Archive for the ‘میری باتیں’ Category

پاکستان – ضروری تو نہیں

جی ہاں ، پاکستان ضروری تو نہیں ، دنیا پاکستان کے بنا بھی چل رہی تھی نا تو پاکستان کیوں بنا ؟ اس اگست میں میں نے سوچا ہے کہ پاکستان کے حق میں کوئی بات نہ کی جائے ، کہ پاکستان کے حق میں تو بات کرنے والے بہت ہیں ، پاکستان کے مخالف تو نہ ہونے کے برابر ہیں ، اس لیے میں پاکستان کے خلاف بولوں گا ۔ ۔ ۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی تقریری مقابلے میں حق میں اور مخالفت میں تقاریر ہوتی ہیں ، میں کسی مقابلے کا حصہ تو نہیں ہوں ۔ ۔ مگر میں نے موضوع کی مخالفت میں بولنا ہے ، کر لو جو کرنا ہے !!

تو بات ہو رہی تھی کہ پاکستان ضروری تو نہیں تھا ، بلکہ بقول ہمارے الطاف بھائی کے پاکستان دنیا کا سب سے بڑا “بلنڈر“ تھا ، پہلی بات ہے یہ نام ہی غلط ہے ، پاکستان یعنی پاک سر زمین ، یعنی ہندوستان کی زمین ناپاک تھی جو یہ پاک زمین بنائی گئی ، اور یہ پاک زمین بھی تو ناپاک ہندوستان ہی تو تھی ، ہم نے تو نام بدل دیا ، بالکل ایسے جیسے بمبئی کا نام ممبئی کر دیا گیا یا کلکتہ کا نام کولکتہ ہو گیا ۔ ۔ ۔ تو بنارس چنائی بن کہ بدل تو نہیں گیا ؟ اس لیے پاکستان کی زمین بھی پاک نہیں ہوئی ، گو آزادی کے وقت اسے لاکھوں بے گناہوں کے خون سے بھی دھویا گیا اور آج تک دھویا جا رہا ہے

اصل میں لوگ پاکستان کے قیام کو ہی غلط سمجھتے ہیں کیونکہ آج ساٹھ سال بعد ہمیں پتہ چلا ہے کہ پاکستان ایک سیکولر ملک کے طور پر بنا تھا ، اور آج تک ہم جو اسلام کو پاکستان سے جوڑتے رہے ہیں وہ سب غلط ہے ، اس سلسلے میں ہمارے بہت بڑے بڑے دانشور اپنی تحقیق سے ثابت کر چکے ہیں کہ اسلام کا پاکستان سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ، قائد اعظم (یعنی جناح صاحب) بہت ہی بڑے سیکولر انسان تھے ، بھائی جس شخص نے ایک پارسی لڑکی سے عشق لڑا کر شادی کی ہو ، گوکلے جس کا بیسٹ فرینڈ ہو ، سروجنی نائیڈو جسکی تعریف کرتے نہ تھکے ۔ ۔۔ جو اپنی بہن کی شادی تک نہ ہونے دے ۔ ۔۔ اسکا بھلا اسلام سے کیا تعلق ۔ ۔ ۔ جس شخص نے ہمیشہ لباس ہی انگریزی پہنا ہو ، بولتا ہی انگریزی ہو ، زندگی کے بہترین سال اسنے پیسہ کمانے میں گزارے ہوں ، بھلا اسکا اسلام سے کیا تعلق ۔ ۔۔ اور اُس نے ایسا ملک کیوں بنانا تھا کہ جو اسلام کی بنیاد پر بنا ہو ۔ ۔ ۔؟؟ جناح صاحب کی زندگی پر بعد میں نظر ڈالیں گے پہلے پاکستان کو تو دیکھ لیں

تو پاکستان ایک سیکولر ملک بنا تھا ، اسے بعد میں ملاؤں نے ہائی جیک کر کہ اسلامی جمہوریہ بنا ڈالا ، اور ہاں یہ جو لاکھوں بے وقوف مرے تھے پاکستان آنے کے لیے ۔۔ ۔ انہیں لازمی مِس گائیڈ کیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ ورنہ ایک سیکولر ملک سے دوسرے سیکولر ملک میں جانے کے لیے جان دینا بے وقوفی نہیں تو اور کیا تھا ۔ ۔ ۔ اور پاکستان تو تھا ہی سیکولر ، بھئی جس کا وزیر خارجہ ایک قادیانی ہو (جو جناح کا جنازہ تک نہ پڑھے ) ، جس کی کابینہ میں ہندو وزیر ہو ، جسکی فوج کا سربراہ عیسائی انگریز ہو ۔ ۔ ۔ تو اسلامی ممللکت کہاں سے آ گئی ؟؟ جناح صاحب گیارہ اگست والی تقریر میں چیخ چیخ کر کہتے رہے کہ پاکستان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں مگر کوئی سنتا ہی نہیں انکی تقریر (کیونکہ ملتی نہیں ہے پوری )

مگر سمجھ نہیں آتی جب اقبال نے کہا تھا کہ انتظامی طور پر مسلم ریاستیں الگ کر دی جائیں تو پاکستان کی ضرورت کیا تھی ؟؟ اور پھر اسلام کا تڑکا کیوں لگایا گیا ؟ اصل میں پاکستان بنگالی جاگیرداروں نے بنایا تھا ۔ ۔۔ اور اسی لیے بنگال لے کر علیحدہ ہو گئے ، باقی رہا موجودہ پاکستان ۔ ۔ ۔ تو اسکی آزادی تو تھی ہی غلط ۔ ۔ ۔ لفظ آزادی بھی غلط ہے ، علیحدگی ۔۔ ۔ میرے خیال میں یہ بھی غلط ہے ۔ ۔۔ ہندوستان کا بٹوارہ ۔ ۔ ۔ ہاں یہ ٹھیک ہے ، بھئی انگریزوں سے آزاد تو ہندوستان ہوا تھا نا ، پھر ہم ہندوستان سے الگ ہو گئے ، پھر بنگال ہم سے الگ ہو گیا ، اور اب بلوچستان اور سندھ علیحدگی کے لیے تیار ہے ، پنجاب میں سرائیکی الگ ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ پوٹھوہار الگ ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔۔ میرے خیال میں کچھ عرصے بعد راولپنڈی کے جی ایچ کیو کے کسی جنرل کی ٹیبل کا نام پاکستان رہ جائے گا ہے نا ۔ ۔۔ باقی رہی آزادی کی بات ۔ ۔۔ تو اس سرزمین میں بے وقوفوں کی کمی نہیں جو لوگ لاکھوں کی تعداد میں ایک “ہندو“ پروپگنڈے پر اپنی جانیں دے دیتے ہیں کہ پاکستان اسلامی ملک بنے گا ۔ ۔۔ اور تو اور یہاں ایسے بھی لوگ موجود تھے کہ جو لندن جا کہ کہتے تھے کہ مجھے اب ایک غلام ملک میں جا کہ نہیں مرنا اور آزاد ملک میں ہی مر جاتے تھے (جزباتی لوگ) ۔ ۔ ۔۔ اور ابھی بھی ایسے موجود ہیں جو لندن جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں آزاد پاکستان میں واپس نہیں آنا ۔۔ ۔ ۔ مگر جذباتی نہیں ہوتے ۔ ۔۔ کیونکہ پتہ نہیں کب ہوا کا رُخ بدل جائے اور انہیں پاکستان آنا پڑے ایک آزاد ملک سے ۔ ۔ ۔ اور پاکستان کے بننے کی غلطی کو ختم کرنا پڑ جائے ۔ ۔ کیونکہ ۔۔ ۔ ۔ پاکستان ۔۔ ۔ ضروری تو نہیں ۔ ۔ ۔۔
(جاری ہے )

