Archive for the ‘تاریخ’ Category

واپسی : ایک سائنس فکشن

واپسی (ایک سائنس فکشن)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد ائیر پر ہر وقت ہائی الرٹ رہتا ہے ، مگر آج زیادہ تھا کہ وزیراعظم اور صدر صاحب چینی صدر کو خوش آمدید کہنے کے لیے موجود تھے چینی صدر کا طیارہ لینڈ ہونے میں دیر تھی ، وی وی آئ پی روم میں اہم شخصیات موجود تھیں ۔ ۔ اس لیے سیکیورٹی والے ادھر اُدھر بھاگتے پھر رہے تھے

ائیر ٹریفک کنٹرول میں بھی بہت گہما گہمی تھی ، کچھ فلائیٹس کا رُخ موڑا جا رہا تھا ، تا کہ چینی صدر کے طیارے کو ایک کھلا راستہ فراہم کیا جائے ، اور کسی بھی ڈسٹربنس سے بچا جا سکے ، سلیم ریڈار کی اسکرین پر نظریں جمائے بیٹھا تھا ۔ ۔ ۔ اچانک اسکرین پر ایک جھماکہ سا ہوا اور ایک اجنبی جہاز نظر آنے لگا ۔۔ ۔ کمپیوٹرائز ریڈار نے اسے فوراً شناخت کر لیا ۔ ۔۔ ڈاکوڈا ۔ ۔ ۔ سلیم کے منہ سے نکلا اور اسنے اپنے افیسر کو آواز لگائی سر جمال سر جمال یہ دیکھیے ۔ ۔ ۔ اور جب تک جمال سلیم تک پہنچے اسپیکر سے کھڑ کھڑ کی آواز آنے لگی ، لینڈینگ پرمیشن ، یہ کون سا ائیرپورٹ ہے ۔ ۔ اجنبی فلائیٹ یہ بے نظیر انٹرنیشنل ہے ۔۔ اسلام آباد ۔ ۔ اسلام آباد ۔ ۔ یہ کون سا شہر ہے ہندوستان کا شہر نہیں ۔ ۔۔ جمال نے فوراً ایمرجنسی کا بٹن دبا دیا ۔ ۔۔ اور چیخا ۔ ۔ ۔ چینی پریزیڈنٹ کا روٹ چیج کرو ۔ ۔شاید اسے خطرے کا احساس ہو گیا تھا
دوسری طرف اجنبی جہاز اب وئژیل رینج میں تھا ، سلیم نے اسے دیکھا یہ تو واقعی ہی ڈاکوڈا جہاز تھا ، جسے اب دُنیا میں کہیں استعمال نہیں کیا جاتا تھا ، اسنے پاس پڑی دوربین اٹھائی ۔ ۔ ۔ جہاز نے زمین کی طرف تیزی سے بڑھ رہا تھا ۔ ۔۔ اور فوری طور پر اسے اب جنگی جہازوں نے گھیر لیا تھا کیونکہ ائیرپورٹ کو ہر طرح کی پروازوں کے لیے بند کیا جا چکا تھا ۔ ۔ ۔ ہم لینڈ کر رہے ہیں ۔ ۔۔ اسی لیے لمحے ۔ ۔ ۔ جنگی طیارے کے سکوارڈن لیڈر کی آواز گونجی ۔ ۔ سر ہم یہ جہاز گرا سکتے ہیں مگر آبادی پر گرے گا ۔ ۔ پرمیشن ڈینائڈ ۔ ۔ یہ آواز فوجی کنٹرول روم کی تھی ۔ ۔ اور اسی کے ساتھ سلیم نے دیکھا کہ جہاز کے ٹائیر رن وے پر تھے اور جہاز رننگ کر رہا تھا ۔ ۔۔ اپنی پہچان کراؤ ڈکوڈا ۔ ۔ ۔ ہم بمبئی سے آ رہے ہیں ، جہاز میں گورنر جنرل اور انکی بہن موجود ہیں ۔ ۔۔ کون گورنر جنرل ۔ ۔۔ گورنر جنرل آف پاکستان ۔ ۔۔ مسٹر جناح ۔ ۔ ۔ دوسری طرف سے حیرت زدہ آواز سنائی دی ۔ ۔ ۔ یہ کون سے جہاز ہیں ۔ ۔ پائلٹ ۔ ۔ کی حیرت زدہ آواز گونجی ۔ ۔۔ بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ۔ ۔۔ یہ کون سا ائیرپورٹ ہے ۔ ۔۔ سلیم جس کا زبان ساتھ چھوڑ چکی تھی ۔ ۔ گورنر جنرل مسٹر جناح ۔ ۔۔ جمال صاحب کی آنکھیں ڈکوڈا کو دیکھ رہی تھیں ۔ ۔ ۔ بالکل وہی ۔ ۔ انکے منہ سے نکلا ۔ ۔۔ جہاز کو اب سیکیورٹی کی گاڑیوں کے گھیر لیا تھا ، یہ سب کچھ دس منٹ کے اندر ہوا تھا ۔ ۔ ۔
ایک دم سے کنٹرول روم کا دروازہ کھلا اور برگیڈئیر صالح کچھ فوجی کمانڈو کے ساتھ تیزی سے اندر آئے ، مسٹر جمال کیا ہے یہ سب ۔ ۔ سر سر ۔ ۔ وہ جناح ۔ ۔۔ سر یہ قائد اعظم کو لانے والا ہی جہاز ہے ۔ ۔ وٹس ربش ۔ ۔ جمال تم ہوش میں ہو ۔ ۔ ۔ سر ۔ ۔ سر آپ خود دیکھ لیں ۔ ۔ دیکھ رہا ہوں ۔ ۔ یہ کوئی چال ہے دشمن کی ۔ ۔ کیا ١٩٤٧ کاجہاز ستر سال بعد اتر رہا ہے ۔ یہ کوئی جادو نگری ہے کیا ۔ ۔۔کمیونیکیٹر کون ہے ۔ ۔ سر ۔۔ میں ہوں سلیم ۔ ۔ پائلیٹ سے بات کرواوء ۔ ۔۔ سر ادھر سر ۔ ۔ ۔ جمال چینی صدر کے طیارے کو کہاں موڑا گیا ہے ۔ ۔ سر ۔۔ ۔ چکلالہ ائیربیس پر ۔ ۔ ۔اوکے ۔ ۔ گُڈ ۔ ۔ یہ خبر پی ایم تک پہنچانے ہو گی کہ وہ چینی صدر کے استقبال کے لیے چکلالہ ائیر بیس پہنچ جائیں ۔ ۔ ۔ جج جج جی سر ۔ ۔۔ کنڑول کنٹرول جمال نے اپنا وئیرلیس اٹھایا اور باہر کی طرف بھاگا ۔ ۔ ۔
ڈاکوڈا ۔ ۔ ۔ اپنا انٹروڈکشن کراوء ۔ ۔ میں اس وقت یہاں اسکیورٹی انچارج ہوں ۔ ۔ ۔ برگیڈئیر صالح ۔ ۔ مسٹر صالح ۔ ۔ ہم بمبئی سے گورنرجنرل کو لے کر کراچی کے لیے روانہ ہوئے ابھی ہم لینڈنگ کے لیے ماڑی پور ٹاور سے رابطہ کر ہی رہے تھے کہ ایک چمک سی آئی اور ہمیں اآپ کا رن وے نظر آیا اور ساتھ ہی بتایا گیا کہ یہ کوئی اسلام اآباد ہے ۔ ۔ یہ کون سا ملک ہے ۔ ۔ ۔ ؟
یہ پاکستان ہے ۔۔ ۔برگیڈئیر صالح نے جواب دیا
پاکستان ۔ ۔ ۔ دوسری طرف سے چیختی ہوئی اآواز اآئی
مگر پاکستان میں تو کوئی اسلام اآباد نام کا ائیرپورٹ نہیں ہے ، یہ ایران کا کوئی شہر ہے کیا
مجھے گورنر جنرل سے بات کرنی ہے ، برگیڈئیر نے کچھ سوچ کر کہا
اوکے ۔ ۔ ۔
مسٹر صالح ۔۔ ۔ میں مائک مسٹر جناح کو دے رہا ہوں
یس مسٹر صالح ۔ ۔ ۔ وہاٹ ہیپننگ ہئیر ۔ ۔ ۔ ۔
برگیڈئیر اور روم میں موجود سب کے جسموں میں ایک تھرتھری سی گھوم گئی ، یہ یہ ۔ ۔۔ یہ تو قائد اعظم کی آواز تھی
سس سس سر ۔ ۔۔ آر یو قائد اعظم ۔ ۔ ۔
یس بوائے ۔ ۔ ۔ آئی ایم جناح ۔ ۔ ۔ محمد علی جناح ۔ ۔
اسی لمحے روم کا دروزہ کھلا اور پی ایم کے اے ڈی سی ۔ ۔ بھاگتے ہوئے داخل ہوئے ، سر پی ایم صاحب نے کہا ہے کہ وہ خود جہاز تک جانا چاہتے ہیں
نہیں ۔ ۔ یہ سکیورٹی رسک ہے ، یہ کوئی بڑا ڈرامہ لگتا ہے ۔ ۔ ۔ آل یونٹس الرٹ کر دو ۔ ۔ میں خود جہاز تک جا رہا ہوں
جمال جمال ۔ ۔ ۔ جمال کدھر ہے
سس سس سر میں چینی جہاز کو ڈائورٹ کر رہا تھا چکلالہ ائیر بیس ۔ ۔
ہو گیا ہے ۔ ۔ سر ۔ ۔۔پی ایم نے صدر صاح کو انکے استقبال کے لیے روانہ کر دیا ہے ۔ ۔ کیونکہ وہ اس سچوئشن کو ہنڈل کرنا چاہتے ہیں ۔ ۔
