Archive for the ‘میری یادیں’ Category

جیت ہماری ہو گئ

چاند روشن چمکتا ستارہ رہے
سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے

یہ وہ گیت تھا جو قائد اعظم کی آزادی کی تقریر کے بعد ریڈیو سے سنا گیا تھا جس میں ایک نئی قوم کا نیا جذبہ
اور یہ جذبہ چند سالوں میں بڑھتے بڑھتے ایک اور شکل اختیار کر گیا

آو بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی ۔ ۔ ۔ ۔ جی ہاں یہ گیت پاکستان کی سیر کراتا تھا اسی کا ایک شعر تھا

مشرق میں بنگال سنہرا ، ہر اک طرف ہریالہ ہے
سیلابوں نے سینچا اسکو ، طوفانوں نے پالا ہے
یہیں سراج الدولہ نے  ۔ ۔۔۔ ۔

مگر پھر گیت بدل گئے

گیتوں میں ، خیبر ، مہران ، مکران اور پنجاب رہ گئے

یہ اسی کی دہائی تھی ، اسکولوں کے سالانہ فنکشنز میں ایک ٹیبلو بہت مقبول تھا ، تقریباَ پاکستان کے ہر اس اسکول میں یہ ٹیبلو پیش کیا جاتا تھا جہاں سالانہ فنکشن ہوتا تھا ، اس کا محرک تھا فلم “کھوٹے سکے“ کا یہ گیت جس میں پاکستان کی نمائیندگئ کی گئی تھی اور پھر اس کا اختتام ایک خوبصورت مصرعے پر تھا ، پاکستان میں رہنے والے سب ہیں پاکستانی ، اس گیت میں آپ پنجابی سندھی بلوچی اور پختون کردار دیکھیں گے اور پھر محمد علی صاحب اس گیت کا اختتام پاکستان کی اساس پر کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ پہلے یہ گیت دیکھیں اور پھر اسکے بعد اگلا گیت بھی اسی کا تسلسل ہے

مگر اسی کی دہائی میں ہی پاکستان بدلنا شروع ہو چکا تھا ، افغانستان میں جہاد اور کراچی کی بدامنی نے ہمارے معاشرے پر بہت زیادہ اثر کیا ، آج جس بات کا زور شور سے ذکر کیا جا رہا ہے کہ ہم میں عدم برداشت ہے مگر یہ عدم برداشت کب شروع ہوئی ، اسی کی دہائی سے پہلے اسکا تصور بھی نہ تھا ، پاکستان ایک اسلامی ریاست تھی اور پاکستانیوں میں برداشت اور تحمل بھی بہت تھا ، اور جب ہم میں عدم برداشت شروع ہوئی تو ملک کے حساس طبقے یعنی لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھا اس پر سمجھانے کے لئے ، ایک فلم بنی تھی جس کا نام ہی “برداشت“ تھا ، فلاپ فلم ہونے کے باوجود اس کے کچھ ڈائلاگ آج بھی میرے ذھن میں ہیں ، جس میں ایک فوجی کو اپنے گاؤں کو بچانا پڑتا ہے اپنوں کے ظلم سے ، اور وہ کہتا ہے ،
“میں تو سرحد پر یہ سوچ کر حفاظت کرتا تھا کہ دشمن باہر سے میرے گھر پر بری نظر نہ ڈال سکے ، مجھے کیا پتا تھا کہ مجھے گھر کی حفاظت کی جنگ گھر کے اندر لڑنی پڑے گی “

یاد رہے یہ آج سے بیس پچیس سال پرانی فلم کا ڈائلاگ ہے ، مگر ہم نے اس وقت کان نہیں دھرے تو آج کیسے دھریں گے ، ہاں ایک بات ضرور ہوئی ہے ، ہم پاکستانی اب مزید بٹ گئے ہیں  ۔۔ ۔  مگر پھر بھی امید ہے  ۔ ۔۔  کہ جیت ہماری ہو گئ ،اب پہلے گیت کو اس گیت سے ملا کر دیکھیں اور سر دھنیں کہ ہم کیسے تقسیم ہوتے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔

میرا 2010

میں بکھر چکا ھوں ،میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مجھے ایسا لکھنا پڑے گا ، ٢٠١٠ میری زندگی کا ایک ایسا سال جس میں اللہ نے مجھے اتنے بڑے امتحان میں ڈالا کہ جس سے ابھی تک نہیں نکل پایا ۔