میرے مجاہدو ، میرے محافظو ، میرے جوانوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا فخر مت توڑو ۔ ۔ ۔ ۔۔

نوٹ ؛ یہ کالم پاکستانی فوج کے خلاف نہیں ، بلکہ ان جنرلوں کے خلاف ہے جو اس ملک کو نوچ رہے ہیں ، اور اپنی جیبیں بھر رہے ہیں ، ورنہ میری فوج کے جوان تو ایسے ہیں کہ پینسٹھ کی جنگ کے انڈین جنرل کہتے تھے کہ یہ جب نعرہ تکبیر لگاتے ہیں ، تو ہمارے آدھے سے زیادہ سپاہی سہم جاتے ہیں ، ہماری فوج کے نان کمیشن افسران کو آج بھی دنیا کا بہترین ٹرینر مانا جاتا ہے ، ایک صوبیدار جب ایک لفٹین بناتا ہے تو اسے وہ تربیت دیتا ہے جو اسے پاک آرمی کا مین ایٹ بیسٹ بنا دیتا ہے ، اور اسے پھر صاب کہ کہ سلوٹ مارتا ہے ، مگر افسوس وہ ہی لیفٹین جب جنرل بنتا ہے ، تو اپنے کتنے ہی استادوں کی کیتی کرائی پر مٹی پھیر دیتا ہے ۔ ۔ ۔ بلڈی سویلین ، کا نعرہ ہے وہ ہی جنرل لگاتا ہے ، جو سویلین کی حفاظت کے قابل نہیں ہوتا ، ورنہ فوج سے زیادہ ڈسیپلن ادارہ کوئی نہیں ، اور ان سے زیادہ محب وطن بھی کوئی نہیں ۔۔
——————————————————————————————————————————-

بہت پہلے کی بات ہے ، شاید بیس سال پہلے کی ، پاکستان میں ایک فلم بنی تھی ، جسکا نام تھا برداشت ، اظہار قاضی نے اس میں مرکزی کردار ادا کیا تھا ، یہ وہ زمانہ تھا جب ہماری فلم انڈسٹری میں کچھ کرییٹیو مائنڈ تھے ، فلم کا مرکزی کردار ایک فوجی تھا ، جو سرحد سے لڑ کر واپس گھر آتا ہے ، اور پھر اسے گھر پر سیاست دانوں اور مذہبی شدت پسندوں سے واسطہ پڑتا ہے ، اور وہ ہر ممکن طریقے سے ان سے براہ راست تصادم سے بچتا ہے ، مگر آخر کار اسکی برداشت ختم ہو جاتی ہے ، اور وہ ہتھیار اٹھا لیتا ہے اور کہتا ہے ، کہ میں تو فوجی تھا ، میرا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے ، مگر مجھے کیا پتہ تھا کہ میرے دشمن میرے ہی گھر میں ہیں اور مجھے جنگ بھی وطن کے اندر لڑنا ہو گی اور اپنوں سے لڑنا ہو گی ، فوجی یہ نہیں کرتا وہ اپنوں سے نہیں دشمنوں سے لڑتا ہے ۔ ۔۔ ۔

یہ کہانی تھی ایک سپاہی کی جو جانتا تھا کہ فوجی ہونے کا مطلب کیا ہوتا ہے اور اسکا فرض کیا ہوتا ہے ، مگر آئیے ایک اور کہانی بھی سنیے جو کسی فلم کی نہیں بلکہ ملک خداداد پاکستان کے ایک جنرل کی ہے ، نام تھا اسکا یحیٰی خان ، جسے جنرل آغا بھی کہا جاتا ہے ، جب ملک ٹوٹ گیا ، اور اس شرابی کبابی جنرل کو اتار دیا گیا تو ایک دن جب وہ پوچھنے لگا کہ یہ لوگ مجھے کیوں برا کہتے ہیں میں اناں دی کھوتی نوں ہتھ لایا اے ؟

ذرا دیر کو میں اپنی فوج کے کارناموں کو سوچنے بیٹھا تو پہلی جنگ 1947 کی نظر آئی جہاں کشمیر کے محاذ پر افسر اور جوان ملکر لڑے اور نوزائدہ مملکت کو کشمیر دیا اور آنے والے وقت کے سیاست دانوں اور جنرلوں کے لیے انکی نوکریاں پکی کرنے کا تحفہ دیا ، ابھی ملک اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوا تھا کہ جنرل اسکندر مرزا نے اس پر قبضہ کر لیا ، اور پھر تو جیسے ان بھیڑیوں کو لہو لگ گیا ، ایک آتا رہا ایک جاتا رہا ، کسی کو کتا بنا کر اتارا گیا (جنرل ایوب) کسی کو اللہ نے فضا میں ہی اڑا دیا (جنرل ضیاع) اور ایک تو ابھی زندہ ہے اور بھڑک مار رہا ہے کہ میں اک دن لوٹ کہ آؤں گا ۔ ۔۔ ۔ ۔

میرے ملک میں عوام کبھی بھی آزاد نہیں رہے ، اور ہمیشہ ہی انہیں روندتے رہے بوٹ ، کبھی یہ بوٹ فوجی ہوتے اور کبھی پولیس کے اور جب ان سب سے بچ گئے تو انہیں فوجیوں کے طفیلیے سیاست دان مسلتے رہے ، یہ سیاست دان بھی عجیب قوم ہے ہمارے ملک کی ، فوجی ڈکٹیٹر کو ڈیڈی کہتے ہیں ، ملک تڑواتے ہیں ، اور پھر خود مارشل لاء ایڈمینسٹریٹر بن جاتے ہیں ، یہ ایسے لوہے کے لوگ ہیں جو ان فوجی آمروں کے مقناطیس سے ایسے چپکتے ہیں کہ ، لوہار کی دوکان رائے ونڈ کا محل بن جاتی ہے ، اور پھر ایسے اسلام پسند کہ اسلامی اور جمہوری اور اتحاد بھی کر کہ اپنا قبلہ واشنگٹن شریف کو بنا کر ایسے سجدہ ریز ہوتے ہیں کہ کوئی ڈرون حملہ یا خود کش بھی اتنی ڈائریکٹ جنت نہیں پا سکتا جتنی یہ اسلامی سیاہ ست دان پاتے ہیں جنکی دنیا بھی جنت اور آخرت تو ہے ہی کہ ان سے بڑا مسلمان کوئی ہو ہی نہیں سکتا