نہیں انہیں جہاز کی طرف نہیں جانے دینا ۔ ۔
سس سس سر وہ جا رہے ۔ہیں ۔ ۔
اور دونوں نے باہر کی طرف دوڑ لگا دی ۔۔ ۔ سلیم اسپیکر کو گھورے جا رہا تھا ۔ ۔۔ جس پر اب پائلٹ کی آواز گونج رہی تھی ۔ ۔۔ ہیلو اٹس ڈکوڈا اسپیشل فلائیٹ ۔۔ ییلو ۔ ۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو فوجی چیپیں تیزی سے وائی کنگ جہاز کی طرف بڑھی جا رہی تھیں ، گرے رنگ کا جہاز اپنا منہ اٹھائے کھڑا تھا ۔ ۔۔ اسکی کھڑکی سے پائلیٹ جھانک رہا تھا ۔ ۔۔
برگیڈئیر صالح نے جیب سے اترے اور جہاز کی طرف بڑھے جسے اب کمانڈوز نے گھیر لیا تھا اور کسی بھی سچوئشن کے لیے تیار تھے ۔ ۔ فوجی گاڑیوں سے بڑی بڑی
سرچ لائٹس آن ہو چکی تھیں ۔۔۔۔ جس سے جہاز کا انچ انچ روشن تھا ، برگیڈئیر صالح نے جہاز کے کاک پٹ کی طرف منہ اٹھا کہ پائیلٹ سے کہا ۔ ۔ میں برگیڈئیر صالح ہوں
میں اس جہاز کا پائیلٹ ہوں ۔ ۔۔ یہ کون سی دُنیا ہے ۔ ۔۔
دُنیا ایک ہی ہے ۔ ۔ تم کون ہے ۔ ۔ اور یہ کیا مزاق ہے ۔ ۔ مسٹر جناح کیسے ہو سکتے ہیں اس میں وہ ۔۔ تو ۔۔
آپ خود ان سے مل لیں ۔۔ ۔ پائیلٹ نے کہا ۔ ۔ ۔ میں پسنجر گیٹ اوپن کرتا ہوں ۔ ۔ ۔
برگیڈئیر صالح اور جمال دونوں بھاگ کر پسنجر گییٹ کی طرف پہنچے ۔ ۔ ۔ برگیڈئیر صالح کے وائرلیس پر آواز آنا شروع ہوئی
سر اجنبی طیارے کی لینڈنگ کی خبر میڈیا تک پہنچ چکی ہے ۔ ۔ ۔ اور سر یہ بھی بتا جا چکا ہے ۔ ۔ کہ یہ کوئی دوسری جنگ عظیم کا جہاز ہے ۔ ۔ ۔
اوکے ۔۔ میں دیکھوں گا ۔ ۔ کوشش کرو کہ یہ سب کچھ کیاس بنا رہے ۔ ۔ ۔ رائٹ سر
جہاز کا درواز کھل چکا تھا پائیلٹ دروازے پر کھڑا تھا ۔ ۔۔ اس نے سیڑھیاں لگا دیں تھی جو دروازے میں ہی فٹ تھیں ۔ ۔
برگیڈئیر نے پائیلٹ کو دیکھا ۔ ۔۔ وہ ایک ادھیڑ عمر کا شخص تھا ۔ ۔ ۔
کیا یہ ہندوستان کا کوئی شہر ہے ؟
نہیں ۔۔ ۔ یہ پاکستان ہے ۔ ۔۔ یہ پاکستان کا دارلحکومت اسلام آباد ہے ۔ ۔
پاکستان کا دارلحکومت اسلام آباد ۔ ۔ ۔یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ آج تاریخ کیا ہے
آج سات اگست ہے ، کیا میں اندر آ جاوٗں ۔۔ ۔
جج جج جی ضرور پائیلٹ نے اندر کی طرف ہٹتے ہوئے کہا ۔ ۔
برگیڈئیر نے اپنا پستول چیک کیا اور سیڑھیوں پر قدم رکھ دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان نیوز چینل کے نیوز روم میں اس وقت ہلچل مچی ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ طاہر اقبال تمام ٹیبل پر ناچتا پھر رہا تھا ، وہ نیوز ڈائرکٹر تھا ، اس کے دنوں ہاتھ میں موبائیل تھے ایک موبائل جیب سے جھانک رہا تھا، وہ کبھی ایک موبائل کو سنا کبھی دوسرے کو ۔ ۔۔ اور ساتھ ساتھ اپنی ٹیم پر بھی چلا رہا تھا
آرکائیو سے دوسری جنگ عظیم کی وڈیو دیکھو ان میں ہونا چاہیے یہ ۔ ۔ ۔ تمہیں کس نے آرکائیو میں رکھا ہے ۔ ۔ ابے اگر تمہارے پاس نہیں ہیں تو نیٹ چیک کرو ، یوٹیوب دیکھو ۔۔ ۔ وہ وہو ۔ ۔ ۔ امریکہ کی آرکائیو لیبریری اب ساری آن لائین ۔ ۔ ۔ ۔۔ سر وہ پیڈ ہے ۔۔ ابے تو ۔ ۔ تو نے پے منٹ کرنی ہے ۔۔ سر فارمل اپرول تو ۔ ۔ ۔ ہاں میں کرتا ہوں ہوں ایم ڈی سے ۔ ۔ اوہ انہیں کا فون ہے ۔ ۔ یس سر ۔ ۔۔ سس سس۔۔ سسر ۔ ۔ سر ۔۔ جج جج جی سر مم ۔ ۔ جج جج ۔ ۔ جج سر ۔ ۔ سر ہم نے ہی بریک کی ہے ۔ ۔ سس سس سر آپ سر میڈم کے ساتھ تھے سر ۔ ۔ سس سس سر ۔ ۔جج جج جی سر ۔ ۔ اوکے سر ۔ ۔ اُف ۔ ۔ ۔ اے سی کے باوجود طاہر اقبال ۔۔ ۔ کے پسینے چھوٹ گئے تھے ۔ ۔ ۔ وہ روز اسی طرح ڈانٹ کھاتا تھا ۔ ۔۔ اور اپنی ڈانٹ اپنی ٹیم کو پلا دیتا تھا ۔ ۔۔
اب کھڑے مونہ کیا دیکھ رہے ہو ۔ ۔ جاؤ ۔ ۔ سر وہ اپروول ۔۔ ہاں ہو گئی ہے ۔ ۔ جاؤ اور جلدی سے بتاوء ۔ ۔ ۔ ہاں ائیرپورٹ پر کون ہے ۔ ۔ ۔ سر ریحانہ ہے ۔ ۔اور بھٹی ہے او بی پر ۔۔ ۔اور کیمرے کتنے ہیں ۔ ۔ ۔ سر دو آؤٹ ڈور ہیں اور ایک سر وی وی اآئی پی روم میں ہے ۔ ۔ ۔ مم مگر سر وہ چینی پی ایم تو چکلالہ میں آئیں گے ۔ ۔ ادھر ٹیم کو موو کر دیں ۔ ۔ ۔ نہیں ۔۔ ادھر دوسری ٹیم بھیجھو یا سرکاری ٹی وی کی فیڈ لے لو ۔ ۔ ۔ یہ نیوز ہماری ہونی چاہیے ۔ ۔ ۔ بھٹی سے بات کراؤ ۔ ۔۔ ڈیسک منیجر نے اپنے موبائیل سے ہی بھٹی کا نمبر ڈائیل کیا ۔ ۔ طاہر اقبال کی نظریں دیوار پر لگے ٹی وی سے لگ گئیں جہاں مختلف اسکرینوں پر مختلف چینل آ رہے تھے ۔ ۔۔ وہ ہنگامہ نیوز کی سکرین دیکھ کر چونک پڑا ۔ ۔ ۔ جس پر بریکنگ نیوز چل پڑی تھی ، بے نظیر ائیرپورٹ پر اترنے والا جہاز ۔ ۔ قائد اعظم کا جہاز ہے ۔ ۔ ۔اور ساتھ ہی کراچی میوزم میں رکھے ہوئے جہاز کی وڈیو دکھائی جانے لگی ۔ ۔ ۔جس پر فائل وڈیو لکھا نظر آ رہا تھا ۔ ۔ اور باتا جا رہا تھا کہ میوزم پر کمانڈوز کا پہرا لگا دیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ اور کسی کو بھی اندر داخل نہیں ہونے دیا جا رہا تھا
