رحم آہی گیا۔۔۔ مجھے ایک ماہنامے میں ایڈیٹر کی جاب مل گئی ۔۔۔اور میں زمانے کی رنگین و سنگین داستانیں پڑھنے لگا۔۔۔ مگر کیسے۔۔۔۔
ہر لفظ کتابوں میں تیرا عکس لئیے ہے
اک پھول سا چہرہ ہمیں پڑھنے نہیں دیتا

ماما نے میری کیفیت سمجھ لی تھی اور ۔۔۔ ایک پروڈیوسر سے کہ کر مجھے لکھنے پر مجبور کیا ۔۔۔ تو دل کا غبار اپنی کہانی "مثلث” کی صورت میں نکلا۔۔۔۔ اور پھرے یہ کہانی اسکرین کے بنیادی مراحل سے گذرنے لگی ۔۔۔
ریکارڈنگ کے دوران میں کئی دفعہ ۔۔۔ ذہن ی کشمکش کا شکار ہوا ۔۔۔۔ خصوصاً وہ سین جب میری رافعہ سے پہلی ملاقات فلمائی گئی ۔۔۔ میرا کردار کرنے والے فنکار نے (جو مجھے اپنا آئڈئیل کہتا تھا) اپنی جاندار اداکاری اور مکالموں کی ادائیگی سے مجھے میرے حواس پر چھا گیا ۔۔۔۔
یہ سب دیکھ کر ماما نے میری شادی کے لئیے تگ و دو شروع کر دی
میں شادی نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔
کیوں ۔۔۔ ماما کے لہجے میں جانے کیا تھا میں لرز کہ رہ گیا
بس ماما ۔۔۔ ابھی نہیں ۔۔۔
ابھی نہیں تو کیا ۔۔۔ میرے مرنے کے بعد۔۔۔
ماما۔۔۔ میں نے بے بسی سے انکی گود میں سر رکھ دیا۔۔۔
زی ۔۔۔ اب مجھ میں دکھ اٹھانے کی ہمت نہیں۔۔۔ تم دس ماہ کے تھے جب تمہارے پاپا نے ہمیں تنہا چھوڑ دیا ۔۔۔ تو تمہارے دادا دادی نے ہمیں گھر سے بے گھر کر دیا ۔۔۔ مگر میری صحافت کی ڈگری کام آئی ۔۔۔۔ اور میں نے ایک چھوٹے اخبار میں نوکری کر لی ۔۔۔ اور آج تمہیں اس مقام پر پہنچایا کہ مجھے فخر ہے اپنے بیٹے پر ۔۔۔۔ میں نے تمہیں کوئی بھی گرم سرد نہیں ہونے دیا ۔۔۔ چاہے مجھے آگ اور برف سے لڑنا پڑا ۔۔۔۔ ماما باربار کی دہرائی ہوئی کہانی سنا کر رو دیں

مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی اجڑے باغ میں کھڑا ہوں ۔۔ وہ کہ رہیں تھیں
زی ۔۔۔ میں نے تم سے کبھی کچھ نہیں مانگا ۔۔۔ میں تم سے صرف ایک خوشی مانگتی ہوں ۔۔۔ شادی کر لو۔۔۔ زی میرے لئے ۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔۔۔ اور میں ماں کی مامتا سے ہار گیا ۔۔۔
ٹھیک ہے ماما ۔۔۔ آپ جو چاہیں کریں ۔۔۔ میں نے انکے آنسو پونچھتے ہوئے کہا ۔۔۔ ماما نے مجھے اپنے سینے سے لگا لیا

اور پھر شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں ۔۔۔ مگر بدقسمتی نے شاید میرا گھر دیکھ لیا تھا ۔۔۔۔ ایک دن شاپنگ سے واپسی پر ۔۔۔ جب ماما کار ڈرئیو کر رہیں تھیں میں ساتھ والی سیٹ پر تھا ۔۔۔ کار کی ڈکی اور پچھلی سیٹ رنگ برنگے ڈبوں اور شاپرز سے بھری ہوئی تھی ۔۔۔ کہ سامنے سے آنے والی کوچ ۔۔۔ سڑک کے درمیان بنی پتھر کی پٹی پھلانگتی ہوئی سڑک پر سیکڑوں گاڑیوں کو چھوڑ کر صرف ہماری گاڑی پر چڑھ دوڑی ۔۔۔ اور پھرنہ جانے کیا ہواء ۔۔۔۔ لوگوں کی چیخیں تھیں ۔۔۔ اور رنگ برنگے شاپرز ایک ہی رنگ میں رنگتے چلے گئے ۔۔۔میری آنکھوں میں اندھیرا چھانے لگا ۔۔۔ تو میں نے ان ڈوبتے لمحوں میں سوچا ۔۔۔چلو اس دکھ بھری زندگی سے نجات ملی ۔۔۔۔ مگر یہ طوفان تو کچھ اور ہی چاہتا تھا ۔۔۔میں زندہ رہ گیا ۔۔۔ میری ماں ۔۔۔ میری دوست ۔۔۔ میرے اتنے بڑے بے فضول بدن کو سینچنے والی ۔۔۔ میرا سب کچھ ۔۔۔ مجھ سے بچھڑ گئی ۔۔۔۔ میں پاگل ہو گیا ۔۔۔ گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا ۔۔۔آفس میں ذہن الجھا رہتا ۔۔۔ سب لوگ عجیب نظر آتے ۔۔۔ جب کوئی ہنستا تو اسکی آواز صور کی آواز لگتی ۔۔۔میری یہ کیفیت کئی ہفتے رہی ۔۔۔ میں نے چھٹیاں لے لیں ۔۔۔ اور دنیا سے کٹ گیا ۔۔۔ میں تھا ۔۔ تنہائی ۔۔۔ سگریٹ پینا چاہتا تو ماما کا چہرہ سامنے آجاتا جنہوں نے مجھے ۔۔۔ اس سگریٹ سے اتنی نفرت دلائی کہ کبھی خواب میں بھی اسکو ہاتھ نہ لگاتا ۔ ۔
وقت بھی عجیب چیز ہے کبھی تو ایسا رکتا ہے جیسے ساری دنیا ساکت ہو ۔۔۔ اور کبھی ۔۔۔ آندھی طوفان بن جاتا ہے ۔۔۔ وقت کا مرہم لگا تو میں آفس آگیا ۔۔۔ مگر میری خمار آلود آنکھیں مجھے الگ تھلگ ہی رکھتیں تھیں ۔۔۔۔میں اس کیفیت سے کبھی باہر نہ آتا مگر ایک دن ۔۔۔ فون کی گھنٹی بجی ۔۔۔ رسیور اٹھایا ۔۔۔۔
اطہر ہیں ؟
جی بول رہا ہوں۔۔
اطہر ۔۔۔ آپ کیوں ہمارے لئیے عذاب بن رہے ہیں؟
میں رافعہ کی آواز سن کر جیسے ہوش میں آگیا ۔۔۔
راف۔۔۔ رافعہ ۔۔۔ مم ۔۔۔مم ۔۔ میں ۔۔ عذاب ۔۔۔
ہاں میں رافعہ ہوں ۔۔۔۔ آپ جب ہر طرف سے مایوس ہو گئے تو اب یہ ڈرامے بنانے لگے ۔۔۔۔۔۔ہیں ۔۔۔ کیا کر لیں گے آپ ۔۔۔ میں آپکی تھی ۔۔۔اور نہ ہوں ۔۔۔ اور نہ کبھی ہو سکتی ہوں ۔۔۔ چاہے بیسوں ڈراموں میں آپ اپنا رونا روئیں ۔۔۔۔انڈر سٹینڈ یو ۔۔۔۔۔
رافعہ سنیں تو ۔۔۔۔۔
اب سننے کو رہ کیا گیا ہے ۔۔۔ ہم نے سوچا تھا کہ شاید آپ اپنی دوستی کی مثال کو زندہ رکھیں گے ۔۔۔ اور دنیا کو دکھوں سے لڑنا سکھائیں گے ۔۔۔ مگر ۔۔۔
میں کیا سکھاؤں گا ۔۔۔ میں خود ہار گیا ہوں ۔۔۔ میں تو ۔۔ میں تو ۔۔ مر گیا ہوں ۔۔۔
نہیں مرتے آپ جیسے لوگ۔۔۔ ہم جیسے کتنوں کو مار کہ مرتے ہیں ۔۔۔۔
تو آپ چاہتیں ہیں کہ میں مر جاؤں ۔۔۔۔؟؟
میرے چاہنے یا نہ چاہنے سے کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔ انسان کی ہر خواہش تو پوری نہیں ہوتی نا ۔۔۔۔ اس کے لہجے میں بے بسی تھی ۔۔۔ اور زہر بھرا ہوا تھا ۔۔۔۔ میں ہنس دیا
اوکے ۔۔۔ رافعہ آپ کو یہ خوشخبری بھی جلد ملے گی ۔۔
اب کیا خوشخبری ملے گی ۔۔۔ اب تو آپ مر جائیں ۔۔۔ یا مجھے مار دیں ۔۔۔۔مجھے مار دیں ۔۔۔۔
رافعہ ۔۔۔ رافعہ ۔۔۔ مگر فون بند ہو چکا تھا ۔۔۔۔
میں نے ٹی وی کا نمبر ملایا ۔۔۔ پروڈیوسر صاحب ایک دم خوشی سے بولے ۔۔۔۔اطہر تھنکس کے تم نے بھی خبر لی ۔۔۔ارے تمہارا ڈرامہ ۔۔۔۔
سر پلیز اسے آن ائیر نہ جانے دیں ۔۔۔۔
کیا کہ رہے ہو اطہر ۔۔۔ وہ تو ۔۔۔
سر یہ میری زندگی اور موت کا سوال ہے ۔۔۔
اطہر سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔۔ ہم نے سپانسر بک کر لئیے ہیں ۔۔۔ جو تمہارے نام کی وجہہ سے ہیں اور ۔۔۔ پھر اسکا ٹریلر دیکھا چکے ہیں ۔۔۔ لوگ تو منتظر ہیں اس ٹراینگل لو اسٹوری کے ۔۔۔۔اور وہ نئی اداکارہ ۔۔۔
سر پلیز اسے روک دیں ۔۔۔۔
اب ایسا ممکن نہیں ۔۔۔ گھر پر جا کہ ٹریلر دیکھنا ۔۔۔ میری ایک ریکارڈنگ ہے ۔۔ میں خود تمہارے گھر آؤں جب ڈرامہ آن ائیر جائے گا ۔۔۔
سر ۔۔۔ سر مگر فون ایک بار پھر بند ہو چکا تھا ۔۔۔۔