یہ فوج بھی عجیب ادارہ ہے ہمارا ، انکا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا مگر یہ سیاست کرتے ہیں ، کہا جاتا ہے یہ حکم کے غلام ہوتے ہیں ، مگر ہمارے فوجی حکمران ہوتے ہیں ، کہا جاتا ہے ، یہ وطن کے حفاظت کرتے ہیں ، مگر ہمارے وطن کو بیچ کھاتے ہیں ، کہا جاتا ہے یہ موسٹ ڈسلپلن ہوتے ہیں مگر ہمارے تو اب موسٹ ڈسٹارشن کا شکار ہیں ، فوج عوام کی حفاظت کرتی ہے ، مگر ہماری فوج ہم پر حکمرانی کرتی ہے ، سیاست دانوں کے لیے ہم کیڑے مکوڑے اور فوجیوں کے لیے “بلڈی سویلین“

میرے فوجی جواں ہمتوں کی داستاں ، سپاہی لانس نائیک محفوظ شہید سے لیکر حوالدار لالک جان تک ، یہ سب میری قوم کا فخر ہیں ، مگر کیا میں انگلیوں پر گنے ہوئے چند افسران کے جو زیادہ سے زیادہ میجر لیول سے اوپر کے نہیں تھے انہوں نے اپنے سینے تان دیے دشمن کی توپوں کے سامنے

مگر افسوس ان میں کوئی جنرل نہ تھا ، کہ سہل پسند جنرلوں کو سیاست سے فرصت ملتی تو اپنے گھر کی سرحدوں پر لگنے والی آگ دیکھ سکتے ، میں دعویٰ کرتا ہوں کہ آپ کسی بھی جنرل برگیڈیر یا کرنل لیول تک کے افسروں کے گھر دیکھیں اور انکے خاندان کا رہن سہن ، کسی بھی لاڑڈز یا امیر سے کم نہیں ، یہ رئٹائیر ہوتے ہیں تو لاکھوں کے ساتھ کروڑوں کے جائداد بھی سمیٹ لیتے ہیں ، جو انہیں وطن بیچینے کا انعام لگتا ہے ، اور پھر سب گھر والے مل جاتے ہیں ، اگر گھر کا ایک بندہ کمیشن افسر بنا تو پھر سارے گھر والوں کے وارے نیارے ، میں پنڈی کے ایک ایسے برگیڈئیر کے بارے میں جانتا ہوں جو آرمی کی تعمیرات کے انچارج ہیں اور ان سے ملنے کی قیمت کم سے کم دس ہزار ہے ، جی ہاں صرف ملنے کی قیمت اور وہ اپنے خاندان کے لیے نئے ماڈل سے کم کی کار سے زیادہ راضی نہیں ہوتے ، ایک سائین کرنے کے لیے ، کیونکہ بلڈی سویلین بھی تو ایسے ہی ہیں حرام کا پیسہ حرام میں ہی تو جاتا ہے نا

میں نے اپنی فوج کے افسران کی محافل میں شراب کباب اور شباب کو مچلتے دیکھا ہے ، نشے میں دھت یہ جنرل جب اپنی اپنی میسوں میں ناچتے ہیں اور اپنی ہی قوم کو گالیاں دیتے ہیں تو کیا کہوں کیا کیا دل کرتا ہے کہنے کو ، میں نے بہت عرصہ پہلے لکھا تھا اس پر ، ایک بہت ہی پرانی کہاوت ہے ہماری افواج کے بارے میں بلکہ ایک انڈین جنرل نے یہ کہا تھا کہ ، اگر میرے پاس پاکستانی سپاہی ہوں اور انڈین افسر تو میں ساری دنیا پر حکمرانی کر سکتا ہوں

پاکستان کی قسمت ہی عجیب ہے ، اس کی فوج کے افسر ہمیشہ سے ہی پاکستان کو نقصان پہنچاتے آئے ہیں ، جنرل گریسی سے لیکر جنرل کیانی تک سب ہی قوم کے خرچے پر چرچے کرتے رہے اور حرام کھاتے رہے ، آج ایسے ہی رنگیلے افسروں کے لیے دل سے نکلے الفاظ ۔ ۔ ۔۔

اے وطن کے رنگیلے جوانوں ، میرے پیسے تمہارے لئے ہیں

سرفروشی تھا ایماں تمہارا ، جراءتوں کے پرستار تھے تم
جو حفاظت کرے سرحدوں کی ، وہ فلک بوس دیوار تھے تم

اے لالچ کے زندہ نشانوں ، میرے جیسے تمہارے لئے ہیں

بیویوں ماؤں بہنوں کی نظریں ، تم کو دیکھیں تو یوں تڑپ جائیں
جیسے خاموشیوں کی زباں سے ، دے رہیں ہوں وہ تم کو صدائیں

قوم کے اے جری پہلوانوں ، کیا یہ بچے مرنے کے لئے ہیں؟

تم پے جو کچھ لکھا شاعروں نے ، اس میں شامل تھی آواز میری
اڑ کہ پہنچے ہو تم جس افق پر ، کیسے جائے گی پرواز میری

ڈالروں کے اے رازدانوں ، میرے پیسے تمہارے لیے ہیں

اب تم اپنی حفاظت نہیں کر پائے ، سرحدوں کی نہیں کر پائے ، تو ہماری حفاظت کیا کرو گے ؟؟؟؟

میرے سیاہ ست دانوں اور جنرلوں ،خدا کے لئے اب ہماری جان چھوڑ دو ، اور یہ ملک اس کے خیر خواہوں کے حوالے کر دو ۔ ۔ ۔ ایسا نہ ہو کہ اب یہ حملے عوام کریں ۔ ۔ ۔ ۔ تمہاری بیرکوں پر اور تمہارے محلوں پر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔

(اس کالم کو لکھ کر میری آنکھیں نہ جانے کیوں بھیگ گئیں ، اور دل یہ ہی دعا نکلی )

چاند روشن چمکتا ستارہ رہے
سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے

اس جھنڈے سے اب قوم کی لاج ہے
اس جھنڈے پے اب قوم کا آج ہے
جان سے کیوں نہ ہم کو یہ پیارا رہے