سر بھٹی سر ۔ ۔۔ ہاں ۔۔ طاہر نے چونک کر موبائل اسکے ہاتھ سے لے لیا ۔ ۔ بھٹی کیا اب ڈیٹ ہیں ۔ ۔۔ سر ہم نے جہاز کی فُٹیج بنا لی ہے ۔ ۔۔ گُڈ ۔ ۔۔ سر بھیج رہا ہوں ۔ ۔ ۔ سر یہ جہاز اُس جہاز جیسا ہے جس میں قائد اعظم پاکستان آئے تھے ۔ ۔ کیا واقع ہی ۔۔ ہاں سر ۔ ۔۔اور سر جہاز کی کھڑکیوں میں لوگ نظر آ رہے ہیں کمانڈوز نے جہاز کو گھیرا ہے ۔۔ ۔ لوگوں کے چہرے نظر اآ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ سر فٹج بہت دور سے لی ہے ۔۔ ۔ سر رییج میں نہیں ہیں ۔ ۔۔ ایک فوجی افسر جہاز کے اندر گیا ہے ۔ ۔ ۔ سر ہم نے یہ فتج اے ایس ایف کے آٍفس سے بنائی ہے ، ، ، سر پچاس ہزار میں ۔ ۔۔ اوہ ٹھیک ۔۔ ہے ۔۔ ۔ تمہیں پتہ ہے کہ ۔ ۔۔ ۔سر یہ دیکھیں سر یہ تو ۔ ۔ ۔ ۔ سر یہ قائد اعظم کے جہاز کی وڈیو ہے ۔۔ ۔ ماڑی پور پر جب اس جہاز کی آمد ہوئی تھی ۔ ۔ ایک ڈیسک رپورٹر نے اپنی اسکرین اسکی طرف کی اور دوسرے نے بھٹی کی بھیجی ہوئی وڈیو ۔ ۔۔ جہاز ایک جیسے تھے دونوں اسکرینز پر مگر ایک بلیک اینڈ وائٹ وڈیو تھی ۔۔۔ دوسری ۔ ۔ ۔ کلر ۔ ۔ ۔۔ بریک اٹ بریک اٹ ۔ ۔۔ وہ ہسٹریائی انداز میں چیخا اور ۔ ۔ کچھ دیر بعد ہی ہر ایک چینل نے اپنے پروگرام روک کر ایک ہی خبر لگانا شروع کر دی تھی ۔ ۔ ۔۔ ١٩٤٧ کے جہاز کی اسلام اآباد ائیرپورٹ پر پرسرار لینڈنگ ۔ ۔۔ اور کچھ ہی دیر بعد ۔ ۔ ۔ ایک اور بریکنگ نیوز چل رہی تھی ۔ ۔۔ کراچی کے میوزیم سے قائد اعظم کا تاریخی جہاز غائب ہو گیا تھا ۔۔ ۔۔

ریحانہ جوکہ پی این سی کی رپورٹر تھی اسکے حکومتی حلقوں میں وسیع تعلقات تھے خاص کر پی ایم کے اے ڈی سی فاخر سے تو اس کی بہت بنتی تھی ، اسی لیے وہ اس وقت اس کا دم چھلہ بنی ہوئی تھی ۔ ۔۔ جو پی ایم کو بتا رہا تھا کہ برگیڈئیر صالح جہاز کے اندر جا چکے ہیں اور اندر جاتے ہی انکے وائرلیس کے سگنل بند ہو گئے ہیں اور انکا موبائل بھی بند جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ پھر کسی اور کو اندر جانا چاہیے کیا جہاز کا دروازہ بند ہو گیا ہے ، پی ایم نے پوچھا نن نہیں سر ۔ ۔ ۔ کمانڈرز بتا رہے ہیں کہ اندر بہت روشنی ہے جس سے کچھ واضح نظر نہیں آ رہا ۔ ۔ ۔ اسی لمحے فاخر کے موبائیل کی تھرتھراہٹ ہوئی ۔ ۔۔ ہیلو ۔۔ ۔ یس برگیڈئیر ۔ ۔۔ ۔ ۔ سس سس ۔ ۔ سر ۔ ۔ ۔ برگیڈئیر صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں ۔ ۔۔
ہاں مسٹر صالح ۔ ۔ پی ایم ہئیر
کک کیا کہ رہے ہیں آپ ایسا کیسے ممکن ہے ؟
پھر دوسری طرف کی سننے لگے ۔ ۔ ۔ اوہ ۔ ۔۔ کیا آپکو یقین ہے ۔ ۔۔ یہ تو آپ جادونگری والی باتیں کر رہے ہیں ۔ ۔۔
آپ کو کیسے یقین ہے کہ یہ وہ ہی ہیں ۔ ۔۔
تصویریں ستر سال پرانی ہیں مسٹر صالح ۔ ۔۔ اور آپ اکیسویں صدی میں ہو ۔ ۔ ۔ ۔
دُنیا بہت جدید ہو چکی ہے ۔ ۔۔ ہمارے دشمن ہر طرح کی چال چل سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے بھی یہ کوئی چال لگتی ہے ، آپ کو پتہ ہی ہے کہ ان دنوں مغرب ہم سے بہت نالاں ہے ۔ سائنس کی ترقی ایسے شعبدے دکھا سکتی ہے
پی ایم کا لہجہ انتہائی مدبرانہ تھا
ہاں یہ ٹھیک ہے ۔ ۔۔ ہم بلیک روم ۔۔ ۔ ۔ چلتے ہیں ۔۔ ۔۔
جاہل کہیں کا ۔ ۔۔پتہ نہیں کیسے برگیڈئیر بن گیا ۔ ۔ ۔ پی ایم بُڑبڑائے
پی ایم نے فون فاخر کو دے دیا ۔ ۔۔
بلیک روم کی طرف جانا ہو گا
سر ۔۔ کک کیا کہا انہوں نے ، ریحانہ ۔ ۔ نے پوچھا ۔ ۔ اوہ آپ ادھر تھیں ،
فاخر مجھے یہ پسند نہیں کہ یہ باتیں میڈیا تک جائیں
سس ۔۔ سوری سر ۔۔۔ مس ریحانہ ۔ ۔ ۔آپ پلیز سچوئشن سمجھیں ۔ ۔۔ ۔ دس وے سر ۔ ۔۔ فاخر نے ریحانہ کو رکنے کا اشارہ کیا
اور دونوں اسپیشل وے کی طرف چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پی این سی کے نیوز اسٹوڈیو میں اس وقت دو بڑی عمر کے لوگ ایکسپرٹ کے طور پر موجود تھے ، اور تبصرہ کر رہے تھے
دیکھیے جی ، میں بھی اس کو کسی دشمن کی سازش سمجھتا ہوں ، مغرب کی دنیا ہماری توہم پرستی اور معجزہ پرستی سے اچھی طرح آگاہ ہے وہ خود تو ان چیزوں سے نکل کر سائنس کی ترقی سے اپنے لوگوں کو سہولتیں دے رہے ہیں اور نئی نئی دنیائیں دریافت کر رہے ہیں اور ہمیں اپنی ایجادات سے سحر میں مبتلا کر رہے ہیں ۔ ۔۔ آپ کو پتہ ہی ہو گا کہ لاؤڈ اسپیکر کو شیطان کی آواز اور ٹی وی کو دجال کی آنکھ بھی قرار دیا گیا مگر آج یہ سب کچھ ہماری زندگی کا حصہ ہیں ، ہالو گراف سے آپ ہوبہو پرانی دنیا تخلیق کر سکتے ہیں ۔، ۔
دوسرے ماہر نے کہا ، پروفیسر صاحب آپ کی بات کسی قدر ٹھیک ہے ، مگر سائنس میں ایسے واقعیات موجود ہیں جن کی کوئی توجیہ نہیں دی جا سکتی ہے ، پین ایم کی فلائٹ ٩١٤ کا قصہ ہی لے لیں جو سینتیس سال بعد لینڈ ہوئی تھی ۔۔ ۔ وہ دوسری جنگ عظیم کا چھے جہازوں کا اسکوارڈن ۔۔ ۔ جو مریخ کے گرد چکر لگا رہے ہیں ۔ ۔۔ اور ۔ ۔۔ اس پائلیٹ کا کیا کہیں گے جو نواڈا کے صحرا میں ملا تھا کہ وہ دوسری جنگ عظیم میں غائب ہوا تھا اور چالیس سال بعد صحرائے نواڈا میں اترا تھا ۔ ۔۔
جناب یہ سب جھوٹی خبریں ہیں ۔ ۔۔ ان میں کوئی صداقت نہیں ۔ ۔۔ ایسے تو اسٹیفن ہاکنگ صاحب نے بھی وارم ہولز سے ایک زمانے سے دوسرے زمانے میں چھلانگ کا تصور پیش کیا ہے ۔ ۔مگر وارم ہول کے ہونے کی تصدیق آج تک نہیں ہو سکی بس جیسے میٹر انٹی میٹر کی باتیں ہیں ۔ ۔ ۔ اور تو اور ۔ ۔ ۔
سر سر ۔ ۔ مجھے آپ کو روکنا پڑے گا ، میزبان نے دونوں کی طرف ہاتھ اٹھا کہ کہا ۔ ۔۔ ایک بڑی فوجی وین جہاز کی طرف بڑھ رہی ہے اور ساتھ ہی جہاز کے اطراف میں بڑے بڑے پردے لگا دیے گئے ہیں ۔ ۔۔جیپ کے شیشے سیاہ ہیں ۔ ۔۔ اور یہ جیب اب پردوں کے پیچھے چلی گئی ہے ۔۔۔۔ پروفیسر صاحب آپ کیا کہتے ہیں کہ یہ سب کیا ہے ۔۔ ۔ ایک پرسرار جہاز کا پاکستان کی زمین پر اترنا جبکہ ہمارے دوست ملک چین کے صدر اپنے ایک بہت اہم دورے پر آ رہے ہیں ، اور سب سے زیادہ پراسرار یہ بات کہ کراچی سے ایسا ہی ایک جہاز غائب ہے ۔۔ ۔ اب جہاز کوئی چھوٹی چیز نہیں ہے کہ اسے کوئی ایسے جیب میں ڈالے اور لے جائے وہ بھی فوجی ایریا سے ۔ ۔ ۔ جہاں دن رات کا پہرا ہو ۔ ۔ جی پروفیسر صاحب
دیکھیے کراچی سے قائد کے طیارے کا غائب ہونا ہی سازش کی نشاندہی کرتا ہے ، اور یہ کوئی معجزہ وغیرہ نہیں ہے بلکہ مکمل سازش لگتی ہے ۔ ۔ ۔
