Archive for the ‘میری باتیں’ Category

مثلث

میں سٹوڈیو سے نکل کر ہمیشہ کی طرح بوفیز میں پہنچا تو دیکھا کہ میری مخصوص میز پر کچھ الٹرا ماڈرن قسم کی لڑکیوں نے قبضہ کیا تھا، ویٹر جو میری پسندیدہ جگہ جانتا تھا، میری طرف دیکھ کر مجبور سی مسکراہٹ کے ساتھ ایک خالی میز کی طرف اشارہ کیا، میں بھی مسکرا کر ابھی کرسی پیچھے کر ہی رہا تھا کہ ایک آواز آئی
ارے اطہر تم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اوہ عابد ۔ ۔۔ ۔ تم ۔۔۔ ۔
پھر ہم گرمجوشی سے گلے ملے ، یار تم ، کہاں ہوتے ، یار تم مجھے بھول جاؤ گے یہ تو میں سوچ بھی نہیں سکتا،
ارے ملتے ہی گلے، میں نے منہ بنا کر کہا
ہاں گلہ نہ کروں تو کیا کروں پتہ ہے پورے تین سال بعد ملے ہو، انسٹی ٹیوٹ کے بعد ۔ ۔۔ اسکے الفاظ مجھے ماضی میں لے گئے
ہاں، تین سال ، آٹھ مہینے ، بارہ دن ، چار گھنٹے ۔ ۔۔ میرے منہ سے الفاظ جیسے بہنے لگے ۔ ۔ ۔ ۔
ہونہہ ، ابھی بھی وہیں ہو ۔ ۔ ۔ ۔ عابد کا لہجہ عجیب ہو گیا،
پتہ نہیں، میں جیسے کسی گہری نیند سے جاگا تھا، ارے یار، مجھے تو بھوک لگ رہی ہے ، قسم سے پچھلے پانچ گھنٹے سے کچھ نہیں کھایا ۔۔ ۔ ۔۔
اطہر ، ا ب کیا کہوں تم سے ،ذرا بھی نہیں بدلے ۔ ۔ ۔
کیسے بدلوں ۔ ۔ ۔
یار سچی بات تو یہ ہے کہ ، میں تم سے کافی عرصے سے ملنا چاہتا تھا، اور وہ کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا
ارے یار چائے تو پی لو،
نہیں یار، دیر ہو جائے گی ، اور میری بی وی مجھے گھر میں گھسنے نہیں دے گی ۔۔ ۔
ہیں ۔۔۔ تم نے شادی کر لی ۔ ۔۔ کب
یار تم میرے ساتھ گھر چلو ، میں نے اسکے لہجے میں ایک عجیب سی بے بسی محسوس کی ۔ ۔ ۔ وہیں کھانا کھا لیں گے
مگر ۔۔۔ میں نے عابد کی آنکھوں میں التجا دیکھی تو بول اٹھا
ٹھیک ہے ، ٹھیک ہے ، میں بھی گھر فون کر لوں ۔ ۔ ۔
تو کیا تم نے بھی ۔ ۔ ۔۔ ۔
ارے نہیں یار ، میں تو آوارہ پنچھی ہوں ۔ ۔ ۔ اکیلا ہی ان سڑکوں کا راہی ، ہم سڑک پر تھے ، عابد ایک ٹیکسی کو روک چکا تھا ، وہ دراصل ماما پریشان ہو جاتیں ہیں ۔ ۔
یار گھر سے ہی کر لینا ، وہ میرے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا، آنٹی کیسی ہیں ،
اچھی ہیں ، تمہیں کبھی کبھی یاد کرتیں ہیں ۔۔۔۔
اور تم ۔ ۔ ۔
میں تو صرف ایک ہی یاد کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو ۔۔ ۔
میں اسی کے سلسلے میں تم سے ملنا چاہتا تھا، عابد نے مجھے چونکا دیا
رافعہ کے لئے ۔۔۔ میرے منہ سے نکلا
ہاں ۔۔ ۔ مگر پھر ایک دم اسکا لہجہ بدل گیا، میں بھی کیا ذکر لے بیٹھا
نہیں عابد آج بہت دن بعد میرے ہونٹوں پر اسکا نام آیا ہے، میں تو ۔۔ ۔ میں تو ۔ ۔ ۔
دھیرے یار ۔۔ ۔ میری آواز شاید کافی بلند ہو گئی تھی، میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں ۔ ۔۔
کیا ، ۔ ۔ ۔ مجھے اسکا لہجہ بہت پرسرار لگا ۔ ۔ ۔
دیکھ ہی لو گے ۔ ۔ ۔اس نے چپ سادھ لی ۔ ۔ ۔ ٹیکسی جانی پہچانی سڑکوں سے گذرنے لگی ، پھر ایک موڑ پر میں چونک اٹھا ، اسی موڑ پر میں پہلی بار رافعہ سے ملا تھا، اور پھر اسی کا ہو کر رہ گیا تھا، مگر اسنے مجھے ٹھکرا دیا تھا ۔ ۔ ۔ بہرحال عابد میرا ہمراز دوست تھا، ہم تینوں کلاس فیلو تھے ، ٹیکسی انٹی ٹیوٹ کے سامنے سے گذر رہی تھی ۔ ۔۔ ۔

اطہر تمہیں یہ جگہ یاد ہے ؟ ۔۔۔ ۔
ہاں ۔ ۔۔ ۔ یہ بھول سکتا ہوں میں ۔ ۔ ۔ میں جب بھی ادھر سے گذرتا ہوں ۔ ۔۔ تو بہت کچھ یاد آتا ہے ۔ ۔ ۔ بہت کچھ میں نے گہری سانس لی ۔ ۔ ۔ مگر کافی عرصہ ہوا ادھر آیا نہیں ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں کیا کچھ بدل گیا ہو ۔ ۔ ۔
بہت بدل گیا ہے ، سب پرانے لوگ چلے گئے ہیں ۔۔ ۔ ۔ نئے ٹیچر ہیں سارے ۔ ۔ ۔ ۔
ہاں ۔ ۔ ۔ پرانے لوگ چلے ہی جاتے ہیں۔ ۔ ۔ مگر یادیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں ۔ ۔ ۔ کبھی نہیں جاتیں کہیں نہیں جاتیں ۔ ۔ ۔
لگتا ہے تم ابھی تک اسی شاک میں ہو ، کچھ نہیں بھولے
کون بھول سکتا ہے اس طرح ٹھکرائے جانے کو ۔ ۔ ۔

ہاں میں نے تمہارے کچھ ڈرامے دیکھے ہیں ، ان میں تمہارا یہ احساس مجھے بہت نمایاں نظر آتا ہے ۔ ۔ اور تم خود ایسے رول بھی تو کرتے ہو ۔ ۔اسنے ٹیکسی کو ایک سڑک پر مڑنے کا اشارہ کیا ۔ ۔ ۔
ہونہہ ۔ ۔۔ شاید صحیح کہ رہے ہو ۔ ۔ ۔ آں ۔ ۔ تم نے اپنی شادی کا نہیں بتایا کب ہوئی ۔ ۔ ۔ ۔میں نے موضوع بدلتے ہوئے پوچھا ۔ ۔ ۔
بتا دوں گا ، ہاں ادھر روک دینا ۔ ۔ ۔ عابد نے ٹیکسی ڈرائیور کو رکنے کو کہا ۔۔ ۔اور اپنا ویلٹ نکال کر کرایہ ادا کر دیا
لو بھائی یہ ہے ہمارا غریب خانہ ۔ ۔۔ عابد نے میرے ہاتھ سے سکرپٹ لیتے ہوئے کہا ۔ ۔ ۔
ہونہہ ۔ ۔۔ غریب خانہ ۔ ۔ میں نے اسکے وصیح و عریض بنگلے پر نظر ڈوڑائی ۔۔ ۔عابد نے بیل پر ہاتھ رکھ دیا
گاڑی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ میں نے پتہ نہیں کیوں پوچھا
یار دونوں ورکشاپ میں ہیں ۔ ۔ آفس کی گاڑی یوز کر رہا ہوں ۔۔۔ آجکل ۔ ۔۔
دروازہ کسی ملازمہ نے کھولا تھا ، عابد میرا ہاتھ پکڑ کر اند ر داخل ہو ۔۔ ۔ وعلیکم سلام ۔ ۔ رجو ۔ ۔ بیگم صاحبْہ کہاں ہیں ، عابد نے اسکے سلام کا جواب دیا
وہ جی اپنے کمرے میں آرام کر رہی ہیں
جاؤ ان سے کہو اپنے ہاتھ کی اچھی سی چائے بنا لائیں، آج ایک بہت ہی خاص مہمان ہمارے گھر آیا ۔ ۔ ۔ مجھے پتہ نہیں کیوں عابد کا لہجہ کھوکھلا لگا ۔ ۔
اچھا جی ۔ ۔ رجو دوسری طرف مڑ گئی ، آؤ اطہر ۔ ۔ وہ مجھے ایک طرف کھنچ کر ڈرائنگ روم میں لے گیا ۔ ۔ ۔
واہ بھئی خوب ٹھاٹھ ہیں، میں نے سجاوٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ۔ ۔
بس یار ۔ ۔ ۔اللہ کا کرم ہے ، اور ہماری بیگم صاحبْہ کا کمال ہے، اچھا تم کیا کر رہے ہو آج کل اداکاری و فنکاری کے علاوہ
اداکاری کے علاوہ بھی اداکاری ہی کر رہا ہوں زندگی کے سٹیج پر ، میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔ ۔ ۔ اور تم ؟؟
ایک فرم کا ڈائریکٹر ہوں ۔ ڈرامے کا نہیں ، کام کا ۔ ۔
میں ہنس دیا ۔ ۔ ۔ پھر کچھ دیر ہم خاموش ہو گئے ۔ ۔۔ جیسے کچھ کہنے کو نہ ہو، کہ اندر والے دروزے سے کھڑکھڑاہٹ کی آواز آئی ۔ ۔ ۔ ۔
لو بھئی چائے آگئی اور ہماری بیگم بھی ، میں اٹھ کھڑا ہوا، عابد کہ رہا تھا، یہ میرے دوست ۔۔ ۔ ۔ مگر نہیں تمہیں تعارف کی کیا ضرورت ، تم تو ایک دوسرے کو جانتے ہو

پھر میری آنکھیں جیسے چندھیا گئیں، ایک دھچکا سا لگا دل کو ، زبان کنگ ہو گئی ۔ ۔ ۔۔ میرے منہ سے اتنا ہی نکلا ۔ ۔

رافعہ ۔ ۔۔ آپ ۔۔۔۔۔۔ عا۔۔۔۔بد ۔۔۔۔۔ یہ یہ ۔۔۔۔ میرا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا، آنکھوں میں ایک دم اندھیرا چھا گیا ۔۔۔۔ میرے سامنے ، میری تمنا، میری آرزو، میری چاہت ۔۔۔ رافعہ ۔۔۔۔عابد کی بی وی کے روپ میں کھڑی تھی ۔۔۔۔ وہ ہی رافعہ جس نے مجھے ٹھکڑا دیا تھا، میں صوفے میں گرتا چلا گیا ، عابد میری کیفیت سمجھ چکا تھا ارے ارے کر کے میری طرف لپکا ۔۔ ۔ اور پھر جیسے میں بے ہوش ہو گیا ۔ ۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اطہر، اطہر کیا ہوا، آنکھیں کھولو ۔۔ ۔ ۔اسکے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا ۔ ۔۔۔ایک ہلکی سی سسکی سنی میں نے ، عابد مجھے سہارا دے کر اٹھا رہا تھا، مگر میں نے اسے اشارے سے منع کر دیا،میں ٹھیک ہوں۔ ۔۔ ۔ یہ سب ۔۔۔ یہ سب کیا خواب ہے ؟ میں نے لڑکھڑاتے ہوئے لہجے میں پوچھا ۔۔۔۔
نہیں ، یہ حقیقت ہے، بھیانک حقیقت ، تمہارے لئے بھی اور میرے لئے بھی ۔۔۔۔وہ مجھ سے نظر چراتے ہوئے بولا
مگر مگر یہ ہوا کیسے ۔۔۔۔ تم تم تو اسے صحیح طرح سے جانتے بھی نہ تھے ۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ ہے کہاں ۔۔۔ میں نے رافعہ کمرے میں نہ پا کر بولا
اپنے کمرے میں چلی گئی ہے ، کہ رہی تھی مجھے تمہیں ادھر نہیں لانا چاہیے تھا، وہ ایک لمبی سی سانس لے کر بولا
ہاں ٹھیک ہی تو کہ رہی ہے ، مجھے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔ مجھے چلا جانا چاہیے ، میں اٹھ کھڑا ہواء