اور پھر یہ بھی آواز دل سے ابھری

جاں جاتی ہے بے شک جائے
پرچم نہ تیرا جھکنے پائے
غازی کو موت سے کیا ڈر ہے
جاں دینا جہاد اکبر ہے

قرآں نے ہے یہ بتلایا
اے مرد مجاہد جاگ ذرا ، اب وقت شہادت ہے آیا
اللہ ُ اکبر ، اللہ ُ اکبر

اور ابھی تک میری آنکھوں کے سامنے ایس ایس جی کے کمانڈو جوشیلے انداز میں اللہ ہو کا نعرہ لگاتے گزر رہے ہیں ۔۔ ۔۔ اور میں بھیگی آنکھوں سے ان سبکو کہ رہا ہوں

میرے مجاہدو ، میرے محافظو ، میرے جوانوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا فخر مت توڑو ۔ ۔ ۔ ۔۔ تم میرا فخر ہو ۔ ۔ ۔ ۔

آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی

آج میں شرمندہ ہوں ، اپنے سارے مسیحی دوستوں سے ، جو مجھے اپنا اتنا قریبی دوست سمجھتے ہیں کہ شاید کوئی اور سمجھتا ہو ، میں ان سے بحث کرتا رہا ہوں کہ پاکستان میں جو لڑائی ہے وہ مسلمانوں کے درمیان ہے اور ہم غیر مسلموں کو اپنے آپ سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں ، میں جسٹس کارنیلسن سے لیکر انیل دلپت تک کی مثالیں دیتا کہ دیکھو جسٹس بھگوان داس کو ہم نے کس پوزیشن پر رکھا ہے ، اور میں انہیں بینجمن سسٹرز ، اے نئیر اور سلیم رضا جیسے گلوکار اور شبنم اور روبن جیسے فنکاروں کی مثالیں دیتا ہوں کہ جو ہمارے دلوں میں رہتے ہیں

میں جے سالک جیسے جنونی کو بھی جانتا ہوں میں بشپ آف پاکستان کو بھی پہچانتا ہوں ، شہباز تم بھی ایسے ہی لوگوں میں سے تھے جسے ہم پاکستانی جانتے ہیں کہ یہ ہمارا ہم وطن ہے ، ہم لاہور کی یوحنا بستی ہو یا کراچی کی عیسیٰ نگری ، وہ ملتان اور سہون کے جیسی ہی ہیں

پاکستان سب کا ہے ، وہ چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ، ہمیں ہمارا اسلام سیکھاتا ہے کہ اقلیتوں کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے ، بلکہ خود سے بڑھکر انکی حفاظت کرنی ہے ، ان کی عبادت گاہیں اور مذہبی رہنما ، ہمارے لئے بھی محترم ہیں

مگر اب ایسا لگتا نہیں ہے ، کہ ایک مسیحی رہنما کو دن دھاڑے مار دیا گیا اور وہاں پر پمفلٹ پھینکے گئے کہ یہ ناموس رسالت (ص) کے لئے قتل کیا ہے ، کیا واقعٰی ہی ایسا ہے ؟؟؟؟

نہیں بالکل نہیں ، کیونکہ یہ قتل کرنے والے ناموس رسالت کیا جانیں ، انہیں تو اسم محمد(ص) کا احترام تک نہیں ، جسکو انہوں نے کیچڑ میں پھینک دیا ، یہ اسلام کیا جانیں ، جو آیات قرآنی کی بے حرمتی کریں ، ارے یہ تو انسان بھی نہیں کہ ایک بیٹے کو جو ماں سے ملکر آ رہا تھا اسے نہیں بخشا ۔ ۔ ۔۔ خدارا انہیں مسلمان مت کہیں بلکہ انسان بھی مت کہیں ، یہ درندے ہیں ، جنکے لئے انسا ن کی زندگی کی کوئی قدر نہیں ، یہ اسلام کے نام کو نہیں جانتے کہ جس کا مطلب ہی امن و سلامتی ہے

مگر ہاں شہباز بھٹی میں تم سے شرمندہ ہوں ، کہ میں نے ایسے حاکم منتخب کئے ہیں جو چوہوں کی طرح بِل میں چھُپے ہیں کہ انہیں موت نہیں آئے گی ، یہ خود تو بُلٹ پروف کاروں میں گھومتے ہیں اور باقی سب کو مرنے کے لئے درندوں کے حوالے کر دیا ہے ، انکے پاس ہر سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ دھشت گرد یہ سب کر رہے ہیں ، جب کہ سب سے بڑے دھشت گرد یہ خود ہیں ، کہ جن کی دھشت سے ساری عوام کانپ رہی ہے ، یہ کبھی پٹرول بم گراتے ہیں ، کبھی آٹے اورگھی کی قیمتوں کے اضافے کے مزائیل چلاتے ہیں ، اور کبھی گیس اور بجلی کے بلوں سے ہمیں جلا دیتے ہیں ، اور کبھی چینی کے عزاب نازل کرتے ہیں ، یہ سب فرعون ہیں ۔ ۔ ۔ کافر ہیں ۔ ۔ ۔ مُرتد ہیں ۔ ۔ ۔ اور سب سے بڑھکر یہ ان سب دھشت گردوں کے رکھوالے ہیں ۔ ۔ ۔

آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی ، کہ میرے دیس کے رکھوالے ، تمہاری رکھوالی نہیں کر پائے
آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی ، کہ چند جنونیوں نے تمہیں مار ڈالا ، مگر یقین کرو وہ ہم میں سے نہیں ہیں
آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی ، تم دن دھاڑے ایک ایسے علاقے میں مارے گئے جسکے ہر گھر میں گاڑی ہے مگر وہ بزدل قاتلوں کی گاڑی کا پچھا بھی نہ کر سکے ،
آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی ، کہ ہم بھی کچھ دنوں میں تمہیں ویسے ہی بھول جائیں گے جیسے اپنے ہزاروں ہموطنوں کے قتل کو بھول چکے ہیں ۔ ۔ ۔
آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی ، تم کو الزام دیتے ہیں کہ تم نے خود ہی سیکیورٹی نہیں لی ، مگر ہم سب عوام تم جیسے ہی ہیں کہ جنکی حفاظت کے لئے معمور سپاہی آج صرف انکی حفاظت کر رہے ہیں ، کہ جن سے اس ملک کو سب سے زیادہ خطرہ ہے
آئی ایم سوری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ شہباز بھٹی ، تم سے ہی نہیں بلکہ اپنے تمام اقلیتی ہم وطنوں سے کہ جنہیں ہم وہ تحفظ نہ دے سکے جو ہمیں دینا چاہیے ، مگر کیا کریں ہم کہ مجھے تو تم جیسا بھی تحفظ حاصل نہیں