٢٠٠٩ میں مجھے اپنی اہلیھ کے کینسر نے توڑ ڈالا تھا اور میرا بیٹا ماں اور باپ کی شفقت سے دور ھو گیا تھا ، اللہ کے کرم سے میری اہلیھ بہتر ہوئی ، ایک بڑی جنگ لڑ کھ ، میں نے ٢٠١٠ کا آغاز یہ سوچ کر کیا کہ چلو اب کچھ آرام ملے گا اور میں اپنے اوپر قرضوں کے بوجھ ک اتار سکوں گا ، اسی سوچ کے ساتھ ٢٠١٠ کا آغاز کیا ، مگر جنوری کے آخر میں میری اھلیھ کا ایک اور آپریشن کروانا پڑا ، جس نے مجھے فنانشلی بکھیر دیا ، اور میرا بال بال قرض میں بندھ گیا ، میرے اردگرد کے لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اظہر کے ساتھ تو کوئی نہ کوئی مسلھ رھتا ہی ہے ، اور پھر مجھے مجبوراَ بنک سے قرض لینا پڑا پتہ نہیں ہم لوگ کیوں اپنوں کے لئے اتنے جذباتی ہو جاتے ہیں ، کچھ دن پہلے جب میرے ایک “دوست“ نے کہا کھ اظہر تم نے اللہ پر توکل نہیں کیا ، اسلئے تم قرضے میں جکڑے گئے ، مگر میں کیا کہوں کہ کیسی کیسی راتوں کو اللہ سے کہتا رہا کہ وہ سبب پیدا کرے مگر شاید وقت اور بیماری نے میرے ساتھ یھ ہی کرنا تھا

میں بہت پریشان ہو چکا تھا ، نہ دن کو چین اور نہ رات کو آرام ، یہ سوچتے سوچتے رات گزر جاتی کہ اب کیا ہو گا ، میری اس کیفیت کا اندازا میری یھ نظم ھے جو میں نے اپنے مفلوج ھونے سے ایک ہفتہ پہلے لکھی تھی

میری زندگی میں ، ہونا ہے کیا کبھی سوچتا ہوں ، تو ڈر جاتا ہوں

آج ہے کیا ، کل ہو گا کیا کبھی سوچتا ھوں ، تو ڈر جاتا ہوں

یہ نظم یو ٹیوب پر اس ایڈریس پر موجود ہے

اور پھر یہ ڈر حقیقت بن گیا ، وہ اپریل کا آغاز تھا ، میں صبح آفس گیا اور شام کو مفلوج ہو کر ہسپتال پہنچ گیا ، ایک مہینھ شارجھ کے کویت ہسپتال میں ابتدائی علاج ہوا اور پھر مجھے پاکستان بھیج دیا گیا ، کھ مزید وہ مجھے ہسپتال نہیں رکھ سکتے تھے ، نھ میرے ساتھ کوئی رہ سکتا تھا ، جو مجھے اٹھاتا اور بٹھاتا اور ضروریات کو سنبھالتا ، پاکستان میں اطلاع دی گئی ، میں وھیل چئر پر پاکستان آ گیا اور ایک مقامی ہسپتال میں مجھے میری بہن نے داخل کروا دیا ، ڈاکٹر آتے رھے میڈیسن لکھتے رھے ٹسٹ ھوتے رھے ، اور فزیو بھی چلتی رھی ، میری بیوی جو خود کینسر کی مریض ھے میرا بوجھ بھی اٹھانے لگی ، میرا بیٹا جو پہلے ہی ماں کو بیڈ پر ایک سال تک دیکھتا رہا اب مجھے بیڈ پر دیکھ کر بالکل ہی بجھ گیا ۔۔۔ ۔۔ ۔ انتہائی چڑچڑا ھو گیا

خیر یھ سب ہوتا رہا اور میں نے جو کچھ کمایا تھا وہ سب ختم ہو گیا ، میں نے ایک دو مہینے مانگ تانگ کہ چلائے مگر کب تک ، آخر ایک دن مجھے ہسپتال سے بھی نکلنا پڑا ، یہ شاید اتنی بڑی بات نہ تھی ، بڑی بات یہ ہوئی ، کہ مجھے سب نے چھوڑ دیا ، میرے خونی رشتوں نے جن کو میں اپنی بیماری تک دینے والا تھا ، جب لینے والا بنا تو سب نے چھوڑ دیا ، گھر تک نہ دیا رہنے کو ، مجھے مجبوراَ کرائے کا گھر لینا پڑا ، سونے کے لئے ایک بیڈ اور بیٹھنے کے لئے ایک کرسی ، اور کچن کے برتن چولھا ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔

میں نے جسکو اپنی تکلیف بتائی اس نے ہمدردی کچھ نے زکوہ دینے کی کوشش کی مگر میرے دل نے نہیں مانا ، میں جو اوپر والا ہاتھ تھا اللہ کی دی ہوئی بیماری نے مجھے نیچے والا ہاتھ بنا دیا ، میں جو محنت کرنے والا تھا اسے مفلوج کر دیا گیا ، میں جو ہنسنے ہنسانے والا تھا ، اسے صرف رونے کے لئے چھوڑ دیا گیا ، جو درد مند تھا اسے سراپا درد بنا دیا