گھر آکر میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی ٹی وی آن کر دیا ۔۔۔ اشتہار چل رہے تھے ۔۔۔ کہ اچانک میں چونک پڑا ۔۔۔

کل شب کو دیکھیے مشہور رائیٹر اطہر ہاشمی کا لکھا ہوا مثلث
مثلث ۔۔ جذبوں کی کہانی
مثلث ۔۔ دوستی کی کہانی
مثلث ۔۔۔ قربانی کی کہانی
اور پھر کلائمکس سین دیکھایا گیا ۔۔۔۔جسنے میرے دل میں ہلچل مچا دی ۔۔۔یہ سین تھا ۔۔۔ عابد کی بی وی کے روپ میں رافعہ سے میری ملاقات کا ۔۔۔۔میرے ذہن میں چنگاریاں اڑنے لگیں ۔۔۔میں نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔ مگر آواز سنائی دی ۔۔۔۔ آپ کی آمد نے ہماری زندگی میں زہر گھول دیا ہے ۔۔۔۔میں نے ٹی وی بند کر دیا ۔۔۔ مگر لفظوں کی بازگشت نے میرا پیچھا نہ چھوڑا ۔۔۔۔میں نے نیند کی گولیوں کی شیشی انڈیل لی ۔۔۔۔ مگر صر ف دو گولیاں ۔۔۔ مگر شاید اتنی مقدار ہی مجھے ایک رات تک کے لئے کافی تھی ۔۔۔ آج ابھی میں گھر میں داخل ہواء ہی تھا کہ فون کی گھنٹی بج اٹھی ۔۔۔عابد کا فون تھا ۔۔۔ اس نے اسی انداز سے بات کی جیسے کبھی میں نے اس سے کی تھی ۔۔۔۔
اطہر کچھ مت کہنا ۔۔۔ تم ہم سے دور نہیں جا سکتے ۔۔۔ اسلئیے ہم تم تو کیا ۔۔۔ اس شہر ۔۔۔ اس ملک کو ہی چھوڑ کر جارہے ہیں ۔۔۔ کوشش کرنا کہ اب کبھی کوئی رابطہ نہ ہو ۔۔۔ میں ۔۔۔میں رافعہ کے لئیے ساری دنیا چھوڑ سکتا ہوں ۔۔۔ کہ میں اسکا ہوں ۔۔۔وہ میری ہے ۔۔۔ گو تم جیسے دوست کو بھولنا مشکل ہو گا ۔۔۔۔مگر ۔۔۔اطہر ۔۔۔لوگ مر بھی تو جاتے ہیں نا۔۔۔۔ہم سمجھیں گے کہ تم مر گئے ہو ۔۔۔
میں کیا کہتا ۔۔۔ وہ رو رہا تھا ۔۔۔ کچھ کہ رہا تھا ۔۔۔ اپنی دوستی کے بارے میں ۔۔۔ اپنی محبت کے بارے میں ۔۔۔ اپنی بے بسی کے بارے میں ۔۔۔ شاید کچھ اور بھی ۔۔۔مگر میں رسیور رکھ چکا تھا ۔۔۔
اب میرے پاس کچھ بھی نہیں ۔۔۔ نہ رافعہ جیسی محبوب ۔۔۔ نہ عابد جیسا دوست ۔۔۔ نہ ماما جیسی ماں ۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔ تو پھر میں کیوں ہوں ۔۔۔ میں نے نیند کی گولیوں کی شیشی کھول کر انڈیلنا چاہی مگر ۔۔۔ یہ کیا ۔۔۔ خالی ۔۔۔ فون پھر چیخا ۔۔۔ پروڈیوسر صاحب تھے ۔۔ کہ رہے تھے ۔۔۔ کہ کچھ دیر بعد میرا ڈرامہ آن ائیر ہو رہا ہے۔ ۔ ۔ جسکے ہزاروں لوگ منتظر ہیں۔۔۔ میں کیا کروں ۔۔۔ ڈرامہ ۔۔۔رافعہ ۔۔۔عابد ۔۔۔محبت ۔۔۔ ماما ۔۔۔کوئی بھی تو نہیں میرے ساتھ ۔۔۔ میرے سر میں آگ سی لگ گئی ہے ۔۔۔ دھڑکن بڑھ گئی ہے ۔۔۔۔ سر پٹھا جا رہا ہے ۔۔۔ رافعہ ۔۔۔۔ یہ تم نے اچھا نہیں کیا ۔۔۔
پتہ نہیں کیوں ٹی وی آن کر دیا ہے میں نے ۔۔۔ مگر اسمیں آواز کیوں نہیں ۔۔۔۔ تصویر کی جگہ روشنی ۔۔۔۔ صرف روشنی ۔۔۔۔ میں دیکھ نہیں پا رہا ہوں کیا۔۔۔ کیا میں مر رہا ہوں ؟ ۔۔۔نہیں نہیں میں مرنا نہیں چاہتا ۔۔۔ ابھی تو مجھے اپنا ڈرامہ دیکھنا ہے ۔۔۔۔مے ۔۔۔مم۔۔۔۔مے مے ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹی وی پر آخری سین چل رہا تھا ۔۔۔ جب دروازہ کھلا ۔۔۔ اور پروڈیوسر صاحب اندر داخل ہوئے ۔۔۔
اطہر ۔۔۔اطہر ۔۔۔تمہارے ڈرامے کی اتنی بڑی کامیابی ۔۔۔ ابھی ڈرامے کے دوران ہی لوگ پوچھ رہے ہیں کیا یہ سب سچ ہے ۔۔ ۔۔۔اطہر ۔۔۔اطہر ۔۔۔ مگر اطہر کا سر ایک طرف ڈھلک گیا ۔۔۔
اوہ مائی گاڈ ۔۔۔۔
انہوں نے جلدی سے ایمبولینس کو فون کیا ۔۔۔