میں اگر بلوچستان میں ہوں تو مجھے بی این اے مارتی ہے
میں اگر سندھ میں ہوں تو مجھے ٹارگٹ کلر مارتے ہیں
میں اگر سرحد میں ہوں تو مجھے دھشت گرد مارتے ہیں
میں اگر پنجاب میں ہوں تو مجھے طالبان مارتے ہیں
اور اگر میں دارلحکومت میں ہوں تو مجھے کبھی مذھبی جنونی مارتے ہیں تو کبھی روشن خیال
میں پاکستان کے کسی بھی کونے میں جاؤں تو مجھے مہنگائی مارتی ہے ، گیس بجلی اور پانی بھی مارتے ہیں
میں بھوک سے مرتا ہوں میں سیلاب سے مرتا ہوں اور اگر ان سے بچ بھی جاؤں تو سیاست دانوں کی حماقتوں سے مر جاتا ہوں

آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی ۔ ۔ ۔ ہم تمہارے قاتل ہیں ، کیونکہ ہم خود اپنے بھی قاتل ہیں ۔ ۔ ۔۔

تُو مسکراتا کیوں نہیں ؟؟

دیکھ میں جانتا ہوں کہ حالات اچھے نہیں ، روز روز کی افتاد نے تیرا ذھن مفلوج کر دیا ہے ، تو سوچ نہیں پا رہا ، مہنگائی کا رونا تو ازل کا ہے ، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہے ، مگر یہ تو دنیا ہے ، جس میں ہر رنگ ہے ، تم ایک ہی رنگ کیوں دیکھتے ہو ، کبھی تم کھلے میدان میں جی بھر کہ سانس لو تو سہی  ۔ ۔ ۔ ۔۔  کیا کہا ؟ ہوا میں بارود کی بُو ہے ، نہیں تو مجھے تو نہیں لگتی ، یار میں جیسے عادی ہو گیا ہوں ویسے ہی تم بھی عادی ہو جاؤ ، دیکھو تم جتنے حساس بنو گے ، اتنا ہی دکھ سہو گے

خون کا رنگ لال ہوتا ہے ، اب تمہیں لال رنگ سے خوف کیوں آتا ہے ، ذرا سا زخم لگ جائے تم بولائے پھرتے ہو ، دروازہ زور سے بند ہو تو تمہیں دھماکے کا گماں ہوتا ہے ، بس ڈرائیور جلدی میں بریک مارے تو تمہارے اوسان خطا ہو جاتے ہیں ، دوکاندار مہنگائی کا رونا روئے تو تمہیں اس سے ہمدردی ہو جاتی ہے ، یار غریبوں سے ہمدردی اچھی بات ہے مگر تم تو غریب نہیں ہو نا تو پھر شکر ادا کرو اللہ کا اور اپنی زندگی مزے سے گزارو ، دوسروں کے دکھوں کو اپنے اوپر طاری کرنا کہاں کی عقلمندی ہے ؟

اگر کسی امریکی نے تین چار بندے مار دئیے ہیں لاہور میں تو کیا ہوا ، روز لوگ مرتے ہیں ، اگر کسی نے خود کُشی کی تو کیا ہوا یہ بذدل لوگ کیا کرتے ہیں ، جو حالات سے لڑنا نہیں چاہتے ، امریکہ کی عوام دیکھو کیا وہاں قتل نہیں ہوتے کیا وہاں زیادتیاں نہیں ہوتیں سب کچھ ہوتا ہے مگر وہ لوگ ہماری طرح کسی حادثے کو نمائش نہیں بناتے ، دُبئی میں روزانہ قتل ہوتے ہیں روزانہ مزدوروں کا استحصال ہوتا ہے کیا تم نے کبھی دبئی سے کوئی لائیو خبر دیکھی ہے سوائے ناچ گانوں کے پروگرام کے ؟ انہی چینلز نے براہ راست ساری دنیا سے نئے سال کے استقبال کے مناظر دکھائے کیا یہ خوشیاں منانے والے افغانستان اور فلسطین میں روزانہ مرنے والوں کے بارے میں نہیں جانتے ، جانتے ہیں ، مگر یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ لوگ بے وقوف ہیں حالات سے کمپرومائز نہیں کرتے ، ہم امریکہ کو گالیاں دیتے ہیں مگر زندگی امریکیوں جیسی گزارنا چاہتے ہیں ، ہم یورپین کو بے راہ روی پر لعن طعن کرتے ہیں مگر خود اسی راہ پر چلنا فخر سمجھتے ہیں  ۔  ۔۔

میں جانتا ہوں تم بہت محب وطن ہو ، اور تمہیں وطن میں ہونے والے ہر برے واقعے کا دُکھ ہوتا ہے ، مگر تم سے کس نے کہا ہے کہ ہر وقت نیوز چینل دیکھو؟ کتنا اچھا زمانہ تھا جب ایک ہی چینل تھا رات کو صرف خبرنامہ ہوتا تھا جس کو صرف بڑے سنتے تھے نہ کوئی بحث تھی نہ مباحثہ ، میں تم سے کہتا ہوں صبح سویرے کے پروگرام دیکھا کرو انٹرٹینمنٹ چینل پر ، جیسے مایا خان کا شو ، جیسے نادیہ کا شو جیسے مانی وغیرہ کا شو ، تمہیں پتہ ہی نہیں چلے گا کہ پاکستان میں کوئی دکھ درد ہے کہ نہیں ، تمہاری صبح کھلکلاتی ہنسی سے ہو گی اور شام گنگناتے لمحوں میں ہو گی ، اب تو اتنا اچھا ہو گیا ہے کہ چینلز کی تفریق ہو چکی ہے ، میں تو کہتا ہوں اپنے ٹی وی کی سیٹنگ سے نیوز چینل ہی ڈیلیٹ کر دو ، صرف انٹرٹینمنٹ چینل رہنے دو ، موویز دیکھو ، شیلا کی جوانی اور منی کی بدنامی دیکھو ، فلمی ستاروں کی جگمگاتی دنیا دیکھو ، اعضاء کی شاعری اور فیشن کی پُرکاری دیکھو ، ہنسنے ہنسانے والے پروگرام دیکھو ، ارے زندگی کے رنگ دیکھو  ۔ ۔ ۔

اور ہاں ایک اور طرح کے چینل بھی دیکھ سکتے ہو ، مذہبی چینل ، ہاں سارا دن تمہارا دین کی تعلیم میں گذرے گا ، آنکھیں تبرکات سے منور ہونگی اور کان حسین و جمیل مذہبی شاعری پڑھنے والیوں سے مسحور ہونگے ، تمہیں پتہ چلے گا کہ عبادات کیسے ہوتیں ہیں مشاہیر ہمارے کیا کیا کارنامے کرتے رہے ہیں اور تو اور تم چاہو تو وضو کے مسائیل سے لیکر کھانے کے آداب اور کوے کے حلال و حرام ہونے پر بھی لائیو پروگرام میں عظیم مفتیوں سے براہ راست بات کر سکتے ہو اور دنیا و آخرت کی فلاح پا سکتے ہو  ، وہ تمہیں بتائیں گے کہ تم بیٹھے ہوئے لیٹے ہوئے کون کون سی تسبیحات کا ورد کر کہ دنیا میں دولت ، عزت ، اور کمال حاصل کر سکتے ہو ، بیٹھے بٹھائے تم اللہ کی رحمتوں کی بارش میں بھیگ سکو گے

