Archive for the ‘تاریخ’ Category

پاکستان – ضروری تو نہیں

جی ہاں ، پاکستان ضروری تو نہیں ، دنیا پاکستان کے بنا بھی چل رہی تھی نا تو پاکستان کیوں بنا ؟ اس اگست میں میں نے سوچا ہے کہ پاکستان کے حق میں کوئی بات نہ کی جائے ، کہ پاکستان کے حق میں تو بات کرنے والے بہت ہیں ، پاکستان کے مخالف تو نہ ہونے کے برابر ہیں ، اس لیے میں پاکستان کے خلاف بولوں گا ۔ ۔ ۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی تقریری مقابلے میں حق میں اور مخالفت میں تقاریر ہوتی ہیں ، میں کسی مقابلے کا حصہ تو نہیں ہوں ۔ ۔ مگر میں نے موضوع کی مخالفت میں بولنا ہے ، کر لو جو کرنا ہے !!

تو بات ہو رہی تھی کہ پاکستان ضروری تو نہیں تھا ، بلکہ بقول ہمارے الطاف بھائی کے پاکستان دنیا کا سب سے بڑا “بلنڈر“ تھا ، پہلی بات ہے یہ نام ہی غلط ہے ، پاکستان یعنی پاک سر زمین ، یعنی ہندوستان کی زمین ناپاک تھی جو یہ پاک زمین بنائی گئی ، اور یہ پاک زمین بھی تو ناپاک ہندوستان ہی تو تھی ، ہم نے تو نام بدل دیا ، بالکل ایسے جیسے بمبئی کا نام ممبئی کر دیا گیا یا کلکتہ کا نام کولکتہ ہو گیا ۔ ۔ ۔ تو بنارس چنائی بن کہ بدل تو نہیں گیا ؟ اس لیے پاکستان کی زمین بھی پاک نہیں ہوئی ، گو آزادی کے وقت اسے لاکھوں بے گناہوں کے خون سے بھی دھویا گیا اور آج تک دھویا جا رہا ہے

اصل میں لوگ پاکستان کے قیام کو ہی غلط سمجھتے ہیں کیونکہ آج ساٹھ سال بعد ہمیں پتہ چلا ہے کہ پاکستان ایک سیکولر ملک کے طور پر بنا تھا ، اور آج تک ہم جو اسلام کو پاکستان سے جوڑتے رہے ہیں وہ سب غلط ہے ، اس سلسلے میں ہمارے بہت بڑے بڑے دانشور اپنی تحقیق سے ثابت کر چکے ہیں کہ اسلام کا پاکستان سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ، قائد اعظم (یعنی جناح صاحب) بہت ہی بڑے سیکولر انسان تھے ، بھائی جس شخص نے ایک پارسی لڑکی سے عشق لڑا کر شادی کی ہو ، گوکلے جس کا بیسٹ فرینڈ ہو ، سروجنی نائیڈو جسکی تعریف کرتے نہ تھکے ۔ ۔۔ جو اپنی بہن کی شادی تک نہ ہونے دے ۔ ۔۔ اسکا بھلا اسلام سے کیا تعلق ۔ ۔ ۔ جس شخص نے ہمیشہ لباس ہی انگریزی پہنا ہو ، بولتا ہی انگریزی ہو ، زندگی کے بہترین سال اسنے پیسہ کمانے میں گزارے ہوں ، بھلا اسکا اسلام سے کیا تعلق ۔ ۔۔ اور اُس نے ایسا ملک کیوں بنانا تھا کہ جو اسلام کی بنیاد پر بنا ہو ۔ ۔ ۔؟؟ جناح صاحب کی زندگی پر بعد میں نظر ڈالیں گے پہلے پاکستان کو تو دیکھ لیں

تو پاکستان ایک سیکولر ملک بنا تھا ، اسے بعد میں ملاؤں نے ہائی جیک کر کہ اسلامی جمہوریہ بنا ڈالا ، اور ہاں یہ جو لاکھوں بے وقوف مرے تھے پاکستان آنے کے لیے ۔۔ ۔ انہیں لازمی مِس گائیڈ کیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ ورنہ ایک سیکولر ملک سے دوسرے سیکولر ملک میں جانے کے لیے جان دینا بے وقوفی نہیں تو اور کیا تھا ۔ ۔ ۔ اور پاکستان تو تھا ہی سیکولر ، بھئی جس کا وزیر خارجہ ایک قادیانی ہو (جو جناح کا جنازہ تک نہ پڑھے ) ، جس کی کابینہ میں ہندو وزیر ہو ، جسکی فوج کا سربراہ عیسائی انگریز ہو ۔ ۔ ۔ تو اسلامی ممللکت کہاں سے آ گئی ؟؟ جناح صاحب گیارہ اگست والی تقریر میں چیخ چیخ کر کہتے رہے کہ پاکستان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں مگر کوئی سنتا ہی نہیں انکی تقریر (کیونکہ ملتی نہیں ہے پوری )

مگر سمجھ نہیں آتی جب اقبال نے کہا تھا کہ انتظامی طور پر مسلم ریاستیں الگ کر دی جائیں تو پاکستان کی ضرورت کیا تھی ؟؟ اور پھر اسلام کا تڑکا کیوں لگایا گیا ؟ اصل میں پاکستان بنگالی جاگیرداروں نے بنایا تھا ۔ ۔۔ اور اسی لیے بنگال لے کر علیحدہ ہو گئے ، باقی رہا موجودہ پاکستان ۔ ۔ ۔ تو اسکی آزادی تو تھی ہی غلط ۔ ۔ ۔ لفظ آزادی بھی غلط ہے ، علیحدگی ۔۔ ۔ میرے خیال میں یہ بھی غلط ہے ۔ ۔۔ ہندوستان کا بٹوارہ ۔ ۔ ۔ ہاں یہ ٹھیک ہے ، بھئی انگریزوں سے آزاد تو ہندوستان ہوا تھا نا ، پھر ہم ہندوستان سے الگ ہو گئے ، پھر بنگال ہم سے الگ ہو گیا ، اور اب بلوچستان اور سندھ علیحدگی کے لیے تیار ہے ، پنجاب میں سرائیکی الگ ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ پوٹھوہار الگ ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔۔ میرے خیال میں کچھ عرصے بعد راولپنڈی کے جی ایچ کیو کے کسی جنرل کی ٹیبل کا نام پاکستان رہ جائے گا ہے نا ۔ ۔۔ باقی رہی آزادی کی بات ۔ ۔۔ تو اس سرزمین میں بے وقوفوں کی کمی نہیں جو لوگ لاکھوں کی تعداد میں ایک “ہندو“ پروپگنڈے پر اپنی جانیں دے دیتے ہیں کہ پاکستان اسلامی ملک بنے گا ۔ ۔۔ اور تو اور یہاں ایسے بھی لوگ موجود تھے کہ جو لندن جا کہ کہتے تھے کہ مجھے اب ایک غلام ملک میں جا کہ نہیں مرنا اور آزاد ملک میں ہی مر جاتے تھے (جزباتی لوگ) ۔ ۔ ۔۔ اور ابھی بھی ایسے موجود ہیں جو لندن جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں آزاد پاکستان میں واپس نہیں آنا ۔۔ ۔ ۔ مگر جذباتی نہیں ہوتے ۔ ۔۔ کیونکہ پتہ نہیں کب ہوا کا رُخ بدل جائے اور انہیں پاکستان آنا پڑے ایک آزاد ملک سے ۔ ۔ ۔ اور پاکستان کے بننے کی غلطی کو ختم کرنا پڑ جائے ۔ ۔ کیونکہ ۔۔ ۔ ۔ پاکستان ۔۔ ۔ ضروری تو نہیں ۔ ۔ ۔۔
(جاری ہے )