نن ناظرین ہمارے پاس ایک بہت عجیب سی نیوز آ رہی ہے ۔ ۔۔ کہ طیارے سے اترنے والے بلکل بابائے قوم قائد اعظم اور مادر ملت فاطمہ جناح جیسے ہیں ۔ ۔۔ ۔ ہمارے ساتھ وڈیو لنک پر ہیں ریحانہ ۔ ۔ جی ریحانہ آپ نے کیا دیکھا ہے

جی ہمارے ذرائع نے ہمیں یہ کنفرم کیا ہے کہ جہاز میں جانے والے فوج افسران نے خود وہاں ملاقات کی ہے ، ان دو لوگوں سے جو قائد اعظم اور فاطمہ جناح کے روپ میں ہیں ۔ ۔۔ ساتھ ہی ٹی وی اسکرین پر قائد اور مادر ملت کی ماڑی پور آمد کی وڈیو چل پڑی ۔ ۔ ۔ اور بار بار بریکنگ نیوز ۔ ۔ ۔ آنے لگی ۔ ۔۔ قائداعظم اور فاطمہ جناح ۔ ۔ ۔ ÷؟؟؟؟ یہ کون لوگ ہیں ؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برگیڈئیر صالح ابھی تک اس شخص سے آنکھیں نہیں ملا سکا تھا جس کو اسنے قائد اعظم کے روپ میں بلیک روم میں پہنچایا تھا ، بلیک روم کی دیواریں اندھے شیشوں کی تھیں اور ان میں انتہائی طاقتور مائک فکس تھے جن سے ایک سوئی گرنے کی بھی آواز ریکارڈ ہوتی تھی ، اس روم کو عام طور پر ان لوگوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا کہ جن پر شک ہو اور وہ خود کو اکیلا سمجھ کہ کوئی ایسی بات کر دیں جو پکڑی جائے ، شیشوں کے دوسری طرف بیٹھے پی ایم اور انکے رفقا بھی چونک پڑے تھے کہ دونوں شخصیات میں اصل نقل کی کوئی تمیز نہیں تھی ، تشریف رکھیے ، برگیڈئر نے ایک صوفے کی طرف اشارہ کیا
اب آپ اپنا تعارف کروا دیں ۔ ۔ ۔
تعارف (قائد نے انگریزی میں بات کی )
جی تعارف
میں محمد علی جناح ہوں اور یہ میری بہن فاطمہ ہے ، میں پاکستان کا نامزد گورنر جنرل ہوں ، مجھے دو اگلے ہفتے اس عہدے کا حلف اٹھانا ہے ۔ ۔۔
آپ کو پتہ ہے یہ کون سا سال ہے
ہاں یہ سنتالیس ہے انیس سو سنتالیس، کیوں کیا یہ غلط ہے ، شاید یہ کمرہ اے سی والا ہے ، مجھے ٹھنڈک محسوس ہو رہی ہے ، اگست میں اتنا ٹھنڈا موسم نہیں ہوتا
یہ انیس سو سنتالیس نہیں ہے ،
تو ۔ ۔۔ کیا یہ پاکستان نہیں ہے ۔ ۔۔ میرا مطلب ہے کہ ہندوستان کا کوئی علاقہ ہے ، فاطمہ جناح کی آواز میں لرزش تھی
۔ ۔ ۔ ۔ یہ بیس سو سترہ ہے ۔ ۔۔ اور آپ پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں موجود ہیں ، اور اب آپ سچ بتائیں کہ یہ سب کیا ہے ، آپ کون لوگ ہیں ، قائد اعظم اور فاطمہ جناح کو فوت ہوئے عرصہ گذر چکا ہے
کیا مطلب ۔ ۔۔ دونوں نے ایک ساتھ کہا ۔ ۔ یہ کیسے ممکن ہے ۔ ۔۔ یہ کون سا پاکستان ہے ، پاکستان کا دارلخلافہ کراچی ہے ۔ ۔۔
تھا ۔ ۔ اب نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کوئی بہروپیے ہیں ۔۔ ۔برگیڈئیر کے لہجے میں بے یقینی تھی
اسی لمحے دروازہ کھلا اور میجر ساجد داخل ہوا ،اور سیلیوٹ مارا اور دونوں کو گھورتے ہوئے بولا
بہت زبردست میک اپ لگتا ہے ، ماسک تو ہو نہیں سکتا ، پلاسٹک سرجری کا کمال لگتا ہے
میجر ساجد آئی ایس آئی میں انوسٹیگیشن سیل کا انچارج تھا ، اور جدید ترین ٹیکنالوجی ۔ ۔ سے آگاہ تھا
مجھے بہت عجیب سا لگ رہا ہے میجر ۔ ۔۔ مگر ہم یہ کیسے ثابت کریں گے کہ یہ نہیں ہیں وہ ،
فنگر پرنٹ تو اب بنا لیے جاتے ہیں ، ہم ڈی این اے ٹیسٹ کریں گے ۔ ۔ ۔
اور سر یہ بات میڈیا تک پہنچ چکی ہے کہ جہاز سے اترنے والے افراد کن جیسا روپ دھارے ہیں
ایک تو ہمارا میڈیا انتہائی لاپرواہ ہے ۔ ۔ ۔ یہ خبر ضرور فاخر کی محبوبہ نے دی ہو گی ۔ ۔ میں اسے دیکھتا ہوں، تم ان لوگوں کو کہاں لے جاوء گے ؟
سر اپنے سیل میں لے جاؤں گا ،
اوکے میں پی ایم کو آگاہ کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ میجر نے ایک بار پھر سلیوٹ مارا کیونکہ عہدے کا پروٹوکول یہ ہی کہتا تھا
چلو قائد اعظم جی ۔ ۔ آپ کو پاکستان کا نظارہ کرائیں ۔ ۔ ۔صبح ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ میجر نے اپنے ساتھ آنے والے کو کہا انکو ہم پوانئٹ فائیو پر لے جائیں گے ، ہیلی کاپٹر منگواؤ اور انکے ساتھ کتنے لوگ ہیں
سر سات ہیں ۔ ۔ ۔ دو اور بھی لیڈر ہی ہیں جبکہ تین جہاز کے عملے کے لوگ ہیں ۔ ۔ ۔
اوکے ۔ ۔ ۔ جب ہیلی کاپٹر آ جائے تو مجھے بتانا ۔ ۔ ۔ہری اپ
یس سر ۔ ۔۔ ۔ اسنے سلوٹ کیا اور ۔ ۔ ۔ باہر نکل گیا ، میجر دونوں کو پھر سے گھورنے لگا جن کے چہرے پر پریشانی صاف نظر آ رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چین کے وزیر اعظم کو چینی سفارت خانے میں پہنچا دیا گیا تھا ، پی ایم اور عسکری حکام کی اعلٰی سطح کی میٹنگ کال کی جا چکی تھی ، چینلز پر طرح طرح تبصرے ہو رہے تھے ، کراچی کے میوزیم میں جہاز کی گمشدگی کے لیے سی سی ٹی وی فٹج کو دیکھا گیا تھا ، جس میں جہاز ایک دم سے غائب ہو گیا تھا مگر اس کے غائب ہونے سے پہلے ایک بہت تیز قسم کی بجلی کا جھماکا بھی ہوا تھا ۔ ۔۔ اعلٰی حکام نے یہ وڈیو بار بار دیکھی اور ایکسپرٹ کو بھجوا دیا گیا اسے ، اس وڈیو کی بہت حفاظت کی جا رہی تھی اور متعلقہ عملے کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر شفٹ کر دیا گیا تھا ۔ اسلام آباد ائیر پورٹ پر کھڑے جہاز کو ماہرین کی ٹیم ایگزمن کر رہی تھی ۔ ۔ ۔ دُنیا میں اس جیسے پانچ جہاز مختلف میوزیم میں موجود تھے سب سے رابطہ کیا جا رہا تھا ۔ ۔ انٹرنیشنل میڈیا نے اس خبر کو زیادہ اہمیت نہیں دی بلکہ اسکو چین اور پاکستان کے اصل منصوبوں سے توجہ ہٹآنے کے لیے ایک اسٹنٹ قرار دیا تھا ۔ ملکی میڈیا سائنسدانوں سے لیکر سیاسی و عسکری ماہرین کے ساتھ ساتھ ۔ ۔۔ اب عاملوں اور علم نجوم اور مخفی علوم کے ماہرین کے تبصرے بھی نشر کر رہا تھا ۔ ۔۔عوام میں اکثریت اسے حکومت کے اصل امور سے توجہ ہٹآنے کا اسٹنٹ قرار دے رہی تھی ، مگر ایسے افراد کی بھی کمی نہیں تھی جو اسے سچ سمجھ رہے تھے ، اور معجزہ قرار دے کر ایک نئے پاکستان کے لیے قائد کی آمد کو خوش آئین سمجھ رہے تھے ، غرض بھانت بھانت کی بولیاں بولی جا رہی تھیں ۔ ۔ ۔