یار پلیز اب تو بدل جاؤ ، یہ لائف اسٹائیل ٹھیک نہیں ہے ، تمہارا جو دل چاہے کرو مگر مجھے اتنا بتا دو کہ دنیا میں ایسا کیا ہو گیا ہے کہ تُو مسکراتا نہیں ؟؟؟ بتا نا میرے یار تُو مسکراتا کیوں نہیں ؟؟

جیت ہماری ہو گئ

چاند روشن چمکتا ستارہ رہے
سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے

یہ وہ گیت تھا جو قائد اعظم کی آزادی کی تقریر کے بعد ریڈیو سے سنا گیا تھا جس میں ایک نئی قوم کا نیا جذبہ
اور یہ جذبہ چند سالوں میں بڑھتے بڑھتے ایک اور شکل اختیار کر گیا

آو بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی ۔ ۔ ۔ ۔ جی ہاں یہ گیت پاکستان کی سیر کراتا تھا اسی کا ایک شعر تھا

مشرق میں بنگال سنہرا ، ہر اک طرف ہریالہ ہے
سیلابوں نے سینچا اسکو ، طوفانوں نے پالا ہے
یہیں سراج الدولہ نے  ۔ ۔۔۔ ۔

مگر پھر گیت بدل گئے

گیتوں میں ، خیبر ، مہران ، مکران اور پنجاب رہ گئے

یہ اسی کی دہائی تھی ، اسکولوں کے سالانہ فنکشنز میں ایک ٹیبلو بہت مقبول تھا ، تقریباَ پاکستان کے ہر اس اسکول میں یہ ٹیبلو پیش کیا جاتا تھا جہاں سالانہ فنکشن ہوتا تھا ، اس کا محرک تھا فلم “کھوٹے سکے“ کا یہ گیت جس میں پاکستان کی نمائیندگئ کی گئی تھی اور پھر اس کا اختتام ایک خوبصورت مصرعے پر تھا ، پاکستان میں رہنے والے سب ہیں پاکستانی ، اس گیت میں آپ پنجابی سندھی بلوچی اور پختون کردار دیکھیں گے اور پھر محمد علی صاحب اس گیت کا اختتام پاکستان کی اساس پر کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ پہلے یہ گیت دیکھیں اور پھر اسکے بعد اگلا گیت بھی اسی کا تسلسل ہے

مگر اسی کی دہائی میں ہی پاکستان بدلنا شروع ہو چکا تھا ، افغانستان میں جہاد اور کراچی کی بدامنی نے ہمارے معاشرے پر بہت زیادہ اثر کیا ، آج جس بات کا زور شور سے ذکر کیا جا رہا ہے کہ ہم میں عدم برداشت ہے مگر یہ عدم برداشت کب شروع ہوئی ، اسی کی دہائی سے پہلے اسکا تصور بھی نہ تھا ، پاکستان ایک اسلامی ریاست تھی اور پاکستانیوں میں برداشت اور تحمل بھی بہت تھا ، اور جب ہم میں عدم برداشت شروع ہوئی تو ملک کے حساس طبقے یعنی لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھا اس پر سمجھانے کے لئے ، ایک فلم بنی تھی جس کا نام ہی “برداشت“ تھا ، فلاپ فلم ہونے کے باوجود اس کے کچھ ڈائلاگ آج بھی میرے ذھن میں ہیں ، جس میں ایک فوجی کو اپنے گاؤں کو بچانا پڑتا ہے اپنوں کے ظلم سے ، اور وہ کہتا ہے ،
“میں تو سرحد پر یہ سوچ کر حفاظت کرتا تھا کہ دشمن باہر سے میرے گھر پر بری نظر نہ ڈال سکے ، مجھے کیا پتا تھا کہ مجھے گھر کی حفاظت کی جنگ گھر کے اندر لڑنی پڑے گی “

یاد رہے یہ آج سے بیس پچیس سال پرانی فلم کا ڈائلاگ ہے ، مگر ہم نے اس وقت کان نہیں دھرے تو آج کیسے دھریں گے ، ہاں ایک بات ضرور ہوئی ہے ، ہم پاکستانی اب مزید بٹ گئے ہیں  ۔۔ ۔  مگر پھر بھی امید ہے  ۔ ۔۔  کہ جیت ہماری ہو گئ ،اب پہلے گیت کو اس گیت سے ملا کر دیکھیں اور سر دھنیں کہ ہم کیسے تقسیم ہوتے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔

سنگ بھی برسیں گے ، خوں بھی بہے گا

میں چاہتا ہوں کہ آج مجھ پر فتویٰ لگے آج مجھے سنگساری کا کہا جائے شاید میرے گناہ دھل جائیں ، میں کون ہوں میں ایک اسلام کے نام پر بننے والے ملک پاکستان کا باشندہ ہوں جسے آج ساری دنیا میں لعن طعن کیا جا رہا ہے ، کس لئے ؟ صرف اسکی اسلام سے وابستگی کے لئے ، میں بہت عجیب ہوں ، نماز باقاعدگی سے نہیں پڑھتا ، پڑوسی سے لیکر ماں باپ کے احترام کے اسلامی احکام پر عمل کرتے ہوئے میری جان جاتی ہے ، سود میری کمائی کی جان ہے ، بے حسی اور بے غیرتی میرے شعار کا حصہ ہیں ، بے حیائی مجھے پسند ہے ، میں مردوں کو آزاد اور عورتوں کو کپڑوں اور حیا سے آزاد دیکھنا چاہتا ہوں ، مجھے مغربی جمہوریت پسند ہے ، میرے ہیرو دنیا بھر کے یہودی ہیں ، امریکا اور یورپ میری منزل ہیں اور پیرس اور لاس ویگاس کے کیسینو اور کلبز میری تفریح ہیں

مگر میں پھر بھی مسلمان ہوں ، ساری دنیا سے نرالا مسلمان ، نہ عربوں کی طرح عیاش ہوں ، نہ ایرانیوں کی طرح انقلابی ، نہ ترکوں کی طرح سیکولر اور نہ ہی سوڈانیوں کی طرح نسل پرست ، میں مسلمان ہوں ، جھوٹ بولنا میرا شیوہ ہے ، حرام کی دولت میرا میوہ ہے ، رشوت اور اقرابا پروری میرا خاصہ ہے ، بد دیانتی اور بد خوئی میری پہچان ہے ، وطن فروشی اور ضمیر فروشی میری سرشت ہیں ۔ ۔۔ ۔ مگر میں مسلمان ہوں