شعائر اسلای کی بے حرمتی کے تدارک کی تگ و تاز

میرے دوست انجنیئر سرفرازاحمد ضیغم کی یہ تحریر شاید ہمارے لئے گریبان میں جھانکنے کا موقعہ دے
——————————————————————————————- امریکہ کی ریاست فلو ریڈامیں ملحدپادریوں نے قرآن مجیدفرقان حمید کے نسخے کو نذر آتش کر دیا۔خبر کے مطابق متنازعہ عیسائی مبلغ ٹیری جونز نے اپنے ناپاک جسارت کے اس منصوبے پر عمل کر دیاجس کے تحت اس نے ستمبر میںمسلمانوں کو خبر دار کیا تھا کہ وہ اپنی کتاب کی حفاظت کرلیںاور اس کا دفاع کریں۔ ٹیری جونز کاخباثتوں سے لبریز بیان ہے کہ اسے مسلمانوں کیطرف سے کوئی جواب موصول نہیںہوا ۔اور اس نے فلوریڈا کے ایک چھوٹے چرچ میں عیسائیوں کی ایک جیوری میں دس منٹ تک قرآن پاک کے سزا اور جزا کے حوالے سے بحث کے عمل کے بعداس ملعون نے قرآن پاک پر مقدمہ چلایا اور فرد جرم عائد کرتے ہوئے پھانسی کی سزا سنائی۔اس موقع پر اللہ کے کلام کوایک گھنٹے تک مٹی کے تیل میں ڈبوئے رکھا اور بعد ازاں پیتل کے ایک ٹرے میں چرچ کے عین درمیان رکھا گیا۔چرچ کے شیطان صفت پادری نے چند دیگر ملعونوں کی موجودگی میں قرآن پاک کے نسخے کو آگ لگا دی۔واضح رہے کہ ملعونوں کی اس تقریب میں عام لوگوں کو بھی دعوت دی گئی تھی لیکن صرف تیس لوگوں نے شرکت کی جبکہ گینز ویلے شہر میں زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی۔ چند لوگوں نے جلتے قرآن مجید کے نسخے کے فوٹو بھی بنائی۔ اپنے گلے میں لعنت کا طوق ڈالنے والے بدبخت اور بدنصیب ٹیری جونز کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب اس کی ستمبر کی وارننگ کے بعد مسلمانوں کی طرف سے کو ئی جواب نہ ملا تو اس نے سوچا کہ حقیقی سزا دیئے بغیر حقیقی ٹرائل نہیں ہو سکتا اس لیے (نعوذ بااللہ) اس نے قرآن مجید کو سزا دے دی ہی۔
شعائر اسلامی کی تضحیک و توہین کا یہ پہلا اورخاکم بدہن !کوئی آخری واقعہ نہیں ہے ۔ قبل ازیںاس حوالے سے بڑے بڑے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ہر نئے واقعے پر مسلمانوں کے اضطراب اور احتجاج میں اضافہ ہی دکھائی دیتا ہے اور عام مسلمان غازی یا شہید کے منصب پر فائز بھی ہو جاتاہی۔ لیکن مسلمان حکمرانوں کا اسطرح کے واقعات پر ردِ عمل سوائے گونگلوئوں سے مٹی جھاڑنے سے زیادہ نہیں ہے ۔وہ معذرت خوانہ روئیے کے ساتھ سوائے مذمت کے کسی اور حرکت کو بڑی جسارت سمجھتے ہیں ۔کیونکہ ان کا مطمع نظر یہی ہے کہ اپنے اقتدار کے عرصہ کو دوام دیا جائے ۔اور کسی بھی ایسی حرکت یا پالیسی سے اجتناب کا راستہ اختیار کیا جائے جس سے عالمی سطح پر اقتدار ساز قوتوں کی دل آزاری کا کوئی پہلو اجاگر ہوتا ہو ۔ امریکہ کی ریاست فلوریڈا کے چھوٹے چرچ کے چھوٹے اور جھوٹے پادری ٹیری جونز نے قرآن پاک نذر آتش کرنے کی جو ناپاک حرکت کی ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے ۔مقتدراور معتبر حلقہ جات کی جانب سے بھر پور مذمت کا سلسلہ ھنوز جاری ہے ۔مذکورہ ملعون نے اپنے بونے قد کو اونچا کرنے کے لیے اور سستی شہرت کے حصول کے لیے لعنت کا طوق اپنے گلے میں ڈالا ہی۔اس طرح وہ ساڑھے پانچ ارب انسانوں کے قلبی جذبات کی توہین کا مرتکب ہوا ہی۔دنیا بھر کے صاحبانِ ادراک قرآن مجید کے اس حسن کے قائل ہیں کہ صاحبِ قرآن سیدنا محمدؐ فخر بنی آدم ہیں۔اور اللہ تعا لٰی عزوجل نے آپ کو تمام جہا نوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے ۔اور قرآن مجید میں رب العزت کے اس احسان کو کون فراموش کرنے کی جسارت اور جرات کر سکتا ہے کہ ’’اللہ تعا لٰی نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا ہے ‘‘۔گویا ٹیری جونز زمانے کا ابو جہل ہے اور قرآن مجید کی تعلیمات کو سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہے ۔وہ ایک جنونی شخص ہے مخبو ط الحوا سی کے عالم میں ہے ۔وہ عیسائیت کا بدمذ ہب ہی۔وہ انتہا پسند ہے ۔وہ بین الا قوامی سطح کی بین المذاہب ہم آہنگی کے مشن کو سبو تاژ کرنے والا وہ شخص ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو با ہم بر سر پیکار کرنے کا مرتکب ہوا ہے ۔اس نے عالمی امن کے خلاف سازش کی ہے ۔وہ خصائل رزیلہ کا حامل ،فسطا ئیت کا نما ئندہ اور ابلیسیت کا تر جمان ہے ۔البتہ ہمارا ایقان اور ایمانی وجدان ہے کہ اس نے جس آگ کو ہوا دے کر شعلہ دیا ہے اس کے انگاروں میں وہ خو جلے گاجس کا تماشہ دنیا دیکھے گی کیو نکہ قرآن مجید فطرت کے افکار کا ترجمان ہے ۔رب العزت اسکا پا سبان ہے اس سے قبل کہ دنیا کا قانون حرکت کرے وہ قا نونِ فطرت کی زد میں ضرور آئے گا اور بہت جلد اس کی بیخ کنی کے عمل کا آغاز ہو جا ئے گا ۔البتہ ہم مقتدر حلقہ جات اور دنیا بھر کے حکمرانوں کی توجہ مبذول کروانا چا ہتے ہیں کہ مذ کورہ واقعہ ہا بیل کے قتل سے بھی بڑا واقعہ ہے ۔اور انسانی تاریخ کے خوبصورت ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے ۔قابیل انسا نیت کا پہلا قاتل ہے ۔ٹیری جونز آج کے گلوبل ویلج کا وحشی قابیل ہے جس نے قابیل کے بعد فساد فی الا رض کا فتنہ برپا کیا ہی۔وہ عالمی مجرم ہی۔وہ انتہا پسندی کی انتہا ئی خطر ناک طرز کا موجد اور بانی ہے ۔ٹیری جونز کا یہ قبیح عمل اس بات کا مکمل عکاس اور غماز ہے کہ انتہا پسندی دیگر مما لک کے بجائے امریکہ اور یورپی ممالک میں زیادہ ہے ۔یہ ملعون اس سے قبل بھی قرآن مجید کو جلانے کے اعلانات کرتا رہا ہی۔امریکی حکومت اسے روکنے کے لئے اپیلیں کرتی رہی لیکن اس کے عزائم کو انتہا پسندی نہ تصور کیا گیا۔دنیا ئے عیسا ئیت کے ایک فرقے کے سر براہ پوپ بینی ڈکٹ کی زبان بھی اب تک گنگ ہے ۔حا لانکہ ملعونہ آسیہ بی بی کے معاملے میں وہ سیخ پاہے ۔ہم طالبان یا القا ئدہ کو مسلمانوں کا نمائندہ یا ترجمان نہیں سمجھتے ۔عالمی سطح پر ان کی سرگرمیاں عالمی امن کی دھجیاں بکھیر رہی ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ آج تک انھوں نے بھی کسی نبی یا الہامی کتاب کی بے حرمتی نہیں کی ۔ٹیری جونز پادری کہلاتا ہے ۔لیکن اس نے قرآن مجید کو جلا ڈالا۔پنجاب کے وزیر کامران ما ئیکل نے اسے نام نہاد پادری کا نام دیا ہے ۔اور صوبائی اسمبلی میں قراردادِ مذمت لائی گئی ہے ۔دیگر عیسائی برادری حصہ بقدر جسہ سے بڑھ کر ٹیری جونز کی مکروہ حرکت کی مذمت کے ساتھ ساتھ سراپا احتجاج ہے ۔ملک بھر کے علماءِ کرام ،مشا ئخ عظام،طلبا،وکلاء صحافی ،تاجربرادری اور تمام لوگ سڑکوں پر ہیںلیکن حکومت کی طرف سے امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے ابھی تک روائتی احتجاج کا تکلف بھی نہیں کیا گیا ۔سلسلہ ہذا میں مفکر اسلام علامہ سید ریاض حسین شاہ مر کزی ناظمِ اعلٰی
