Archive for the ‘میری شاعری’ Category

آؤ ، ہاتھ اٹھائیں ۔ ۔ ۔ مانگیں اپنے رب سے

آو ، ہاتھ اٹھائیں ۔۔۔ مانگیں اپنے رب سے

امن کی صبحیں ، سکوں کی شامیں

سورج جب بھی نکلے ، روشن ہو زمیں میری

چاند  بھی بکھرائے ، ہر سو حسیں چاندنی

ہر سو حسیں چاندنی

تاروں کی چھاؤں میں ، سپنوں کا گھر ہو

گھر میں ہم بیتائیں 

امن کی صبحیں ، سکوں کی شامیں  ۔۔  ۔ ۔

آو ، ہاتھ اٹھائیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ہر ہاتھ میں ہنر ہو ، ہر دل میں ہو جذبہ

ایک سب کا سفر ہو ، ایک ہو راستہ

ایک ہی ہو راستہ

ہر ایک موڑ پر ، نشانی ہو کمال کی

آؤ مل کہ بنائیں

امن کی صبحیں  ۔ ۔ ۔ سکوں کی شامیں  ۔ ۔ ۔

آؤ  ۔ ۔  ہاتھ آتھائیں  ۔ ۔ ۔

آؤ ، ہاتھ اٹھائیں  ۔ ۔ ۔  مانگیں اپنے رب سے

امن کی صبحیں ۔ سکوں کی شامیں  ۔ ۔ ۔ 

میرا سلام

ایک دوست نے مدینے میں روضہ رسول (ص) پر میرا سلام دیا
 
قبول کر لیں سلام میرا، ایک عاصی یہ کہتا ہے
عاجزی کا بیغام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے
 
نہیں مقدر میرا تو ، مدینے جانے والوں سا
مجبوری ہے نام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے
 
آؤں طیبہ کی ہوا میں ، پیاس بجھ جائے برسوں کی
بھر جائے یہ جام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے
 
موت آ جائے نہ میری ، مدینے جانے سے پہلے
زیست کا ہے اختتام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے
 
اظہر اس بات پر نازاں ، کہ سلام ان تک پہنچا
شاید اتنا ہی دام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے
 

نعت

ہر درد کی دوا، نام آپ کا
ہر اک کا آسرا ، نام آپ کا
 
آپ ہی تو ہو وجہ دوجہاں
ابتداء اور انتہا ، نام آپ کا
 
گناہ کا مرض لگ جائے اگر
اس کے لئے شفاء، نام آپ کا
 
سب سے ارفع سب سے اعلٰی
رب نے ہے کہا، نام آپ کا
 
آدم کو کر دیا خدا نے معاف یوں
جب واسطہ بنا ، نام آپ کا
 
میں کہاں، کہاں آپکی ثناء
بس لکھتا رہا ، نام آپ کا
 
اظہر مجھے سکوں ہی ملا
جب بھی لے لیا ، نام آپ کا
 

مناجات

اے میرے خدا اے میرے خدا
ہم پر رحمت کا مینہ برسا
 
تنگ ہوئی ہم پہ یہ زمیں
روٹھا ہوا ہے عرش بریں

کس کو سنائیں حال اپنا
تیرے سوا تو کوئی نہیں
 

 

بس تو ہی تو ہے  آسرا  ۔ ۔ ۔  ۔
اے میرے خدا اے میرے خدا
 
 
ہم عاصی ہیں ہم نافرماں
ہم بھولے ہیں تیرا قرآں
ہم دنیا داری میں کھوئے
خسارے میں ہیں ہم  ناداں
 
 
معافی کی ہم مانگیں دعا

اے میرے خدا اے میرے خدا

 

تجھے واسطہ شاہ یثرب کا
تجھے واسطہ فاتح خیبر کا
تجھے واسطہ شہید کربل کا
تجھے واسطہ تیری رحمت کا
 