نہیں تم نہیں جاؤ گے۔۔۔ تمہیں وہ سب جاننا ہو گا جو میرے ساتھ ہواء ، اطہر قدرت کے اس مذاق پر میں بھی ہنسوں گا تم بھی ہنسو گے ، اسنے مجھے کندھوں سے پکڑ کر بیٹھا دیا
نہیں یار میں تمہاری زندگی میں زہر نہیں گھولنا چاہتا۔ ۔۔ میں نے ایک بار پھر اٹھنے کی کوشش کی
اور خود کڑہ کڑہ کر مرنا چاہتے ہو ؟ عابد نے تیز لہجے میں جواب دیا
یکطرفہ محبت کا یہی انجام ہوتا ہے ، میری آواز بھرا گئی
یکطرفہ ، وہ چیخ اٹھا ، کس نے کہا کہ تمہاری محبت یکطرفہ تھی، کس نے کہا؟ اسنے ایک بار پھر مجھے بٹھا دیا اور میرے پہلو میں آبیٹھا
یکطرفہ نہیں تو اور کیا ۔۔۔۔ اسنے کبھی میرے متعلق سوچا ہی نہ تھا
جھوٹ ہے یہ۔۔۔ وہ تمہیں چاہتی تھی ۔ ۔۔ اور ۔۔۔ اور شاید چاہتی ہے ۔ ۔۔ تمہیں پتہ ہے تمہارے سارے ڈراموں کا انتخاب ہے اسکے پاس اور اکثر تمہارے سین باربار دیکھتی ہے
تمہارے سامنے ، میں نے حیرت سے پوچھا
ہاں اس نے مجھ سے کچھ نہیں چھپایا ۔ ۔ ۔ اپنی زندگی کا ایک ایک پل مجھ پر عیاں کر دیا ، وہ محبت کی پیاسی تھی ۔۔۔ اسے بھی چاہے جانے کا ارمان تھا ۔۔۔ میں نے اسے پیار دیا ۔ ۔ ۔ مگر شاید عابد کا نہیں ۔ ۔۔ تمہارا ۔ ۔ ۔ اطہر کا۔ ۔۔ وہ تمہیں اب بھی چاہتی ہے اطہر ۔ ۔ ۔ اب بھی ۔ ۔ ۔

وہ مجھے اب بھی چاہتی ہے ، میرے دل میں ایک لہر اٹھی ، وہ مجھے چاہتی ہے مگر وہ تو اسکی بیوی ہے ۔۔۔۔ اور یہ وہ سب مجھے کیوں بتا رہا ہے ۔۔ ۔ میں سوچ رہا تھا مگر کچھ بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا وہ کہ رہا تھا

اطہر وہ تمہیں چاہتی ہے ، پہلے بھی چاہتی تھی اب بھی چاہتی ہے
نہیں نہیں ۔۔۔ میں چیخ اٹھا۔۔۔ اسنے کبھی مجھے نہیں چاہا۔۔۔ تم لوگوں کے سامنے انکار کیا تھا ۔۔ ۔ نہیں عابد اسنے مجھے کبھی نہیں چاہا ۔ ۔ ۔
اطہر تمہیں اصل حالات کا علم نہیں۔۔۔ تمہیں مسرت یاد ہے، وہی جس کے تھرو تم نے اس تک پیغام پہنچایا تھا ۔ ۔۔ ارے وہ لمبی سی لڑکی۔ ۔ ۔ اسکی ایک ہی تو سہیلی تھی ۔ ۔۔
ہاں ہاں مجھے یاد ہے ، میں نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا
وہی اصل کردار ہے تمہارے ڈرامے کی ۔ ۔
وہ ۔۔۔ مگر کیسے ۔۔۔ میں حیران ہو گیا تھا
میں تمہیں تفصیل بتاتا ہوں
نہیں عابد مجھے اندھیرے میں ہی رہنے دو ، میں تمہاری زندگی کوخراب نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔ مجھے اندھیرے میں ہی رہنے دو ، ایسا نہ ہو کہ ۔ ۔۔ میں ۔۔۔۔ میں ۔۔۔ میرا سر جھک گیا ۔ ۔ ۔
نہیں اطہر ۔۔۔ تمہیں جاننا ہو گا ۔۔۔ تم گھر فون کر کہ بتا دو کہ آج رات تم یہاں رہو گے میرے پاس ۔ ۔۔
تمہارے پاس۔۔۔۔
ہاں میرے پاس ۔۔۔ گھر کا نمبر بتاؤ ۔۔ اسنے کارڈلیس اٹھاتے ہوئے کہا۔۔۔ اور پھرمیں گھر میں بتا دیا

رجو ۔۔رجو ۔۔۔ کھانا تیار ہو گیا ہے کیا ۔۔۔ عابد نے آواز لگائی۔۔۔۔
رجو چلی گئی ہے ۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوئی تو میرے دل میں پھر سے وہی ہلچل شروع ہو گئی۔۔۔ مگر خود کو سنبھالنا پڑا۔۔۔۔ میں نے نظر اٹھا کر دیکھا۔۔۔ اسکی مترنم آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ روئی تھی
چلیں کھانا لگا دیا ہے میں نے
مجھے اسکی آواز کوسوں دور محسوس ہوئی ، حتہ کہ ہمارے درمیان فاصلہ بہت کم تھا۔۔۔ ہم کھانے کی میز پر آئے ۔۔۔ کھانا خاموشی سے کھایا گیا۔۔۔ بلکہ کیا کھایا گیا ۔۔۔ میں تو چمچ اور کانٹے سے کھیلتا رہا ۔۔۔ اور شاید وہ دونوں بھی ۔۔۔ کھانے کے بعد ہم صوفوں پر بیٹھ گئے
اطہر چائے پیو گے ۔۔۔ عابد نے پوچھا
نہیں
تم نے کچھ کھایا بھی تو نہیں
میں زیادہ نہیں کھاتا ۔۔۔ تم تو جانتے ہی ہو
ہاں جانتا ہوں
اچھا اب جانے دو مجھے
کیسے جانے دوں ابھی تو کوئی بات ہوئی ہی نہیں
نہیں عابد میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا
عابد نے میرے لہجے کی سختی محسوس کی تو وہ رافعہ کی طرف مڑا
رافعہ تم اسے حقیقت بتاؤ
حقیقت ۔۔۔ رافعہ کے منہ سے نکلا۔۔۔۔ آپ جانتے ہیں کہ اب میں سب بھول جانا چاہتی ہوں۔۔۔ میری حقیقت صرف آپ ہیں ۔۔۔صرف آپ ہیں عابد
رہی بات انکی تو میں انہیں ایز اے رائٹر لائیک کرتی ہوں ۔۔۔ اور کوئی واسطہ نہیں ۔۔۔کوئی رشتہ نہیں
وہ منہ پر ہاتھ رکھکر اندر چلی گئی
میں اٹھ کھڑا ہواء
عابد مجھے جانے دو ، کیوں میری وجہہ سے اپنی ازداوجی زندگی خراب کرتے ہو مجھے جانے دو عابد مجھے جانے دو
نہیں اطہر تمہیں سننا ہو گا۔۔۔ جو میں کہوں گا۔۔۔ عابد کا لہجہ سخت ہو گیا
اچھا کہو ۔۔۔ میں نے ہی ہار مان لی
جب تم نے رافعہ کو پروپوز کیا تھا تو اس سے دو ہفتے پہلے ہی مسرت رافعہ کو تمہارے متعلق اپنے جذبات بتا چکی تھی ۔۔۔ اسلئے رافعہ نے تمہیں ریجیکٹ کیا ۔۔۔ اور پھر مسرت کے ساتھ تم رافعہ کے لئے اٹیچ رہے تو مسرت کی غلط فہمی نے تمہیں اسکی نظروں میں ایک نیا روپ دے دیا۔۔۔ اور پھر تم تینوں کے درمیان ایک مثلث بن گئی۔۔۔ رافعہ اگر تمہیں اپناتی تو مسرت کو دکھ ہوتا۔۔ اور اگر تمہیں مسرت کے جذبوں کا علم ہوتا تم اسے انکار کر دیتے ۔۔۔ اور مسرت تمہیں کچھ کہتی تو رافعہ کو دکھ ہوتا ۔۔۔ غرض تم تینوں ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے۔۔۔ مگر تمہارے درمیان ایک مثلث تھی ۔۔۔ اور پھر تم تینوں نے قربانی دی ۔۔۔ رافعہ نے تمہیں چھوڑا ۔۔۔ تم نے رافعہ کو اور مسرت نے تم کو ۔۔۔ یعنی تم نے ایک دوسرے کو ایک دوسرے کی خاطر چھوڑا۔۔۔
اور تم نے اپنا لیا۔۔۔۔ پتہ نہیں میرا لہجہ تلخ کیوں تھا
وہ پھیکی سی ہنسی سے میرے لہجے کو اگنور کر گیا
نہیں میں تو رافعہ کے متعلق جانتا بھی نہ تھا ، صرف تمہارے توسط سے وہ ذہن میں تھی ، گھر والوں نے رشتہ طے کیا ، مجھے جب نام پتہ چلا تو میں صرف اسے مشہابہت سمجھا۔۔۔ مگر جب پتہ چلا تو میں کچھ نہ کر سکا ۔۔۔ میری شادی میری والدہ کی خواہش تھی ۔۔۔ میں انکار نہ کر سکا۔۔۔ پھر بعد میں میں نے تمہیں بہت ڈھونڈا مگر۔۔۔
میں تو یہیں تھا۔۔۔۔ ایک دنیا مجھے جانتی ہے ۔۔۔ میں تمہیں نہیں ملا ۔۔۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا
ہاں ایک دنیا تمہیں جانتی ہے ۔۔۔ تب مجھے احساس ہوا کہ ایک مشہور آدمی سے ملنا کتنا مشکل کام ہے ۔۔۔ خیر اب ملے ہو تو مجھے بہت کچھ سوچنا ہے
تم کچھ نہ سوچوعابد ۔۔۔ سب بھول جاؤ ۔۔۔اسی میں تمہاری بھلائی ہے ، میری بھلائی ہے ، ہم سب کی بھلائی ہے
مگر اطہر تم نے اپنی زندگی کو دکھوں کی آماجگاہ بنا رکھا ہے ، تمہارے خیالات ایک ہی محور پر گھومتے ہیں کہ ، تمہیں ٹھکرایا گیا ہے
نہیں عابد۔۔۔ اب تم میرے خیالات کو بلند پاؤ گے، بس یہی قلق تھا ۔۔۔ کہ مجھے کسی نے نہیں چاہا۔۔۔ مگر آج جانا کہ مجھے بھی چاہا گیا تھا اور چاہا جاتا ہوں
اطہر تمہیں ایک دنیا چاہتی ہے اور تم کہتے ہو تمہیں نہیں چایا گیا
ہونہہ دنیا کی چاہت۔۔۔ یہ دنیا تو ہر اس چیز کو چاہتی ہے جو سامنے ہو ۔۔۔ذرا اوجھل ہونے پر یوں بھولتی ہے جیسے اسکا وجود ہی نہ تھا
آخر ہو نا ڈرامہ نگار ڈائلاگ ہی بولو گے ۔۔۔ میں تو چاہتا ہوں ۔۔۔ کہ اگر تم اسے اپناؤ تو میں ۔۔۔ میں رافعہ کو تمہاری خاطر چھوڑ سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔میں چیخ اٹھا اور اسکا گریبان پکڑلیا ۔۔۔ عابد ۔۔میرا ذہن گھومنے لگا ۔۔۔ کیا کہا تم نے ۔۔۔۔ کیوں کہا تم نے یہ ۔۔۔ اسکے الفاظ میرے لئے ایٹم بم سے کم نہ تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں عابد نہیں ۔۔۔۔ میں اپنی زندگی کا دکھ بڑھانا نہیں چاہتا ۔۔۔اور تمہیں کوئی دکھ نہیں دینا چاہتا
ارے میرے لئیے لڑکیوں کی کیا کمی ہے
نہیں ۔۔۔۔اور لڑکیوں اور رافعہ میں بہت فرق ہے دوست ۔۔۔ نہیں تو لڑکیاں تو میرے ساتھ بھی بہت ہیں ، ہر ڈھب کی ، چاہنے والیاں ، جان دینے والیاں
مگر کوئی رافعہ نہے۔۔۔۔۔اسنے جیسے زبردستی بولا
بیشک نہ ہو۔۔ مگر میرے لئے تم یہ قربانی نہ دو۔۔۔میں نے تو اسے صرف چاہا ہے۔۔ اور وہ بھی یکطرفہ طور پر۔۔۔ مگر تم نے تو اسے پایا ہے ۔۔۔ اپنایا ہے۔۔۔ یاد رکھو اس چیز کے جانے کا اتنا غم نہیں ہوتا ۔۔جو تمہاری پہنچ سے دور ہو ۔۔۔مگر جو چیز تمہارے پاس ہو اسکی جدائی مشکل سے برداشت ہوتی ہے
تم صحیح کہ رہے ہو اطہر ۔۔۔ شاید اسی لئیے رافعہ مجھے چاہنے بھی لگی ہے ۔۔۔ بہت چاہتی ہے وہ مجھے۔۔۔ اسکا لہجہ عجیب تھا مجھے جیسے ایک زخم لگا گیا ۔۔۔ میں پھیکی سی مسکراہٹ سے بولا
ہاں عابد ہر وفا شعار بی وی اپنے مجازی خدا کو یونہی چاہتی ہے ۔۔ خدا تم دونوں کو خوش رکھے۔۔۔ اور مجھے اجازت دو۔۔۔ میں اٹھ کھڑا ہواء
اس وقت کہاں جاؤ گے ، رات کے دو بج رہے ہیں ۔۔ ٹیکسی بھی نہیں ملے گی ۔۔۔
ہم آوارہ منش ہیں یار ۔۔۔ پیدل ہی نکلیں گے
نہیں اطہر رات ادھر ہی رہو
نہیں عابد اب میرا یہاں رکنا بہتر نہیں
اطہر ۔۔۔۔ اسکے لہجے میں احساس جرم تھا
عابد ۔۔۔ سمجھا کرو
میں نے اسکا کندھا تھپتپایا اور پھر باہر آ گیا۔۔۔باہر کی سنسان سڑکوں پر میں اکیلا چل رہا تھاْ۔۔۔ ایک طوفان سا تھا خیالات کا۔۔۔ عابد ۔۔۔۔ رافعہ ۔۔۔۔ مسرت ۔۔۔میرے زہن میں یہ نام گڈمڈ ہو رہے تھے ۔۔۔میں نے واقع ہی رافعہ کو دل و جان سے چاہا تھا۔۔۔اور اسکے ٹھکرائے جانے کے بعد سے زندگی کو بے کیف سمجھتا تھا ۔۔۔۔ مگر زمانے کی رنگینناں مجھے بہت کچھ بھلا دیتی تھیں ۔۔۔اور آج کا واقعہ ۔۔۔۔
میں ایک فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا ۔۔۔ایک گاڑی والے نے لفٹ کی آفر کی اور میں گھر آ گیا۔۔۔ کئی دن گذر گئے عابد نے مجھے چار پانچ بار فون کیا اور مجھ سے ملنے کی کوشش بھی کی ۔۔۔ مگر میں جان بوجھ کر اجتناب کیا ۔۔۔۔