جما عتِ اہل ِ سنت پا کستان کا مطا لبہ میرٹ کے عین مطابق ہے کہ اگر امریکی سفیر کو ایک ہفتہ کے دوران پاکستان سے نہ نکالا گیا تووہ کراچی سے ملک گیر لانگ مارچ شروع کریں گی۔
ہم قارئین کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے چا رٹر کی روشنائی صرف طاقت وروں کے لئے روشنائی ہے لیکن مسلمانوں اور مسلمان مما لک کے لئے وہ صرف سیا ہی ہے ۔اقوام متحدہ کا یہ ضابطہ حیات موجود ہے کہ ہر قوم دوسری اقوام اور مذہب کا احترام کرے گی علا وہ ازیں امریکہ اور پاکستان کے مابین extratition terrotiryنا می معا ہدہ موجود ہے جو مجرموںکے تبادلے پر مشتمل ہے یعنی اگر کو ئی پا کستانی جرم کرے اور وہ امریکہ کو مطلوب ہو تو پاکستان اسے امریکہ کے حوالے کرنے کا پابند ہے اور با لکل اسی طرح اگر کو ئی امریکی جرم کرے اور وہ پاکستان کو مطلوب ہو تو امریکہ اسے پا کستان کے حوالے کرنے کا پابند ہے ۔ایمل کانسی کو اسی معاہدہ کی روشنی میں امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹیری جونز ہمارا مجرم ہے کیا پاکستانی حکومت ٹیری جونز کی پاکستان حوالگی کے معاملے میں امریکہ سے مطا لبہ کرے گی؟۔کیا دیگر اسلامی مما لک سلسلہ ہذا میں اپنا کردار ادا کریں گی؟۔بہر حال ہم اپنی رائے کا اظہار کرنے سے اس لئے قاصر ہیں کہ ہم مسلمانوں کو مزید ما یوس نہیں کرنا چاہتے اور دعا بھی کرتے ہیں کہ ہمارے چھپی ہوئی رائے غلط ثا بت ہو جائے ۔
امریکہ کی یہ چال کون سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ مخصوص انداز سے اپنے نیو ورلڈ آرڈر کی تکمیل کے لیے مر حلہ وار پیش قدمی کر رہا ہے ۔وہ آہستہ آہستہ اسلامی قوت کی بیخ کنی کے پلان پر عمل پیرا ہے ۔کابل اور بغداد پر سی۔آئی۔اے بر سرِ اقتدار ہے ۔امریکہ دنیا بھر میں حکمران طبقہ جات کا سب سے بڑا خریدار ہے ۔جہاں کے حکمران اس کی دسترس سے باہر ہوں وہاں اپوزیشن سے سودے بازی کر لیتا ہے ۔تیونس،مصر،یمن اور لیبیا ء میں موجودہ شو رو غل چند دنوں کا نہیں بلکہ سالہا سال کا منصوبہ ہے ۔لیبیا پر نیٹو افواج نے دھا وا بول دیا ہے ۔عالمی اسلامی ردِ عمل سے بچنے کے لئے یہ کہنا دشوار نہیں کہ مسلمانوں کی توجہ لیبیا ء سے ہٹانے کے لئے ٹیری جو نز کی حما قتوں سے فائدہ اٹھالیا گیا ہو۔
المختصر!۔
شعا ئر اسلامی کی ایک تسلسل کے ساتھ بے حر متی اپنی جگہ پر عا لم اسلام کے اعصاب شل کرنے کی بڑی منصوبہ بندی ہے ۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس کے مئو ثر تدارک کے لئے مسلمان عالمی سطح پر کوئی بڑی حکمتِ عملی ترتیب نہیں دے سکی۔اس مو قع پر او۔آئی۔سی کا کردار مایوسی کی منہ بولتی تصویر سے زیادہ اہمیت کا حا مل نظر نہیں آتا۔ضرورت اس امر کی ہے مندرجہ زیل تجا ویز کو غور کے عمل سے گزارہ جائی۔
1. ۔تمام اسلامی ممالک کی مذہبی امور کی وزارتوں کے وزراء خانہ کعبہ میں اکھٹے ہو جا ئیں ۔’’عالمی اسلامی تنظیم تحفط ناموس اسلام‘‘ کے قیام کا اعلان کریں۔بعد ازاں مدینہ شریف میں بارگاہِ رسالت مآب ؐ میں حاضر ہو کر اور سرکار ِ کائنات سیدنا مصطفٰی کریم ؐکو گواہ بنا کر نصب العین کیساتھ استقا مت اور اخلاص کا عہد کریں۔یہ تنظیم تمام اسلامی ممالک میں سرکاری سرپر ستی میں کام کرے ۔دیگر ممالک میں اس کے دفاتر قائم کئے جائیں ۔اقوام ِ متحدہ کے دفاتر کے نیٹ ورک میں بھی دفاتر قائم کرنے کی جدو جہد کی جائی۔
2. ۔ قرآن مجید کو نذر ِآتش کرنے کے اس واقعہ پر عالمی اسلامی سطح پر اعلٰی سطحی سنجیدگی کا مظا ہرہ کیا جائے اور اس کے مئو ثر حل کے لئے سلامتی کونسل کا اجلاس بلوانے کا مطالبہ کیا جائے کیو نکہ مذہبی مسائل پر جو تنا ئو پیدا ہوتا ہے وہ کسی اور معا ملے پر پیدا نہیں ہوتا۔لہٰذا اس واقعے کو عالمی امن سے تعبیر کیا جائے ۔عالمی سطح کا مسلما نوں کا مئو ثر احتجاج امریکہ کو اس بات پر مجبور کر سکتا ہے کہ وہ ٹیری جونز کے خلاف تادیبی کاردائی کری۔
3. ترقی یافتہ ممالک کے مسلمان وہاں کی اعتدال پسند عیسا ئی کمیو نٹی سے رابطے بڑھا کر انھیں قرآن مجید کے اس پیغام سے روشناس کرائیںکہ قرآن انسانیت نوازی کا درس دیتا ہے ۔اس کے ما ننے والے مسلمان سیدنا عیسٰی علیہ السلام اور حضرت سیدہ مریم کے احترام کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔لہٰذا دنیا بھر کی عیسائی برادری ٹیری جونز کی جارحانہ کار وائی سے مکمل لا تعلقی کا اعلان کرے اور اس کی مذمت کرے نیز اسے کیفر کردار تک پہنچا نے کے مطالبے پر اسلامی برادری کا ساتھ دی۔
4. پاکستان کی حکومت ’’امن جرگہ‘‘ تشکیل دے جو امریکہ جا کر اوبامہ انتظا میہ کو ٹیری جونز کے خلاف مئوثر کاروائی پر آمادہ کرے ۔جرگہ میں مسلمانوں کے علاوہ عیسا ئی برادری کے ان رہنما ئوں کو شامل کرے جو امریکہ میں اپنا اثر ورسوخ رکھتے ہوں۔
5. موقع کا اس مناسبت سے دنیا بھر کے مسلمانوں سے انکی ایما نیات ،دینی جذ
بے اور قرآن مجید فرقانِ حمید ،برہانِ رشید سے قلبی لگائو کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہو ئے درد مندانہ اپیل کرتا ہوںکہ وہ قرآن مجید کو طاق نسیاں سے اٹھا لیں ۔غلاف پر موجود گرد جھاڑ لیں ترتیل تلا وت کو اپنا معمول بنائیں ۔یقین جانیں آپ کا یہ عمل حرمت ِ قرآن کا باعث ہوگا اور اس طرح تمام بے نوریاں کافور ہو جا ئیں