مگر ، ۔ ۔ ۔۔ ۔ مگر میں نے ہمت نہ ہاری ، میں اٹھ کھ کھڑا ہو گیا ، اللہ نے مجھے ایک بار پھر اپنی ٹانگوں پر کھڑا کیا ، میرے بازو اٹھنے لگے ، میرے ہاتھوں میں گرفت آتی گئ ۔۔۔۔ ۔۔ ۔ ۔ اور میں نومبر کے آتے آتے چلنے لگ گیا ، اور ایک بار پھر دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینے کا حوصلھ پیدا کرنے لگا ۔ حتہ کہ میں صحیح سے چل نہیں پاتا ابھی تک مگر چلنا تو تھا نا ، اس بھاگتی ہوئی دنیا میں میں نے نوکری کے لئے اپلائی کرنا شروع کیا تو ایک نیا امتحان تھا میرے سامنے ، میرے بیس سال کے تجربے کی کوئی ویلیو نھیں تھی ، مجھ سے کہا گیا ، کہ آپ بےوقوفی کرتے ہیں ، پاکستان میں جاب نہیں کر سکتے آپ ، آپ باھر ہی جائیں ، یہاں کچہ نہیں رکھا ، کوئی کہتا ہے کہ اتنے تجربے کار بندے کو نہیں لے سکتے ، پیسے بہت مانگو گے ، میں نے کہا نہیں مجھے صرف جینے کا آسرا دے دو مگر ۔ ۔۔ نہیں ۔ ۔۔ کوئی سفارش ہے ؟ نہیں میرا تجربہ ہی سفارش ہے ، میری تعلیم میری قابلیت سفارش ہے ، ہا ہا ہا ، کس دنیا سے آئے ہو بھیا ، یہاں سفارش ہی چلتی ہے ، کوئی ڈاکخانہ ملاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔

آج جب نیا سال شروع ہوا ، تو پیچھے مڑ کہ دیکھا ۔ تو اللہ کا شکر ادا کیا کہ اسنے مجھے گر کہ اٹھنے کا حوصلہ دیا ، مگر ساتھ دکھ بھی ہے ، میں نے بہت سے “اپنے“ کھو دیے ، جیب خالی ہو گئی ، در در کا بھکاری بن گیا ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ مگر اب بھی امید ٹوٹی نھیں ، میں زندہ ہوں ، اور زندگی سے آنکھیں ملا کر کھڑا ہوں، مگر کب تک ؟

ہوا بہت تیز ہے ، چراغ بھی ہے مدہم

ڈرتا ہوں کہیں اندھیرا نہ ہو جائے یہاں

ناامیدی کی رات گو ختم نہیں ہوئی ابھی

امید کی کرنیں کوئی تو دکھائے یہاں

میں شاید بکھر چکا ہوں ، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں کبھی ایسا لکھوں گا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔

میری ڈگری جعلی ہے

میرا کالج کے زمانے کا ایک شعر ہے جسے میرے دوست اکثر گنگناتے تھے
کیا زمانہ تھا ہم روز ملا کرتے تھے
تیری گلی جا کہ ترے ابا سے پٹا کرتے تھے
واقعٰی ہی کیا زمانہ تھا ، کتابیں ، اور رف پیپرز کو کلو کے حساب سے خریدنا ، اصل میں ہم بی ایس سی کر رہے تھے ، کلکیولس اور مکینیکس نے ہماری نیندیں اڑآییں ہوئیں تھیں ، وجہ ایک تو یہ تھی کہ کالج آئے دن بند ہو جاتا تھا ، اور اگر کبھی کھلتا تو وہاں پڑھائی کم اور لڑائی زیادہ ہوتی تھی ، ہم جیسے پڑھاکو بچے کو جس کا کسی بھی تنظیم سے جائز اور ناجائیز تعلق نہیں تھا ، اسے ہر تنظیم اپنی طرف گھیسٹ لیتی تھی ، سو ہم نے کالج جانا ایک حد تک چھوڑ ہی دیا تھا ، اس وقت موبائیل فون تو تھا نہیں کہ پتہ چل جاتا کہ بھائی کالج نہیں آنا آج پھر بائیکاٹ ہے ، اور ویسے بھی ہم کرفیو زدہ علاقے کے باسی تھے ، آئے دن کرفیو اور ہنگامے  ۔ ۔۔  ۔پڑھائی کہاں ہوتی ، مگر اللہ بھلا کرے چاچا چھوڑو کوچنگ سینٹر کا جس نے ہمیں پڑھنے میں مدد کی  ۔۔ ۔
ایف ایس سی ، کراچی کے مشہور کالج ، جو شاعر مشرق کے نام پر ہے ، جس کے پرنسپل حسنین کاظمی جیسے استاد تھے ، یعنی ائیرپورٹ کے علاقے میں موجود گورنمنٹ علامہ اقبال کالج ، جو گھر سے قریب بھی تھا اور اس وقت پڑھائی بھی ہو جایا کرتی تھی ، ہمارا گروپ شاید واحد گروپ تھا جسے کالج کے اساتذہ نام سے جانتے تھے ، باقی تو طالب علم آتے بھی تھے کلاس میں تو نواں آیا ایں سوہنیا کی مثال لگتے تھے ، خیر جیسے تیسے کر کے اور چوہدری صاحب ( ہمارے کیمسٹری کے لیکچرر) اور میڈم رخسانہ جو اردو پڑھاتیں تھی کی دعاؤں سے ہم پاس ہو گئے اور علامہ اقبال کی فکر کے مطابق جامعہ ملیہ کالج ملیر میں داخلہ بھی حاصل کر لیا
اور وہیں سے وہ سب کچھ ہونا شروع ہوا جسکا ذکر آغاز میں کیا ہے ، بی ایس کے آغاز سے پہلے ہی ہم کمپیوٹر کی دنیا میں داخل ہو چکے تھے ، بلکہ نام کر چکے تھے ، میری فرسٹ ماڈیول میں سندھ بورڈ کے امتحان میں تیسری پوزیشن تھی ، ساری توجہ کمپیوٹر کی دنیا پر ہو گئی ، ایک تو کالج میں پڑھائی نہیں تھی ، پریکٹیکل رجیسٹر بھی کاپی کیا گیا تھا ، اور کمپیوٹر انسٹیوٹ نہ تو کسی سیاسی جماعت کی ذیلی جماعت کا گڑھ تھا اور تھا بھی ہنگاموں سے دور  ۔ ۔ ۔ سو بی ایس ای کا پہلا سال تو جیسے تیسے پاس ہو گیا مگر دوسرے سال میں ہمارے گلے میں مکینکس ہڈی بن کہ اٹک گئی  ۔۔ ۔ ۔  ڈپلومہ ہو گیا بورڈ  ایگزام ہو گئے مگر تین دفعہ مکینکس کو پاس نہ کر سکے ، پانچ پاچ کلو کے رف پیپرز کی پریکٹس کے باوجود مکینکس اٹک گئی  ۔ ۔۔ ۔  اور اس دوران جاب بھی مل گئی ، کمانے بھی لگے وقت کی کمی بھی ہو گئی ، پڑھائی کی طرف سے دل اٹھ گیا  ۔ ۔ ۔ ۔۔  اور پھر اللہ نے اتنی عزت دی کہ سندھ بورڈ کے امتحانی پیپرز بھی بنائے اور چیکنگ بھی کی ، مگر مکینکس کے سال میں دو دفعہ امتحان کے باوجود پاس نہ ہو سکے ، ڈگری لینا ضروری تھا حتہ کہ جاب کے لئے اس کی ضرورت نہیں پڑی اور پھر ١٩٩٤ میں ایک سپلیمنٹ میں اپنا نمبر آ ہی گیا ، اور ہم گریجویٹ ہو گئے  ۔ ۔ ۔۔   ہنگامے ہوئے اور ڈگری لینے کے لئے جا ہی نہیں سکے اور پھر وقت نے اپنا چکر چلایا اور ہم شارجہ آ گئے ، یہاں جاب تھی کمپیوٹر پروگرامر کی ، انہوں نے کہا کمپیوٹر کے سرٹیفکیٹ دو ہم نے ڈپلومہ دے دیا اور پھر ہم بھی چکی کی مشقت میں لگ گئے
ایک دن ہمارے ایک کالج فیلو نے جو خود بھی مکینکس کا ڈسا ہوا تھا ، پوچھا کہ تم نے ڈگری نہیں نکلوائی ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں یار کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی ، ابے کبھی ضرورت پڑے گی نا ، تیرا ویزا رینیو نہیں ہو گا ، اچھا تو ہم نے ڈگری نکلوانے کو کہ دیا ، اور مارکس شیٹ بھی نکلوانی پڑی کالج جانا پڑا اپنا ایڈمنٹ کارڈ بھی دکھانا پڑا  ۔ ۔ ۔ خیر ڈگری مل گئی  ۔ ۔ ۔ کلیہ علوم کی  ۔ ۔۔ مگر جب عربیوں نے دیکھا تو کہا نہ جی نہ یہ ڈگری جعلی ہے  ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یاد رہے اس وقت تک ڈگری یافتہ رکن اسمبلی کا چکر نہیں چلا تھا ، ورنہ ہم بھی خود کو خوش قسمت سمجھتے  ۔ ۔۔
سو ڈگری کو ہائیر ایجوکیشن بھجوایا گیا ۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم پہلے پاکستانی ہیں جنکی ڈگری ہائیر ایجوکیشن کو بھجوائی گئی اور تصدیق کی گئی  ۔ ۔۔ ۔  مگر اس پر اکتفا نہیں کیا گیا ، ہماری ڈگری فارن افئیر اور یو اے ای ایمبیسی نے بھی تصدیق کی ۔ ۔۔ ۔  اور پھر ہم باقاعدہ گریجویٹ ہو گئے
آج جب بھی اپنی ڈگری دیکھتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ یہ جعلی ہے ، مگر اس کے پیچھے لگی مہریں کچھ اور ہی کہتیں ہیں ، شاید ایک بار پھر تصدیق کی منتظر ہیں مگر میں اتنا کہ سکتا ہوں کہ میری ڈگری جعلی ہے کیونکہ اسے بے قاعدگی سے حاصل کیا گیا ہے ، مکینکس میں اتنا لڑھکے ہیں کہ اب تک پیرابولا اور ہایپر بولا کی ایکویشن یاد ہیں ۔ ۔ ۔ ۔  کاش میری ڈگری اصلی ہوتی تو کم سے کم میں اسمبلی کا ممبر تو بن سکتا تھا  ۔ ۔۔ ۔ ۔  چاہے بعد میں جعلی نکلتی ۔۔۔۔۔۔ میں اب بھی کہتا ہوں میری ڈگری جعلی ہے تو کوئی ہے جو مجھے رکن اسمبلی کا ٹکٹ دے  ۔ ۔ ۔ ۔