 
میں گر چکا ہوں مجھ کو اٹھا
اے میرے خدا اے میرے خدا
 
 
میرے دیس کو خوشحالی دے
میرے شہر کو رُت متوالی دے
میری گلیوں کو روشن کر دے
میرے گھر کو حُسن جمالی دے
 
 
ہمیں اپنی رحمت میں لے چھُپا
اے میرے خدا اے میرے خدا

میرا دیس تو ایسا نہیں تھا

بہت دنوں کے بعد جب لکھنے بیٹھا تو ظاہر ہے اپنے حالات سامنے تھے ، دل خوں کے آنسو روتا ہے اور اسی دل کی یہ صدا ہے ، شاید ہم سب بھی یہ ہی کہنا چاہتے ہیں کہ “میرا دیس تو ایسا نہیں تھا“
یہ لڑنے جھگڑنے والوں کی بستی
یہ نفرت کی سیاست چالوں کی بستی
یہ آگ اور انگاروں کی دنیا
یہ بندوقوں بموں بھالوں کی بستی
 
جیسا ہے یہ تو ایسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
 
 
بنایا تھا اسکو خوں دے کہ اپنا
سجایا تھا  ہم نے مل کہ یہ سپنا
مل کہ ہم نے کیا تھا حاصل
اک ساتھ تھا سب کے دل کا دھڑکنا
 
اک تھا ،ٹکروں کے جیسا نہیں تھا

میرا دیس تو ایسا نہیں تھا

 
آندھی بھی آئی ، طوفاں بھی آئے

بادل بھی گرجے ، سیلاب بھی آئے
روکا سب نے دیوار بن کہ
دشمن کے گولے سینے پے کھائے

 

جینا اور مرنا  تو ایسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
 
کوئی بھوک سے بلکتا نہیں تھا
دکھوں سے کوئی سسکتا نہیں تھا
چوری تو تھی پر ڈاکا نہیں تھا
زردار تھے مگر کوئی اندھا نہیں تھا
 
مقصد جیون کا پیسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
 
میرا خدا ہم کو اتحاد دے دے
اجڑے ہوؤں کو آباد دے دے
دے دے ہمیں تو رحمتیں اپنی
ٹوٹے دلوں کو تو شاد دے دے
 
 
خدا سے یوں جدا سا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا

اک حُسن پا بہ زنجیر ہے

اک حُسن پا بہ زنجیر ہے
ہر عشق جسکے لئے دلگیر ہے
آزادی جسکا خواب ہے
آزادی ہی تعبیر ہے
 
 
وہاں جو جواں و پیر ہے
ظلم کے ہاتھوں اسیر ہے
جہاں آزادی کا رانجھا ہے
جہاں شہادت کی ہیر ہے
 
اک حُسن پابہ زنجیر ہے
ہر عشق جسکے لئے دلگیر ہے
 
 
ہر ایک ہاتھ میں شمشیر ہے

  جذبے کی کماں وفا کا تیر ہے
آزادی جسکی تقدیر ہے

وہ میرا کشمیر ہے
وہ میرا کشمیر ہے

 