جیت ہماری ہو گئ

چاند روشن چمکتا ستارہ رہے
سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے

یہ وہ گیت تھا جو قائد اعظم کی آزادی کی تقریر کے بعد ریڈیو سے سنا گیا تھا جس میں ایک نئی قوم کا نیا جذبہ
اور یہ جذبہ چند سالوں میں بڑھتے بڑھتے ایک اور شکل اختیار کر گیا

آو بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی ۔ ۔ ۔ ۔ جی ہاں یہ گیت پاکستان کی سیر کراتا تھا اسی کا ایک شعر تھا

مشرق میں بنگال سنہرا ، ہر اک طرف ہریالہ ہے
سیلابوں نے سینچا اسکو ، طوفانوں نے پالا ہے
یہیں سراج الدولہ نے  ۔ ۔۔۔ ۔

مگر پھر گیت بدل گئے

گیتوں میں ، خیبر ، مہران ، مکران اور پنجاب رہ گئے

یہ اسی کی دہائی تھی ، اسکولوں کے سالانہ فنکشنز میں ایک ٹیبلو بہت مقبول تھا ، تقریباَ پاکستان کے ہر اس اسکول میں یہ ٹیبلو پیش کیا جاتا تھا جہاں سالانہ فنکشن ہوتا تھا ، اس کا محرک تھا فلم “کھوٹے سکے“ کا یہ گیت جس میں پاکستان کی نمائیندگئ کی گئی تھی اور پھر اس کا اختتام ایک خوبصورت مصرعے پر تھا ، پاکستان میں رہنے والے سب ہیں پاکستانی ، اس گیت میں آپ پنجابی سندھی بلوچی اور پختون کردار دیکھیں گے اور پھر محمد علی صاحب اس گیت کا اختتام پاکستان کی اساس پر کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ پہلے یہ گیت دیکھیں اور پھر اسکے بعد اگلا گیت بھی اسی کا تسلسل ہے

مگر اسی کی دہائی میں ہی پاکستان بدلنا شروع ہو چکا تھا ، افغانستان میں جہاد اور کراچی کی بدامنی نے ہمارے معاشرے پر بہت زیادہ اثر کیا ، آج جس بات کا زور شور سے ذکر کیا جا رہا ہے کہ ہم میں عدم برداشت ہے مگر یہ عدم برداشت کب شروع ہوئی ، اسی کی دہائی سے پہلے اسکا تصور بھی نہ تھا ، پاکستان ایک اسلامی ریاست تھی اور پاکستانیوں میں برداشت اور تحمل بھی بہت تھا ، اور جب ہم میں عدم برداشت شروع ہوئی تو ملک کے حساس طبقے یعنی لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھا اس پر سمجھانے کے لئے ، ایک فلم بنی تھی جس کا نام ہی “برداشت“ تھا ، فلاپ فلم ہونے کے باوجود اس کے کچھ ڈائلاگ آج بھی میرے ذھن میں ہیں ، جس میں ایک فوجی کو اپنے گاؤں کو بچانا پڑتا ہے اپنوں کے ظلم سے ، اور وہ کہتا ہے ،
“میں تو سرحد پر یہ سوچ کر حفاظت کرتا تھا کہ دشمن باہر سے میرے گھر پر بری نظر نہ ڈال سکے ، مجھے کیا پتا تھا کہ مجھے گھر کی حفاظت کی جنگ گھر کے اندر لڑنی پڑے گی “

یاد رہے یہ آج سے بیس پچیس سال پرانی فلم کا ڈائلاگ ہے ، مگر ہم نے اس وقت کان نہیں دھرے تو آج کیسے دھریں گے ، ہاں ایک بات ضرور ہوئی ہے ، ہم پاکستانی اب مزید بٹ گئے ہیں  ۔۔ ۔  مگر پھر بھی امید ہے  ۔ ۔۔  کہ جیت ہماری ہو گئ ،اب پہلے گیت کو اس گیت سے ملا کر دیکھیں اور سر دھنیں کہ ہم کیسے تقسیم ہوتے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔

فوج ، ایجنسیاں ، سیاست دان ۔ ۔ ۔ ایک مطالعہ

یہ ایک چھوٹی سی کہانی ہے پاکستانی فوج اور ایجنسیوں کی ، شاید کچھ اب بدل جائے مگر ممکن ہے بھی اور نہیں بھی ، میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ اپنے مطالعے اور مشاہدے کی بیس پر لکھا ہے ، اگر کوئی غلطی ہو تو معذرت چاہوں گا ، آپ کی آراء کا منتظر رہوں گا ۔ ۔  
———————————

پاکستانی فوج قیام پاکستان سے لے کر آج تک ساری دنیا کی نظروں میں رہی ہے ،  ہندوستان کے بٹوارے کے ساتھ ہر چیز کا بٹوارہ ہوا ، سو فوج کا بھی ہوا ، مگر چالاک انگریز نے پاکستانی فوج کا سربراہ ایک گورا ہی رکھا ، اور ہمارے رہنماؤں نے سوچا کہ چلو اس طرح شاید گورا انکا حکم مانے ، مگر گورے نے قائد کے حکم کو ماننے سے انکار کیا  (جنرل فرانک ) اور برطرفی سہی مگر اپنا جانشین ایک اور گورا ( ڈگلس گریسی ) کو چھوڑا اور اس نے بھی قائد کا حکم نہیں مانا مگر قائد تو دنیا ہی چھوڑ گئے ، تو گوروں نے فوج کو ایسا “ٹرین “ کیا کہ پاکستان کا پہلا ڈکٹیٹر پالنے کے لئے دے دیا ، پاکستان کی فوج اس وقت برٹش آرمی کا بہترین حصہ تھی ، اسی لئے جب سبھاش چندر بوس نے اپنی آرمی بنائی تو اس آرمی میں برٹش افسروں اور سپاہیوں نے اپنی خدمات پیش کیں تو جرمنوں نے انکی بہت تعریف کی (اصل میں ہٹلر اس آرمی کو اتحادی افواج کے خلاف استعمال کرنا چاہتا تھا )

انگریز نے اپنی حکومت قائم رکھنے کے لئے بہترین مخبری (انٹیلی جنس) کا نیٹ ورک بنایا تھا ، اسی لئے پاکستان فوج کے اس خصے کی زیادہ اہمیت تھی یعنی ملٹری انٹیلی جنس کی ، کشمیر پر ہندوستانی فوج قبضہ کر چکی تھی ، دوسری طرف مہاجرین کی آمد تھی ، تیسری طرف ایک نوزیدہ ملک کو بیرونی دنیا میں اپنی پہچان بنانی تھی  ۔ ۔ ۔  قدم قدم پر سازشوں کے جال تھے ایسے میں بہترین انٹیلی جنس ہی حکومت کی مدد گار تھی ، شروع میں ملٹری انٹیلی جنس اور پولیس نے مل جل کر ملک کے خلاف سازشوں کو بے نقاب کیا ، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان آرمی ، بانی پاکستان کو وہ سب کچھ نہیں دے سکی جو وہ چاہتے تھے ، حتہ کہ کشمیر کے موجودہ آزاد حصے کا سہرا بھی ان قبائیلوں کے سر جاتا ہے جنہوں نے اپنی جان دے کر بھارتی افواج کا مقابلہ کیا  ۔ ۔ ۔

میں سمجھتا ہوں پاکستان کے خلاف پہلی کامیاب سازش ، بانی پاکستان کی زیارت سے واپسی پر انکی ایمبولینس کا خراب ہونا اور پھر کسی دوسری گاڑی کا نہ ملنا  ۔ ۔ ۔  یہ وہ سازش تھی جس میں میں سمجھتا ہوں اس وقت کی آرمی اور پولیس کا بہت بڑا ہاتھ تھا کیونکہ وہ اسے بے نقاب نہیں کر سکیں  ۔ ۔ ۔