لالا ، لا ، لا

اب یہ مت سمجھیے گا کہ میں کوئی گانا گانے جا رہا ہوں، پنجاب اور سرحد میں بڑے بھائی کو پیار سے “لالا“ کہتے ہیں ، اور انگریزی میں “لا“ کا مطلب ہوتا ہے قانون LAW ، اور عربی میں “لا“ کا مطلب ہوتا ہے نہیں  ۔ ۔ ۔ اب ذرا اسی جملے کو پڑھیں کہ “لالا LAW لا “ مگر یہ آخری والا “لا“ جو ہے وہ عربی والا نہیں اردو والا ہے ، یعنی لالا جی اب تو LAW ، لا دیں  ۔ ۔ ۔  کیونکہ اگر LAW لا (عربی والا یعنی نہیں ) تو پھر سب پرابلم ہیں  ۔ ۔ سو اسلئیے لالا ، LAW ، لا  ۔ ۔ ۔ اب آپ کی مرضی اسے گائیں یا ۔ ۔ ۔ گنگنائیں  ۔ ۔ ۔ ویسے اس کے جواب میں حکومتی جواب بھی ، لا لا لا ، لگتا ہے ، جبکہ عوام بھی چیخ رہی ہے  لا لا لا (لانے والا لا ) جبکہ ہمارے وکلا بھی چیخ رہے ہیں LAW LAW LAW ، اب ہر جگہ سے لا لا کی صدائیں آ رہیں ہیں  ۔ ۔ ۔ اب سمجھ نہیں آ رہا کہ کون کیا کہ رہا ہے سب مکس ہو گا ہے بلکے ری مکس ہو گیا ہے ۔۔۔۔ کیوں جی ذرا گائیں تو  ۔ ۔ ۔ لا لا لا لا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔

متلاشی مر گئی ۔ ۔ ۔۔

متلاشی کل مر گئی ، وہ کون تھی کیسی تھی ، کیسے بولتی تھی کیسے چلتی تھی مجھے نہیں معلوم ، نہ میں نے اسکی کوئی تصویر دیکھی نہ کبھی اسکی آواز سنی ، نہ ہی کبھی اس سے چیٹنگ کی ، مگر میں اسے جانتا ہوں ، کیسے ، اس جدید دنیا کی جدت کی وجہ سے  ۔ ۔ وہ اس سائبر سپیس کی ایک ممبر تھی  ۔ ۔ ۔ جس کی آبادی میں روز بروز اضافہ ہی ہوئے جا رہا ہے  ۔ ۔۔ مگر اس خلا کو پُر کرنا تو کبھی ممکن نہیں ، اور جب کبھی ایسی بات سننے کو ملتی ہے کہ کوئی اس سائبر سپیس میں نہیں رہا تو  ۔ ۔۔بہت عجیب لگتا ہے  ۔ ۔
وہ میری زندگی کی دوسری شخصیت تھی جسے میں اس خلا میں جانتا تھا ، جو اس دنیا سے چلی گئی  ۔۔  اس سے پہلے بھی ایک دوست نے ایسے ہی زندگی سے منہ موڑ لیا تھا  ۔ ۔ ۔ یقین نہیں آتا کہ ایسا بھی ہوتا ہے  ۔ ۔۔  اس سائبر سپیس نے دنیا کو کیا کر دیا ہے  ۔ ۔  لوگ پہلے بھی مرتے تھے اور ہمیشہ مرتے رہیں گے  ۔ ۔ ۔ آج مجھے میٹریکس مووی بہت یاد آئی  ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں کیوں
متلاشی کی وجانے کس کی تلاش تھی ، مگر موت نے اسے تلاش کر لیا تھا ، زندگی جانے کی وجہ کینسر ہی سہی ، مگر کچھ لوگ دلوں میں زندہ رہتے ہیں ، میں سوچتا تھا کہ یہ لڑکی اتنی دکھی کیوں ہے ، ہمیشہ دکھ کی باتیں کیوں کرتی ہے ، اسکی شاعری میں غم کیوں کوٹ کوٹ کہ بھرا ہے  ۔ ۔ ۔ جب وہ چلی گئی تو پتہ چلا کہ زندگی کو اسنے کیسے جھیلا تھا  ۔ ۔ ۔
اسکی شاعری کی کچھ جھلکیاں  ۔ ۔ ۔
مجھے تم سے محبت ہے
———————————–
کسی کمزور لمحے میں
اگر میں تم سے یہ کہ دوں
مجھے تم سے محبت ہے
تم یہ مت سمجھ لینا
کہ ۔ ۔ ۔
میں نے سچ کہا ہو گا
ایسی دل نشیں باتوں کو
ایسی دلبر اداؤں مین کہینا
مجھے بچپن سے آتا ہے
میری آنکھیں ، میرا چہرا
میرا یہ بے ساختہ لہجہ
یہ سب کچھ جھوٹ کہتا ہے
مگر  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس جھوٹ میں ،ایک سچ بھی ہوتا ہے
کہ
مجھے تم سے محبت ہے
مجھے تم سے محبت ہے
——————————————-
اور اسکے یہ الفاظ تو شاید سب کو یاد رہیں  ۔ ۔ ۔
————————————-
تم سے بچھڑ کہ میں کیا ہوں
ایک ادھوری نظم کا حصہ
یا کوئی بیمار پرندہ
کاپی میں ایک زندہ تتلی
یا ایک مُردہ پیلا پتہ
آنکھ ہو کوئی خواب زدہ سی
یا آنکھوں میں ٹوٹا سپنا
پلکوں کی دیوار کے پیچھے
پاگل قیدی یا ایک آنسو
دھوپ میں لپٹا لمبا صحرا
یا پھر کوئی خوف زدہ سا بچہ
ٹوٹی ہوئی چوڑی کا ٹکڑا
یا کوئی بھول بِسرا وعدہ
تم ہی بتاؤ
تم سے بچھڑ کہ میں کیا ہوں
ایک پرانی قبر کا کتبہ  ۔ ۔ ۔ ۔۔
———————————–
لوگ اس سائبر سپیس میں بھی مرتے ہیں  ۔ ۔  مگر پتہ نہیں  ۔ ۔ ۔ اس سائبر سپیس پر کوئی قبرستان کیوں نہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ؟؟؟