ایک دن میں سٹوڈیو میں اپنے ڈرامے کی ریکارڈنگ میں مصروف تھا ، کہ پتہ چلا کہ کوئی خاتون مجھ سے ملنا چاہتی ہیں ، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ رافعہ ایسے مجھ سے ملے گی ، میں نے اسے اندر بلا لیا ، اور اسے کہا کہ میں اپنی ریکارڈنگ پوری کرتا ہوں آپ شوٹنگ دیکھیں۔۔۔ اور میں سیٹ پر اپنے ڈائلاگ بولنے لگا
روبی ۔۔۔تم جانتی ہو جب کسی انسان کو ٹھکرا دیا جاتا ہے تو وہ جیتے جی مر جاتا ہے ، غھکرائے ہوئے انسان کی پہچان مٹ جاتی ہے ، وہ خود کو تنہا کر دیتا ہے ، گمنام کر دیتا ہے ۔۔ مگر ایسے انسان مرنے کے بعد ایک نیا جنم لیتے ہیں ۔۔۔جس میں وہ صدا کے لئیے زندہ رہتے ہیں ۔۔۔۔ یہ دنیا انہیں چاہتی ہے۔۔۔ انہیں پوجتی ہے ۔۔۔ مگر یہ نہیں سوچتی ۔۔۔ کہ اگر اس شخص کو زندگی میں اتنا چاہا جاتا تو شاید وہ زیادہ عظیم ہوتا ۔۔۔ اور زیادہ عظیم ہوتا۔۔۔۔

کٹ ۔۔۔ پروڈیوسر کی آواز ابھری ۔۔۔ گڈ شو اطہر۔۔۔ اوکے پیک اپ۔۔۔۔میں رافعہ کی طرف بڑھتا چلا گیا
ارے آپکی آنکھوں میں آنسو؟
اطہر آپ ایسے کردار کیوں کرتے ہیں
کیوں کہ میں ہوں ہی ایسا
نہیں آپ ایسے نہیں ہیں ۔۔۔۔ میں آپ سے کہنے آئی تھی ۔۔۔
جی کہیے۔۔۔۔
اطہر آپکی آمد نے ہماری ۔۔۔ میرا مطلب ہے ۔۔۔ میری اور عابد کی زندگی میں ایک دھماکہ کر دیا ہے ۔۔۔آپ کی آمد سے ہمارے درمیان پھر سے ایک مثلث بن گئی ہے ۔۔۔ میں عابد اور آپ ۔۔۔ مثلث بن گئے ہیں
مثلث ۔۔۔ میں چونک گیا
نہیں رافعہ میں یہ مثلث نہیں بننے دوں گا۔۔۔ میں دور چلا جاؤں گا۔۔۔ میں سمجھ گیا تھا کہ میری وجہہ سے انکے درمیان کیا ہو رہا تھا۔۔۔۔
اطہر میرا مطلب یہ نہیں ۔۔ آپ عابد کو سمجھائیں جو ہونا تھا ہو چکا ۔۔۔اور اب آپ ہماری زندگی میں زہر نہ گھولیں ۔۔ پلیز
رافعہ ۔۔۔ آپ مطمئن رہیں ۔۔۔ ایسا کبھی نہیں ہو گا
رافعہ چلی گئی ۔۔۔ میں اسے جاتے دیکھتا رہا اور سوچتا رہا، زندگی ایسے بھی دور ہوتی ہے ۔۔۔۔
دوسرے دن عابد کو فون کیا ۔۔۔
عابد کچھ مت کہنا۔۔۔صرف میری بات سننا۔۔۔ میں جا رہا بہت دور ۔۔۔زندگی کے کسی موڑ پر تم سے ملوں تو اجنبی سمجھ کر فراموش کر دینا۔۔۔ میں تمہارے اور رافعہ کے اور اپنے درمیان وہ منحوس مثلث نہیں بنانا چاہتا جو کبھی میرے ، مسرت اور رافعہ کے درمیان میں تھی ۔۔۔ جسکی وجہہ سے آج ہم تینوں کی زندگی جہنم بنتی جا رہی ہے
اسئلیے یہ مثلث اب کبھی بھی نہیں بنے گی ۔۔۔
میں نے رسیور رکھ دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گو عابد کو کہ تو دیا تھا مگر ۔۔۔ اسے نبھانا ۔۔۔۔ اور جیسے وقت کی رفتارتھم گئی تھی ، شاید میں اسے بھلا نہ پایا تھا، اسنے کہا تھا کہ میں نے اسکی زندگی میں زہر بھر دیا ہے ، مگر اسکی ایک جھلک نے مجھ سے میرا آپ چھین لیا تھا۔۔۔میں نے لکھنا چھوڑ دیا تھا۔۔ تمام پرفارمنگ آرٹس کو بھی ختم کر دیا تھا۔۔۔ رات رات بھر صفحے کالے کرتا ۔۔۔ اور میری ردی کی ٹوکری بھرتی رہتی ۔۔۔
گھر میں ماما کے سوا کون تھا۔۔۔ اور ماں تو سب جان لیتی ہے ۔۔۔ ایک دن انکے بھی صبر کا پیمانہ چھلک گیا ۔۔۔
زی یہ کیا ہے ۔۔۔۔۔ وہ مجھے پیار سے زی کہتی تھیں
ماما ۔۔ ماما ۔۔۔میں نے کچھ کھو دیا ہے ۔۔۔ ماما ۔۔۔ میں کسی کے لئیے دکھ کا باعث بنا ہوں۔۔۔ میں نے انکے گھٹنوں میں سر رکھ دیا ۔۔۔
زی ۔۔۔ تم نے کسی کو دکھ دیا۔۔۔ ناممکن ۔۔۔ کتنا مان تھا انہیں مجھ پر۔۔۔ میرا بیٹا سب کچھ کر سکتا ہے ۔۔۔ مگر کسی کو دکھ نہیں دے سکتا۔۔۔ ناممکن ۔۔۔ انہوں نے میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا
اچھا ۔۔ بتاؤ کیا ہواء ہے ؟ مجھے نہیں بتاؤ گے ۔۔۔ اپنی ماما کو ۔۔ اپنی فرینڈ کو۔۔۔۔
ماما۔۔۔ ایک دوست اپنی دوستی کو امر کر گیا ۔۔۔ اور دوسرا اسکے لئیے۔۔۔ میری آواز بھرا گئی ۔۔۔۔ ماما میرا ماضی مجھے ایک تحفہ دے گیا ہے ۔۔۔اور میرا حال ۔۔۔ میرا مستقبل۔۔۔ کچھ نہیں کچھ نہیں ۔۔۔۔ میں بے ربط بول رہا تھا۔۔۔
زی ۔۔۔ وہ کسی شاعر نے کہا ہے نا
کل کاماضی ، آج کا حال ، کل کا مستقبل ہو گیا
جسنے پیچھے مڑ کہ دیکھا، وہ پتھر کا ہو گیا
زی زندگی جمود کا نام نہیں ۔۔۔ حرکت کا نام ہے ۔۔۔ ماضی کبھی حال نہیں ہو سکتا ۔۔۔ اور حال کبھی مستقبل نہیں ہو سکتا۔۔ سو جیو تو آج میں ۔۔۔ سیکھو تو ماضی سے ۔۔۔ سوچو تو مستقبل کا ۔۔۔
مگر ماما ۔۔۔ یاد ماضی ۔۔۔ میں نے کچھ کہنا چاہا ۔۔۔
نہیں زی کچھ نہیں ۔۔۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔ ٹی وی پر حامد علی کی آواز آ رہی تھی
گذر گیا جو زمانہ اسے بھلا بھی دو
جو نقش بن نہیں سکتا اسے مٹا بھی دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پتہ نہیں یہ محبت بھی کیا چیز ہے ۔۔۔ اسکا کوئی قانون نہیں کوئی قاعدہ نہیں ۔۔۔ اور جب یہ ہو جائے تو بس ہو جاتی ہے۔۔۔ اور یہ دوستی ۔۔۔ یہ اس سے بھی عجیب ہوتی ہے ۔۔۔۔ یار کی خاطر دنیا کو لٹا دیا جاتا ہے ۔۔۔ کسی مذہب کسی قانون ۔۔۔ کسی معاشرے کی نہیں سنتے یہ لوگ۔۔۔ اور قربان ہو جاتے ہیں۔۔۔
عاشق اور دوست سدا روتے ہیں ۔۔۔ عاشق محبوب سے وصل کی خاطر ، ہر نظام سے ٹکرا کر خود کو پاش پاش کر لیتا ہے ۔۔۔ اور دوست ۔۔۔دوست کی خاطر اپنا جیون اندھیر کر لیتا ہے ۔۔۔
ہمارے لئے دوستی اور محبت دو الگ الگ رشتے ہیں ۔۔۔ مگر دونوں کا مقصد ایک ہی ہے ۔۔۔قربانی ۔۔۔ ہم ایک دوسرے کی خاطر جیتے ہیں مرتے ہیں ۔۔۔ مگر اپنی بے بسی اور بے ثباتی کی وجہہ نہیں مانتے۔۔۔
اور جب بھی کوئی ۔۔۔ دل کو بھا جائے یا دل کسی کی طرف کھنچا چلا جائے تو ۔۔۔ محبوب کا اکثر جواب نفی میں ہوتا ہے ۔۔۔ گو وہ سب جانتا ہے ۔۔۔ مگر محبوب ۔۔اگر عشق کو تسلیم کر لے ۔۔۔ تو شاید یہ دنیا ۔۔۔۔ برائیوں سے پاک ہو جائے ۔۔۔ مگر ایسا ہوتا نہیں۔۔۔۔ یہاں دوستی نبھانے کے لئیے قربانی چاہیے ۔۔۔ یہاں عشق کے لئیے اپنی ذات کو بھولنا پڑتا ہے ۔۔ ۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔۔۔۔

میں نے رافعہ کے بعد کچھ عرصہ ۔۔۔آوارگی میں گذارا ۔۔۔ مگر جب کہیں سکوں نہ ملا تو ۔۔۔صرف ماما کے کہنے پر جاب کی تلاش شروع کر دی ۔۔۔ اور پھر شاید وقت کو مجھ پر رحم آہی گیا۔۔۔ مجھے ایک ماہنامے میں ایڈیٹر کی جاب مل گئی ۔۔۔اور میں زمانے کی رنگین و سنگین داستانیں پڑھنے لگا۔۔۔ مگر کیسے۔۔۔۔
ہر لفظ کتابوں میں تیرا عکس لئیے ہے
اک پھول سا چہرہ ہمیں پڑھنے نہیں دیتا