اطہر اپنی آخری کامیابی تو دیکھتے جاتے ۔۔۔۔
اطہر کے کردار کی آواز گونجی ۔۔۔۔
کچھ مت کہنا ۔۔۔۔صرف میری بات سنو ۔۔۔ میں جا رہا ہوں ۔۔۔ بہت دور زندگی کے کسی موڑ پر اگر تم سے ملوں بھی تو اجنبی سمجھ کر فراموش کر دینا ۔۔۔ میں تمہارے اور تمہاری بی وی کے درمیان وہ منحوس مثلث نہیں بننا چاہتا ۔۔۔ جو کبھی اسکے اور میرے درمیان بنی تھی ۔۔۔

آج اس بات کو کئی برس بیت چکے ہیں میں اب بھی اسی شہر میں ہوں اور وہ بھی اسی علاقے میں ۔۔۔ مگر جب فاصلے اپنے پیدا کئیے ہوئے ہوں تو نزدیکیاں بھی دوریاں بن جاتیں ہیں ۔۔۔۔مگر اب میری تحریروں میں ٹھکرائے جانے کا عنصر نہیں ہوتا ۔۔۔ بلکہ ہر تحریر ایک مثلث بناتی ہے ۔۔۔ ملن ۔۔ جدائی اور تنہائی کے درمیان ۔۔۔ اور اسی طرح کی کتنی ہی مثلثیں میری کہانیوں کا عنوان ہیں ۔۔۔ وہ اب بھی مجھے جانتے ہوں گے ۔۔۔ مگر کسی اور نام سے ۔۔۔ کہ میں نے تحریر کا انداز ہی نہیں بدلا بلکہ ۔۔۔ نام بھی بدل لیا ہے ۔۔۔ جیسے کہ کوئی تھا ہی نہیں ۔۔۔۔

اور پھر آخری ٹایٹل چلنے شروع ہوئے ۔۔۔ اطہر کی اپنی آواز گونجی ۔۔۔

یہ میری کہانی ہے ۔۔۔ میرے دوستوں کی کہانی ہے ۔۔۔ میرے چاہنے والوں کی کہانی ہے ۔۔۔ میں اس کہانی میں آپ کو بہت کچھ دے رہا ہوں ۔۔۔ مگر میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔۔۔ اور اب میں خالی ہاتھ ہوں ۔۔۔۔ اور شاید یہ میری آخری کہانی بھی ہو !!!!
اینبولینس آ گئی ہے جناب ۔۔۔
ہونہہ ۔۔۔پروڈیوسر صاحب چونک پڑے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹی وی پر خبریں چل رہیں تھیں ۔۔۔
مشہور ادیب اور اداکار جناب اطہر ہاشمی کل دماغ کی شریان پھٹنے سے انتقال کر گئے ۔۔۔ انکی عمر پینتیس برس تھی ۔۔۔ وہ اپنی جذباتی اور فطری اداکاری اور کردار نگاری کے حوالے سے جانے جاتے تھے ۔۔۔ ادبی حلقوں میں انکا خلا ایک مدت تاک پر نہیں ہو سکتا ۔۔۔
ٹیلی فون کی گھنٹی بجی ۔۔۔
ہیلو ۔۔۔ جی موجود ہیں
مسرت تمہارا فون ہے ۔۔۔۔
مسرت نے ریسیور پکڑا ۔۔۔ ہیلو ۔۔۔۔
جی ۔۔۔ اوہ ۔۔۔ جی وہ میری دوست ہے
کیا۔۔۔۔ وہ چیخ اٹھی ۔۔۔نہیں ۔۔۔کب ۔۔۔
اور کچھ سننے کے بعد مسرت نے ریسیور رکھ دیا
کیا ہوا ۔۔۔مسرت کے شوہر نے پوچھا
وہ میری سہیلی تھی نا رافعہ ۔۔۔
ہاں ہاں وہ عابد کی بی وی ۔۔۔ ماشااللہ بہت اچھی جوڑی ہے ۔۔
وہ دونوں ائیر پورٹ جاتے ہوئے ۔۔۔ مسرت پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی
اوہ ۔۔ نو ۔۔۔ ویری سیڈ ۔۔۔۔
میں تمہارے لئیے پانی لے کر آتا ہوں تم ادھر بیٹھو۔۔۔
شوہر ابھی اندر گیا تھا ۔۔۔ کہ ڈور بیل بجی ۔۔۔۔ مسرت نے آنکھیں پونچھتے ہوئے دروازہ کھولا ۔۔۔اوہ فرح ۔۔۔ دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئیں ۔۔۔ رافعہ نہیں رہی ۔۔۔ ہاں میں بھی اسی کا سن کر آئی ہوں ۔۔۔۔
کون آیا ہے مسرت ۔۔۔۔مسرت کا شوہر پانی کا گلاس لئیے اندر داخل ہوا۔۔۔۔
میری دوست ہے ۔۔۔فرح ۔۔۔رافعہ کا سنکر آئی ہے ۔۔۔ابھی ہم ۔۔۔ اسکی طرف جائیں گے ۔۔۔
اور فرح کی نظر جیسے ہی مسرت کے شوہر پر پڑی ۔۔۔ اسے شاک سا لگا ۔۔۔ عارف ۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔
مسرت نے آگے بڑھ کر فرح کو سنبھالا ۔۔۔ مسرت یہ ۔۔یہ وہ ہی عارف ہیں ۔۔۔جس سے ۔۔۔۔۔۔
اور مسرت آگے کچھ نہ سن سکی ۔۔۔۔ اسکی آنکھوں کے سامنے مثلثیں ناچنے لگیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔ اختتام ۔۔۔۔۔۔۔۔