دیا جلائے رکھنا ہے

اگر تمہیں پاکستان اتنا ہی برا لگتا ہے تو تم پاکستان چھوڑ کیوں نہیں دیتے ؟ میں نے اسے کوسنے والے انداز میں کہا
کاش چھوڑ سکتا ، تم خود تو شیخوں کے ملک میں بیٹھے عیاشی کر رہے ہو اسلئے ایسا کہ رہے ہو ، میں نے تو انتہائی مشکل حالات میں بھی پاکستان نہیں چھوڑا  ۔ ۔ جو روکھی سوکھی مل رہی ہے کھا رہا ہوں  ۔ ۔۔  تم تو لاکھوں کے چکر میں باہر ہو، کبھی ادھر آؤ تو آٹے دال کا بھاؤ پتہ چلے ۔ ادھر نہ بجلی ہے نہ پانی  ۔ ۔ ۔
روکھی سوکھی  ۔ ۔ ۔ بھائی تم ہر سال اپنی گاڑی کا ماڈل چینج کر رہے ہو ، میکڈونالڈ اور کے ایف سے سے نیچے کی چیزیں تم سے ہضم نہیں ہوتیں  ۔ ۔ ۔ پانی تم منرل پیتے ہو ، سارا دن رات جنریٹر چلاتے ہو  ۔ ۔  چائے و کافی کے لئے الیکٹرک ٹی پاٹ رکھے ہیں تم آٹے دال کا بھاؤ کیا جانو   ۔ ۔ اتنی عیاشی تو ہم ادھر رہ کر نہیں کر پاتے جتنی تم پاکستان میں کرتے ہو  ۔ ۔۔
ارے بدھو میں اپنی بات نہیں کر رہا  ۔ ۔ مجھ پر تو اللہ کی رحمت ہے اپنا بزنس ہے ، اس سال بھی منافع اچھا گیا ہے ، ٹیکس بھی کافی بچا لیا ہےہ ، میں بات کر رہا ہوں ان پاکستانیوں کی جن کے لئے جینا دوبھر ہو چکا ہے  ۔ ۔ ۔تم کبھی ادھر آ کہ تو دیکھو بیچارے سارا سارا دن آٹے کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں ، آفسز میں تو اب چھٹی کا بہانہ بن گیا ہے “آٹا“
اوہ  ۔ ۔ ۔ اچھا تو تمہیں اپنے ہموطنوں کا درد محسوس ہو رہا ہے  ۔ ۔ ۔
کیوں نہ ہو  ۔ ۔ میں ان میں رہتا ہوں  ۔ ۔ تمہاری طرح شیخوں کے درمیان تو نہیں رہتا  ۔  ۔ ۔
ارے میں تو ادھر سب سے کم درجے کا شہری ہوں ، ہر وقت سر پر تلوار لٹکتی رہتی ہے  ۔ ۔۔ کہ کب ادھر سے نکال دیں  ۔ ۔
ہاں پاکستان کا یہ ضرور فائدہ ہے کہ ادھر جو آ جائے پہلی بات ہے وہ جاتا نہیں اور اگر زبردستی بھیجھا جائے تو واپس آنے کے ہزار راستے ہیں  ۔ ۔ ۔ ہاں اگر انکل سام کی طرف بھیجھیں تو پھر واپسی کبھی کھبی شہادت کے بعد ہی ہوتی ہے
مگر پھر بھی لوگ پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں نا
ارے کون کافر رہنا چاہتا ہے ادھر  ۔ ۔ ۔ وہ تو مجبوری ہے کہ ہم پر پاکستانی ہونے کا ٹھپہ لگ گیا ہے  ۔ ۔ ورنہ ہم کب کے ہجرت کر جاتے  ۔ ۔کسی اور دیس میں  ۔ ۔۔
ویسے میں بھی تمہیں کہتا ہوں کہ پاکستان چھوڑ دو ابھی حالات کافی خراب لگتے ہیں  ۔۔ ۔
نہیں میرے لئے خراب نہیں ہیں  ۔ ۔  باہر ابھی تک اتنا منافع نہیں ہے جتنا ادھر ہے اور کام نکلوانے کی آسانی جو ادھر ہے وہ باہر نہیں  ۔ ۔
مطلب تم یہ کہ رہے ہو کہ ہماری معیشت اچھی ہے
اچھی  ۔ ۔ بہت اچھی بھائی صاحب  ۔ ۔  دیکھو  ۔ ۔ میں ایک بزنس مین ہوں  ۔ ۔ اگر کسی طرف سے میرے خام مال کے بھاؤ بڑھتے ہیں تو میں اپنی فنش پراڈکٹ کے بھاؤ بڑھا دیتا ہوں  ۔ ۔ ۔ سو میرا مال تب بھی بکتا ہے تو مجھے تو کوئی مسلہ نہیں  ہوتا نا  ۔ ۔  میں تو اتنی منافعے والی جگہ نہیں چھوڑ سکتا  ۔ ۔