اور اس کامیابی نے سازشوں کو مزید پھیلا دیا ، جسکے نتیجے میں لیاقت علی خان کی شہادت ہوئی ، اور اس وقت تک فوج میں غیر ملکی  اثر نفوذ ہو چکا تھا ،  گورنر جنرل غلام محمد اپنی عیاشیوں میں گم تھے ، نوزیدہ مملکت تھی ، عوام میں خلوص تھا ، انصار مدینہ کی مثال قائم کر رہے تھے ، مگر وہیں پر ایسے بھی لوگ موجود تھے ، جو جھوٹے کلیم کا دھندا چلا رہے تھے ، بھارت سے آنے والے کروڑ پتی ، پاکستان آ کر فقیر بن چکے تھے ، اور فقیر لکھ پتی ہو چکے تھے ، حکمران جانتے تھے کہ عوام کے جذبات کو کیسے ابھارا جائے ، وہ بیداری جیسی فلموں پر ٹیکس معاف کر کے عوام کو پاکستانیت سکھا رہے تھے  ۔ ۔ ۔ پاکستان اور ہندوستان میں صرف ایک فرق تھا بٹوارے میں ، ہندوستان سے مہاجروں کی لٹی پٹی ریل گاڑیاں آ رہی تھیں اور پاکستان سے سونے سے لدی گاڑیاں ہندوستان جا رہی تھیں ، فسادات کا محور ہندوستانی مسلم اقلیت کے علاقے تھے ، نظام حیدر آباد اور خان آف قلات جیسے لوگ پاکستان کو مدد دے رہے تھے ورنہ پاکستان جن سازشوں کا شکار تھا وہ اسے زندہ نہ رکھ سکتیں  ۔ ۔

خیر بات ہو رہی تھی فوج کی ، پاکستان بنانے والے مخلص تھے ، لیاقت علی خان کے ذہن میں ١٩٤٥ کا بجٹ تھا ، سردار عبدالرب نشتر ، عبدلحق اور قاضی عیسٰی جیسے لوگ اقتدار کو خدمت سمجھتے تھے ، اسلئے وہ عوامی لوگ سمجھے جاتے تھے ، مگر فوج میں افسران اسکے بالکل برعکس تھے ، انہیں عوام سے لنک صرف مہاجرین کی آبادکاری اور سرحدی محافظت تک تھی ، فوج کے جونیر افسران بہت جذباتی تھے اور عوام کے ساتھ تھے سپاہی تو عوامی ہوتے ہی ہیں ، مگر فوج کے سربراہان اور حکمرانوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی شروع ہو چکی تھی ، اصل میں یہ سوچ شاید اسی دن بن گئی تھی جب جنرل گریسی نے قائد اعظم کے حکم کو رد کیا تھا  ۔ ۔ ۔ اور اسی سوچ نے اسکندر مرزا کو اقتدار سنبھالنے کا موقعہ دیا  ۔ ۔ ۔  ۔یہ اسکندر مرزا اس میر جعفر کی نسل میں سے تھا جسنے ٹیپو سلطان کو دھوکہ دیا تھا  ۔ ۔ ۔  اور اسی بنیاد پر اپنے اباء کی خدمات کی دہائی دے کر برٹش انڈیا کی فوج میں کمیشن حاصل کیا تھا  ۔ ۔ ۔   اسکندر مرزا نے گورنر جنرل بن کر مارشل لاء لگا دیا  ۔ ۔ ۔ آج تک اس مارشل لاء کی کوئی منطق پیش نہیں کی جا سکی  ۔ ۔ ۔  اور یہاں سے ہی فوج میں اقتدار کے حصول کے لئے رسہ کشی شروع ہوئی ، اسکندر مرزا جو صدر بن چکے تھے انکو فیلڈ مارشل ایوب خان نے ہٹا دیا  ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں سے پاکستان کی فوج کا ایک نیا روپ بنا ، ایوب خان نے عوام پر اپنی گرفت مضبوط کی ، انٹیلی جنس کو شاید سب سے پہلے ملکی رہمناؤں کی جاسوسی پر لگایا گیا ، فوج نے سیاست میں حصہ بھی اسی دور میں لیا ، فاطمہ جناح کو شکست دینے کے لئے فوجی اور بیورکریسی نے مل جل کر انتخابات کا ڈرامہ رچایا  ۔ ۔ ۔  ۔  ایوب خان نے پاکستان کو بین الاقومی طور پر ایک فوجی طاقت کے طور پر متعارف کروایا  ۔ ۔  ۔  لیاقت علی خان نے روس کو چھوڑ کہ جو دورہ امریکا کیا تھا ، اس کے تاثر کو زائل کیا ایوب خان نے ، اور بھارت کے روس کی قربت کو کم کرنے کے لئے ایوب خان نے روس سے تعلقات کو استوار کیا ، جسکے نتیجے میں ہم نے اسٹیل مل حاصل کی ، پاکستان سیٹو اور سنٹو جیسے فوج معاہدوں کا رکن بنا یعنی پاکستان دونوں بلاک میں تھا  ۔ ۔ ۔ ایوب خان نے بیرونی دنیا پر اپنا رعب تو جما لیا تھا مگر اندرونی سطح پر وہ ناکام تھے، بھارت نے پاکستان کے اسی ابھرتے ہوئے امیج سے گھبرا کر اور اندرونی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر ١٩٦٥ کا حملہ کیا ، جو ناکام یا کامیاب رہا یہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اچانک حملے کی وجہ پاکستانی ایجنسیوں کی ناکامی تھی ، کیونکہ وہ تو ایوب خان کے اقتدار کو مضبوط کر رہی تھی  ، مشرقی پاکستان کے لیڈروں کو تنہا کیا جا رہا تھا  ۔ ۔  ۔  عوام میں ایوب خان کے خلاف غصہ بڑھ رہا تھا  ۔ ۔ ۔  ایوب خان ہر ڈکٹیٹر کی طرح اپنی ایجنسیوں پر بھروسہ کئے بیٹھے تھے  ۔ ۔ ۔  مگر جب وہ تاحیات صدر بننے کے خواب دیکھنے لگے (جو ہر ڈکٹیٹر دیکھتا ہے ) عوام بپھر گئی  ۔ ۔۔  ملٹری انٹیلی جنس نے ایوب کو جانے کا کہ دیا اور ویسے بھی اس دوران ایک نوجوان نے جو ایوب کو ڈیڈی کہتا تھا ، باپ کو عاق کر دیا تھا ، ظلفقار علی بھٹو  ۔ ۔ ۔  عوام میں اپنی اہمیت منوا چکا تھا  ۔ ۔ ۔  اور پھر ایوب خان نے اپنی کمان ایک شرابی اور عیاش جنرل یحیٰی خان نے حوالے کر دی  ۔ ۔ ۔ ۔ یحیٰی خان  ۔ ۔ ۔  پاکستان کا رنگیلے شاہ ثابت ہوا  ۔ ۔ ۔  اس دوران بھارت کو پھیر موقع ملا اور مشرقی پاکستان پر فوج کشی کر دی گئی  ۔ ۔ ۔  انتخابات بھی ہوئے  ۔ ۔  ہماری ایجنسیاں کچھ بھی نہ کر سکیں  ۔ ۔ ۔ جانے کہاں سوئ ہوہیں تھیں جب مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی اور شانتی باہنی کا بیج بویا جا رہا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ سیاست دانوں نے اسی کو موقع جانا اور اقتدار کی رسہ کشی ہونے لگی  ۔ ۔ ۔ اور اسی میں رسہ ٹوٹ گیا  ۔  ۔ اور اپنے اپنے حصے کے رسے کے ساتھ سب رسہ کشی کرنے لگے  ۔ ۔ ۔  بھٹو جو کہ ایوب کے صحبت زدہ تھے ، اپنے ڈیڈی کی روایت پر عمل کیا اور سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن گئے اور انہوں نے ایجنسیوں کو اپنی خدمات پر لگا دیا  ۔ ۔ ۔  بھٹو نے سات سال تک پاکستانی سیاست کو نئے رنگ دیے  ۔ ۔ ۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی تاریخ میں صرف بھٹو کا دور خالص سیاسی تھا ، بلکہ سیاسی اکھاڑہ تھا  ۔ ۔ ۔ بھٹو نے فوج میں بھی اپنا اثر چھوڑا  ۔ ۔ ۔ خاصکر ایجنسیوں میں  ۔ ۔۔  سیاست میں فوج تھی پہلے ہی مگر سیاسی مخالفت میں فوج کی خفیہ ایجنسیوں کو سب سے پہلے بھٹو نے استعمال کیا  ۔ ۔ ۔  ٹارچر سیل بنائے گے  ۔ ۔ ۔ سیاسی مخالفوں کی “عزت افزائی“ کی گئی  ۔ ۔ ۔  مگر بھٹو نے بھی اپنے ڈیڈی والی غلطی کی  ۔ ۔ ۔ وہ بین الاقوامی لیڈر تو بنے اور عوام میں مقبول ہونے مگر عوام کے لئے روٹی کپڑا مکان کے نعرے کے سوا کچھ نہ کر سکے  ۔ ۔ ۔ ۔  بھٹو کی حکومت کی وجہ سے فوج میں واضح تبدیلی ہوئی  ۔ ۔ ۔  فوج میں اسلامی عنصر واضح ہوا اور سیکولر عنصر نے بھی اپنی جگہ بنا دی  ۔  ۔  ایجنسیوں کا بھی قبلہ بدلنے لگا   ۔ ۔ ۔  ۔  اور اس قبلہ کی تبدیلی بھٹو جیسا سیاست دان بھی نہ سمجھ پایا اور  ۔ ۔ ۔  ۔  جنرل ضیاء الحق نے انکا دھڑن تختہ کر دیا تھا  ۔ ۔  ۔  میں ایک بات سمجھتا ہوں کہ شاید فوج نے جو پہلا اتحاد حکومت کے خلاف یا پیپلز پارٹی کے خلاف بنایا وہ قومی اتحاد تھا  ۔ ۔  ۔ کیونکہ اسے فوج کی حمایت حاصل تھی  ۔ ۔ ۔ مگر دوغلے سیاستدان اس “فیور“ کا فائدہ نہ اٹھا سکے اور اسلامی مارشل لاء لگ گیا  ۔ ۔ ۔  ۔