Advertisements

جیت ہماری ہو گئ

چاند روشن چمکتا ستارہ رہے
سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے

یہ وہ گیت تھا جو قائد اعظم کی آزادی کی تقریر کے بعد ریڈیو سے سنا گیا تھا جس میں ایک نئی قوم کا نیا جذبہ
اور یہ جذبہ چند سالوں میں بڑھتے بڑھتے ایک اور شکل اختیار کر گیا

آو بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی ۔ ۔ ۔ ۔ جی ہاں یہ گیت پاکستان کی سیر کراتا تھا اسی کا ایک شعر تھا

مشرق میں بنگال سنہرا ، ہر اک طرف ہریالہ ہے
سیلابوں نے سینچا اسکو ، طوفانوں نے پالا ہے
یہیں سراج الدولہ نے  ۔ ۔۔۔ ۔

مگر پھر گیت بدل گئے

گیتوں میں ، خیبر ، مہران ، مکران اور پنجاب رہ گئے

یہ اسی کی دہائی تھی ، اسکولوں کے سالانہ فنکشنز میں ایک ٹیبلو بہت مقبول تھا ، تقریباَ پاکستان کے ہر اس اسکول میں یہ ٹیبلو پیش کیا جاتا تھا جہاں سالانہ فنکشن ہوتا تھا ، اس کا محرک تھا فلم “کھوٹے سکے“ کا یہ گیت جس میں پاکستان کی نمائیندگئ کی گئی تھی اور پھر اس کا اختتام ایک خوبصورت مصرعے پر تھا ، پاکستان میں رہنے والے سب ہیں پاکستانی ، اس گیت میں آپ پنجابی سندھی بلوچی اور پختون کردار دیکھیں گے اور پھر محمد علی صاحب اس گیت کا اختتام پاکستان کی اساس پر کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ پہلے یہ گیت دیکھیں اور پھر اسکے بعد اگلا گیت بھی اسی کا تسلسل ہے

مگر اسی کی دہائی میں ہی پاکستان بدلنا شروع ہو چکا تھا ، افغانستان میں جہاد اور کراچی کی بدامنی نے ہمارے معاشرے پر بہت زیادہ اثر کیا ، آج جس بات کا زور شور سے ذکر کیا جا رہا ہے کہ ہم میں عدم برداشت ہے مگر یہ عدم برداشت کب شروع ہوئی ، اسی کی دہائی سے پہلے اسکا تصور بھی نہ تھا ، پاکستان ایک اسلامی ریاست تھی اور پاکستانیوں میں برداشت اور تحمل بھی بہت تھا ، اور جب ہم میں عدم برداشت شروع ہوئی تو ملک کے حساس طبقے یعنی لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھا اس پر سمجھانے کے لئے ، ایک فلم بنی تھی جس کا نام ہی “برداشت“ تھا ، فلاپ فلم ہونے کے باوجود اس کے کچھ ڈائلاگ آج بھی میرے ذھن میں ہیں ، جس میں ایک فوجی کو اپنے گاؤں کو بچانا پڑتا ہے اپنوں کے ظلم سے ، اور وہ کہتا ہے ،
“میں تو سرحد پر یہ سوچ کر حفاظت کرتا تھا کہ دشمن باہر سے میرے گھر پر بری نظر نہ ڈال سکے ، مجھے کیا پتا تھا کہ مجھے گھر کی حفاظت کی جنگ گھر کے اندر لڑنی پڑے گی “

یاد رہے یہ آج سے بیس پچیس سال پرانی فلم کا ڈائلاگ ہے ، مگر ہم نے اس وقت کان نہیں دھرے تو آج کیسے دھریں گے ، ہاں ایک بات ضرور ہوئی ہے ، ہم پاکستانی اب مزید بٹ گئے ہیں  ۔۔ ۔  مگر پھر بھی امید ہے  ۔ ۔۔  کہ جیت ہماری ہو گئ ،اب پہلے گیت کو اس گیت سے ملا کر دیکھیں اور سر دھنیں کہ ہم کیسے تقسیم ہوتے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔

میرا 2010

میں بکھر چکا ھوں ،میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مجھے ایسا لکھنا پڑے گا ، ٢٠١٠ میری زندگی کا ایک ایسا سال جس میں اللہ نے مجھے اتنے بڑے امتحان میں ڈالا کہ جس سے ابھی تک نہیں نکل پایا ۔

٢٠٠٩ میں مجھے اپنی اہلیھ کے کینسر نے توڑ ڈالا تھا اور میرا بیٹا ماں اور باپ کی شفقت سے دور ھو گیا تھا ، اللہ کے کرم سے میری اہلیھ بہتر ہوئی ، ایک بڑی جنگ لڑ کھ ، میں نے ٢٠١٠ کا آغاز یہ سوچ کر کیا کہ چلو اب کچھ آرام ملے گا اور میں اپنے اوپر قرضوں کے بوجھ ک اتار سکوں گا ، اسی سوچ کے ساتھ ٢٠١٠ کا آغاز کیا ، مگر جنوری کے آخر میں میری اھلیھ کا ایک اور آپریشن کروانا پڑا ، جس نے مجھے فنانشلی بکھیر دیا ، اور میرا بال بال قرض میں بندھ گیا ، میرے اردگرد کے لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اظہر کے ساتھ تو کوئی نہ کوئی مسلھ رھتا ہی ہے ، اور پھر مجھے مجبوراَ بنک سے قرض لینا پڑا پتہ نہیں ہم لوگ کیوں اپنوں کے لئے اتنے جذباتی ہو جاتے ہیں ، کچھ دن پہلے جب میرے ایک “دوست“ نے کہا کھ اظہر تم نے اللہ پر توکل نہیں کیا ، اسلئے تم قرضے میں جکڑے گئے ، مگر میں کیا کہوں کہ کیسی کیسی راتوں کو اللہ سے کہتا رہا کہ وہ سبب پیدا کرے مگر شاید وقت اور بیماری نے میرے ساتھ یھ ہی کرنا تھا

میں بہت پریشان ہو چکا تھا ، نہ دن کو چین اور نہ رات کو آرام ، یہ سوچتے سوچتے رات گزر جاتی کہ اب کیا ہو گا ، میری اس کیفیت کا اندازا میری یھ نظم ھے جو میں نے اپنے مفلوج ھونے سے ایک ہفتہ پہلے لکھی تھی