مگر امن و امان کا مسلہ تو ہے نا ادھر ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کب کہاں کیا ہو جائے  ۔ ۔۔
اب میں تمہیں بےوقوف نہ کہوں تو کیا کہوں ؟ کیا کسی بھی شہر کے پوش علاقے میں کبھی بھی کوئی ہڑتال کا اثر ہوا ہے کبھی لوڈ شیڈنگ یا گیس کی بندش ہوئی ہے یا پانی بند ہوا ہے اور اگر ہوا بھی ہے تو ٹینکر کمپنیاں موجود ہیں ، گیس سیلنڈر موجود ہیں  ۔ ۔۔ ویسے بھی دھشت گردی میں غریب لوگ ہی ٹارگٹ ہوتے ہیں  ۔ ۔  امیروں کے ساتھ  ۔ ۔تو  ۔ ۔ اللہ کی رحمت ہوتی ہے  ۔ ۔ ۔
مگر ابھی تو ایک ہائی پروفائیل بھی تو اس دھشت گردی کا نشانہ بنی ہے
ہاں مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ اسکی بے وقوفی تھی
وہ کیسے  ۔ ۔
کس نے کہا تھا کہ پبلک میں جا کہ پبلک کی بات کرے  ۔ ۔۔ کس نے کہا تھا کہ غریبوں کے سر پر ہاتھ رکھے  ۔ ۔ چاہے دکھاوے کو ہی سہی مگر  ۔ ۔ جو فاصلہ لیڈر اور عوام کا ہونا چاہیے وہ برقرار رکھنا چاہیے  ۔ ۔ ۔ جو نہیں رکھے گا وہ تو مار کھائے گا ہی نا ۔ ۔
تو پھر تم مسلے کا حل کیا سمجھتے ہو  ۔ ۔
مسلے کا حل آسان ہے  ۔ ۔
کیا؟؟
پاکستان چھوڑ دو  ۔ ۔ ۔
مگر ابھی تو تم ہی کہ رہے تھے کہ تم نے پاکستان نہیں چھوڑنا  ۔ ۔
بھئی میں اپنی بات نہیں کر رہا  ۔ ۔  انکی بات کر رہا ہوں  ۔ ۔ جو سڑکوں پر آٹے کی تلاش میں ہیں  ۔ ۔۔
وہ کہاں جائیں گے اور کیسے جائیں گے  ۔ ۔
اگر نہیں جا سکتے اور کچھ بول نہیں سکتے تو پھر  ۔ ۔
تو پھر  ۔ ۔؟؟
کچھ نہیں  ۔ ۔ ۔
نہیں بولو تو  ۔ ۔
یار تم برا مان جاؤ گے  ۔ ۔ ۔
نہیں مانو گا  ۔ ۔
اچھا تو پھر انہیں  ۔ ۔۔  اپنی شہادت کا انتظار کرنا چاہیے  ۔ ۔ اور ہاں یاد رکھو کہ بڑے لوگ  مرتے نہیں  ۔ ۔ اور چھوٹے لوگ زندہ نہیں ہوتے  ۔ ۔ ۔ ۔ اور ڈیڈ باڈیز کی قسمت میں آگ ہوتی ہے یا پھر مٹی  ۔ ۔۔ ۔
(تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد)
تم نے اداس کر دیا  ۔۔  ۔
ہاں میں بھی اداس ہو جاتا ہوں یہ سب کچھ کہ کہ سن کے  ۔ ۔۔
میں نے ہوٹل کے کمرے کی کھڑکی کا پردہ اٹھا دیا  ۔ ۔ ۔ پورے شہر کی بجلی بند تھی  ۔۔ ۔ ۔ سڑک پر گاڑیوں کی قطار تھی  ۔ ۔ جسنے روشنی کی ایک لکیر بنا دی تھی  ۔  ۔ یہ لکیر ایک کونے سے دوسرے کونے تک جا رہی تھی اور دونوں طرف یہ روشنی کی لکیر اندھیرے میں گم ہو رہی تھی  ۔ ۔ ۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ اندھیرا روشنی کو کھا رہا ہے  ۔۔ ۔ ۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے ہم اپنی چھوٹی چھوٹی مشعلیں لے کر اندھیرے کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں  ۔ ۔۔  اور اندھیرا ہے کہ یہ مشعلیں کھائے جا رہا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔۔ مگر نہ تو مشعلیں کم ہو رہی ہیں اور نہ ہی اندھیرا  ۔ ۔ ۔۔۔
 