پاکستان روس افغان جنگ میں بین الاقوامی ایجنسیوں کا اڈا بن گیا  ۔ ۔ ۔  روسی کے جی بی ، امریکی سی آئی اے ، بھارتی را اور حتہ کہ ایرانی ایجنسیز تک پاکستان کے کونے کونے میں پھیل گیئیں مخبر خریدے اور بیچے جانے لگے  ۔ ۔ ۔  میں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ کچھ ایجنسیاں جو روس کے ساتھ جنگ کے لئے بنائی گئیں تھیں انہیں بعد میں ختم نہیں کیا گیا  ۔ ۔ ۔ ۔  ایم آئی (ملٹری انٹیلی جنس ) ، آئی بی (انٹیلی جنس بیورہ ) وغیرہ نے اپنی بہت سی ذیلی ایجنسیاں بنائیں  ۔ ۔ ۔ جو کافی حد تک خود مختار تھیں  ۔ ۔ ۔  ان ایجنسیوں نے افغانستان میں بہت “کارنامے“ انجام دئیے  ۔ ۔ ۔  “مجاہدین“ کے “ٹولے“ بنائے  ۔ ۔  ۔ اور پھر ان ٹولوں کو افغانستان میں پھیلا دیا  ۔ ۔ ۔  اندرونی طور پر بیرونی طاقتیں پاکستان کو کمزور کر رہی تھیں ، یعنی ہماری ایجنسیاں بیرون ملک سرگرم عمل تھیں اور بیرونی ایجنسیاں ہمیں کھوکلا کر رہی تھیں  ۔ ۔ ۔  روس افغانستان سے نکل گیا اور امریکہ پاکستان سے  ۔ ۔ ۔ اور باقی سب لوگ ادھر ہی رہ گئے  ۔ ۔ ۔ افغان “مجاہدین“ اور “مہاجرین“  ۔ ۔ ۔  ۔ اور بھارتی ایجنسیاں  ۔ ۔ ۔  اس چیز کا احساس ١٩٨٤ کے آغاز میں ہوا جب کراچی میں تشدد پھوٹ پڑا ایک طالبہ ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوئی ، ہنگامہ ہوا  ۔ ۔ ۔  اور کرفیو لگا دیا گیا  ۔ ۔ ۔  فوجی حکمرانوں کی یہ ہی منطق خراب تھی  ایک طرف وہ سیاست دانوں کو ہم نوا بنا رہے تھے دوسری طرف انہیں کو دبا رہے تھے  ۔۔ ۔  ایک ایسے واقعے کو جسے عام پولیس ہینڈل کر لیتی  ۔ ۔ ۔ اسے سیاسی بنایا گیا اور پھر فوجی بنا کہ کرفیو لگا دیا گیا   ۔ ۔ ۔  ۔ ۔

اب ایجنسیوں نے اپنے گھر کی طرف دیکھا تو  ۔ ۔ ۔ ۔  چوں چوں کا مربعہ تیار تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ کسی کو کچھ پتہ نہ تھا کہ کیا کرنا ہے ، لیڈر خریدے اور بیچے جانے لگے  ۔ ۔ ۔   اور اس کام کے لئے وہ پیسہ استعمال کیا گیا جو افغان وار کی خدمات کا صلہ تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  جو فوج کے پاس “وافر“ مقدار میں موجود تھا  ۔ ۔ ۔ ۔   اور پھر ہمارے امیر المومنین مرد مومن مرد حق ضیاء الحق نے  بین الاقوامی سطح پر پر پرزے نکالنے شروع کئیے تھے  ۔ ۔  ۔ ۔  اور سیاست دانوں کو “تھلے “ لگانے کا منصوبہ بھی ریڈی تھا   ۔ ۔ ۔  ایم کیو ایم کو لسانی طور پر کھڑا کیا جا رہا تھا  ۔ ۔ ۔ کہ یہ لوگ سیاست دانوں پر پریشر گروپ بنا سکیں ۔ ۔  ۔  معصوم وزیر اعظم جونیجو اپنی آل پارٹی کانفرنس کے ڈرامے کی اور اوجڑی کیمپ کے حادثے میں جنرلوں کے ثبوت مٹانے کے عمل کا “راز“ فاش کرنے کی  سزا بھگت چکے تھے کہ  ۔ ۔ ۔  اللہ کے نیک بندے کو اللہ نے ہوا میں ہی اٹھا لیا  ۔ ۔ ۔ ۔

اس حادثے نے ہماری فوج کے ان تمام افسران کو ایک ہی جھٹکے میں ختم کر دیا گیا جو کسی نہ کسی حوالے سے روس افغان جنگ سے متعلق تھے  ۔ ۔ ۔  مجھے ان میں سب سے زیادہ افسوس تھا برگیڈیر صدیق سالک کی شہادت پر ، ایمرجنسی جیسے ناول کے خالق اور پھر سقوط ڈھاکہ کی پہلی سچی جھلک کے مصنف ہونے کی وجہ سے میں انکا مداح تھا  ۔ ۔ ۔

خیر اس حادثے میں اور کچھ بچا ہو یا نہ ہو  ۔ ۔ ۔  ہماری خفیہ ایجنسیاں بچ گئیں  ۔ ۔ ۔  جنرل حمید گُل  ۔ ۔  زندہ رہے ، اسد درانی زندہ رہے  ۔۔ ۔  اور اس وقت کے جہانگیر کرامت بھی کراماتی طور پر زندہ رہے  ۔ ۔۔ 

خیر ایجنسیاں جو خود مختار نہیں بھی تھیں ، انکی بھی ڈوریاں ہلانے والے نہ رہے  ۔ ۔ ۔  اور پھر فوج کو ڈر ہوا کہ کہیں عوام پیپلز پارٹی کو نہ لے آئیں  ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بے نظیر کا استقبال دیکھ چکے تھے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور بے نظیر کی پارٹی فوج کو بھٹو کی موت کا ذمہ دار قرار دے چکی تھی  ۔ ۔ ۔  مگر  ۔ ۔   بے نظیر آ ہی گئی  ۔ ۔ ۔ ۔ اور ایجنسیاں ڈر کے مارے وہ کھیل کھیلنے لگیں جن کے نتیجے میں پاکستان کی ایجنسیاں جو صدر کے ماتحت تھیں  ۔ ۔  ۔  بے نظیر کو گرانے میں کامیاب ہو گئیں  ۔۔ ۔ ۔  اور نواز شریف کو لایا گیا  ۔ ۔  ۔  مگر نواز شریف جو خود ضیاء کی غیر جماعتی اسمبلی کی پیداوار تھے  ۔ ۔ ۔ اور بے نظیر کے دور میں پنجاب کے وزیر اعلٰی کے طور پر طفیلیے سیاست دان سے عوامی سیاست دان تک سفر کر چکے تھے  ۔ ۔ ۔ لہذا وہ بھی صدارتی محل کی بھینٹ چڑھ گئے  ۔ ۔ ۔  اب ایجنسیاں سیاست دانوں کو اپنے ہاتھوں پر نچا رہیں تھیں اور آنا جانا لگ گیا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  ہم نے امپورٹڈ وزیر اعظم تک استعمال کر لیا تھا  ۔ ۔ ۔  اور پھر اسی میوزیکل چئیر کے گیم میں جنرل مشرف نے ١٩٧٧ والا کھیل کھیلنا چاہا مگر اس وقت تک حالات بدل چکے تھے  ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان جو بین الاقوامی طاقتوں نے بھلا دیا تھا ، گریٹ افغان گیم کا حصہ بن چکا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  اور نواز شریف اور بے نظیر دونوں کو باہر دھکیل دیا گیا  ۔ ۔ ۔ ۔