ماما نے میری کیفیت سمجھ لی تھی اور ۔۔۔ ایک پروڈیوسر سے کہ کر مجھے لکھنے پر مجبور کیا ۔۔۔ تو دل کا غبار اپنی کہانی "مثلث” کی صورت میں نکلا۔۔۔۔ اور پھرے یہ کہانی اسکرین کے بنیادی مراحل سے گذرنے لگی ۔۔۔
ریکارڈنگ کے دوران میں کئی دفعہ ۔۔۔ ذہن ی کشمکش کا شکار ہوا ۔۔۔۔ خصوصاً وہ سین جب میری رافعہ سے پہلی ملاقات فلمائی گئی ۔۔۔ میرا کردار کرنے والے فنکار نے (جو مجھے اپنا آئڈئیل کہتا تھا) اپنی جاندار اداکاری اور مکالموں کی ادائیگی سے مجھے میرے حواس پر چھا گیا ۔۔۔۔
یہ سب دیکھ کر ماما نے میری شادی کے لئیے تگ و دو شروع کر دی
میں شادی نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔
کیوں ۔۔۔ ماما کے لہجے میں جانے کیا تھا میں لرز کہ رہ گیا
بس ماما ۔۔۔ ابھی نہیں ۔۔۔
ابھی نہیں تو کیا ۔۔۔ میرے مرنے کے بعد۔۔۔
ماما۔۔۔ میں نے بے بسی سے انکی گود میں سر رکھ دیا۔۔۔
زی ۔۔۔ اب مجھ میں دکھ اٹھانے کی ہمت نہیں۔۔۔ تم دس ماہ کے تھے جب تمہارے پاپا نے ہمیں تنہا چھوڑ دیا ۔۔۔ تو تمہارے دادا دادی نے ہمیں گھر سے بے گھر کر دیا ۔۔۔ مگر میری صحافت کی ڈگری کام آئی ۔۔۔۔ اور میں نے ایک چھوٹے اخبار میں نوکری کر لی ۔۔۔ اور آج تمہیں اس مقام پر پہنچایا کہ مجھے فخر ہے اپنے بیٹے پر ۔۔۔۔ میں نے تمہیں کوئی بھی گرم سرد نہیں ہونے دیا ۔۔۔ چاہے مجھے آگ اور برف سے لڑنا پڑا ۔۔۔۔ ماما باربار کی دہرائی ہوئی کہانی سنا کر رو دیں

مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی اجڑے باغ میں کھڑا ہوں ۔۔ وہ کہ رہیں تھیں
زی ۔۔۔ میں نے تم سے کبھی کچھ نہیں مانگا ۔۔۔ میں تم سے صرف ایک خوشی مانگتی ہوں ۔۔۔ شادی کر لو۔۔۔ زی میرے لئے ۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔۔۔ اور میں ماں کی مامتا سے ہار گیا ۔۔۔
ٹھیک ہے ماما ۔۔۔ آپ جو چاہیں کریں ۔۔۔ میں نے انکے آنسو پونچھتے ہوئے کہا ۔۔۔ ماما نے مجھے اپنے سینے سے لگا لیا

اور پھر شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں ۔۔۔ مگر بدقسمتی نے شاید میرا گھر دیکھ لیا تھا ۔۔۔۔ ایک دن شاپنگ سے واپسی پر ۔۔۔ جب ماما کار ڈرئیو کر رہیں تھیں میں ساتھ والی سیٹ پر تھا ۔۔۔ کار کی ڈکی اور پچھلی سیٹ رنگ برنگے ڈبوں اور شاپرز سے بھری ہوئی تھی ۔۔۔ کہ سامنے سے آنے والی کوچ ۔۔۔ سڑک کے درمیان بنی پتھر کی پٹی پھلانگتی ہوئی سڑک پر سیکڑوں گاڑیوں کو چھوڑ کر صرف ہماری گاڑی پر چڑھ دوڑی ۔۔۔ اور پھرنہ جانے کیا ہواء ۔۔۔۔ لوگوں کی چیخیں تھیں ۔۔۔ اور رنگ برنگے شاپرز ایک ہی رنگ میں رنگتے چلے گئے ۔۔۔میری آنکھوں میں اندھیرا چھانے لگا ۔۔۔ تو میں نے ان ڈوبتے لمحوں میں سوچا ۔۔۔چلو اس دکھ بھری زندگی سے نجات ملی ۔۔۔۔ مگر یہ طوفان تو کچھ اور ہی چاہتا تھا ۔۔۔میں زندہ رہ گیا ۔۔۔ میری ماں ۔۔۔ میری دوست ۔۔۔ میرے اتنے بڑے بے فضول بدن کو سینچنے والی ۔۔۔ میرا سب کچھ ۔۔۔ مجھ سے بچھڑ گئی ۔۔۔۔ میں پاگل ہو گیا ۔۔۔ گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا ۔۔۔آفس میں ذہن الجھا رہتا ۔۔۔ سب لوگ عجیب نظر آتے ۔۔۔ جب کوئی ہنستا تو اسکی آواز صور کی آواز لگتی ۔۔۔میری یہ کیفیت کئی ہفتے رہی ۔۔۔ میں نے چھٹیاں لے لیں ۔۔۔ اور دنیا سے کٹ گیا ۔۔۔ میں تھا ۔۔ تنہائی ۔۔۔ سگریٹ پینا چاہتا تو ماما کا چہرہ سامنے آجاتا جنہوں نے مجھے ۔۔۔ اس سگریٹ سے اتنی نفرت دلائی کہ کبھی خواب میں بھی اسکو ہاتھ نہ لگاتا ۔ ۔
وقت بھی عجیب چیز ہے کبھی تو ایسا رکتا ہے جیسے ساری دنیا ساکت ہو ۔۔۔ اور کبھی ۔۔۔ آندھی طوفان بن جاتا ہے ۔۔۔ وقت کا مرہم لگا تو میں آفس آگیا ۔۔۔ مگر میری خمار آلود آنکھیں مجھے الگ تھلگ ہی رکھتیں تھیں ۔۔۔۔میں اس کیفیت سے کبھی باہر نہ آتا مگر ایک دن ۔۔۔ فون کی گھنٹی بجی ۔۔۔ رسیور اٹھایا ۔۔۔۔
اطہر ہیں ؟
جی بول رہا ہوں۔۔
اطہر ۔۔۔ آپ کیوں ہمارے لئیے عذاب بن رہے ہیں؟
میں رافعہ کی آواز سن کر جیسے ہوش میں آگیا ۔۔۔
راف۔۔۔ رافعہ ۔۔۔ مم ۔۔۔مم ۔۔ میں ۔۔ عذاب ۔۔۔
ہاں میں رافعہ ہوں ۔۔۔۔ آپ جب ہر طرف سے مایوس ہو گئے تو اب یہ ڈرامے بنانے لگے ۔۔۔۔۔۔ہیں ۔۔۔ کیا کر لیں گے آپ ۔۔۔ میں آپکی تھی ۔۔۔اور نہ ہوں ۔۔۔ اور نہ کبھی ہو سکتی ہوں ۔۔۔ چاہے بیسوں ڈراموں میں آپ اپنا رونا روئیں ۔۔۔۔انڈر سٹینڈ یو ۔۔۔۔۔
رافعہ سنیں تو ۔۔۔۔۔
اب سننے کو رہ کیا گیا ہے ۔۔۔ ہم نے سوچا تھا کہ شاید آپ اپنی دوستی کی مثال کو زندہ رکھیں گے ۔۔۔ اور دنیا کو دکھوں سے لڑنا سکھائیں گے ۔۔۔ مگر ۔۔۔
میں کیا سکھاؤں گا ۔۔۔ میں خود ہار گیا ہوں ۔۔۔ میں تو ۔۔ میں تو ۔۔ مر گیا ہوں ۔۔۔
نہیں مرتے آپ جیسے لوگ۔۔۔ ہم جیسے کتنوں کو مار کہ مرتے ہیں ۔۔۔۔
تو آپ چاہتیں ہیں کہ میں مر جاؤں ۔۔۔۔؟؟
میرے چاہنے یا نہ چاہنے سے کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔ انسان کی ہر خواہش تو پوری نہیں ہوتی نا ۔۔۔۔ اس کے لہجے میں بے بسی تھی ۔۔۔ اور زہر بھرا ہوا تھا ۔۔۔۔ میں ہنس دیا
اوکے ۔۔۔ رافعہ آپ کو یہ خوشخبری بھی جلد ملے گی ۔۔
اب کیا خوشخبری ملے گی ۔۔۔ اب تو آپ مر جائیں ۔۔۔ یا مجھے مار دیں ۔۔۔۔مجھے مار دیں ۔۔۔۔
رافعہ ۔۔۔ رافعہ ۔۔۔ مگر فون بند ہو چکا تھا ۔۔۔۔
میں نے ٹی وی کا نمبر ملایا ۔۔۔ پروڈیوسر صاحب ایک دم خوشی سے بولے ۔۔۔۔اطہر تھنکس کے تم نے بھی خبر لی ۔۔۔ارے تمہارا ڈرامہ ۔۔۔۔
سر پلیز اسے آن ائیر نہ جانے دیں ۔۔۔۔
کیا کہ رہے ہو اطہر ۔۔۔ وہ تو ۔۔۔
سر یہ میری زندگی اور موت کا سوال ہے ۔۔۔
اطہر سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔۔ ہم نے سپانسر بک کر لئیے ہیں ۔۔۔ جو تمہارے نام کی وجہہ سے ہیں اور ۔۔۔ پھر اسکا ٹریلر دیکھا چکے ہیں ۔۔۔ لوگ تو منتظر ہیں اس ٹراینگل لو اسٹوری کے ۔۔۔۔اور وہ نئی اداکارہ ۔۔۔
سر پلیز اسے روک دیں ۔۔۔۔
اب ایسا ممکن نہیں ۔۔۔ گھر پر جا کہ ٹریلر دیکھنا ۔۔۔ میری ایک ریکارڈنگ ہے ۔۔ میں خود تمہارے گھر آؤں جب ڈرامہ آن ائیر جائے گا ۔۔۔
سر ۔۔۔ سر مگر فون ایک بار پھر بند ہو چکا تھا ۔۔۔۔

گھر آکر میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی ٹی وی آن کر دیا ۔۔۔ اشتہار چل رہے تھے ۔۔۔ کہ اچانک میں چونک پڑا ۔۔۔

کل شب کو دیکھیے مشہور رائیٹر اطہر ہاشمی کا لکھا ہوا مثلث
مثلث ۔۔ جذبوں کی کہانی
مثلث ۔۔ دوستی کی کہانی
مثلث ۔۔۔ قربانی کی کہانی
اور پھر کلائمکس سین دیکھایا گیا ۔۔۔۔جسنے میرے دل میں ہلچل مچا دی ۔۔۔یہ سین تھا ۔۔۔ عابد کی بی وی کے روپ میں رافعہ سے میری ملاقات کا ۔۔۔۔میرے ذہن میں چنگاریاں اڑنے لگیں ۔۔۔میں نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔ مگر آواز سنائی دی ۔۔۔۔ آپ کی آمد نے ہماری زندگی میں زہر گھول دیا ہے ۔۔۔۔میں نے ٹی وی بند کر دیا ۔۔۔ مگر لفظوں کی بازگشت نے میرا پیچھا نہ چھوڑا ۔۔۔۔میں نے نیند کی گولیوں کی شیشی انڈیل لی ۔۔۔۔ مگر صر ف دو گولیاں ۔۔۔ مگر شاید اتنی مقدار ہی مجھے ایک رات تک کے لئے کافی تھی ۔۔۔ آج ابھی میں گھر میں داخل ہواء ہی تھا کہ فون کی گھنٹی بج اٹھی ۔۔۔عابد کا فون تھا ۔۔۔ اس نے اسی انداز سے بات کی جیسے کبھی میں نے اس سے کی تھی ۔۔۔۔
اطہر کچھ مت کہنا ۔۔۔ تم ہم سے دور نہیں جا سکتے ۔۔۔ اسلئیے ہم تم تو کیا ۔۔۔ اس شہر ۔۔۔ اس ملک کو ہی چھوڑ کر جارہے ہیں ۔۔۔ کوشش کرنا کہ اب کبھی کوئی رابطہ نہ ہو ۔۔۔ میں ۔۔۔میں رافعہ کے لئیے ساری دنیا چھوڑ سکتا ہوں ۔۔۔ کہ میں اسکا ہوں ۔۔۔وہ میری ہے ۔۔۔ گو تم جیسے دوست کو بھولنا مشکل ہو گا ۔۔۔۔مگر ۔۔۔اطہر ۔۔۔لوگ مر بھی تو جاتے ہیں نا۔۔۔۔ہم سمجھیں گے کہ تم مر گئے ہو ۔۔۔
میں کیا کہتا ۔۔۔ وہ رو رہا تھا ۔۔۔ کچھ کہ رہا تھا ۔۔۔ اپنی دوستی کے بارے میں ۔۔۔ اپنی محبت کے بارے میں ۔۔۔ اپنی بے بسی کے بارے میں ۔۔۔ شاید کچھ اور بھی ۔۔۔مگر میں رسیور رکھ چکا تھا ۔۔۔
اب میرے پاس کچھ بھی نہیں ۔۔۔ نہ رافعہ جیسی محبوب ۔۔۔ نہ عابد جیسا دوست ۔۔۔ نہ ماما جیسی ماں ۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔ تو پھر میں کیوں ہوں ۔۔۔ میں نے نیند کی گولیوں کی شیشی کھول کر انڈیلنا چاہی مگر ۔۔۔ یہ کیا ۔۔۔ خالی ۔۔۔ فون پھر چیخا ۔۔۔ پروڈیوسر صاحب تھے ۔۔ کہ رہے تھے ۔۔۔ کہ کچھ دیر بعد میرا ڈرامہ آن ائیر ہو رہا ہے۔ ۔ ۔ جسکے ہزاروں لوگ منتظر ہیں۔۔۔ میں کیا کروں ۔۔۔ ڈرامہ ۔۔۔رافعہ ۔۔۔عابد ۔۔۔محبت ۔۔۔ ماما ۔۔۔کوئی بھی تو نہیں میرے ساتھ ۔۔۔ میرے سر میں آگ سی لگ گئی ہے ۔۔۔ دھڑکن بڑھ گئی ہے ۔۔۔۔ سر پٹھا جا رہا ہے ۔۔۔ رافعہ ۔۔۔۔ یہ تم نے اچھا نہیں کیا ۔۔۔
پتہ نہیں کیوں ٹی وی آن کر دیا ہے میں نے ۔۔۔ مگر اسمیں آواز کیوں نہیں ۔۔۔۔ تصویر کی جگہ روشنی ۔۔۔۔ صرف روشنی ۔۔۔۔ میں دیکھ نہیں پا رہا ہوں کیا۔۔۔ کیا میں مر رہا ہوں ؟ ۔۔۔نہیں نہیں میں مرنا نہیں چاہتا ۔۔۔ ابھی تو مجھے اپنا ڈرامہ دیکھنا ہے ۔۔۔۔مے ۔۔۔مم۔۔۔۔مے مے ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹی وی پر آخری سین چل رہا تھا ۔۔۔ جب دروازہ کھلا ۔۔۔ اور پروڈیوسر صاحب اندر داخل ہوئے ۔۔۔
اطہر ۔۔۔اطہر ۔۔۔تمہارے ڈرامے کی اتنی بڑی کامیابی ۔۔۔ ابھی ڈرامے کے دوران ہی لوگ پوچھ رہے ہیں کیا یہ سب سچ ہے ۔۔ ۔۔۔اطہر ۔۔۔اطہر ۔۔۔ مگر اطہر کا سر ایک طرف ڈھلک گیا ۔۔۔
اوہ مائی گاڈ ۔۔۔۔
انہوں نے جلدی سے ایمبولینس کو فون کیا ۔۔۔