میں اپنے اندر ہی گنگنانے لگا  ۔ ۔۔
موج بڑھے یا آندھی آئے ، دیا جلائے رکھنا ہے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں ، گھر تو آخر اپنا ہے  ۔
۔

اک نوح نہیں جو ہمیں کشتی پہ بٹھا لے

آج کافی دنوں کے بعد جب لکھنے بیٹھا تو بہت کچھ بدل چکا ہے ، کہاں سے شروع کروں کس موضوع پر لکھوں ، کچھ سمجھ نہیں آ رہا ، مگر اب سوچ رہا ہوں کہ مستقل لکھنے کی عادت ڈالوں ، بلاگر دوستوں کے ہاں یہ بحث بھی چل نکلی ہے کہ اردو بلاگنگ کو ترویج نہیں مل رہی ، مگر میرا خیال ہے کہ اس وقت اردو بلاگرز کو پڑھا جا رہا ہے ، بے شک کچھ لوگ محسوس نہیں کر رہے مگر انکے خیالات اور افکار سب کے سامنے موجود ہیں  ۔ ۔  میں زکریا کے خیال سے متفق ہوں کہ اردو میں بلاگنگ اضافے کی طرف گامزن ہے ، میرے خیال میں اردو سیارہ کی طرح اور بھی اردو بلاگنگ پورٹل ہونے چاہییں۔
دوسری بات جس پر شاید بہت کچھ لکھا گیا ہے ، وہ پاکستان کے حالات ہیں ، بے نظیر کا قتل ہو یا سیاستدانوں کی چالبازیاں ، آٹے بجلی اور گیس کا بحران ہو یا
غریب عوام کے بے چارگیاں  ۔ ۔ ۔ کیا لکھیں کیسے لکھیں  ۔ ۔ ۔ بلکے اب تو کچھ لوگ یوں بھی کہتے ہیں کہ کیوں لکھیں  ۔ ۔ ۔ بقول مرتضی برلاس
شاعر ہوں میں قبیلہ مردہ ضمیر کا
کس کام کی یہ جرات اظہار رہ گئی
اور پھر قوم وہ بھی ہماری قوم
 
جس شاخ پہ بیٹھیے ہوں اسی شاخ کو کاٹیں
ہم لوگ ہی خود اپنی تباہی کا سبب ہیں
 
مگر کیا کریں ہم لوگ جو لکھتے ہیں جو زندہ ہیں مرنے والوں کے ساتھ مر نہیں گئے  ۔ ۔ ۔ ہمارے احساس کبھی بھی ہمیں چپ رہنے نہیں دیتے  ۔ ۔ ۔ ۔
 
ہم فنکار ہیں مقابر کے مورخ تو نہیں
ہم کو ہوتا ہے جو محسوس وہ کیونکر نہ کہیں
 
اس جمعرات کو دبئی میں ایک مشاعرہ ہوا ، دبئی کے نامور شعراء نے شرکت کی ، کچھ دوستوں کے ساتھ گپ شپ بھی رہی ، بات وہیں آئی درد کی  ۔ ۔ ۔ سب نے مانا کہ ہم سب کسی نہ کسی طور پر بے حس ہیں اور اس بے حسی کی وجہ ہے ، نشہ ، ہمیں نشہ ہے طاقت کا حکومت کا دولت کا ،اور شاید ہماری واحد قوم ہے ، جسے نشہ ہے غربت کا ، ہم اپنے آپ کو نوچتے ہیں  ۔ ۔ کاٹتے ہیں بھنبھوڑتے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں  ۔ ۔۔
 
یارومجھے بدمست نہ سمجھو کہ میں اکثر
جو بات پتے کی ہو وہ کہتا ہوں نشے میں  ۔ ۔ ۔
اب اور کیا کہوں  ۔ ۔ ۔ ہمارے پاس سب کچھ مگر
اک نوح نہیں جو ہمیں کشتی پہ بٹھا لے
ورنہ کسی طوفان کے آثار بہت ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