دوسری طرف اعلٰی حکام ، رپورٹ کے منتظر تھے ۔ ۔ ۔ دن کے بارہ بجنے والے تھے کہ میٹنگ روم میں میجر ساجد داخل ہوا اسکے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا ۔ ۔ ۔ سب کی نظریں اسکی طرف اُٹھ گئیں ۔ ۔ ۔ اسکے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہیں تھیں ۔ ۔ ۔
وہ ۔ ۔ وہ ۔ ۔ وہ ۔ ۔ ڈی این اے کی رپورٹ آ گئی ہے ۔ ۔ ۔وہ وہو ۔ ۔ ۔وہ ۔ ۔ اصلی قائد اعظم ہیں ۔ ۔۔
کیا ۔ ۔ ۔ کمرہ ۔ ۔ ۔ گونج اُٹھا ۔ ۔۔ اور پھر ایک دم سے سناٹا چھا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہت بحث و تکرار کے بعد فیصلہ ہوا کہ قائد کے سامنے حقیقت رکھی جائے ، قائد اور انکے ساتھیوں کو بہت احترام سے قومی اسمبلی اور سینٹ کے جوائنٹ سیشن میں شرکت کرائی جائے اور انکا خطاب کروایا جائے ، مگر اس سے پہلے انہیں موجودہ پاکستان کے بارے میں بتایا جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ پچھلے ستر برسوں میں کیا کیا ہوا ہے ۔ اور دُنیا کے بارے میں بھی بتایا جائے۔ اسکے لیے پہلے ایک بریفنگ سیشن کیا جائے ، اور وزیر اعظم اور صدر مملکت اور آرمی چیف سب سے پہلے قائد سے اس سلوک پر معذرت بھی کریں گے ۔
جب سب لوگ میٹنگ ہال میں اکھٹے ہوئے تو وزیراعظم نے اپنا اور اپنے ساتھیوں کا تعارف کروایا ، مگر قائد اور انکے ساتھیوں کے چہرے سے پرشانی صاف عیاں تھیں ، پائیلٹ نے کھڑے ہو کر ۔ ۔ کہا کہ ۔ ۔۔ اس سے پہلے اآپ ہمیں گائیڈ کریں ، ہم اآپ کو کچھ بتانا چاہتے ہیں ، جی جی ضرور ۔ ۔ ۔آپ کہیے
سر ہم جب سندھ کی حدود میں داخل ہوئے تو ایک دم سے ایک روشنی کا جھماکا ہوا اور اندھیرا چھا گیا ، مگر جلد ہی ائیر پورٹ کے رن وے کی روشنیاں نظر آئیں اور ہم یہاں اُتر گئے ، پھر آپ کو پتہ ہی ہے کہ کیا ہوا ، مگر ایک چیز جو ہمیں کچھ دیر پہلے پتہ چلی ہے وہ یہ ہے کہ ۔ ۔ ۔ ہم غلط وقت میں غلط جگہ آ گئے ہیں ، ہمیں اپنے وقت میں جانا ہو گا اور اسکے لیے ہمارے پاس صرف دس گھنٹے ہیں ۔ ۔۔
کک کیا مطلب ، آرمی چیف نے پوچھا
یہ دیکھیے ، یہ میری گھڑی ، یہ اُلٹی چل رہی ہے ، اور بار بار بارہ بجے والا نشان چمکتا ہے ، ۔ ۔ ۔
اوہ ۔۔ ۔سب کے منہ سے نکلا
تو ہمارے پاس وقت بہت کم ہے ، قائد کو اس سب کا اندازہ ہو چکا ہے ، پائیلٹ بیٹھ گیا
تو قائد کھڑے ہوئے انکے احترام میں وزیراعظم ، صدر اور چیب بھی کھڑے ہو گئے ، نہیں نہٰں اآپ لوگ بیٹھیے ، میں سب سے پہلے پاکستان کے بارے میں جاننا چاہوں گا
وزیر اعظم نے کہا ، قائد آپ پاکستان بننے کے ایک سال بعد ہی فوت ہو گئے تھے اور پھر تین سال بعد لیاقت علی خان کو بھی قتل کر دیا گیا
کیا ۔ ۔ ۔ قائد اپنی کرسی سے اُٹھ کھڑے ہوئے ، لیاقت کو قتل کردیا گیا ، مگر کیوں ، کس نے ۔ ۔
یہ راز آج تک راز ہی ہے ، محترم قائد ، قائد کے چہرے پر غم کے آثار تھے ۔ ۔۔ اور پھر
پھر مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا ، ہم نے بھارت کے ساتھ دو بڑی جنگیں لڑیں ، ایک میں کامیاب اور ایک میں بری طرح ناکام رہے
الگ ہو گیا کیا مطلب،
مطلب وہ اب ایک نیا ملک ہے ، بنگہ دیش ۔ ۔ ۔
قائد کے چہرے پر کرب کے آثار بڑھ گئے تھے ، پھر، مجھے تفصیل سے بتاؤ ۔ ۔ ۔
سر ہم نے ایک بریفنگ رکھی ہے ، اس کے لیے ملک کے ماہر تاریخ دان آپ کو تفصیل بتائیں گے اور آپکے سوالوں کے جواب بھی دیں گے ، مگر اس سے پہلے آپ کی ضیافت کا انتظام کیا گیا ہے جہاں آپ عوامی نمائدگان سے خطاب کر سکیں گے
نہیں ، قائد نے ہاتھ اُٹھا کر کہا ، پہلے ہم پاکستان کے بارے میں جاننا چاہیں گے پھر ۔۔ ۔ کسی سے بات کر سکیں گے
جیسے آپ کی مرضی ، تو پھر ہم بریفنگ روم میں چلتے ہیں ۔ ۔ ۔ سب اُٹھ کھڑے ہوئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بریفنگ پارلیمنٹ کے میڈیا روم میں رکھی گئی تھی جہاں ایک سینما سائز کی اسکرین موجود تھی اور بہترین پروجیکشن سسٹم موجود تھا، بریفنگ کے لیے آدھے گھنٹے کی ہسٹری ریل تیار کی گئی تھی ، جو کہ پہلے سے بنی ہوئی ہسٹری ریلز کو اکھٹا کر کہ بنائی گئی تھی ، سب افراد اب سیٹوں پر براجمان ہو چکے تھے ، قائد اپنے ساتھ بیٹھے وزیر اعظم کو کہ رہے تھے
پاکستان نے بہت ترقی کی ہے، اتنی شاندار بلنڈنگز اور یہ سب جدید ترین آلات ، اس کا مطلب یہ لگ رہا ہے کہ پاکستان دنیا کے جدید ترین ممالک میں شامل ہو چکا ہے
جی سر ، ہمارے پاس اس وقت دنیا کی ہر جدید سہولت موجود ہے
کیا یہ صرف حکومت کے پاس ہے ؟ یا عوام کے پاس ۔ ۔ ۔بھی ہے ؟
عوام کے پاس بھی ہے ، مگر سب کے پاس نہیں ، وزیر اعظم نے گول مول جواب دیا، اور اسی لمحے آواز گونجی
اسلام علیم ، میرا نام پروفیسر کلیم یزدانی ہے ، میں ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں تاریخ پڑھا رہا ہوں ، میری خوش قسمتی کہ میں پاکستان کے معماروں کے سامنے پاکستان کی تاریخ کو پیش کروں گا ، یہ سب کچھ ہم نے مختلف نیوز ریلز اور اخبارات سے تیار کیا ہے ، اس کے لیے میں یہ پرزینٹیشن اور ڈاکومنٹری کو پیش کروں گا اور پھر آپ کے سوالات کا جواب دینے کی کوشش کروں گا، تو اجازت ہے ، پروفیسر نے قائد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