میں مسلمان ہوں ، نبی صلی اللہ و عیلہ وصلم کو آخری نبی مانتا ہوں ، اللہ کو ایک اور دین اسلام کو مکمل ضابطہ حیات سمجھتا ہوں ، نبی صلی اللہ و عیلہ وصلم کی شان میں کوئی گستاخی کرے میرا خون کھول جاتا ہے ، میں ۔۔ ۔ اپنے آپ میں نہیں رہتا ، میں گستاخ رسول کو اسی وقت واصل جہنم کرنا چاہتا ہوں ، اور موقعہ ملنے پر کر گزرتا ہوں ، کیونکہ مجھے ہر چیز سے زیادہ ناموس رسالت صلی اللہ و عیلہ وصلم عزیر ہے ۔ ۔۔ ۔ اور توہین رسالت کی سُن گُن ملتے ہی میں مرو یا مار دو کا جذبہ لے کر نکل پڑتا ہوں

میں یہ سب کر سکتا ہوں ، مگر اسوہ رسول صلی اللہ و عیلہ وصلم پر چلتے ہوئے پتہ نہیں کیوں میری جان نکل جاتی ہے ، نبی صلی اللہ و عیلہ وصلم کو غربت پسند تھی مجھے امارت پسند ہے ، بھلا اس میں نبی کی کیا توہین ہے ؟ ، نبی کمزوروں کا ساتھ دیتے تھے میں طاقتوروں کے ساتھ ہوں ، اس میں بھلا کیا توھین ہے ؟ نبی کو صدقہ خیرات دینا پسند تھا مجھے لینا پسند ہے بھلا اس میں کیا نوہین ہے ؟ نبی کو مساوات پسند تھی ، مجھے اپنی ذات پسند ہے تو اس میں کیا توہین ہے ؟ مختصر اطعیواللہ اور اطعیوالرسول پر اگر عمل نہیں کرتا تو اسکا مطلب یہ تھوڑا ہی ہے کہ میں اللہ کو نہیں مانتا اور نبی سے محبت نہیں ؟

اگر پھر بھی کوئی سمجھتا ہے کہ میں گناہ گار ہوں ۔ بدکار ہوں سیاہ کار ہوں تو پھر سب کو دعوت ہے کہ مجھے سنگسار کریں ، اور عبرت کا نشان بنا دیں ،اور اگر یہ سب کچھ آپ اپنے اندر بھی سمجھتے ہیں تو پھر خود کو توھین رسالت کا مجرم سمجھیے اور اپنی سزا خود متعین کریں ۔ ۔۔ ۔ ۔

اس مملکت خداداد میں جس کا نام پاکستان ہے ، اسلام ایک کھلونا بنا ہے ، جس سے ہر کوئی اپنے اپنے انداز سے کھیل رہا ہے ، یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا اور اسی نام پر قائم رہے گا انشااللہ اور جو لوگ کہتے ہیں کہ قائد اعظم نے ایک سیکولر ملک کا خواب دیکھا تھا تو مجھے صرف اس بات کا جواب چاہیے کہ اگر سیکولر ہی رہنا تھا تو ریاستی خودمختاری میں سب کچھ مل جاتا ، ١٩٤٥ کے انتخابات اور پھر مسلمانوں کے جداگانہ انتخابات کافی تھے ۔ ۔ ۔۔ میں اس دیس میں قدرت کا کھیل دیکھ رہا ہوں ، کہ کس طرح سے اس ملک کو دنیا کی نظروں میں لایا جا رہا ہے تا کہ دنیا جان لے کہ بظاہر ماڈرن اور الٹرا ماڈرن نظر آنے والا مسلمان کبھی بھی ممتاز قادری بن سکتا ہے ، اور پھر کسی بھی سلمان تاثیر کو اڑاسکتا ہے ، اسکے ممتاز قادری بننے کے لئے اس کا صرف نام کا مسلمان ہونا ہی کافی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ میں بھی شاید ایسے ہی مسلمانوں میں سے ہوں

میری ایک پرانی شاعری ہے (میں خود کو شاعر نہیں کہتا کہ وزن میں شعر کہنا میرے لئے ناممکن ہے مگر لکھتا ہوں ضرور )
یہ آج سے تقریباَ چار سال پہلے لکھی گئی تھی جس میں ملک کے حالات پر لکھا تھا جب پی پی کی حکومت بنی تھی ، جو رنگ مجھے نظر آیا تھا وہ لکھا شاید اب یہ وقت آنے والا ہے

سنگ بھی برسیں گے ، خوں بھی بہے گا
اس دور میں ہونا ہے یہ، ہو کے رہے گا

مصلوب بھی ہو گا وہ ، سولی بھی چڑھے گا
وقت کے فرعون کو جو حق بات کہے گا

“ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات“
ظلم ہے سہنا اسے تو ظلم سہے گا

مایوس نہیں ہوں میں ، یقیں ہے سحر کا
اظہر یہ بت ڈھہے گا ڈھہے گا ڈھہے گا

میرا 2010

میں بکھر چکا ھوں ،میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مجھے ایسا لکھنا پڑے گا ، ٢٠١٠ میری زندگی کا ایک ایسا سال جس میں اللہ نے مجھے اتنے بڑے امتحان میں ڈالا کہ جس سے ابھی تک نہیں نکل پایا ۔

٢٠٠٩ میں مجھے اپنی اہلیھ کے کینسر نے توڑ ڈالا تھا اور میرا بیٹا ماں اور باپ کی شفقت سے دور ھو گیا تھا ، اللہ کے کرم سے میری اہلیھ بہتر ہوئی ، ایک بڑی جنگ لڑ کھ ، میں نے ٢٠١٠ کا آغاز یہ سوچ کر کیا کہ چلو اب کچھ آرام ملے گا اور میں اپنے اوپر قرضوں کے بوجھ ک اتار سکوں گا ، اسی سوچ کے ساتھ ٢٠١٠ کا آغاز کیا ، مگر جنوری کے آخر میں میری اھلیھ کا ایک اور آپریشن کروانا پڑا ، جس نے مجھے فنانشلی بکھیر دیا ، اور میرا بال بال قرض میں بندھ گیا ، میرے اردگرد کے لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اظہر کے ساتھ تو کوئی نہ کوئی مسلھ رھتا ہی ہے ، اور پھر مجھے مجبوراَ بنک سے قرض لینا پڑا پتہ نہیں ہم لوگ کیوں اپنوں کے لئے اتنے جذباتی ہو جاتے ہیں ، کچھ دن پہلے جب میرے ایک “دوست“ نے کہا کھ اظہر تم نے اللہ پر توکل نہیں کیا ، اسلئے تم قرضے میں جکڑے گئے ، مگر میں کیا کہوں کہ کیسی کیسی راتوں کو اللہ سے کہتا رہا کہ وہ سبب پیدا کرے مگر شاید وقت اور بیماری نے میرے ساتھ یھ ہی کرنا تھا