اطہر اپنی آخری کامیابی تو دیکھتے جاتے ۔۔۔۔
اطہر کے کردار کی آواز گونجی ۔۔۔۔
کچھ مت کہنا ۔۔۔۔صرف میری بات سنو ۔۔۔ میں جا رہا ہوں ۔۔۔ بہت دور زندگی کے کسی موڑ پر اگر تم سے ملوں بھی تو اجنبی سمجھ کر فراموش کر دینا ۔۔۔ میں تمہارے اور تمہاری بی وی کے درمیان وہ منحوس مثلث نہیں بننا چاہتا ۔۔۔ جو کبھی اسکے اور میرے درمیان بنی تھی ۔۔۔

آج اس بات کو کئی برس بیت چکے ہیں میں اب بھی اسی شہر میں ہوں اور وہ بھی اسی علاقے میں ۔۔۔ مگر جب فاصلے اپنے پیدا کئیے ہوئے ہوں تو نزدیکیاں بھی دوریاں بن جاتیں ہیں ۔۔۔۔مگر اب میری تحریروں میں ٹھکرائے جانے کا عنصر نہیں ہوتا ۔۔۔ بلکہ ہر تحریر ایک مثلث بناتی ہے ۔۔۔ ملن ۔۔ جدائی اور تنہائی کے درمیان ۔۔۔ اور اسی طرح کی کتنی ہی مثلثیں میری کہانیوں کا عنوان ہیں ۔۔۔ وہ اب بھی مجھے جانتے ہوں گے ۔۔۔ مگر کسی اور نام سے ۔۔۔ کہ میں نے تحریر کا انداز ہی نہیں بدلا بلکہ ۔۔۔ نام بھی بدل لیا ہے ۔۔۔ جیسے کہ کوئی تھا ہی نہیں ۔۔۔۔

اور پھر آخری ٹایٹل چلنے شروع ہوئے ۔۔۔ اطہر کی اپنی آواز گونجی ۔۔۔

یہ میری کہانی ہے ۔۔۔ میرے دوستوں کی کہانی ہے ۔۔۔ میرے چاہنے والوں کی کہانی ہے ۔۔۔ میں اس کہانی میں آپ کو بہت کچھ دے رہا ہوں ۔۔۔ مگر میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔۔۔ اور اب میں خالی ہاتھ ہوں ۔۔۔۔ اور شاید یہ میری آخری کہانی بھی ہو !!!!
اینبولینس آ گئی ہے جناب ۔۔۔
ہونہہ ۔۔۔پروڈیوسر صاحب چونک پڑے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹی وی پر خبریں چل رہیں تھیں ۔۔۔
مشہور ادیب اور اداکار جناب اطہر ہاشمی کل دماغ کی شریان پھٹنے سے انتقال کر گئے ۔۔۔ انکی عمر پینتیس برس تھی ۔۔۔ وہ اپنی جذباتی اور فطری اداکاری اور کردار نگاری کے حوالے سے جانے جاتے تھے ۔۔۔ ادبی حلقوں میں انکا خلا ایک مدت تاک پر نہیں ہو سکتا ۔۔۔
ٹیلی فون کی گھنٹی بجی ۔۔۔
ہیلو ۔۔۔ جی موجود ہیں
مسرت تمہارا فون ہے ۔۔۔۔
مسرت نے ریسیور پکڑا ۔۔۔ ہیلو ۔۔۔۔
جی ۔۔۔ اوہ ۔۔۔ جی وہ میری دوست ہے
کیا۔۔۔۔ وہ چیخ اٹھی ۔۔۔نہیں ۔۔۔کب ۔۔۔
اور کچھ سننے کے بعد مسرت نے ریسیور رکھ دیا
کیا ہوا ۔۔۔مسرت کے شوہر نے پوچھا
وہ میری سہیلی تھی نا رافعہ ۔۔۔
ہاں ہاں وہ عابد کی بی وی ۔۔۔ ماشااللہ بہت اچھی جوڑی ہے ۔۔
وہ دونوں ائیر پورٹ جاتے ہوئے ۔۔۔ مسرت پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی
اوہ ۔۔ نو ۔۔۔ ویری سیڈ ۔۔۔۔
میں تمہارے لئیے پانی لے کر آتا ہوں تم ادھر بیٹھو۔۔۔
شوہر ابھی اندر گیا تھا ۔۔۔ کہ ڈور بیل بجی ۔۔۔۔ مسرت نے آنکھیں پونچھتے ہوئے دروازہ کھولا ۔۔۔اوہ فرح ۔۔۔ دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئیں ۔۔۔ رافعہ نہیں رہی ۔۔۔ ہاں میں بھی اسی کا سن کر آئی ہوں ۔۔۔۔
کون آیا ہے مسرت ۔۔۔۔مسرت کا شوہر پانی کا گلاس لئیے اندر داخل ہوا۔۔۔۔
میری دوست ہے ۔۔۔فرح ۔۔۔رافعہ کا سنکر آئی ہے ۔۔۔ابھی ہم ۔۔۔ اسکی طرف جائیں گے ۔۔۔
اور فرح کی نظر جیسے ہی مسرت کے شوہر پر پڑی ۔۔۔ اسے شاک سا لگا ۔۔۔ عارف ۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔
مسرت نے آگے بڑھ کر فرح کو سنبھالا ۔۔۔ مسرت یہ ۔۔یہ وہ ہی عارف ہیں ۔۔۔جس سے ۔۔۔۔۔۔
اور مسرت آگے کچھ نہ سن سکی ۔۔۔۔ اسکی آنکھوں کے سامنے مثلثیں ناچنے لگیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔ اختتام ۔۔۔۔۔۔۔۔

Advertisements

پاکستان – ضروری تو نہیں

جی ہاں ، پاکستان ضروری تو نہیں ، دنیا پاکستان کے بنا بھی چل رہی تھی نا تو پاکستان کیوں بنا ؟ اس اگست میں میں نے سوچا ہے کہ پاکستان کے حق میں کوئی بات نہ کی جائے ، کہ پاکستان کے حق میں تو بات کرنے والے بہت ہیں ، پاکستان کے مخالف تو نہ ہونے کے برابر ہیں ، اس لیے میں پاکستان کے خلاف بولوں گا ۔ ۔ ۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی تقریری مقابلے میں حق میں اور مخالفت میں تقاریر ہوتی ہیں ، میں کسی مقابلے کا حصہ تو نہیں ہوں ۔ ۔ مگر میں نے موضوع کی مخالفت میں بولنا ہے ، کر لو جو کرنا ہے !!

تو بات ہو رہی تھی کہ پاکستان ضروری تو نہیں تھا ، بلکہ بقول ہمارے الطاف بھائی کے پاکستان دنیا کا سب سے بڑا “بلنڈر“ تھا ، پہلی بات ہے یہ نام ہی غلط ہے ، پاکستان یعنی پاک سر زمین ، یعنی ہندوستان کی زمین ناپاک تھی جو یہ پاک زمین بنائی گئی ، اور یہ پاک زمین بھی تو ناپاک ہندوستان ہی تو تھی ، ہم نے تو نام بدل دیا ، بالکل ایسے جیسے بمبئی کا نام ممبئی کر دیا گیا یا کلکتہ کا نام کولکتہ ہو گیا ۔ ۔ ۔ تو بنارس چنائی بن کہ بدل تو نہیں گیا ؟ اس لیے پاکستان کی زمین بھی پاک نہیں ہوئی ، گو آزادی کے وقت اسے لاکھوں بے گناہوں کے خون سے بھی دھویا گیا اور آج تک دھویا جا رہا ہے

اصل میں لوگ پاکستان کے قیام کو ہی غلط سمجھتے ہیں کیونکہ آج ساٹھ سال بعد ہمیں پتہ چلا ہے کہ پاکستان ایک سیکولر ملک کے طور پر بنا تھا ، اور آج تک ہم جو اسلام کو پاکستان سے جوڑتے رہے ہیں وہ سب غلط ہے ، اس سلسلے میں ہمارے بہت بڑے بڑے دانشور اپنی تحقیق سے ثابت کر چکے ہیں کہ اسلام کا پاکستان سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ، قائد اعظم (یعنی جناح صاحب) بہت ہی بڑے سیکولر انسان تھے ، بھائی جس شخص نے ایک پارسی لڑکی سے عشق لڑا کر شادی کی ہو ، گوکلے جس کا بیسٹ فرینڈ ہو ، سروجنی نائیڈو جسکی تعریف کرتے نہ تھکے ۔ ۔۔ جو اپنی بہن کی شادی تک نہ ہونے دے ۔ ۔۔ اسکا بھلا اسلام سے کیا تعلق ۔ ۔ ۔ جس شخص نے ہمیشہ لباس ہی انگریزی پہنا ہو ، بولتا ہی انگریزی ہو ، زندگی کے بہترین سال اسنے پیسہ کمانے میں گزارے ہوں ، بھلا اسکا اسلام سے کیا تعلق ۔ ۔۔ اور اُس نے ایسا ملک کیوں بنانا تھا کہ جو اسلام کی بنیاد پر بنا ہو ۔ ۔ ۔؟؟ جناح صاحب کی زندگی پر بعد میں نظر ڈالیں گے پہلے پاکستان کو تو دیکھ لیں

تو پاکستان ایک سیکولر ملک بنا تھا ، اسے بعد میں ملاؤں نے ہائی جیک کر کہ اسلامی جمہوریہ بنا ڈالا ، اور ہاں یہ جو لاکھوں بے وقوف مرے تھے پاکستان آنے کے لیے ۔۔ ۔ انہیں لازمی مِس گائیڈ کیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ ورنہ ایک سیکولر ملک سے دوسرے سیکولر ملک میں جانے کے لیے جان دینا بے وقوفی نہیں تو اور کیا تھا ۔ ۔ ۔ اور پاکستان تو تھا ہی سیکولر ، بھئی جس کا وزیر خارجہ ایک قادیانی ہو (جو جناح کا جنازہ تک نہ پڑھے ) ، جس کی کابینہ میں ہندو وزیر ہو ، جسکی فوج کا سربراہ عیسائی انگریز ہو ۔ ۔ ۔ تو اسلامی ممللکت کہاں سے آ گئی ؟؟ جناح صاحب گیارہ اگست والی تقریر میں چیخ چیخ کر کہتے رہے کہ پاکستان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں مگر کوئی سنتا ہی نہیں انکی تقریر (کیونکہ ملتی نہیں ہے پوری )