العین میں پاک و ہند گرانڈ مشاعرہ

ان حالات میں جب بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر ھے ، انڈو پاک گرانڈ مشاعرہ کرانے کی ہمت ہمارے بہت ہی محترم دوست جناب سکھدیو صاحب نے کی ، امریک غافل  بھائی نے انکا ساتھ نبھایا اور العین کے حسین شہر میں ایک بہت ہی کامیاب مشاعرہ منعقد ہوا  ۔ ۔۔ جسکی صدارت جناب سرفراز علی حسین (پاکستان) نے کی اور مہمان خصوصی تھے بھارت سے آئے ہوئے انور جمال انور نے ، نظامت کے فرائض رفیق صاحب نےانجام دئیے  ۔ ۔ ۔
اس مشاعرے میں العین جیسے چھوٹے شہر کے بہت ہی اچھے سامعین شامل ہوئے ، جن میں زیادہ تعداد بھارتی دوستوں کی تھی ، اور سچی بات تو یہ ہے کہ میں جب سٹیج پر بلایا گیا ، تو سامنے دیکھ کر ٹانگیں کانپ کر رہ گئیں  ۔ ۔ ۔  اسکی وجہ شاید چند بڑے ناموں کے بیچ میرے جیسے عام بندے کی تھی  ۔ ۔ ۔  اور اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اسنے مجھے بہت عزت دی  ۔ ۔ ۔ اور مجھے میرے کلام پر جو کہ کچھ مختلف تھا دوسرے لوگوں کی بنسبت سراہا گیا   ۔ ۔ ۔
اصل میں میں نے سوچا تھا کہ میں اسکی تفصیل لکھوں گا مگر ذاتی مصروفیات کی بنا پر ایسا نہ کر سکا ، مگر اس مشاعرے کے چند اشعار ضرور جو ذھن میں رہ گئے پیش کر رہا ہوں اور پھر جو میں نے پڑھا اور اس مشاعرے کی کچھ تصاویر بھی  ۔ ۔ ۔
ایک بھارت کے شاعر ہیں جناب عابد صاحب (میں نام بھول رہا ہوں شاید) انکے اس شعر کو بار بار پڑھایا گیا
رشتہ دل سے رشتہ ہے جان کا
مان ہے یہ تو سارے ہندوستان کا
اور بھی ہیں ہمیں انکی بھی قدر ہے
رتبہ بہت بلند ہے اردو زبان کا
————————————
ایک اور شاعر کے اس شعر پر بھی بہت تالیاں بجیں (انڈین اور پاکستانی مشاعروں کے درمیان داد دینے کا یہ سب سے بڑا فرق ہے )
نہ بچوں کا خیال نہ اہل و اعیال کا
کھو گئے ہو تم تو شاعروں کے بیچ میں
————————————-
سرفراز صاحب نے اپنی مشہور غزل “دین و دنیا حاضر ہوں“ سنائی جسکے چند منتخب اشعار یہ ہیں
ہم مزدور کی بات تو سن لیں گے
لیکن پہلے خون پسینہ حاضر ہوں
قاضی صاحب باہر آئے ہیں
اچھا اچھا اچھا حاضر ہوں
—————————————————
اب وہ جو میں نے وہاں پڑھا
پھول کبھی آگ میں اگتے نہیں
ہرے پتے تو یوں ہی جلتے نہیں
نفرتوں کی زندگی ہے چار دن کی
محبتوں میں لوگ کبھی مرتے نہیں
————————-
پیغام (ایک نظم)
بارود کی فصل بونے والو
تم نے پھول اگائے ہوتے
بندوقوں کے شعلوں سے تم نے
نفرت کے گیت نہ گائے ہوتے
سیاست چمکانے کی خاطر
انساں ، انساں نہ لڑائے ہوتے
محلوں میں رہنے والو تم نے
غریبوں کے بھی سر چپھائے ہوتے
سرحدوں سے پہچان ہے اپنی
سرحد پے دل یہ ملائے ہوتے
جیسے ہم تم ہیں مل کہ بیٹھے
ایسے ہی دل بھی ملائے ہوتے
پڑوسی کبھی بھی بدلتے نہیں ہیں
بڑوں کے قول نبھائے ہوتے
اپنی اپنی پہچان نہ ہم کھوتے
جو اپنے کے ہم نہ ستائے ہوتے
————————-
میں بھی انساں تو بھی انساں
فاصلے اتنے کیوں درمیاں
کیا ہوا جو نام الگ ہیں
تیرا ایشور میرا رحماں
پیغام محبت کا سب دیتے ہیں
تیری گیتا میرا قرآں
خوشبو کا کوئی وطن نہیں
گل کا دیس بس گلستاں
اظہر سرحدیں کیوں مٹائیں
یہ تیری میری ہیں پہچاں