میں بہت پریشان ہو چکا تھا ، نہ دن کو چین اور نہ رات کو آرام ، یہ سوچتے سوچتے رات گزر جاتی کہ اب کیا ہو گا ، میری اس کیفیت کا اندازا میری یھ نظم ھے جو میں نے اپنے مفلوج ھونے سے ایک ہفتہ پہلے لکھی تھی

میری زندگی میں ، ہونا ہے کیا کبھی سوچتا ہوں ، تو ڈر جاتا ہوں

آج ہے کیا ، کل ہو گا کیا کبھی سوچتا ھوں ، تو ڈر جاتا ہوں

یہ نظم یو ٹیوب پر اس ایڈریس پر موجود ہے

اور پھر یہ ڈر حقیقت بن گیا ، وہ اپریل کا آغاز تھا ، میں صبح آفس گیا اور شام کو مفلوج ہو کر ہسپتال پہنچ گیا ، ایک مہینھ شارجھ کے کویت ہسپتال میں ابتدائی علاج ہوا اور پھر مجھے پاکستان بھیج دیا گیا ، کھ مزید وہ مجھے ہسپتال نہیں رکھ سکتے تھے ، نھ میرے ساتھ کوئی رہ سکتا تھا ، جو مجھے اٹھاتا اور بٹھاتا اور ضروریات کو سنبھالتا ، پاکستان میں اطلاع دی گئی ، میں وھیل چئر پر پاکستان آ گیا اور ایک مقامی ہسپتال میں مجھے میری بہن نے داخل کروا دیا ، ڈاکٹر آتے رھے میڈیسن لکھتے رھے ٹسٹ ھوتے رھے ، اور فزیو بھی چلتی رھی ، میری بیوی جو خود کینسر کی مریض ھے میرا بوجھ بھی اٹھانے لگی ، میرا بیٹا جو پہلے ہی ماں کو بیڈ پر ایک سال تک دیکھتا رہا اب مجھے بیڈ پر دیکھ کر بالکل ہی بجھ گیا ۔۔۔ ۔۔ ۔ انتہائی چڑچڑا ھو گیا

خیر یھ سب ہوتا رہا اور میں نے جو کچھ کمایا تھا وہ سب ختم ہو گیا ، میں نے ایک دو مہینے مانگ تانگ کہ چلائے مگر کب تک ، آخر ایک دن مجھے ہسپتال سے بھی نکلنا پڑا ، یہ شاید اتنی بڑی بات نہ تھی ، بڑی بات یہ ہوئی ، کہ مجھے سب نے چھوڑ دیا ، میرے خونی رشتوں نے جن کو میں اپنی بیماری تک دینے والا تھا ، جب لینے والا بنا تو سب نے چھوڑ دیا ، گھر تک نہ دیا رہنے کو ، مجھے مجبوراَ کرائے کا گھر لینا پڑا ، سونے کے لئے ایک بیڈ اور بیٹھنے کے لئے ایک کرسی ، اور کچن کے برتن چولھا ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔

میں نے جسکو اپنی تکلیف بتائی اس نے ہمدردی کچھ نے زکوہ دینے کی کوشش کی مگر میرے دل نے نہیں مانا ، میں جو اوپر والا ہاتھ تھا اللہ کی دی ہوئی بیماری نے مجھے نیچے والا ہاتھ بنا دیا ، میں جو محنت کرنے والا تھا اسے مفلوج کر دیا گیا ، میں جو ہنسنے ہنسانے والا تھا ، اسے صرف رونے کے لئے چھوڑ دیا گیا ، جو درد مند تھا اسے سراپا درد بنا دیا

مگر ، ۔ ۔ ۔۔ ۔ مگر میں نے ہمت نہ ہاری ، میں اٹھ کھ کھڑا ہو گیا ، اللہ نے مجھے ایک بار پھر اپنی ٹانگوں پر کھڑا کیا ، میرے بازو اٹھنے لگے ، میرے ہاتھوں میں گرفت آتی گئ ۔۔۔۔ ۔۔ ۔ ۔ اور میں نومبر کے آتے آتے چلنے لگ گیا ، اور ایک بار پھر دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینے کا حوصلھ پیدا کرنے لگا ۔ حتہ کہ میں صحیح سے چل نہیں پاتا ابھی تک مگر چلنا تو تھا نا ، اس بھاگتی ہوئی دنیا میں میں نے نوکری کے لئے اپلائی کرنا شروع کیا تو ایک نیا امتحان تھا میرے سامنے ، میرے بیس سال کے تجربے کی کوئی ویلیو نھیں تھی ، مجھ سے کہا گیا ، کہ آپ بےوقوفی کرتے ہیں ، پاکستان میں جاب نہیں کر سکتے آپ ، آپ باھر ہی جائیں ، یہاں کچہ نہیں رکھا ، کوئی کہتا ہے کہ اتنے تجربے کار بندے کو نہیں لے سکتے ، پیسے بہت مانگو گے ، میں نے کہا نہیں مجھے صرف جینے کا آسرا دے دو مگر ۔ ۔۔ نہیں ۔ ۔۔ کوئی سفارش ہے ؟ نہیں میرا تجربہ ہی سفارش ہے ، میری تعلیم میری قابلیت سفارش ہے ، ہا ہا ہا ، کس دنیا سے آئے ہو بھیا ، یہاں سفارش ہی چلتی ہے ، کوئی ڈاکخانہ ملاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔

آج جب نیا سال شروع ہوا ، تو پیچھے مڑ کہ دیکھا ۔ تو اللہ کا شکر ادا کیا کہ اسنے مجھے گر کہ اٹھنے کا حوصلہ دیا ، مگر ساتھ دکھ بھی ہے ، میں نے بہت سے “اپنے“ کھو دیے ، جیب خالی ہو گئی ، در در کا بھکاری بن گیا ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ مگر اب بھی امید ٹوٹی نھیں ، میں زندہ ہوں ، اور زندگی سے آنکھیں ملا کر کھڑا ہوں، مگر کب تک ؟

ہوا بہت تیز ہے ، چراغ بھی ہے مدہم

ڈرتا ہوں کہیں اندھیرا نہ ہو جائے یہاں

ناامیدی کی رات گو ختم نہیں ہوئی ابھی

امید کی کرنیں کوئی تو دکھائے یہاں

میں شاید بکھر چکا ہوں ، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں کبھی ایسا لکھوں گا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