مگر سمجھ نہیں آتی جب اقبال نے کہا تھا کہ انتظامی طور پر مسلم ریاستیں الگ کر دی جائیں تو پاکستان کی ضرورت کیا تھی ؟؟ اور پھر اسلام کا تڑکا کیوں لگایا گیا ؟ اصل میں پاکستان بنگالی جاگیرداروں نے بنایا تھا ۔ ۔۔ اور اسی لیے بنگال لے کر علیحدہ ہو گئے ، باقی رہا موجودہ پاکستان ۔ ۔ ۔ تو اسکی آزادی تو تھی ہی غلط ۔ ۔ ۔ لفظ آزادی بھی غلط ہے ، علیحدگی ۔۔ ۔ میرے خیال میں یہ بھی غلط ہے ۔ ۔۔ ہندوستان کا بٹوارہ ۔ ۔ ۔ ہاں یہ ٹھیک ہے ، بھئی انگریزوں سے آزاد تو ہندوستان ہوا تھا نا ، پھر ہم ہندوستان سے الگ ہو گئے ، پھر بنگال ہم سے الگ ہو گیا ، اور اب بلوچستان اور سندھ علیحدگی کے لیے تیار ہے ، پنجاب میں سرائیکی الگ ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ پوٹھوہار الگ ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔۔ میرے خیال میں کچھ عرصے بعد راولپنڈی کے جی ایچ کیو کے کسی جنرل کی ٹیبل کا نام پاکستان رہ جائے گا ہے نا ۔ ۔۔ باقی رہی آزادی کی بات ۔ ۔۔ تو اس سرزمین میں بے وقوفوں کی کمی نہیں جو لوگ لاکھوں کی تعداد میں ایک “ہندو“ پروپگنڈے پر اپنی جانیں دے دیتے ہیں کہ پاکستان اسلامی ملک بنے گا ۔ ۔۔ اور تو اور یہاں ایسے بھی لوگ موجود تھے کہ جو لندن جا کہ کہتے تھے کہ مجھے اب ایک غلام ملک میں جا کہ نہیں مرنا اور آزاد ملک میں ہی مر جاتے تھے (جزباتی لوگ) ۔ ۔ ۔۔ اور ابھی بھی ایسے موجود ہیں جو لندن جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں آزاد پاکستان میں واپس نہیں آنا ۔۔ ۔ ۔ مگر جذباتی نہیں ہوتے ۔ ۔۔ کیونکہ پتہ نہیں کب ہوا کا رُخ بدل جائے اور انہیں پاکستان آنا پڑے ایک آزاد ملک سے ۔ ۔ ۔ اور پاکستان کے بننے کی غلطی کو ختم کرنا پڑ جائے ۔ ۔ کیونکہ ۔۔ ۔ ۔ پاکستان ۔۔ ۔ ضروری تو نہیں ۔ ۔ ۔۔
(جاری ہے )

میرے مجاہدو ، میرے محافظو ، میرے جوانوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا فخر مت توڑو ۔ ۔ ۔ ۔۔

نوٹ ؛ یہ کالم پاکستانی فوج کے خلاف نہیں ، بلکہ ان جنرلوں کے خلاف ہے جو اس ملک کو نوچ رہے ہیں ، اور اپنی جیبیں بھر رہے ہیں ، ورنہ میری فوج کے جوان تو ایسے ہیں کہ پینسٹھ کی جنگ کے انڈین جنرل کہتے تھے کہ یہ جب نعرہ تکبیر لگاتے ہیں ، تو ہمارے آدھے سے زیادہ سپاہی سہم جاتے ہیں ، ہماری فوج کے نان کمیشن افسران کو آج بھی دنیا کا بہترین ٹرینر مانا جاتا ہے ، ایک صوبیدار جب ایک لفٹین بناتا ہے تو اسے وہ تربیت دیتا ہے جو اسے پاک آرمی کا مین ایٹ بیسٹ بنا دیتا ہے ، اور اسے پھر صاب کہ کہ سلوٹ مارتا ہے ، مگر افسوس وہ ہی لیفٹین جب جنرل بنتا ہے ، تو اپنے کتنے ہی استادوں کی کیتی کرائی پر مٹی پھیر دیتا ہے ۔ ۔ ۔ بلڈی سویلین ، کا نعرہ ہے وہ ہی جنرل لگاتا ہے ، جو سویلین کی حفاظت کے قابل نہیں ہوتا ، ورنہ فوج سے زیادہ ڈسیپلن ادارہ کوئی نہیں ، اور ان سے زیادہ محب وطن بھی کوئی نہیں ۔۔
——————————————————————————————————————————-

بہت پہلے کی بات ہے ، شاید بیس سال پہلے کی ، پاکستان میں ایک فلم بنی تھی ، جسکا نام تھا برداشت ، اظہار قاضی نے اس میں مرکزی کردار ادا کیا تھا ، یہ وہ زمانہ تھا جب ہماری فلم انڈسٹری میں کچھ کرییٹیو مائنڈ تھے ، فلم کا مرکزی کردار ایک فوجی تھا ، جو سرحد سے لڑ کر واپس گھر آتا ہے ، اور پھر اسے گھر پر سیاست دانوں اور مذہبی شدت پسندوں سے واسطہ پڑتا ہے ، اور وہ ہر ممکن طریقے سے ان سے براہ راست تصادم سے بچتا ہے ، مگر آخر کار اسکی برداشت ختم ہو جاتی ہے ، اور وہ ہتھیار اٹھا لیتا ہے اور کہتا ہے ، کہ میں تو فوجی تھا ، میرا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے ، مگر مجھے کیا پتہ تھا کہ میرے دشمن میرے ہی گھر میں ہیں اور مجھے جنگ بھی وطن کے اندر لڑنا ہو گی اور اپنوں سے لڑنا ہو گی ، فوجی یہ نہیں کرتا وہ اپنوں سے نہیں دشمنوں سے لڑتا ہے ۔ ۔۔ ۔

یہ کہانی تھی ایک سپاہی کی جو جانتا تھا کہ فوجی ہونے کا مطلب کیا ہوتا ہے اور اسکا فرض کیا ہوتا ہے ، مگر آئیے ایک اور کہانی بھی سنیے جو کسی فلم کی نہیں بلکہ ملک خداداد پاکستان کے ایک جنرل کی ہے ، نام تھا اسکا یحیٰی خان ، جسے جنرل آغا بھی کہا جاتا ہے ، جب ملک ٹوٹ گیا ، اور اس شرابی کبابی جنرل کو اتار دیا گیا تو ایک دن جب وہ پوچھنے لگا کہ یہ لوگ مجھے کیوں برا کہتے ہیں میں اناں دی کھوتی نوں ہتھ لایا اے ؟

ذرا دیر کو میں اپنی فوج کے کارناموں کو سوچنے بیٹھا تو پہلی جنگ 1947 کی نظر آئی جہاں کشمیر کے محاذ پر افسر اور جوان ملکر لڑے اور نوزائدہ مملکت کو کشمیر دیا اور آنے والے وقت کے سیاست دانوں اور جنرلوں کے لیے انکی نوکریاں پکی کرنے کا تحفہ دیا ، ابھی ملک اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوا تھا کہ جنرل اسکندر مرزا نے اس پر قبضہ کر لیا ، اور پھر تو جیسے ان بھیڑیوں کو لہو لگ گیا ، ایک آتا رہا ایک جاتا رہا ، کسی کو کتا بنا کر اتارا گیا (جنرل ایوب) کسی کو اللہ نے فضا میں ہی اڑا دیا (جنرل ضیاع) اور ایک تو ابھی زندہ ہے اور بھڑک مار رہا ہے کہ میں اک دن لوٹ کہ آؤں گا ۔ ۔۔ ۔ ۔

میرے ملک میں عوام کبھی بھی آزاد نہیں رہے ، اور ہمیشہ ہی انہیں روندتے رہے بوٹ ، کبھی یہ بوٹ فوجی ہوتے اور کبھی پولیس کے اور جب ان سب سے بچ گئے تو انہیں فوجیوں کے طفیلیے سیاست دان مسلتے رہے ، یہ سیاست دان بھی عجیب قوم ہے ہمارے ملک کی ، فوجی ڈکٹیٹر کو ڈیڈی کہتے ہیں ، ملک تڑواتے ہیں ، اور پھر خود مارشل لاء ایڈمینسٹریٹر بن جاتے ہیں ، یہ ایسے لوہے کے لوگ ہیں جو ان فوجی آمروں کے مقناطیس سے ایسے چپکتے ہیں کہ ، لوہار کی دوکان رائے ونڈ کا محل بن جاتی ہے ، اور پھر ایسے اسلام پسند کہ اسلامی اور جمہوری اور اتحاد بھی کر کہ اپنا قبلہ واشنگٹن شریف کو بنا کر ایسے سجدہ ریز ہوتے ہیں کہ کوئی ڈرون حملہ یا خود کش بھی اتنی ڈائریکٹ جنت نہیں پا سکتا جتنی یہ اسلامی سیاہ ست دان پاتے ہیں جنکی دنیا بھی جنت اور آخرت تو ہے ہی کہ ان سے بڑا مسلمان کوئی ہو ہی نہیں سکتا

یہ فوج بھی عجیب ادارہ ہے ہمارا ، انکا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا مگر یہ سیاست کرتے ہیں ، کہا جاتا ہے یہ حکم کے غلام ہوتے ہیں ، مگر ہمارے فوجی حکمران ہوتے ہیں ، کہا جاتا ہے ، یہ وطن کے حفاظت کرتے ہیں ، مگر ہمارے وطن کو بیچ کھاتے ہیں ، کہا جاتا ہے یہ موسٹ ڈسلپلن ہوتے ہیں مگر ہمارے تو اب موسٹ ڈسٹارشن کا شکار ہیں ، فوج عوام کی حفاظت کرتی ہے ، مگر ہماری فوج ہم پر حکمرانی کرتی ہے ، سیاست دانوں کے لیے ہم کیڑے مکوڑے اور فوجیوں کے لیے “بلڈی سویلین“

میرے فوجی جواں ہمتوں کی داستاں ، سپاہی لانس نائیک محفوظ شہید سے لیکر حوالدار لالک جان تک ، یہ سب میری قوم کا فخر ہیں ، مگر کیا میں انگلیوں پر گنے ہوئے چند افسران کے جو زیادہ سے زیادہ میجر لیول سے اوپر کے نہیں تھے انہوں نے اپنے سینے تان دیے دشمن کی توپوں کے سامنے

مگر افسوس ان میں کوئی جنرل نہ تھا ، کہ سہل پسند جنرلوں کو سیاست سے فرصت ملتی تو اپنے گھر کی سرحدوں پر لگنے والی آگ دیکھ سکتے ، میں دعویٰ کرتا ہوں کہ آپ کسی بھی جنرل برگیڈیر یا کرنل لیول تک کے افسروں کے گھر دیکھیں اور انکے خاندان کا رہن سہن ، کسی بھی لاڑڈز یا امیر سے کم نہیں ، یہ رئٹائیر ہوتے ہیں تو لاکھوں کے ساتھ کروڑوں کے جائداد بھی سمیٹ لیتے ہیں ، جو انہیں وطن بیچینے کا انعام لگتا ہے ، اور پھر سب گھر والے مل جاتے ہیں ، اگر گھر کا ایک بندہ کمیشن افسر بنا تو پھر سارے گھر والوں کے وارے نیارے ، میں پنڈی کے ایک ایسے برگیڈئیر کے بارے میں جانتا ہوں جو آرمی کی تعمیرات کے انچارج ہیں اور ان سے ملنے کی قیمت کم سے کم دس ہزار ہے ، جی ہاں صرف ملنے کی قیمت اور وہ اپنے خاندان کے لیے نئے ماڈل سے کم کی کار سے زیادہ راضی نہیں ہوتے ، ایک سائین کرنے کے لیے ، کیونکہ بلڈی سویلین بھی تو ایسے ہی ہیں حرام کا پیسہ حرام میں ہی تو جاتا ہے نا

میں نے اپنی فوج کے افسران کی محافل میں شراب کباب اور شباب کو مچلتے دیکھا ہے ، نشے میں دھت یہ جنرل جب اپنی اپنی میسوں میں ناچتے ہیں اور اپنی ہی قوم کو گالیاں دیتے ہیں تو کیا کہوں کیا کیا دل کرتا ہے کہنے کو ، میں نے بہت عرصہ پہلے لکھا تھا اس پر ، ایک بہت ہی پرانی کہاوت ہے ہماری افواج کے بارے میں بلکہ ایک انڈین جنرل نے یہ کہا تھا کہ ، اگر میرے پاس پاکستانی سپاہی ہوں اور انڈین افسر تو میں ساری دنیا پر حکمرانی کر سکتا ہوں

پاکستان کی قسمت ہی عجیب ہے ، اس کی فوج کے افسر ہمیشہ سے ہی پاکستان کو نقصان پہنچاتے آئے ہیں ، جنرل گریسی سے لیکر جنرل کیانی تک سب ہی قوم کے خرچے پر چرچے کرتے رہے اور حرام کھاتے رہے ، آج ایسے ہی رنگیلے افسروں کے لیے دل سے نکلے الفاظ ۔ ۔ ۔۔

اے وطن کے رنگیلے جوانوں ، میرے پیسے تمہارے لئے ہیں

سرفروشی تھا ایماں تمہارا ، جراءتوں کے پرستار تھے تم
جو حفاظت کرے سرحدوں کی ، وہ فلک بوس دیوار تھے تم

اے لالچ کے زندہ نشانوں ، میرے جیسے تمہارے لئے ہیں

بیویوں ماؤں بہنوں کی نظریں ، تم کو دیکھیں تو یوں تڑپ جائیں
جیسے خاموشیوں کی زباں سے ، دے رہیں ہوں وہ تم کو صدائیں

قوم کے اے جری پہلوانوں ، کیا یہ بچے مرنے کے لئے ہیں؟

تم پے جو کچھ لکھا شاعروں نے ، اس میں شامل تھی آواز میری
اڑ کہ پہنچے ہو تم جس افق پر ، کیسے جائے گی پرواز میری

