Archive for the ‘میری شاعری’ Category

اپوازیشن نامہ

ہم کریں گے کمال، ذرا حکومت جانے دو
اپنے پھر ماہ و سال، ذرا حکومت جانے دو

دیکھو کیسے گرتے ہیں ، بُت بڑے بڑے
دیکھنا ہمارا اب کمال ، ذرا حکومت جانے دو

انصاف عدالت کرے گی ، عوام ورنہ لڑے گی
کس کا مُنہ ہو گا لال ، ذرا حکومت جانے دو

تیر اور بلے سے کریں گے شیر کا ہم شکار
ہو گی پھر ہر طرف دھمال، ذرا حکومت جانے دو

سوئی قوم کو ہم دیکھاتے ہیں خواب نئے نئے
جاگنے کا چھوڑو خیال ، ذرا حکومت جانے دو

عدالت اپنی ، طاقت اپنی ، فوج و عوام بھی اپنی
امریکہ وی ہو گا نال، ذرا حکومت جانے دو

سب سیاہ ست والے ہیں ، ایک جیسے ہی اظہر
کم نہیں ہو گا استحصال ، بے شک حکومت جانے دو

Advertisements

آؤ ، ہاتھ اٹھائیں ۔ ۔ ۔ مانگیں اپنے رب سے

آو ، ہاتھ اٹھائیں ۔۔۔ مانگیں اپنے رب سے

امن کی صبحیں ، سکوں کی شامیں

سورج جب بھی نکلے ، روشن ہو زمیں میری

چاند  بھی بکھرائے ، ہر سو حسیں چاندنی

ہر سو حسیں چاندنی

تاروں کی چھاؤں میں ، سپنوں کا گھر ہو

گھر میں ہم بیتائیں 

امن کی صبحیں ، سکوں کی شامیں  ۔۔  ۔ ۔

آو ، ہاتھ اٹھائیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ہر ہاتھ میں ہنر ہو ، ہر دل میں ہو جذبہ

ایک سب کا سفر ہو ، ایک ہو راستہ

ایک ہی ہو راستہ

ہر ایک موڑ پر ، نشانی ہو کمال کی

آؤ مل کہ بنائیں

امن کی صبحیں  ۔ ۔ ۔ سکوں کی شامیں  ۔ ۔ ۔

آؤ  ۔ ۔  ہاتھ آتھائیں  ۔ ۔ ۔

آؤ ، ہاتھ اٹھائیں  ۔ ۔ ۔  مانگیں اپنے رب سے

امن کی صبحیں ۔ سکوں کی شامیں  ۔ ۔ ۔ 

میرا سلام

ایک دوست نے مدینے میں روضہ رسول (ص) پر میرا سلام دیا
 
قبول کر لیں سلام میرا، ایک عاصی یہ کہتا ہے
عاجزی کا بیغام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے
 
نہیں مقدر میرا تو ، مدینے جانے والوں سا
مجبوری ہے نام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے
 
آؤں طیبہ کی ہوا میں ، پیاس بجھ جائے برسوں کی
بھر جائے یہ جام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے
 
موت آ جائے نہ میری ، مدینے جانے سے پہلے
زیست کا ہے اختتام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے
 
اظہر اس بات پر نازاں ، کہ سلام ان تک پہنچا
شاید اتنا ہی دام میرا ، ایک عاصی یہ کہتا ہے
 

نعت

ہر درد کی دوا، نام آپ کا
ہر اک کا آسرا ، نام آپ کا
 
آپ ہی تو ہو وجہ دوجہاں
ابتداء اور انتہا ، نام آپ کا
 
گناہ کا مرض لگ جائے اگر
اس کے لئے شفاء، نام آپ کا
 
سب سے ارفع سب سے اعلٰی
رب نے ہے کہا، نام آپ کا
 
آدم کو کر دیا خدا نے معاف یوں
جب واسطہ بنا ، نام آپ کا
 
میں کہاں، کہاں آپکی ثناء
بس لکھتا رہا ، نام آپ کا
 
اظہر مجھے سکوں ہی ملا
جب بھی لے لیا ، نام آپ کا
 

مناجات

اے میرے خدا اے میرے خدا
ہم پر رحمت کا مینہ برسا
 
تنگ ہوئی ہم پہ یہ زمیں
روٹھا ہوا ہے عرش بریں

کس کو سنائیں حال اپنا
تیرے سوا تو کوئی نہیں
 

 