میری زندگی میں ، ہونا ہے کیا کبھی سوچتا ہوں ، تو ڈر جاتا ہوں

آج ہے کیا ، کل ہو گا کیا کبھی سوچتا ھوں ، تو ڈر جاتا ہوں

یہ نظم یو ٹیوب پر اس ایڈریس پر موجود ہے

اور پھر یہ ڈر حقیقت بن گیا ، وہ اپریل کا آغاز تھا ، میں صبح آفس گیا اور شام کو مفلوج ہو کر ہسپتال پہنچ گیا ، ایک مہینھ شارجھ کے کویت ہسپتال میں ابتدائی علاج ہوا اور پھر مجھے پاکستان بھیج دیا گیا ، کھ مزید وہ مجھے ہسپتال نہیں رکھ سکتے تھے ، نھ میرے ساتھ کوئی رہ سکتا تھا ، جو مجھے اٹھاتا اور بٹھاتا اور ضروریات کو سنبھالتا ، پاکستان میں اطلاع دی گئی ، میں وھیل چئر پر پاکستان آ گیا اور ایک مقامی ہسپتال میں مجھے میری بہن نے داخل کروا دیا ، ڈاکٹر آتے رھے میڈیسن لکھتے رھے ٹسٹ ھوتے رھے ، اور فزیو بھی چلتی رھی ، میری بیوی جو خود کینسر کی مریض ھے میرا بوجھ بھی اٹھانے لگی ، میرا بیٹا جو پہلے ہی ماں کو بیڈ پر ایک سال تک دیکھتا رہا اب مجھے بیڈ پر دیکھ کر بالکل ہی بجھ گیا ۔۔۔ ۔۔ ۔ انتہائی چڑچڑا ھو گیا

خیر یھ سب ہوتا رہا اور میں نے جو کچھ کمایا تھا وہ سب ختم ہو گیا ، میں نے ایک دو مہینے مانگ تانگ کہ چلائے مگر کب تک ، آخر ایک دن مجھے ہسپتال سے بھی نکلنا پڑا ، یہ شاید اتنی بڑی بات نہ تھی ، بڑی بات یہ ہوئی ، کہ مجھے سب نے چھوڑ دیا ، میرے خونی رشتوں نے جن کو میں اپنی بیماری تک دینے والا تھا ، جب لینے والا بنا تو سب نے چھوڑ دیا ، گھر تک نہ دیا رہنے کو ، مجھے مجبوراَ کرائے کا گھر لینا پڑا ، سونے کے لئے ایک بیڈ اور بیٹھنے کے لئے ایک کرسی ، اور کچن کے برتن چولھا ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔

میں نے جسکو اپنی تکلیف بتائی اس نے ہمدردی کچھ نے زکوہ دینے کی کوشش کی مگر میرے دل نے نہیں مانا ، میں جو اوپر والا ہاتھ تھا اللہ کی دی ہوئی بیماری نے مجھے نیچے والا ہاتھ بنا دیا ، میں جو محنت کرنے والا تھا اسے مفلوج کر دیا گیا ، میں جو ہنسنے ہنسانے والا تھا ، اسے صرف رونے کے لئے چھوڑ دیا گیا ، جو درد مند تھا اسے سراپا درد بنا دیا

مگر ، ۔ ۔ ۔۔ ۔ مگر میں نے ہمت نہ ہاری ، میں اٹھ کھ کھڑا ہو گیا ، اللہ نے مجھے ایک بار پھر اپنی ٹانگوں پر کھڑا کیا ، میرے بازو اٹھنے لگے ، میرے ہاتھوں میں گرفت آتی گئ ۔۔۔۔ ۔۔ ۔ ۔ اور میں نومبر کے آتے آتے چلنے لگ گیا ، اور ایک بار پھر دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینے کا حوصلھ پیدا کرنے لگا ۔ حتہ کہ میں صحیح سے چل نہیں پاتا ابھی تک مگر چلنا تو تھا نا ، اس بھاگتی ہوئی دنیا میں میں نے نوکری کے لئے اپلائی کرنا شروع کیا تو ایک نیا امتحان تھا میرے سامنے ، میرے بیس سال کے تجربے کی کوئی ویلیو نھیں تھی ، مجھ سے کہا گیا ، کہ آپ بےوقوفی کرتے ہیں ، پاکستان میں جاب نہیں کر سکتے آپ ، آپ باھر ہی جائیں ، یہاں کچہ نہیں رکھا ، کوئی کہتا ہے کہ اتنے تجربے کار بندے کو نہیں لے سکتے ، پیسے بہت مانگو گے ، میں نے کہا نہیں مجھے صرف جینے کا آسرا دے دو مگر ۔ ۔۔ نہیں ۔ ۔۔ کوئی سفارش ہے ؟ نہیں میرا تجربہ ہی سفارش ہے ، میری تعلیم میری قابلیت سفارش ہے ، ہا ہا ہا ، کس دنیا سے آئے ہو بھیا ، یہاں سفارش ہی چلتی ہے ، کوئی ڈاکخانہ ملاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔

آج جب نیا سال شروع ہوا ، تو پیچھے مڑ کہ دیکھا ۔ تو اللہ کا شکر ادا کیا کہ اسنے مجھے گر کہ اٹھنے کا حوصلہ دیا ، مگر ساتھ دکھ بھی ہے ، میں نے بہت سے “اپنے“ کھو دیے ، جیب خالی ہو گئی ، در در کا بھکاری بن گیا ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ مگر اب بھی امید ٹوٹی نھیں ، میں زندہ ہوں ، اور زندگی سے آنکھیں ملا کر کھڑا ہوں، مگر کب تک ؟

ہوا بہت تیز ہے ، چراغ بھی ہے مدہم

ڈرتا ہوں کہیں اندھیرا نہ ہو جائے یہاں

ناامیدی کی رات گو ختم نہیں ہوئی ابھی

امید کی کرنیں کوئی تو دکھائے یہاں

میں شاید بکھر چکا ہوں ، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں کبھی ایسا لکھوں گا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔

میری ڈگری جعلی ہے

میرا کالج کے زمانے کا ایک شعر ہے جسے میرے دوست اکثر گنگناتے تھے
کیا زمانہ تھا ہم روز ملا کرتے تھے
تیری گلی جا کہ ترے ابا سے پٹا کرتے تھے
واقعٰی ہی کیا زمانہ تھا ، کتابیں ، اور رف پیپرز کو کلو کے حساب سے خریدنا ، اصل میں ہم بی ایس سی کر رہے تھے ، کلکیولس اور مکینیکس نے ہماری نیندیں اڑآییں ہوئیں تھیں ، وجہ ایک تو یہ تھی کہ کالج آئے دن بند ہو جاتا تھا ، اور اگر کبھی کھلتا تو وہاں پڑھائی کم اور لڑائی زیادہ ہوتی تھی ، ہم جیسے پڑھاکو بچے کو جس کا کسی بھی تنظیم سے جائز اور ناجائیز تعلق نہیں تھا ، اسے ہر تنظیم اپنی طرف گھیسٹ لیتی تھی ، سو ہم نے کالج جانا ایک حد تک چھوڑ ہی دیا تھا ، اس وقت موبائیل فون تو تھا نہیں کہ پتہ چل جاتا کہ بھائی کالج نہیں آنا آج پھر بائیکاٹ ہے ، اور ویسے بھی ہم کرفیو زدہ علاقے کے باسی تھے ، آئے دن کرفیو اور ہنگامے  ۔ ۔۔  ۔پڑھائی کہاں ہوتی ، مگر اللہ بھلا کرے چاچا چھوڑو کوچنگ سینٹر کا جس نے ہمیں پڑھنے میں مدد کی  ۔۔ ۔
ایف ایس سی ، کراچی کے مشہور کالج ، جو شاعر مشرق کے نام پر ہے ، جس کے پرنسپل حسنین کاظمی جیسے استاد تھے ، یعنی ائیرپورٹ کے علاقے میں موجود گورنمنٹ علامہ اقبال کالج ، جو گھر سے قریب بھی تھا اور اس وقت پڑھائی بھی ہو جایا کرتی تھی ، ہمارا گروپ شاید واحد گروپ تھا جسے کالج کے اساتذہ نام سے جانتے تھے ، باقی تو طالب علم آتے بھی تھے کلاس میں تو نواں آیا ایں سوہنیا کی مثال لگتے تھے ، خیر جیسے تیسے کر کے اور چوہدری صاحب ( ہمارے کیمسٹری کے لیکچرر) اور میڈم رخسانہ جو اردو پڑھاتیں تھی کی دعاؤں سے ہم پاس ہو گئے اور علامہ اقبال کی فکر کے مطابق جامعہ ملیہ کالج ملیر میں داخلہ بھی حاصل کر لیا
اور وہیں سے وہ سب کچھ ہونا شروع ہوا جسکا ذکر آغاز میں کیا ہے ، بی ایس کے آغاز سے پہلے ہی ہم کمپیوٹر کی دنیا میں داخل ہو چکے تھے ، بلکہ نام کر چکے تھے ، میری فرسٹ ماڈیول میں سندھ بورڈ کے امتحان میں تیسری پوزیشن تھی ، ساری توجہ کمپیوٹر کی دنیا پر ہو گئی ، ایک تو کالج میں پڑھائی نہیں تھی ، پریکٹیکل رجیسٹر بھی کاپی کیا گیا تھا ، اور کمپیوٹر انسٹیوٹ نہ تو کسی سیاسی جماعت کی ذیلی جماعت کا گڑھ تھا اور تھا بھی ہنگاموں سے دور  ۔ ۔ ۔ سو بی ایس ای کا پہلا سال تو جیسے تیسے پاس ہو گیا مگر دوسرے سال میں ہمارے گلے میں مکینکس ہڈی بن کہ اٹک گئی  ۔۔ ۔ ۔  ڈپلومہ ہو گیا بورڈ  ایگزام ہو گئے مگر تین دفعہ مکینکس کو پاس نہ کر سکے ، پانچ پاچ کلو کے رف پیپرز کی پریکٹس کے باوجود مکینکس اٹک گئی  ۔ ۔۔ ۔  اور اس دوران جاب بھی مل گئی ، کمانے بھی لگے وقت کی کمی بھی ہو گئی ، پڑھائی کی طرف سے دل اٹھ گیا  ۔ ۔ ۔ ۔۔  اور پھر اللہ نے اتنی عزت دی کہ سندھ بورڈ کے امتحانی پیپرز بھی بنائے اور چیکنگ بھی کی ، مگر مکینکس کے سال میں دو دفعہ امتحان کے باوجود پاس نہ ہو سکے ، ڈگری لینا ضروری تھا حتہ کہ جاب کے لئے اس کی ضرورت نہیں پڑی اور پھر ١٩٩٤ میں ایک سپلیمنٹ میں اپنا نمبر آ ہی گیا ، اور ہم گریجویٹ ہو گئے  ۔ ۔ ۔۔   ہنگامے ہوئے اور ڈگری لینے کے لئے جا ہی نہیں سکے اور پھر وقت نے اپنا چکر چلایا اور ہم شارجہ آ گئے ، یہاں جاب تھی کمپیوٹر پروگرامر کی ، انہوں نے کہا کمپیوٹر کے سرٹیفکیٹ دو ہم نے ڈپلومہ دے دیا اور پھر ہم بھی چکی کی مشقت میں لگ گئے
ایک دن ہمارے ایک کالج فیلو نے جو خود بھی مکینکس کا ڈسا ہوا تھا ، پوچھا کہ تم نے ڈگری نہیں نکلوائی ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں یار کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی ، ابے کبھی ضرورت پڑے گی نا ، تیرا ویزا رینیو نہیں ہو گا ، اچھا تو ہم نے ڈگری نکلوانے کو کہ دیا ، اور مارکس شیٹ بھی نکلوانی پڑی کالج جانا پڑا اپنا ایڈمنٹ کارڈ بھی دکھانا پڑا  ۔ ۔ ۔ خیر ڈگری مل گئی  ۔ ۔ ۔ کلیہ علوم کی  ۔ ۔۔ مگر جب عربیوں نے دیکھا تو کہا نہ جی نہ یہ ڈگری جعلی ہے  ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یاد رہے اس وقت تک ڈگری یافتہ رکن اسمبلی کا چکر نہیں چلا تھا ، ورنہ ہم بھی خود کو خوش قسمت سمجھتے  ۔ ۔۔
سو ڈگری کو ہائیر ایجوکیشن بھجوایا گیا ۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم پہلے پاکستانی ہیں جنکی ڈگری ہائیر ایجوکیشن کو بھجوائی گئی اور تصدیق کی گئی  ۔ ۔۔ ۔  مگر اس پر اکتفا نہیں کیا گیا ، ہماری ڈگری فارن افئیر اور یو اے ای ایمبیسی نے بھی تصدیق کی ۔ ۔۔ ۔  اور پھر ہم باقاعدہ گریجویٹ ہو گئے
آج جب بھی اپنی ڈگری دیکھتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ یہ جعلی ہے ، مگر اس کے پیچھے لگی مہریں کچھ اور ہی کہتیں ہیں ، شاید ایک بار پھر تصدیق کی منتظر ہیں مگر میں اتنا کہ سکتا ہوں کہ میری ڈگری جعلی ہے کیونکہ اسے بے قاعدگی سے حاصل کیا گیا ہے ، مکینکس میں اتنا لڑھکے ہیں کہ اب تک پیرابولا اور ہایپر بولا کی ایکویشن یاد ہیں ۔ ۔ ۔ ۔  کاش میری ڈگری اصلی ہوتی تو کم سے کم میں اسمبلی کا ممبر تو بن سکتا تھا  ۔ ۔۔ ۔ ۔  چاہے بعد میں جعلی نکلتی ۔۔۔۔۔۔ میں اب بھی کہتا ہوں میری ڈگری جعلی ہے تو کوئی ہے جو مجھے رکن اسمبلی کا ٹکٹ دے  ۔ ۔ ۔ ۔

لالا ، لا ، لا

اب یہ مت سمجھیے گا کہ میں کوئی گانا گانے جا رہا ہوں، پنجاب اور سرحد میں بڑے بھائی کو پیار سے “لالا“ کہتے ہیں ، اور انگریزی میں “لا“ کا مطلب ہوتا ہے قانون LAW ، اور عربی میں “لا“ کا مطلب ہوتا ہے نہیں  ۔ ۔ ۔ اب ذرا اسی جملے کو پڑھیں کہ “لالا LAW لا “ مگر یہ آخری والا “لا“ جو ہے وہ عربی والا نہیں اردو والا ہے ، یعنی لالا جی اب تو LAW ، لا دیں  ۔ ۔ ۔  کیونکہ اگر LAW لا (عربی والا یعنی نہیں ) تو پھر سب پرابلم ہیں  ۔ ۔ سو اسلئیے لالا ، LAW ، لا  ۔ ۔ ۔ اب آپ کی مرضی اسے گائیں یا ۔ ۔ ۔ گنگنائیں  ۔ ۔ ۔ ویسے اس کے جواب میں حکومتی جواب بھی ، لا لا لا ، لگتا ہے ، جبکہ عوام بھی چیخ رہی ہے  لا لا لا (لانے والا لا ) جبکہ ہمارے وکلا بھی چیخ رہے ہیں LAW LAW LAW ، اب ہر جگہ سے لا لا کی صدائیں آ رہیں ہیں  ۔ ۔ ۔ اب سمجھ نہیں آ رہا کہ کون کیا کہ رہا ہے سب مکس ہو گا ہے بلکے ری مکس ہو گیا ہے ۔۔۔۔ کیوں جی ذرا گائیں تو  ۔ ۔ ۔ لا لا لا لا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔

متلاشی مر گئی ۔ ۔ ۔۔

متلاشی کل مر گئی ، وہ کون تھی کیسی تھی ، کیسے بولتی تھی کیسے چلتی تھی مجھے نہیں معلوم ، نہ میں نے اسکی کوئی تصویر دیکھی نہ کبھی اسکی آواز سنی ، نہ ہی کبھی اس سے چیٹنگ کی ، مگر میں اسے جانتا ہوں ، کیسے ، اس جدید دنیا کی جدت کی وجہ سے  ۔ ۔ وہ اس سائبر سپیس کی ایک ممبر تھی  ۔ ۔ ۔ جس کی آبادی میں روز بروز اضافہ ہی ہوئے جا رہا ہے  ۔ ۔۔ مگر اس خلا کو پُر کرنا تو کبھی ممکن نہیں ، اور جب کبھی ایسی بات سننے کو ملتی ہے کہ کوئی اس سائبر سپیس میں نہیں رہا تو  ۔ ۔۔بہت عجیب لگتا ہے  ۔ ۔
وہ میری زندگی کی دوسری شخصیت تھی جسے میں اس خلا میں جانتا تھا ، جو اس دنیا سے چلی گئی  ۔۔  اس سے پہلے بھی ایک دوست نے ایسے ہی زندگی سے منہ موڑ لیا تھا  ۔ ۔ ۔ یقین نہیں آتا کہ ایسا بھی ہوتا ہے  ۔ ۔۔  اس سائبر سپیس نے دنیا کو کیا کر دیا ہے  ۔ ۔  لوگ پہلے بھی مرتے تھے اور ہمیشہ مرتے رہیں گے  ۔ ۔ ۔ آج مجھے میٹریکس مووی بہت یاد آئی  ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں کیوں
متلاشی کی وجانے کس کی تلاش تھی ، مگر موت نے اسے تلاش کر لیا تھا ، زندگی جانے کی وجہ کینسر ہی سہی ، مگر کچھ لوگ دلوں میں زندہ رہتے ہیں ، میں سوچتا تھا کہ یہ لڑکی اتنی دکھی کیوں ہے ، ہمیشہ دکھ کی باتیں کیوں کرتی ہے ، اسکی شاعری میں غم کیوں کوٹ کوٹ کہ بھرا ہے  ۔ ۔ ۔ جب وہ چلی گئی تو پتہ چلا کہ زندگی کو اسنے کیسے جھیلا تھا  ۔ ۔ ۔
اسکی شاعری کی کچھ جھلکیاں  ۔ ۔ ۔
مجھے تم سے محبت ہے
———————————–
کسی کمزور لمحے میں
اگر میں تم سے یہ کہ دوں
مجھے تم سے محبت ہے
تم یہ مت سمجھ لینا
کہ ۔ ۔ ۔
میں نے سچ کہا ہو گا
ایسی دل نشیں باتوں کو
ایسی دلبر اداؤں مین کہینا
مجھے بچپن سے آتا ہے
میری آنکھیں ، میرا چہرا
میرا یہ بے ساختہ لہجہ
یہ سب کچھ جھوٹ کہتا ہے
مگر  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس جھوٹ میں ،ایک سچ بھی ہوتا ہے
کہ
مجھے تم سے محبت ہے
مجھے تم سے محبت ہے
——————————————-
اور اسکے یہ الفاظ تو شاید سب کو یاد رہیں  ۔ ۔ ۔
————————————-
تم سے بچھڑ کہ میں کیا ہوں
ایک ادھوری نظم کا حصہ
یا کوئی بیمار پرندہ
کاپی میں ایک زندہ تتلی
یا ایک مُردہ پیلا پتہ
آنکھ ہو کوئی خواب زدہ سی
یا آنکھوں میں ٹوٹا سپنا
پلکوں کی دیوار کے پیچھے
پاگل قیدی یا ایک آنسو
دھوپ میں لپٹا لمبا صحرا
یا پھر کوئی خوف زدہ سا بچہ
ٹوٹی ہوئی چوڑی کا ٹکڑا
یا کوئی بھول بِسرا وعدہ
تم ہی بتاؤ
تم سے بچھڑ کہ میں کیا ہوں
ایک پرانی قبر کا کتبہ  ۔ ۔ ۔ ۔۔
———————————–
لوگ اس سائبر سپیس میں بھی مرتے ہیں  ۔ ۔  مگر پتہ نہیں  ۔ ۔ ۔ اس سائبر سپیس پر کوئی قبرستان کیوں نہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ؟؟؟