ایوب خان کو ٦٥ کی جنگ اور عالمی پولرازیشن نے اقتدار کو طول دینے کا موقعہ دیا تھا ، ضیاء کو روسی جارحیت نے اور مشرف کو نائن الیون نے  ۔ ۔ ۔ ۔  سامنے کے کھلاڑی اور تھے اور خفیہ اینجنسیاں نئے نئے کھیل کھیل رہیں تھیں ، بھٹو دور میں جیسے فوج دو حصوں میں بٹی تھی ایسے ہی مشرف دور میں ہوا ، اس دفعہ سیکولر طبقہ اوپر آیا مگر مشرف کی ضرورت سے زیادہ امریکہ نوازی نے ملک میں جو بحران جنم دئیے وہ مشرف کو لے ڈوبے  ۔  ۔۔  ایوب خان نے سیاسی طفیلیے بنانے کا فارمولہ بنایا ، ضیاء نے منشیات اور کلاشنکوف سے ملک کو بھر دیا اور مشرف نے خود کُش حملوں  کا تحفہ دیا  ۔ ۔ ۔ ۔

بے نظیر اور نواز شریف بین الاقوامی کھیل کو سمجھ چکے تھے ، اسی لئے دونوں نے میثاق جمہوریت کیا ، اور واپس آ گئے ، حکمرانوں کو نواز شریف سے اتنا ڈر نہیں تھا جتنا بے نظیر سے تھا ، امریکہ کو بھی بے نظیر کی فکر تھی کیونکہ اس کا لھجہ بدل چکا تھا  ۔ ۔  وہ اب عوامی زبان میں بول رہی تھی ۔۔۔۔ یہ زبان ویسی ہی تھی جیسی کبھی بھٹو کی تھی  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

ایجنسیوں کو پتہ تھا کہ اب اگر بے نظیر برسر اقتدار آئی تو فوج کا حکمرانوں پر اثر و رسوخ ختم ہو جائے گا ، اس دوران انہیں ایجنسیوں کو پتہ تھا کہ بے نظیر کا امیج ایک سیکولر لیڈر کا ہے جبکہ نواز شریف کنزرویٹو سمجھے جا رہے تھے ،  پاکستان کی تیسری جماعت یعنی مذہبی جماعتیں سرحد میں اپنے اثر کو کھو چکی تھیں اور باقی ملک میں بھی انکی عزت انکے کرتوتوں کی وجہ سے نہیں تھی ، ١٩٧٧ کے بعد سے مذہبی جماعتوں کا جھکاؤ فوج کی جانب رہا تھا ، مگر اب فوج کو معلوم تھا کہ مذہب کے نام پر اب عوام سے نہیں کھیلا جا سکتا کیونکہ طالبان نے مذہب کی غلط تشہیر کی تھی  ۔ ۔ ۔  فوج کے سیکولراور کنزرویٹو حصوں دونوں نے دونوں لیڈروں کو منظر سے ہٹانے کا فیصلہ کیا مگر بے نظیر پر حملہ کامیاب ہوا  ۔ ۔  ۔ ۔

جنرل مشرف کا خیال تھا کہ بے نظیر اسکا ساتھ دے گی مگر ججز کی برطرفی اور ایمر جنسی نے بے نظیر کے خیالات کو بدل دیا تھا ، اور وہ ایک بار پھر نواز شریف کی ہم آواز تھیں  ۔ ۔ ۔ ۔

فوج کی ایجنسیاں ایک بار پھر سیاست دانوں کی ٹوہ میں تھیں  ۔  ۔ ۔ مگر اس دفعہ سیاست دانوں کے کھیل کھیلا  ۔ ۔ ۔  اور ایک آمر کو پہلی بار  “باعزت“ رخصت کیا  ، مگر سیاست دانوں کی اقتدار کی ہوس آج بھی ہے ہماری زیادہ تر ایجنسیاں صدر کے ماتحت ہیں اور اسی لئے صدر صاحب زیادہ تر ملک سے باہر رہتے ہیں  ۔ ۔ ۔  ۔ اور باقی ایجنسیاں  ۔ ۔ ۔  ۔  امریکی خاطر مدارات میں لگیں ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہ ایک چھوٹی سی جھلک ہے جو ہمارے ملک کی ایجنسیاں کھیل کھیلتیں ہیں ، میں جانتا ہوں کہ آپ لوگ اس تاریخ کو جانتے ہیں مگر ایجنسیوں کی نظر سے دیکھیں تو شاید ہمیں پتہ چلے کہ ہم ابھی تک ایک ڈر سے نہیں نکل پائے کہ اقتدار اگر ہاتھ سے نکل گیا تو کیا ہو گا ، یہ ڈر سیاست دانوں اور فوجی افسران دونوں میں ہے ، اسی لئے ایک دوسرے کے خلاف یہ برسر پیکار رہتے ہیں  ۔ ۔ ۔ اور دوسری طرف ہماری ڈسپلن فوج ، ان ڈسپلن سیاست دانوں کا شکار بھی بنتی ہے  ۔ ۔ ۔ 

آج ہمارے سیاست دانوں میں کوئی بھی قائد اعظم جیسا نہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ ہماری فوج کے سربراہوں میں جنرل گریسی کی روح موجود ہے جو آج بھی عوامی نمائندے کا حکم ماننے سے انکاری ہے  ۔ ۔  ۔ ۔ ۔

آزادی کی کہانی – آخری قسط – تقسیم ہند

سائمن کمیشن نے ١٩٢٧ میں کچھ اور اصلاحات پیش کیں اور اسی سال مسلمانوں نے دہلی تجاویز پیش کیں جنہیں کانگریس نے پہلے منظور کیا اور پھر مسترد کر دیا جسکی وجہ سے مسلمانوں نے ایک پارٹیز مسلم کانفرنس بلائی اور ان حالات کا جائزہ لیا ، ١٩٢٨ میں جواہر لال نہرو نے اپنی مشہور رپورٹ پیش کی جو مسلمانوں کے خلاف جاتی تھی اسلئے مسلم لیگ نے اسے یکسر مسترد کر دیا اور یہاں سے ایک الگ سفر شروع ہوا کانگریس ہندؤں کی جماعت بن گئی اور مسلم لیگ مسلمانوں کی  ۔ ۔ ۔ گول میز کانفرنسوں میں بھی ہندوستان کی آزادی کی بات کی گئی مگر کوئی بھی حتمی فیصلہ نہ ہو سکا  ۔ ۔ ۔
١٩٣٥ میں جو قانون بنا اسکے مطابق کانگریس اور مسلم لیگ کو وزارتیں ملیں مگر کانگریس نے یہ حکومت نہ چلنے دی اور آخر ١٩٤٠ میں لاہور کے جلسے میں مسلم لیگ نے علاحدہ وطن کا مطالبہ کر دیا  ۔ ۔ ۔ ۔
ہندو اخبارات نے اسے قراداد پاکستان کا نام دیا جو آگے چل کر سچ ثابت ہوا اور دو قومی نظریہ کی سچائی بھی سامنے آ گئی ۔ ۔ ۔  ١٩٤٢ میں کرپس مشن نے مزید اصلاحات دیں مگر کانگریس کی ہندوستان چھوڑ دو کی تحریک نے اور پھر سبھاش چندر بوس کی ائی این اے ( انڈین نیشنل آرمی) کے قیام نے مزید مشکلات پیدا کر دیں
١٩٤٤ میں گاندھی جناح مذاکرات پاکستان کے ایشو پر ناکام ہو گئے اور ١٩٤٦ میں مسلم لیگ نے اپنی وزارتوں سے ہندوستانیوں کے دل میں مقام پیدا کر لیا ، اور ١٩٤٦ میں کیبنٹ مشن نے ہندوستان کی خود مختاری کے لئے تجاویز پیش کیں اور جنکا اختتام تین جون ١٩٤٧ کے آزادی کے منصوبے پر ہوا  ۔ ۔  اور ہندوستان تقسیم کے لئے تیار ہو گیا  ۔ ۔  کانگریس نے اس منصوبے کی بہت مخالفت کی مگر مسلمان ہند نے جو عہد ٢٣ مارچ ١٩٤٠ کو کیا تھا وہ ١٤ اگست ١٩٤٧ کو پورا ہو گیا  ۔ ۔ پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک عظیم اسلامی ملک بن کہ ابھرا  ۔ ۔ ۔
چوبیس گھنٹوں کے بعد ہندوستان سو سالہ غلامی سے آزاد ہو گیا  ۔ ۔  آج یہ دونوں ملک ایک حقیقت ہیں اور ہماری دعا ہے کہ ملک امن و محبت سے رہیں  ۔ ۔ ۔
آزادی کی کہانی ختم نہیں ہوئی  ۔ ۔ بلکہ یہ چل رہی ہے ، ہم کہنے کو ١٩٤٧ میں آزاد ہو گئے تھے مگر ہم نے اپنی اس آزادی کی قدر نہیں کی  ۔ ۔  اسی لئیے آج ہم ظاہری طور پر آزاد  ہوتے ہوئے بھی ذہنی طور پر غلام ہو چکے ہیں  ۔ ۔ ۔
میں نے اس کہانی میں صرف حقیقت بیان کرنے کی کوشش کی ہے اگر کوئی غلطی ہو گئی ہو تو اسکی معذرت چاہتا ہوں  ۔ ۔ ۔
کوشش کروں گا کہ اس سلسلے پر مذید کچھ لکھ سکوں اگر وقت نے اجازت دی  ۔ ۔ ۔ آپکی آراء کا منتظر رہوں گا  ۔ ۔ ۔
اظہرالحق
شارجہ ، متحدہ عرب امارات
اگست ٢٠٠٨