کنٹینیو پروفیسر ۔ ۔ ۔ قائد نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا اور ہال میں روشنیاں مدھم ہو گئیں اور اسکرین روشن ہو گئی اور اسکرین پر ابھرا
کرونیکل آف پاکستان
چودہ اور پندرہ اگست انیس سو سنتالیس کو قیام پاکستان کا اعلان ہوا ، رات بارہ بجے سے پہلے قائد اعظم نے ریڈیو سے قیام کا اعلان کیا ، اور بعد میں پنڈٹ جواہر لال نہرو نے ہندوستان کی آزادی کا ، قائد اعظم نے کراچی میں پہلے اسمبلی اجلاس کی صدارت کی اور دنیا کے نقشے پر ایک نئی قوم اور ملک اُبھرا جس کا نام پاکستان ہے (پاکستان کی پہلی اسمبلی کی کاروائی دکھائی جا رہی تھی)
ابھی تقسیم کا عمل پورا بھی نہ ہوا تھا کہ بھارتی فوج نے کشمیر پر حملہ کر دیا جس کے بعد پاکستان کی بہت تھوڑی فوج کو یہ جنگ کرنا پڑی اور اس جنگ میں قبائلیوں نے پاک فوج کا ساتھ دیا ،اور کشمیر کا بہت سا علاقہ آزاد کروا لیا ، جسے آج آزاد کشمیر کہتے ہیں اور باقی علاقے کو مقبوضہ کشمیر کہتے ہیں اور یہ آزادی کی جنگ کشمیری آج تک لڑ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ (اسکرین پر کشمیری مجاہدین کو دکھایا جا رہا تھا )
قائداعظم اور لیاقت علی خان کے سامنے سب سے پہلا کام مہاجرین کی آبادکاری تھی ، وہ لوگ جنہوں نے پاکستان کی طرف ہجرت کی تھی ، یہ دنیا کی سب سے بڑی نقل مکانی کہلائی گئی ، اس میں پندرہ سے بیس لاکھ افراد نے اپنی جانیں قربان کی اور کروڑوں لوگ بے گھر ہوئے (اسکرین پر مہاجرین کی آمد اور جلاؤ گھراؤ کے مناظر دیکھائی دے رہے تھے) قائد کی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے ، انکے ساتھ فاطمہ جناح بھی اپنے ڈوپٹے سے آنسو صاف کر رہیں تھیں
قائد اعظم نے اسی دوران ڈھاکہ کا دورہ کیا ، جہاں یونیورسٹی میں قائد نے پاکستان کی قومی زبان اردو کو قرار دیا ، جو آگے چل کہ پاکستان کے ٹوٹنے کا سبب بنا ۔
واٹ ۔ ۔ ۔ قائد اپنی سیٹ سے اُٹھ کھڑے ہوئے ، وہاٹ دا ربش ، قائد کے چہرے پر غصہ تھا
سس سس سر ، ایسا ہی ہوا تھا ، یہ سوال آج تک تشنہ ہے کہ آپ نے ایسا کیوں فرمایا تھا ؟
کیا اس کو سمجھنے کے لیے کسی بہت بڑے دماغ کی ضرورت تھی ؟ قائد نے کی آواز میں کڑک تھی ؟ کیا اردو تمام ہندوستان میں سمجھی جانے والی زبان نہیں ہے ؟ یہ وہ واحد زبان ہے جو ہندوستان کے رہنے والوں کے درمیان رابطے کا کام دیتی ہے ، حتہ کہ ہندو اور مسلمان اپنی مذہبی کتابوں کو سنسکرت اور عربی میں پڑھتے ہیں جبکہ انہیں سمجھنے کے لیے اردو کا سہارا لیتے ہیں ۔ ۔ ۔ کیا بنگال کا ٹیگور اور پنجاب کا اقبال پنجابی یا بنگالی میں ہی مقبول ہوا ؟ جب تک اردو میں وہ نہیں بولے یا ترجمہ نہیں ہوا ۔ ۔۔
سس سر ، مگر اسی بات کو ہی بیس بنا کر بنگالی قومیت کا پرچار کیا گیا
کیوں ؟ قائد کے لہجے میں سختی تھی ، اگر بنگالی قومیت کا پرچار کرنا ہوتا تو تین جون میں بنگال کے بٹوارے پر ہوتا ، پاکستان دو قومی نظریے پر بنا ہے ، دو قومیں ہیں ایک مسلمان ایک ہندو ۔ ۔ اور یہ قومیں نفرت کی بنیاد پر نہیں بلکہ مختلف ہونے کی بنیاد پر الگ الگ ہیں ، میں نے کئی بار اس کی وضاحت کی ہے کہ ۔ ۔ کہ ہم ہندو سے نفرت نہیں کرتے بلکہ ان سے مختلف ہیں اور ہم اپنے نظام زندگی کے تحت الگ ملک بنانا چاہتے ہیں وہ نظام جو ہمیں اسلام نے دیا ہے ۔ ۔ ۔ کیا تم لوگ اس بات کو جھٹلا چکے ہو ؟
نن نہیں سر ،مگر آپ تو پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے
واٹ ۔ ۔ ۔ یہ تم نے کیسے کہا ؟
سر آپ نے گیارہ اگست ١٩٤٧ کو یہ فرمایا تھا کہ پاکستان میں اب سب آزاد ہیں کوئی ہندو کوئی مسلم چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو وہ اپنی عبادت کے لیے آزاد ہے ، ریاست کا کسی کے مذہب سے کوئی سروکار نہیں
گیارہ اگست ، مگر آج تو سات اگست ہے ، اور اگر یہ بات میں نے کہی بھی ہو گی تو ، کیا یہ غلط ہے ؟ ہمیں ہمارا اسلام یہ ہی سیکھاتا ہے ، کیا قرآن نہیں کہتا کہ دین پر جبر نہیں ؟ اور پاکستان کو اگر سیکولر ریاست بننا ہوتا تو کیا ہندوستان میں کوئی تھیوکریٹ گورنمنٹ بن رہی تھی ؟ یا مذہبی ریاست تھی ؟ ہندوستان کبھی بھی ہندو ریاست نہیں بن سکا ، یہ ہی تاریخی حقیقت ہے پچھلے ہزار سال سے ہندوستان ایک مسلم ریاست مانا گیا اور اس سے پہلے کیا ہندوستان ریاستوں میں تقسیم نہیں تھا ؟ سوائے اشوک کے عہد کے ؟
پروفیسر صاحب صرف سر ہلا کر رہ گئے ، سس سر یس سر ۔ ۔، میں ایفکٹ کی بات کر رہا تھا ۔ ۔ کہ ایسا ہوا
میرے خیال میں ہمیں بحث نہیں کرنی چاہیے ، ہم نے قائد کو وہ بتانا ہے جو ہوا ہے اگر ہم بحث میں الجھ گئے تو شاید ہم کچھ بھی نہ بتا سکیں ۔ ۔۔ صدر صاحب نے شاید پہلی بار بولا
جج جی سر ، پروفیسر صآحب نے ریموٹ کا بٹن دبا دیا
اور اسکرین دوبارہ چلنی شروع ہوئی
ابھی نئی مملکت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو نہیں پائی تھی کہ ستمبر اڑتالیس میں قائد اعظم کی وفات کا قوم کو صدمہ سہنا پڑا (قائد کے جنازے کی فلم چلائی جانے لگی) اور قیادت لیاقت علی خان نے سنبھالی
لیاقت علی خان کو امریکہ اور روس کی طرف سے دورے کی پیشکش ہوئی ، مگر لیاقت علی خان نے امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور امریکی دورے پر روانہ ہو گئے ، یہاں سے پاکستان ایک امریکی اتحادی کی صورت میں ابھرا جبکہ ہندوستان نے روس کا ساتھ دیا ، اس زمانے میں دنیا واضح طور پر دو کیمپوں میں بٹ گئی ۔ ۔ ۔
قائد اعظم نے ہاتھ اُٹھا کر روکنے کا اشارہ کیا ، یس سر، پروفیسر نے پوچھا