ڈالروں کے اے رازدانوں ، میرے پیسے تمہارے لیے ہیں

اب تم اپنی حفاظت نہیں کر پائے ، سرحدوں کی نہیں کر پائے ، تو ہماری حفاظت کیا کرو گے ؟؟؟؟

میرے سیاہ ست دانوں اور جنرلوں ،خدا کے لئے اب ہماری جان چھوڑ دو ، اور یہ ملک اس کے خیر خواہوں کے حوالے کر دو ۔ ۔ ۔ ایسا نہ ہو کہ اب یہ حملے عوام کریں ۔ ۔ ۔ ۔ تمہاری بیرکوں پر اور تمہارے محلوں پر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔

(اس کالم کو لکھ کر میری آنکھیں نہ جانے کیوں بھیگ گئیں ، اور دل یہ ہی دعا نکلی )

چاند روشن چمکتا ستارہ رہے
سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے

اس جھنڈے سے اب قوم کی لاج ہے
اس جھنڈے پے اب قوم کا آج ہے
جان سے کیوں نہ ہم کو یہ پیارا رہے

اور پھر یہ بھی آواز دل سے ابھری

جاں جاتی ہے بے شک جائے
پرچم نہ تیرا جھکنے پائے
غازی کو موت سے کیا ڈر ہے
جاں دینا جہاد اکبر ہے

قرآں نے ہے یہ بتلایا
اے مرد مجاہد جاگ ذرا ، اب وقت شہادت ہے آیا
اللہ ُ اکبر ، اللہ ُ اکبر

اور ابھی تک میری آنکھوں کے سامنے ایس ایس جی کے کمانڈو جوشیلے انداز میں اللہ ہو کا نعرہ لگاتے گزر رہے ہیں ۔۔ ۔۔ اور میں بھیگی آنکھوں سے ان سبکو کہ رہا ہوں

میرے مجاہدو ، میرے محافظو ، میرے جوانوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا فخر مت توڑو ۔ ۔ ۔ ۔۔ تم میرا فخر ہو ۔ ۔ ۔ ۔

آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی

آج میں شرمندہ ہوں ، اپنے سارے مسیحی دوستوں سے ، جو مجھے اپنا اتنا قریبی دوست سمجھتے ہیں کہ شاید کوئی اور سمجھتا ہو ، میں ان سے بحث کرتا رہا ہوں کہ پاکستان میں جو لڑائی ہے وہ مسلمانوں کے درمیان ہے اور ہم غیر مسلموں کو اپنے آپ سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں ، میں جسٹس کارنیلسن سے لیکر انیل دلپت تک کی مثالیں دیتا کہ دیکھو جسٹس بھگوان داس کو ہم نے کس پوزیشن پر رکھا ہے ، اور میں انہیں بینجمن سسٹرز ، اے نئیر اور سلیم رضا جیسے گلوکار اور شبنم اور روبن جیسے فنکاروں کی مثالیں دیتا ہوں کہ جو ہمارے دلوں میں رہتے ہیں

میں جے سالک جیسے جنونی کو بھی جانتا ہوں میں بشپ آف پاکستان کو بھی پہچانتا ہوں ، شہباز تم بھی ایسے ہی لوگوں میں سے تھے جسے ہم پاکستانی جانتے ہیں کہ یہ ہمارا ہم وطن ہے ، ہم لاہور کی یوحنا بستی ہو یا کراچی کی عیسیٰ نگری ، وہ ملتان اور سہون کے جیسی ہی ہیں

پاکستان سب کا ہے ، وہ چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ، ہمیں ہمارا اسلام سیکھاتا ہے کہ اقلیتوں کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے ، بلکہ خود سے بڑھکر انکی حفاظت کرنی ہے ، ان کی عبادت گاہیں اور مذہبی رہنما ، ہمارے لئے بھی محترم ہیں

مگر اب ایسا لگتا نہیں ہے ، کہ ایک مسیحی رہنما کو دن دھاڑے مار دیا گیا اور وہاں پر پمفلٹ پھینکے گئے کہ یہ ناموس رسالت (ص) کے لئے قتل کیا ہے ، کیا واقعٰی ہی ایسا ہے ؟؟؟؟

نہیں بالکل نہیں ، کیونکہ یہ قتل کرنے والے ناموس رسالت کیا جانیں ، انہیں تو اسم محمد(ص) کا احترام تک نہیں ، جسکو انہوں نے کیچڑ میں پھینک دیا ، یہ اسلام کیا جانیں ، جو آیات قرآنی کی بے حرمتی کریں ، ارے یہ تو انسان بھی نہیں کہ ایک بیٹے کو جو ماں سے ملکر آ رہا تھا اسے نہیں بخشا ۔ ۔ ۔۔ خدارا انہیں مسلمان مت کہیں بلکہ انسان بھی مت کہیں ، یہ درندے ہیں ، جنکے لئے انسا ن کی زندگی کی کوئی قدر نہیں ، یہ اسلام کے نام کو نہیں جانتے کہ جس کا مطلب ہی امن و سلامتی ہے

مگر ہاں شہباز بھٹی میں تم سے شرمندہ ہوں ، کہ میں نے ایسے حاکم منتخب کئے ہیں جو چوہوں کی طرح بِل میں چھُپے ہیں کہ انہیں موت نہیں آئے گی ، یہ خود تو بُلٹ پروف کاروں میں گھومتے ہیں اور باقی سب کو مرنے کے لئے درندوں کے حوالے کر دیا ہے ، انکے پاس ہر سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ دھشت گرد یہ سب کر رہے ہیں ، جب کہ سب سے بڑے دھشت گرد یہ خود ہیں ، کہ جن کی دھشت سے ساری عوام کانپ رہی ہے ، یہ کبھی پٹرول بم گراتے ہیں ، کبھی آٹے اورگھی کی قیمتوں کے اضافے کے مزائیل چلاتے ہیں ، اور کبھی گیس اور بجلی کے بلوں سے ہمیں جلا دیتے ہیں ، اور کبھی چینی کے عزاب نازل کرتے ہیں ، یہ سب فرعون ہیں ۔ ۔ ۔ کافر ہیں ۔ ۔ ۔ مُرتد ہیں ۔ ۔ ۔ اور سب سے بڑھکر یہ ان سب دھشت گردوں کے رکھوالے ہیں ۔ ۔ ۔

آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی ، کہ میرے دیس کے رکھوالے ، تمہاری رکھوالی نہیں کر پائے
آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی ، کہ چند جنونیوں نے تمہیں مار ڈالا ، مگر یقین کرو وہ ہم میں سے نہیں ہیں
آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی ، تم دن دھاڑے ایک ایسے علاقے میں مارے گئے جسکے ہر گھر میں گاڑی ہے مگر وہ بزدل قاتلوں کی گاڑی کا پچھا بھی نہ کر سکے ،
آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی ، کہ ہم بھی کچھ دنوں میں تمہیں ویسے ہی بھول جائیں گے جیسے اپنے ہزاروں ہموطنوں کے قتل کو بھول چکے ہیں ۔ ۔ ۔
آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی ، تم کو الزام دیتے ہیں کہ تم نے خود ہی سیکیورٹی نہیں لی ، مگر ہم سب عوام تم جیسے ہی ہیں کہ جنکی حفاظت کے لئے معمور سپاہی آج صرف انکی حفاظت کر رہے ہیں ، کہ جن سے اس ملک کو سب سے زیادہ خطرہ ہے
آئی ایم سوری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ شہباز بھٹی ، تم سے ہی نہیں بلکہ اپنے تمام اقلیتی ہم وطنوں سے کہ جنہیں ہم وہ تحفظ نہ دے سکے جو ہمیں دینا چاہیے ، مگر کیا کریں ہم کہ مجھے تو تم جیسا بھی تحفظ حاصل نہیں

میں اگر بلوچستان میں ہوں تو مجھے بی این اے مارتی ہے
میں اگر سندھ میں ہوں تو مجھے ٹارگٹ کلر مارتے ہیں
میں اگر سرحد میں ہوں تو مجھے دھشت گرد مارتے ہیں
میں اگر پنجاب میں ہوں تو مجھے طالبان مارتے ہیں
اور اگر میں دارلحکومت میں ہوں تو مجھے کبھی مذھبی جنونی مارتے ہیں تو کبھی روشن خیال
میں پاکستان کے کسی بھی کونے میں جاؤں تو مجھے مہنگائی مارتی ہے ، گیس بجلی اور پانی بھی مارتے ہیں
میں بھوک سے مرتا ہوں میں سیلاب سے مرتا ہوں اور اگر ان سے بچ بھی جاؤں تو سیاست دانوں کی حماقتوں سے مر جاتا ہوں

آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی ۔ ۔ ۔ ہم تمہارے قاتل ہیں ، کیونکہ ہم خود اپنے بھی قاتل ہیں ۔ ۔ ۔۔

تُو مسکراتا کیوں نہیں ؟؟

دیکھ میں جانتا ہوں کہ حالات اچھے نہیں ، روز روز کی افتاد نے تیرا ذھن مفلوج کر دیا ہے ، تو سوچ نہیں پا رہا ، مہنگائی کا رونا تو ازل کا ہے ، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہے ، مگر یہ تو دنیا ہے ، جس میں ہر رنگ ہے ، تم ایک ہی رنگ کیوں دیکھتے ہو ، کبھی تم کھلے میدان میں جی بھر کہ سانس لو تو سہی  ۔ ۔ ۔ ۔۔  کیا کہا ؟ ہوا میں بارود کی بُو ہے ، نہیں تو مجھے تو نہیں لگتی ، یار میں جیسے عادی ہو گیا ہوں ویسے ہی تم بھی عادی ہو جاؤ ، دیکھو تم جتنے حساس بنو گے ، اتنا ہی دکھ سہو گے

خون کا رنگ لال ہوتا ہے ، اب تمہیں لال رنگ سے خوف کیوں آتا ہے ، ذرا سا زخم لگ جائے تم بولائے پھرتے ہو ، دروازہ زور سے بند ہو تو تمہیں دھماکے کا گماں ہوتا ہے ، بس ڈرائیور جلدی میں بریک مارے تو تمہارے اوسان خطا ہو جاتے ہیں ، دوکاندار مہنگائی کا رونا روئے تو تمہیں اس سے ہمدردی ہو جاتی ہے ، یار غریبوں سے ہمدردی اچھی بات ہے مگر تم تو غریب نہیں ہو نا تو پھر شکر ادا کرو اللہ کا اور اپنی زندگی مزے سے گزارو ، دوسروں کے دکھوں کو اپنے اوپر طاری کرنا کہاں کی عقلمندی ہے ؟

اگر کسی امریکی نے تین چار بندے مار دئیے ہیں لاہور میں تو کیا ہوا ، روز لوگ مرتے ہیں ، اگر کسی نے خود کُشی کی تو کیا ہوا یہ بذدل لوگ کیا کرتے ہیں ، جو حالات سے لڑنا نہیں چاہتے ، امریکہ کی عوام دیکھو کیا وہاں قتل نہیں ہوتے کیا وہاں زیادتیاں نہیں ہوتیں سب کچھ ہوتا ہے مگر وہ لوگ ہماری طرح کسی حادثے کو نمائش نہیں بناتے ، دُبئی میں روزانہ قتل ہوتے ہیں روزانہ مزدوروں کا استحصال ہوتا ہے کیا تم نے کبھی دبئی سے کوئی لائیو خبر دیکھی ہے سوائے ناچ گانوں کے پروگرام کے ؟ انہی چینلز نے براہ راست ساری دنیا سے نئے سال کے استقبال کے مناظر دکھائے کیا یہ خوشیاں منانے والے افغانستان اور فلسطین میں روزانہ مرنے والوں کے بارے میں نہیں جانتے ، جانتے ہیں ، مگر یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ لوگ بے وقوف ہیں حالات سے کمپرومائز نہیں کرتے ، ہم امریکہ کو گالیاں دیتے ہیں مگر زندگی امریکیوں جیسی گزارنا چاہتے ہیں ، ہم یورپین کو بے راہ روی پر لعن طعن کرتے ہیں مگر خود اسی راہ پر چلنا فخر سمجھتے ہیں  ۔  ۔۔

میں جانتا ہوں تم بہت محب وطن ہو ، اور تمہیں وطن میں ہونے والے ہر برے واقعے کا دُکھ ہوتا ہے ، مگر تم سے کس نے کہا ہے کہ ہر وقت نیوز چینل دیکھو؟ کتنا اچھا زمانہ تھا جب ایک ہی چینل تھا رات کو صرف خبرنامہ ہوتا تھا جس کو صرف بڑے سنتے تھے نہ کوئی بحث تھی نہ مباحثہ ، میں تم سے کہتا ہوں صبح سویرے کے پروگرام دیکھا کرو انٹرٹینمنٹ چینل پر ، جیسے مایا خان کا شو ، جیسے نادیہ کا شو جیسے مانی وغیرہ کا شو ، تمہیں پتہ ہی نہیں چلے گا کہ پاکستان میں کوئی دکھ درد ہے کہ نہیں ، تمہاری صبح کھلکلاتی ہنسی سے ہو گی اور شام گنگناتے لمحوں میں ہو گی ، اب تو اتنا اچھا ہو گیا ہے کہ چینلز کی تفریق ہو چکی ہے ، میں تو کہتا ہوں اپنے ٹی وی کی سیٹنگ سے نیوز چینل ہی ڈیلیٹ کر دو ، صرف انٹرٹینمنٹ چینل رہنے دو ، موویز دیکھو ، شیلا کی جوانی اور منی کی بدنامی دیکھو ، فلمی ستاروں کی جگمگاتی دنیا دیکھو ، اعضاء کی شاعری اور فیشن کی پُرکاری دیکھو ، ہنسنے ہنسانے والے پروگرام دیکھو ، ارے زندگی کے رنگ دیکھو  ۔ ۔ ۔