آزادی کی کہانی – تیرہویں قسط – ایک اور چنگاری

پہلی جنگ عظیم کے بعد دنیا میں تبدیلیاں شروع ہو چکی تھیں ، جنکا لامحالہ اثر ہندوستان پر بھی ہوا ، خاصکر مسلمانوں پر  ۔ ۔  عثمانی سلطنت کا زوال بہت اثر کر رہا تھا  ۔ ۔ ۔ جسکی وجہ سے ١٩١٩ میں تحریک خلاف چلائی گئی  ۔ ۔ ۔ اور گاندھی جی کی عدم تعاون کی تحریک  نے بھی اسکو بہت اچھا بوسٹ دیا اور انگریز بہت مشکل میں پڑ گئے  ۔ ۔ ۔ تحریک خلافت اور عدم تعاون کی تحریک میں سیکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور مارشل لا لگا دیا گیا   ۔ ۔ ۔ مگر اسکا سب سے افسوسناک واقعہ جلیاںوالا باغ کا تھا جس میں تقریباً چار سو کے قریب لوگ مارے گئے اس واقعے کا مرکزی کردار جنرل ڈائیر تھا اسکی وجہ سے جمیعت علمائے ہند نے جہاد کا فتویٰ دیا اور لوگ جوق در جوق اس تحریک میں شامل ہونے لگے مگر  ۔ ۔ ۔  ترکی ہار گیا ۔ ۔ ۔ اور مسلمانوں میں بہت مایوسی پھیل گئی ۔ ۔ ۔  مگر اس میں زیادہ قصور مسلمانوں کا اپنا بھی تھا جو تنکوں کی طرح سے بکھرے ہوئے تھے  ۔ ۔ ۔
ہندوستان کے مسلمان رہنما مسلمانوں کی اس کیفیت کو سمجھتے تھے  ۔ ۔ ۔ خاصکر علامہ محمد اقبال  ۔ ۔ ۔ انہوں نے اپنی شاعری کی مدد سے قوم میں ایک نئی روح بیدار کی ، مسلمانوں کو انکا ماضی بھی بتایا اور انکا مستقبل بھی  ۔۔  ۔۔   ۔ ۔ ۔  انہوں نے اپنی نظموں اور ترانوں سے ایک نسل کو متاثر کیا  ۔ ۔ ۔ ۔  اقبال نہ صرف ایک اچھے شاعر تھے بلکہ ایک اسکالر بھی تھے  ۔ ۔  انہوں نے ہی ١٩٣١ کے مسلم لیگ کے جلسے میں مسلمانوں کی الگ ریاست کا تصور پیش کیا  ۔۔ ۔  یہاں یہ بات ضرور ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ تصور ہندوستان کی فیڈریشن کے اندر رہتے ہوئے تھا    ۔ ۔ ۔ ۔  مگر ہندؤں کی کم ظرفی اور انگریزوں کی سازشوں نے اسے ایک الگ ملک کی تحریک میں بدل دیا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آزادی کی کہانی – بارہویں قسط – جناح اور گاندھی

١٩٠٥ میں انگریزوں کا ایک فیصلہ مسلمانوں کے حق میں گیا  ۔ ۔ ۔ اور وہ تھا بنگال کی تقسیم ، جسکی وجہ سے مسلمانوں کو بنگال میں کافی فائدہ ہوا ، ٣٠ دسمبر ١٩٠٦ کو سر سید کی محمڈن ایجوکیشن کانفرنس میں جو ڈھاکہ میں ہوئی نواب سلیم اللہ کی تجویز پر مسلمانوں کی ایک الگ سیاسی تنظیم کی تجویز کو پسند کیا گیا اور نواب وقار الملک ( جو اس جلسے کی صدارت کر رہے تھے ) حمایت کی اور یوں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام ہوا  ۔ ۔ ۔ جسکا ہیڈ کواٹر لکھنؤ میں تھا اور سر آغآ خان اسکے پہلے صدر تھے ۔ ۔ ۔ شروع میں اسکے چھے نائب صدور بھی تھے اور ابتدائی اراکین کی تعداد چار سو کے قریب تھی  ۔ ۔ ۔  مولانا محمد علی جوہر نے اسکا منشور لکھا اور سید امیر علی نے ١٩٠٨ میں لندن میں بھی مسلم لیگ کی شاخ قائم کی جسنے محمد علی جنا کو ہندوستان لانے پر آمادہ کیا  ۔ ۔ ۔ ۔
اور دوسری طرف ١٩١٥ میں گاندھی جی اپنے رفقاء کے اسرار پر ساؤتھ افریقہ سے واپس آئے جو کہ ١٩٠٢ میں ہندوستان چھوڑ کر چلے گئے تھے  ۔ ۔ ۔
یہ عجیب مماثلت ہے دونوں رہنماؤں میں (جناح اور گاندھی میں) کہ دونوں نے وکالت کی تعلیم حاصل کی دونوں نے پریکٹیس ہندوستان میں شروع کی ، دونوں ہی مایوس ہو کر ہندوستان چھوڑگئے اور دونوں ہی اپنے دوستوں کے کہنے پر واپس ہندوستان آئے اور اپنی اپنی قوم کو انگریزوں سے آزادی دلوائی  ۔ ۔ ۔ جنگ ایک تھی ، مگر اسکے انجام دو ہوئے  ۔ ۔ ۔۔
دو عظیم رہنما جناح اور گاندھی شروع میں اکھٹھے تھے اور دونوں ہی ہندو مسلم اتحاد کے قائل تھے اسلئے ایک عرصے تک مسلم لیگ اور کانگریس میں کوئی خاص اختلاف سامنے نہ آیا ۔ ۔ ۔  بلکے گاندھی اور جناح کے درمیان مسلسل رابطہ رہا  ۔ ۔ ۔ اور اسی کی وجہ سے ١٩١٥ میں مسلم لیگ اور کانگریس نے ملکر اصلاحات کو مزید وسعت دینے کی ڈیمانڈ کی اور اس میں سولہ رکنی وفد نے وائسرائے سے ملکر اسے ہندوستان میں ہندوستانیوں کی حکومت کی تجویز دی  ۔ ۔۔  اور ان کوششوں میں جناح پیش پیش تھے اور اسی وجہ سے انہیں سروجنی نائیڈو نے ہندو مسلم اتحاد کا سفیر قرار دیا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(جاری ہے )