پاکستان نے امریکہ کا ساتھ کیوں دیا جبکہ روس امریکہ سے زیادہ قریب تھا ، جغرافیائی طور پر ہمیں روس کا ساتھ دینا چاہیے تھا نہ کہ ہزاروں میل دور امریکہ کا ؟
سر شاید اس لیے کہ روس کا رویہ مسلمانوں سے کوئی اچھا نہیں تھا اور وہاں ایک ڈکٹیٹر کی حکومت تھی ، جبکہ امریکہ ایک جمہوری ملک تھا جہاں افراد کی آزادی کو اہمیت دی جاتی تھی
ہممم ۔۔ امریکہ اور جمہوریت ۔ ۔ ۔ جمہوریت صرف ووٹ دینے کے حق کو نہیں کہتے کیا ؟ امریکہ میں سیاہ فاموں کو ووٹ کا حق نہیں ، حواتین کو بھی ووٹ کا حق کئی سو سال بعد دیا گیا ، اور کیا امریکہ نے ایٹم بم سے تباہی نہیں پھیلائی ؟
سر ۔ ۔ امریکہ میں سیاہ فام اب صدر کے عہدے تک پہنچے ہیں ، یہ ساٹھ کی دہائی میں بہت کچھ بدل گیا تھا امریکہ میں
تو کیا امریکہ نے ہمارا ساتھ دیا ؟ فاطمہ جناح نے پوچھا
نہیں محترمہ ، امریکہ نے ہمیں اکثر دھوکا دیا ، سن پینسٹھ کی جنگ میں اور اکہتر کی جنگ میں امریکہ نے بظاہر نیوٹرل کا کردار ادا کیا مگر پس پردہ اور کبھی ظاہری طور پر بھارت کا ساتھ دیا
اوہ ۔ ۔ ۔۔ یعنی ہم ایک طفیلی ریاست بنے ؟
بہت حد تک قائد محترم
یا خدایا ۔۔ ۔ میں نے کیا سوچا تھا اور کیا ہوا ۔ ۔۔ قائد کے چہرے پر غم کے تاثرات اور گہرے ہو گئے
تو کیا لیاقت کے قتل کی وجہ یہ تھی ؟
شاید ، کیونکہ لیاقت علی خان کو قتل کرنے والا ایک افغان تھا اور پھر اسے اسی وقت ایک پولیس افسر نے قتل کر دیا اور پھر یہ راز ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا کہ اسے کس نے بھیجھا تھا اور قتل کے محرکات کیا تھے
لیاقت کے بعد کون آیا اور میرے بعد کون گورنر جنرل بنا اور ساتھ میں یہ بھی بتا دو کہ آج کون ہے گورنر جنرل ، کیونکہ میرے ساتھ صدر اور وزیر اعظم ہیں ۔۔ یعنی کیا گورنر جنرل کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے ؟؟ چییف ایگزیٹو کون ہے
سر آپ کے اپنے فرمان کے مطابق ، پاکستان میں امریکہ کی طرح صدارتی نظام ہونا چاہیے تھا، ہم نے پچھلے ستر سال میں ہر طرح کی حکومت کے تجربات کیے ، جن میں صدارتی طرز حکومت بھی شامل ہے اور پارلیمانی اور فوجی بھی
فوجی بھی ۔ ۔۔ کیا مطلب ؟ کیا فوج بھی پاکستان کی حکمران رہی ؟
جی سر ، پچھلے ستر سالوں میں نصف عرصے میں فوجی حکمران رہے ۔ ۔۔اور نصف وقت سویلینز کو ملا
یہ کون سا پاکستان ہے ۔۔ ۔ قائد کی آنکھوں میں آنسو جھلمانے لگے ۔۔ ۔ ۔ یعنی آپ نے پچھلے ستر سالوں میں یہ فیصلہ نہیں کیا کہ ہمارے ہاں کیسی حکومت ہونی چاہیے
سر ہم نے اپنا آئین بنایا ہے ، جو تہتر میں نافذ ہوا
کیا ، تم لوگوں کو آئین بنانے میں تیس سال لگے ؟ کیا تمیں میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ ہمارا آئیں تو تیرہ سو سال پہلے سے ہمیں دے دیا گیا ہے ؟ کیا تم لوگ اسرائیل سے بھی سبق نہیں لے سکے جس نے پہلے دن سے اپنا آئیں اپنی مقدس کتاب کو بنا دیا ایک لائن کا آئین ۔ ۔ ۔ قائد کی آواز میں غصہ تھا ۔ ۔ ۔
سس سس ۔ ۔ ۔ سر ۔ ۔ ۔ ہم ابھی تک یہ بھی فیصلہ نہیں کر سکے کہ پاکستان کا اسلام سے کوئی رشتہ ہے کہ نہیں ہے ۔ ۔ ۔ تو مذہبی کتاب ۔ ۔ ۔کا حوالہ کیسے دیتے ، اسی کشمکش میں یہ سب کچھ ہو گیا ، اور تہتر کا آئین بھی مختلف حکومتوں میں بدلتا رہا
ہاں ۔ ۔۔ تو انسان کا بنایا ہوا قانون تو بدلتا رہتا ہے ، خدا کا قانون نہیں بدلتا ۔ ۔ ۔ اور پاکستان اور اسلام کا رشتہ کیا تمہیں میں نے نہیں بتایا تھا ؟ کہ پاکستان تو اسی دن بن گیا تھا جب ہندوستان کا پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا ۔ ۔
جج جی سس سس سر ۔ ۔ ۔ پروفیسر صاحب قائد کی کڑک دار آواز سے پسینے پسینے ہو گئے تھے
اچھا بتاؤ آگے کیا ہوا ، میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنا غلط سمجھا جائے گا مجھے اور قیام پاکستان کو
شہید ملت کے قتل پر ۔ ۔ ۔
شہید ملت کون ؟
لیاقت علی خان صاحب ۔۔۔ انہیں یہ خطاب انکے قتل کے بعد دیا گیا
ہممم ۔۔ ۔ اور مجھے کیا خطاب دیا گیا ،میری موت کے بعد ۔ ۔۔
جج ، ۔جی آپ کو ہم بابائے قوم کہتے ہیں ۔ ۔۔ اور سمجھتے ہیں یعنی فادر آف نیشن ۔۔ ۔
یہ خطاب کب دیا گیا مجھے ؟
جج جی آپ کو آپ کی زندگی میں ہی بابائے قوم کہا جانے لگا تھا جیسے قائد اعظم کا خطاب بھی تھا ۔۔ ۔
ہاں میں جانتا ہوں ۔ مگریہ نہیں جانتا تھا کہ قوم مجھے باپ تو مان لے گی مگر نافرمان ہو جائے گی ، میری اپنی اولاد کی طرح ، قائد کی آواز رُندھ گئی تھی
سس سس سر آپ کی صاحبزادی ابھی تک زندہ ہیں مگر بھارت میں رہتی ہیں
ہاں ۔۔ ۔ وہ تو اسی وقت ادھر چلی گئی تھی ، میرا اس سے کوئی رشتہ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ کہ اس نے مجھے بہت تکلیف پہنچائی ۔۔ ۔ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔ ۔
ہال میں خاموشی چھا گئی ، جیسے کسی کے پاس کچھ کہنے کے لیے نہ رہا ہو!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ دیر خاموشی کے بعد ، قائد نے خود خاموشی کو توڑا
آپ آگے بتائیں ، لیاقت کے بعد کیا ہوا؟
لیاقت علی خان نے اپنے تین سال میں بہت کچھ کیا تھا خاص کر انکا پنڈت نہرو کے ساتھ اقلیتوں کی حفاظت کا معاہدہ بھی کیا گیا تھا ، جس کی وجہ سے کافی حالات بہتر ہوئے تھے مگر یہ صورت حال بھارت میں زیادہ عرصے تک نہیں چلی
کیا گاندھی نے کچھ نہیں سمجھایا
سر گاندھی جی کا تو آپ کی وفات سے پہلے ہی قتل کر دئیے گئے تھے
کیا مطلب ، قائد ایک بار پھر اضطرابی طور پر کھڑے ہو گئے ، گاندھی کو بھی قتل کر دیا گیا ۔ ۔۔ اوہ ۔ ۔مائی گاڈ ۔ ۔ ۔ پھر ان دونوں ملکوں میں تو قتل کا رواج نکل پڑا ہو گا