بس تو ہی تو ہے  آسرا  ۔ ۔ ۔  ۔
اے میرے خدا اے میرے خدا
 
 
ہم عاصی ہیں ہم نافرماں
ہم بھولے ہیں تیرا قرآں
ہم دنیا داری میں کھوئے
خسارے میں ہیں ہم  ناداں
 
 
معافی کی ہم مانگیں دعا

اے میرے خدا اے میرے خدا

 

تجھے واسطہ شاہ یثرب کا
تجھے واسطہ فاتح خیبر کا
تجھے واسطہ شہید کربل کا
تجھے واسطہ تیری رحمت کا
 
 
میں گر چکا ہوں مجھ کو اٹھا
اے میرے خدا اے میرے خدا
 
 
میرے دیس کو خوشحالی دے
میرے شہر کو رُت متوالی دے
میری گلیوں کو روشن کر دے
میرے گھر کو حُسن جمالی دے
 
 
ہمیں اپنی رحمت میں لے چھُپا
اے میرے خدا اے میرے خدا

میرا دیس تو ایسا نہیں تھا

بہت دنوں کے بعد جب لکھنے بیٹھا تو ظاہر ہے اپنے حالات سامنے تھے ، دل خوں کے آنسو روتا ہے اور اسی دل کی یہ صدا ہے ، شاید ہم سب بھی یہ ہی کہنا چاہتے ہیں کہ “میرا دیس تو ایسا نہیں تھا“
یہ لڑنے جھگڑنے والوں کی بستی
یہ نفرت کی سیاست چالوں کی بستی
یہ آگ اور انگاروں کی دنیا
یہ بندوقوں بموں بھالوں کی بستی
 
جیسا ہے یہ تو ایسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
 
 
بنایا تھا اسکو خوں دے کہ اپنا
سجایا تھا  ہم نے مل کہ یہ سپنا
مل کہ ہم نے کیا تھا حاصل
اک ساتھ تھا سب کے دل کا دھڑکنا
 
اک تھا ،ٹکروں کے جیسا نہیں تھا

میرا دیس تو ایسا نہیں تھا

 
آندھی بھی آئی ، طوفاں بھی آئے

بادل بھی گرجے ، سیلاب بھی آئے
روکا سب نے دیوار بن کہ
دشمن کے گولے سینے پے کھائے

 

جینا اور مرنا  تو ایسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
 
کوئی بھوک سے بلکتا نہیں تھا
دکھوں سے کوئی سسکتا نہیں تھا
چوری تو تھی پر ڈاکا نہیں تھا
زردار تھے مگر کوئی اندھا نہیں تھا
 
مقصد جیون کا پیسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
 
میرا خدا ہم کو اتحاد دے دے
اجڑے ہوؤں کو آباد دے دے
دے دے ہمیں تو رحمتیں اپنی
ٹوٹے دلوں کو تو شاد دے دے
 
 
خدا سے یوں جدا سا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا

اک حُسن پا بہ زنجیر ہے

اک حُسن پا بہ زنجیر ہے
ہر عشق جسکے لئے دلگیر ہے
آزادی جسکا خواب ہے
آزادی ہی تعبیر ہے
 
 
وہاں جو جواں و پیر ہے
ظلم کے ہاتھوں اسیر ہے
جہاں آزادی کا رانجھا ہے
جہاں شہادت کی ہیر ہے
 
اک حُسن پابہ زنجیر ہے
ہر عشق جسکے لئے دلگیر ہے
 
 
ہر ایک ہاتھ میں شمشیر ہے

  جذبے کی کماں وفا کا تیر ہے
آزادی جسکی تقدیر ہے

وہ میرا کشمیر ہے
وہ میرا کشمیر ہے