دیا جلائے رکھنا ہے

اگر تمہیں پاکستان اتنا ہی برا لگتا ہے تو تم پاکستان چھوڑ کیوں نہیں دیتے ؟ میں نے اسے کوسنے والے انداز میں کہا
کاش چھوڑ سکتا ، تم خود تو شیخوں کے ملک میں بیٹھے عیاشی کر رہے ہو اسلئے ایسا کہ رہے ہو ، میں نے تو انتہائی مشکل حالات میں بھی پاکستان نہیں چھوڑا  ۔ ۔ جو روکھی سوکھی مل رہی ہے کھا رہا ہوں  ۔ ۔۔  تم تو لاکھوں کے چکر میں باہر ہو، کبھی ادھر آؤ تو آٹے دال کا بھاؤ پتہ چلے ۔ ادھر نہ بجلی ہے نہ پانی  ۔ ۔ ۔
روکھی سوکھی  ۔ ۔ ۔ بھائی تم ہر سال اپنی گاڑی کا ماڈل چینج کر رہے ہو ، میکڈونالڈ اور کے ایف سے سے نیچے کی چیزیں تم سے ہضم نہیں ہوتیں  ۔ ۔ ۔ پانی تم منرل پیتے ہو ، سارا دن رات جنریٹر چلاتے ہو  ۔ ۔  چائے و کافی کے لئے الیکٹرک ٹی پاٹ رکھے ہیں تم آٹے دال کا بھاؤ کیا جانو   ۔ ۔ اتنی عیاشی تو ہم ادھر رہ کر نہیں کر پاتے جتنی تم پاکستان میں کرتے ہو  ۔ ۔۔
ارے بدھو میں اپنی بات نہیں کر رہا  ۔ ۔ مجھ پر تو اللہ کی رحمت ہے اپنا بزنس ہے ، اس سال بھی منافع اچھا گیا ہے ، ٹیکس بھی کافی بچا لیا ہےہ ، میں بات کر رہا ہوں ان پاکستانیوں کی جن کے لئے جینا دوبھر ہو چکا ہے  ۔ ۔ ۔تم کبھی ادھر آ کہ تو دیکھو بیچارے سارا سارا دن آٹے کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں ، آفسز میں تو اب چھٹی کا بہانہ بن گیا ہے “آٹا“
اوہ  ۔ ۔ ۔ اچھا تو تمہیں اپنے ہموطنوں کا درد محسوس ہو رہا ہے  ۔ ۔ ۔
کیوں نہ ہو  ۔ ۔ میں ان میں رہتا ہوں  ۔ ۔ تمہاری طرح شیخوں کے درمیان تو نہیں رہتا  ۔  ۔ ۔
ارے میں تو ادھر سب سے کم درجے کا شہری ہوں ، ہر وقت سر پر تلوار لٹکتی رہتی ہے  ۔ ۔۔ کہ کب ادھر سے نکال دیں  ۔ ۔
ہاں پاکستان کا یہ ضرور فائدہ ہے کہ ادھر جو آ جائے پہلی بات ہے وہ جاتا نہیں اور اگر زبردستی بھیجھا جائے تو واپس آنے کے ہزار راستے ہیں  ۔ ۔ ۔ ہاں اگر انکل سام کی طرف بھیجھیں تو پھر واپسی کبھی کھبی شہادت کے بعد ہی ہوتی ہے
مگر پھر بھی لوگ پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں نا
ارے کون کافر رہنا چاہتا ہے ادھر  ۔ ۔ ۔ وہ تو مجبوری ہے کہ ہم پر پاکستانی ہونے کا ٹھپہ لگ گیا ہے  ۔ ۔ ورنہ ہم کب کے ہجرت کر جاتے  ۔ ۔کسی اور دیس میں  ۔ ۔۔
ویسے میں بھی تمہیں کہتا ہوں کہ پاکستان چھوڑ دو ابھی حالات کافی خراب لگتے ہیں  ۔۔ ۔
نہیں میرے لئے خراب نہیں ہیں  ۔ ۔  باہر ابھی تک اتنا منافع نہیں ہے جتنا ادھر ہے اور کام نکلوانے کی آسانی جو ادھر ہے وہ باہر نہیں  ۔ ۔
مطلب تم یہ کہ رہے ہو کہ ہماری معیشت اچھی ہے
اچھی  ۔ ۔ بہت اچھی بھائی صاحب  ۔ ۔  دیکھو  ۔ ۔ میں ایک بزنس مین ہوں  ۔ ۔ اگر کسی طرف سے میرے خام مال کے بھاؤ بڑھتے ہیں تو میں اپنی فنش پراڈکٹ کے بھاؤ بڑھا دیتا ہوں  ۔ ۔ ۔ سو میرا مال تب بھی بکتا ہے تو مجھے تو کوئی مسلہ نہیں  ہوتا نا  ۔ ۔  میں تو اتنی منافعے والی جگہ نہیں چھوڑ سکتا  ۔ ۔
مگر امن و امان کا مسلہ تو ہے نا ادھر ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کب کہاں کیا ہو جائے  ۔ ۔۔
اب میں تمہیں بےوقوف نہ کہوں تو کیا کہوں ؟ کیا کسی بھی شہر کے پوش علاقے میں کبھی بھی کوئی ہڑتال کا اثر ہوا ہے کبھی لوڈ شیڈنگ یا گیس کی بندش ہوئی ہے یا پانی بند ہوا ہے اور اگر ہوا بھی ہے تو ٹینکر کمپنیاں موجود ہیں ، گیس سیلنڈر موجود ہیں  ۔ ۔۔ ویسے بھی دھشت گردی میں غریب لوگ ہی ٹارگٹ ہوتے ہیں  ۔ ۔  امیروں کے ساتھ  ۔ ۔تو  ۔ ۔ اللہ کی رحمت ہوتی ہے  ۔ ۔ ۔
مگر ابھی تو ایک ہائی پروفائیل بھی تو اس دھشت گردی کا نشانہ بنی ہے
ہاں مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ اسکی بے وقوفی تھی
وہ کیسے  ۔ ۔
کس نے کہا تھا کہ پبلک میں جا کہ پبلک کی بات کرے  ۔ ۔۔ کس نے کہا تھا کہ غریبوں کے سر پر ہاتھ رکھے  ۔ ۔ چاہے دکھاوے کو ہی سہی مگر  ۔ ۔ جو فاصلہ لیڈر اور عوام کا ہونا چاہیے وہ برقرار رکھنا چاہیے  ۔ ۔ ۔ جو نہیں رکھے گا وہ تو مار کھائے گا ہی نا ۔ ۔
تو پھر تم مسلے کا حل کیا سمجھتے ہو  ۔ ۔
مسلے کا حل آسان ہے  ۔ ۔
کیا؟؟
پاکستان چھوڑ دو  ۔ ۔ ۔
مگر ابھی تو تم ہی کہ رہے تھے کہ تم نے پاکستان نہیں چھوڑنا  ۔ ۔
بھئی میں اپنی بات نہیں کر رہا  ۔ ۔  انکی بات کر رہا ہوں  ۔ ۔ جو سڑکوں پر آٹے کی تلاش میں ہیں  ۔ ۔۔
وہ کہاں جائیں گے اور کیسے جائیں گے  ۔ ۔
اگر نہیں جا سکتے اور کچھ بول نہیں سکتے تو پھر  ۔ ۔
تو پھر  ۔ ۔؟؟
کچھ نہیں  ۔ ۔ ۔
نہیں بولو تو  ۔ ۔
یار تم برا مان جاؤ گے  ۔ ۔ ۔
نہیں مانو گا  ۔ ۔
اچھا تو پھر انہیں  ۔ ۔۔  اپنی شہادت کا انتظار کرنا چاہیے  ۔ ۔ اور ہاں یاد رکھو کہ بڑے لوگ  مرتے نہیں  ۔ ۔ اور چھوٹے لوگ زندہ نہیں ہوتے  ۔ ۔ ۔ ۔ اور ڈیڈ باڈیز کی قسمت میں آگ ہوتی ہے یا پھر مٹی  ۔ ۔۔ ۔
(تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد)
تم نے اداس کر دیا  ۔۔  ۔
ہاں میں بھی اداس ہو جاتا ہوں یہ سب کچھ کہ کہ سن کے  ۔ ۔۔
میں نے ہوٹل کے کمرے کی کھڑکی کا پردہ اٹھا دیا  ۔ ۔ ۔ پورے شہر کی بجلی بند تھی  ۔۔ ۔ ۔ سڑک پر گاڑیوں کی قطار تھی  ۔ ۔ جسنے روشنی کی ایک لکیر بنا دی تھی  ۔  ۔ یہ لکیر ایک کونے سے دوسرے کونے تک جا رہی تھی اور دونوں طرف یہ روشنی کی لکیر اندھیرے میں گم ہو رہی تھی  ۔ ۔ ۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ اندھیرا روشنی کو کھا رہا ہے  ۔۔ ۔ ۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے ہم اپنی چھوٹی چھوٹی مشعلیں لے کر اندھیرے کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں  ۔ ۔۔  اور اندھیرا ہے کہ یہ مشعلیں کھائے جا رہا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔۔ مگر نہ تو مشعلیں کم ہو رہی ہیں اور نہ ہی اندھیرا  ۔ ۔ ۔۔۔
 
میں اپنے اندر ہی گنگنانے لگا  ۔ ۔۔
موج بڑھے یا آندھی آئے ، دیا جلائے رکھنا ہے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں ، گھر تو آخر اپنا ہے  ۔
۔