اور ہاں ایک اور طرح کے چینل بھی دیکھ سکتے ہو ، مذہبی چینل ، ہاں سارا دن تمہارا دین کی تعلیم میں گذرے گا ، آنکھیں تبرکات سے منور ہونگی اور کان حسین و جمیل مذہبی شاعری پڑھنے والیوں سے مسحور ہونگے ، تمہیں پتہ چلے گا کہ عبادات کیسے ہوتیں ہیں مشاہیر ہمارے کیا کیا کارنامے کرتے رہے ہیں اور تو اور تم چاہو تو وضو کے مسائیل سے لیکر کھانے کے آداب اور کوے کے حلال و حرام ہونے پر بھی لائیو پروگرام میں عظیم مفتیوں سے براہ راست بات کر سکتے ہو اور دنیا و آخرت کی فلاح پا سکتے ہو  ، وہ تمہیں بتائیں گے کہ تم بیٹھے ہوئے لیٹے ہوئے کون کون سی تسبیحات کا ورد کر کہ دنیا میں دولت ، عزت ، اور کمال حاصل کر سکتے ہو ، بیٹھے بٹھائے تم اللہ کی رحمتوں کی بارش میں بھیگ سکو گے

یار پلیز اب تو بدل جاؤ ، یہ لائف اسٹائیل ٹھیک نہیں ہے ، تمہارا جو دل چاہے کرو مگر مجھے اتنا بتا دو کہ دنیا میں ایسا کیا ہو گیا ہے کہ تُو مسکراتا نہیں ؟؟؟ بتا نا میرے یار تُو مسکراتا کیوں نہیں ؟؟

جیت ہماری ہو گئ

چاند روشن چمکتا ستارہ رہے
سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے

یہ وہ گیت تھا جو قائد اعظم کی آزادی کی تقریر کے بعد ریڈیو سے سنا گیا تھا جس میں ایک نئی قوم کا نیا جذبہ
اور یہ جذبہ چند سالوں میں بڑھتے بڑھتے ایک اور شکل اختیار کر گیا

آو بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی ۔ ۔ ۔ ۔ جی ہاں یہ گیت پاکستان کی سیر کراتا تھا اسی کا ایک شعر تھا

مشرق میں بنگال سنہرا ، ہر اک طرف ہریالہ ہے
سیلابوں نے سینچا اسکو ، طوفانوں نے پالا ہے
یہیں سراج الدولہ نے  ۔ ۔۔۔ ۔

مگر پھر گیت بدل گئے

گیتوں میں ، خیبر ، مہران ، مکران اور پنجاب رہ گئے

یہ اسی کی دہائی تھی ، اسکولوں کے سالانہ فنکشنز میں ایک ٹیبلو بہت مقبول تھا ، تقریباَ پاکستان کے ہر اس اسکول میں یہ ٹیبلو پیش کیا جاتا تھا جہاں سالانہ فنکشن ہوتا تھا ، اس کا محرک تھا فلم “کھوٹے سکے“ کا یہ گیت جس میں پاکستان کی نمائیندگئ کی گئی تھی اور پھر اس کا اختتام ایک خوبصورت مصرعے پر تھا ، پاکستان میں رہنے والے سب ہیں پاکستانی ، اس گیت میں آپ پنجابی سندھی بلوچی اور پختون کردار دیکھیں گے اور پھر محمد علی صاحب اس گیت کا اختتام پاکستان کی اساس پر کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ پہلے یہ گیت دیکھیں اور پھر اسکے بعد اگلا گیت بھی اسی کا تسلسل ہے

مگر اسی کی دہائی میں ہی پاکستان بدلنا شروع ہو چکا تھا ، افغانستان میں جہاد اور کراچی کی بدامنی نے ہمارے معاشرے پر بہت زیادہ اثر کیا ، آج جس بات کا زور شور سے ذکر کیا جا رہا ہے کہ ہم میں عدم برداشت ہے مگر یہ عدم برداشت کب شروع ہوئی ، اسی کی دہائی سے پہلے اسکا تصور بھی نہ تھا ، پاکستان ایک اسلامی ریاست تھی اور پاکستانیوں میں برداشت اور تحمل بھی بہت تھا ، اور جب ہم میں عدم برداشت شروع ہوئی تو ملک کے حساس طبقے یعنی لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھا اس پر سمجھانے کے لئے ، ایک فلم بنی تھی جس کا نام ہی “برداشت“ تھا ، فلاپ فلم ہونے کے باوجود اس کے کچھ ڈائلاگ آج بھی میرے ذھن میں ہیں ، جس میں ایک فوجی کو اپنے گاؤں کو بچانا پڑتا ہے اپنوں کے ظلم سے ، اور وہ کہتا ہے ،
“میں تو سرحد پر یہ سوچ کر حفاظت کرتا تھا کہ دشمن باہر سے میرے گھر پر بری نظر نہ ڈال سکے ، مجھے کیا پتا تھا کہ مجھے گھر کی حفاظت کی جنگ گھر کے اندر لڑنی پڑے گی “

یاد رہے یہ آج سے بیس پچیس سال پرانی فلم کا ڈائلاگ ہے ، مگر ہم نے اس وقت کان نہیں دھرے تو آج کیسے دھریں گے ، ہاں ایک بات ضرور ہوئی ہے ، ہم پاکستانی اب مزید بٹ گئے ہیں  ۔۔ ۔  مگر پھر بھی امید ہے  ۔ ۔۔  کہ جیت ہماری ہو گئ ،اب پہلے گیت کو اس گیت سے ملا کر دیکھیں اور سر دھنیں کہ ہم کیسے تقسیم ہوتے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔

سنگ بھی برسیں گے ، خوں بھی بہے گا

میں چاہتا ہوں کہ آج مجھ پر فتویٰ لگے آج مجھے سنگساری کا کہا جائے شاید میرے گناہ دھل جائیں ، میں کون ہوں میں ایک اسلام کے نام پر بننے والے ملک پاکستان کا باشندہ ہوں جسے آج ساری دنیا میں لعن طعن کیا جا رہا ہے ، کس لئے ؟ صرف اسکی اسلام سے وابستگی کے لئے ، میں بہت عجیب ہوں ، نماز باقاعدگی سے نہیں پڑھتا ، پڑوسی سے لیکر ماں باپ کے احترام کے اسلامی احکام پر عمل کرتے ہوئے میری جان جاتی ہے ، سود میری کمائی کی جان ہے ، بے حسی اور بے غیرتی میرے شعار کا حصہ ہیں ، بے حیائی مجھے پسند ہے ، میں مردوں کو آزاد اور عورتوں کو کپڑوں اور حیا سے آزاد دیکھنا چاہتا ہوں ، مجھے مغربی جمہوریت پسند ہے ، میرے ہیرو دنیا بھر کے یہودی ہیں ، امریکا اور یورپ میری منزل ہیں اور پیرس اور لاس ویگاس کے کیسینو اور کلبز میری تفریح ہیں

مگر میں پھر بھی مسلمان ہوں ، ساری دنیا سے نرالا مسلمان ، نہ عربوں کی طرح عیاش ہوں ، نہ ایرانیوں کی طرح انقلابی ، نہ ترکوں کی طرح سیکولر اور نہ ہی سوڈانیوں کی طرح نسل پرست ، میں مسلمان ہوں ، جھوٹ بولنا میرا شیوہ ہے ، حرام کی دولت میرا میوہ ہے ، رشوت اور اقرابا پروری میرا خاصہ ہے ، بد دیانتی اور بد خوئی میری پہچان ہے ، وطن فروشی اور ضمیر فروشی میری سرشت ہیں ۔ ۔۔ ۔ مگر میں مسلمان ہوں

میں مسلمان ہوں ، نبی صلی اللہ و عیلہ وصلم کو آخری نبی مانتا ہوں ، اللہ کو ایک اور دین اسلام کو مکمل ضابطہ حیات سمجھتا ہوں ، نبی صلی اللہ و عیلہ وصلم کی شان میں کوئی گستاخی کرے میرا خون کھول جاتا ہے ، میں ۔۔ ۔ اپنے آپ میں نہیں رہتا ، میں گستاخ رسول کو اسی وقت واصل جہنم کرنا چاہتا ہوں ، اور موقعہ ملنے پر کر گزرتا ہوں ، کیونکہ مجھے ہر چیز سے زیادہ ناموس رسالت صلی اللہ و عیلہ وصلم عزیر ہے ۔ ۔۔ ۔ اور توہین رسالت کی سُن گُن ملتے ہی میں مرو یا مار دو کا جذبہ لے کر نکل پڑتا ہوں

میں یہ سب کر سکتا ہوں ، مگر اسوہ رسول صلی اللہ و عیلہ وصلم پر چلتے ہوئے پتہ نہیں کیوں میری جان نکل جاتی ہے ، نبی صلی اللہ و عیلہ وصلم کو غربت پسند تھی مجھے امارت پسند ہے ، بھلا اس میں نبی کی کیا توہین ہے ؟ ، نبی کمزوروں کا ساتھ دیتے تھے میں طاقتوروں کے ساتھ ہوں ، اس میں بھلا کیا توھین ہے ؟ نبی کو صدقہ خیرات دینا پسند تھا مجھے لینا پسند ہے بھلا اس میں کیا نوہین ہے ؟ نبی کو مساوات پسند تھی ، مجھے اپنی ذات پسند ہے تو اس میں کیا توہین ہے ؟ مختصر اطعیواللہ اور اطعیوالرسول پر اگر عمل نہیں کرتا تو اسکا مطلب یہ تھوڑا ہی ہے کہ میں اللہ کو نہیں مانتا اور نبی سے محبت نہیں ؟

اگر پھر بھی کوئی سمجھتا ہے کہ میں گناہ گار ہوں ۔ بدکار ہوں سیاہ کار ہوں تو پھر سب کو دعوت ہے کہ مجھے سنگسار کریں ، اور عبرت کا نشان بنا دیں ،اور اگر یہ سب کچھ آپ اپنے اندر بھی سمجھتے ہیں تو پھر خود کو توھین رسالت کا مجرم سمجھیے اور اپنی سزا خود متعین کریں ۔ ۔۔ ۔ ۔

اس مملکت خداداد میں جس کا نام پاکستان ہے ، اسلام ایک کھلونا بنا ہے ، جس سے ہر کوئی اپنے اپنے انداز سے کھیل رہا ہے ، یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا اور اسی نام پر قائم رہے گا انشااللہ اور جو لوگ کہتے ہیں کہ قائد اعظم نے ایک سیکولر ملک کا خواب دیکھا تھا تو مجھے صرف اس بات کا جواب چاہیے کہ اگر سیکولر ہی رہنا تھا تو ریاستی خودمختاری میں سب کچھ مل جاتا ، ١٩٤٥ کے انتخابات اور پھر مسلمانوں کے جداگانہ انتخابات کافی تھے ۔ ۔ ۔۔ میں اس دیس میں قدرت کا کھیل دیکھ رہا ہوں ، کہ کس طرح سے اس ملک کو دنیا کی نظروں میں لایا جا رہا ہے تا کہ دنیا جان لے کہ بظاہر ماڈرن اور الٹرا ماڈرن نظر آنے والا مسلمان کبھی بھی ممتاز قادری بن سکتا ہے ، اور پھر کسی بھی سلمان تاثیر کو اڑاسکتا ہے ، اسکے ممتاز قادری بننے کے لئے اس کا صرف نام کا مسلمان ہونا ہی کافی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ میں بھی شاید ایسے ہی مسلمانوں میں سے ہوں

میری ایک پرانی شاعری ہے (میں خود کو شاعر نہیں کہتا کہ وزن میں شعر کہنا میرے لئے ناممکن ہے مگر لکھتا ہوں ضرور )
یہ آج سے تقریباَ چار سال پہلے لکھی گئی تھی جس میں ملک کے حالات پر لکھا تھا جب پی پی کی حکومت بنی تھی ، جو رنگ مجھے نظر آیا تھا وہ لکھا شاید اب یہ وقت آنے والا ہے

سنگ بھی برسیں گے ، خوں بھی بہے گا
اس دور میں ہونا ہے یہ، ہو کے رہے گا

مصلوب بھی ہو گا وہ ، سولی بھی چڑھے گا
وقت کے فرعون کو جو حق بات کہے گا

“ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات“
ظلم ہے سہنا اسے تو ظلم سہے گا

مایوس نہیں ہوں میں ، یقیں ہے سحر کا
اظہر یہ بت ڈھہے گا ڈھہے گا ڈھہے گا