جی سر ، دونوں ملکوں میں کئی حکومتی لوگ قتل کئے گئے ، قائد ملت لیاقت علی خان کے قتل کے بعد پاکستان میں محلاتی سازشیں زور پکڑنے لگیں جس میں جنرل اکبر کا سول حکومت پر قبضے کا پلان بھی تھا ، مگر ناکام ہوا
مگر سات سال تک سیاستدانوں نے آپس کی چپقلش میں پاکستان کو چیئرز کا گیم بنا دیا ۔۔ ۔ اور اسکے نتیجے میں جنرل اعظم نے ١٩٥٨ میں پہلا مارشل لگا دیا ، جو کہ جنرل ایوب کے گیارہ سال کی فوجی حکومت کا آغاز ثابت ہوا
ہاں جب سیاست دان ناکام ہوتے ہیں تو آمریت کامیاب ہو جاتی ہے ، قائد کے لہجے میں دُکھ صاف محسوس کیا گیا
جنرل ایوب کے زمانے میں پاکستان نے انڈسٹریز میں ترقی کی اور نئی نئی صنعتیں وجود میں آئیں جسکے لیے پاکستان نے امریکہ سے بہت مدد لی ، پاکستان میں بجلی کے بڑے منصوبے بنے اور جنرل ایوب کے زمانے میں ہی دارلحکومت کو کراچی سے منتقل کر کہ اسلام آباد لایا گیا ، اسلام آباد ایک نیا شہر بنایا گیا ۔۔ ۔ جہاں ابھی آپ موجود ہیں
اوہ تو کیا گیارہ سال تک دنیا نے پاکستان کو برداشت کیا ملڑی حکومت کو؟
سر جنرل ایوب نے اپنی زیر نگرانی ایک پارٹی بنائی جس میں حکومت پرست سیاست دانوں کو اکھٹا کیا گیا اور الیکشن کروائے گئے ، محترمہ فاطمہ جناح انکے مقابل تھیں مگر وہ انتخاب ہار گئیں
کیا ؟ میں اتنی ان پاپولر تھی کہ انتخاب ہار گئی ۔ ۔ ۔محترمہ فاطمہ جناح کے لہجے میں حیرت تھی
جی نہیں ، آپ غیر مقبول نہیں تھیں ، مگر حکومتی مشنری نے آپ کو ہرا دیا ، جس پر رد عمل کے ڈر سے آپ کو قید کر لیا گیا اور پھر آپ پراسرار حالات میں موت کا شکار ہو گئیں
کیا مطلب ، مجھے بھی قتل کر دیا گیا ۔ ۔۔ ۔ فاطمہ جناح کی آواز میں خوف نمایاں تھا
اس کا بھی کوئی جواب نہیں ہے میڈم ۔ ۔۔ قوم آپ کو مادر ملت کہتی ہے ، مگر آپ کیسے ہاریں یہ کوئی بھی نہیں جانتا ، اور اسی قوم نے آپ کی بہت تضحیک بھی کی ۔ ۔۔
کیا مطلب ۔ ۔ ۔ قائد اور فاطمہ جناح کے دونوں کے منہ سے نکلا
میرے خیال میں پروفیسر صاحب تفصیلات میں نہ جائیں ہمارے پاس کم وقت ہے ، چیف نے پہلی بار بولا
ہاں آپ تو اپنے جنرلز کو بچاتے آئے ہیں نا ابھی تک ۔ ۔ ۔ وزیراعظم نے زہر سے بجھے لہجے میں کہا
میرے خیال میں یہ لڑنے کا مناسب وقت ننہیں ۔ ۔ ۔ پلیز ۔ ۔ ۔ صدر صاحب نے چیف کی طرف التجائی نظروں سے دیکھا
ہاں زیادہ بحث کا وقت نہیں کہ صحیح ہوا یا غلط ، مجھے صرف یہ جاننا ہے کہ کیا ہوا ، ہمارے پاس اب نو گھنٹے ہیں باقی ، قائد نے بے زار لہجے میں کہا، پروفیسر کنٹینیو پلیز
جج جج جی سر ، ١٩٦٢ میں چین اور بھارت کی جنگ سے چین پاکستان کے بہت قریب آ گیا ، اور بھارت میں پاکستان کے خلاف نفرت بڑھی کہ پاکستان نے کشمیر کو آزاد کرانے کے لیے بہت سے قبائلیوں کو مقبوضہ کشمیر میں داخل کرنا شروع کیا ، جو ١٩٦٥ کی جنگ کا باعث بنا، یہ جنگ ہم نے جیتی یا ہاری اس کا کچھ نہیں کہا جا سکتا ، مگر یہ ضرور ہوا کہ ١٩٤٧ کی طرح بھارت نے اقوام متحدہ کا سہارا لے کر جنگ رکوا دی
تو کیا کشمیر آزاد ہوا ؟
نہیں محترم قائد ، ہم نے شملہ معاہدہ کر لیا ، جس میں بھارت نے حق خود ارادیت مان تو لیا مگر آج تک اس پر عمل نہ ہو سکا
کیوں ؟
شاید ہمارے حکمران پاکستان کو کبھی اتنا طاقتور نہیں کر سکے کہ ہم دشمن کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کر سکتے
پھر ١٩٧٠ میں پاکستان میں تاریخ کے سب سے زیادہ شفاف انتخابات ہوئے اور مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کی
یہ کوئی نئی پارٹیاں تھیں اور مسلم لیگ کہاں گئی ؟ قائد نے پوچھا
جی سر عوامی لیگ شیخ مجیب الرحمٰن کی پارٹی تھی اور پیپلز پارٹی ذولفقار علی بھٹو کی ، مسلم لیگ چونکہ سابقہ ڈکٹیٹر ایوب خان کی پروردہ تھی اس لیے اسے بُری طرح شکست ہوئی
اس الیکشن کے بعد بھٹو اور شیخ مجیب کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی شروع ہوئی جسکے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں جہاں بنگالی زبان کی تحریک کی وجہ سے پہلے ہی ٹنشن تھی اور بڑھ گئی ،اور بھارت نے بھی اس کا فائدہ اٹھایا اور اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل کردیں اور وہاں خانہ جنگی شروع ہو گئی ، جسکو کچلنے نے کے پاک فوج نے ایکشن کیا جو فسادات میں بدل گیا اور مشرقی پاکستان نے علیحدگی کا اعلان کر دیا اور شیخ مجیب نے بنگلہ دیش کا اعلان کر دیا ، پاکستان کو فوجی محاذ پر بھی شکست ہوئی اور ہزاروں فوجی بھارت کے قیدی بن گئے اور مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا ۔ ۔۔ اسی علیحدگی پر بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے کہا کہ ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے
اندرا گاندھی ، نہرو کی بیٹی ؟
جی سر وہ بھارت کی مقبول وزیر اعظم رہی ہیں انہیں بھی انکے محافظوں نے قتل کر دیا تھا کہ انہوں نے سکھوں کے مقدس گولڈن ٹمپل پر خون کی ہولی کھیلی تھی
مجھے اندرا کا پتا ہے وہ انتہائی عیاش اور بے حیا لڑکی تھی ، دونوں باپ بیٹی نے ہر جائز ناجائز طریقے سے ہندوستان کی تقسیم کو روکنا چاہا اور مسلمانوں کو نقصان پہنچایا، قائد نے انتہائی سنجیدہ لہجے میں کہا
سر آپ کا گاندھی جی کے بارے میں کیا نظریہ ہے
گاندھی ایک بہروپیا تھا ، وہ ہندوستان کی تقسیم نہیں چاہتا تھا ، میں بھی نہیں چاہتا تھا ،مگر نہرو ، ولا بھائی پٹیل جیسے لوگوں نے گاندھی کو گھیر لیا تھا اور پھر گاندھی مجبور ہو گیا ، مگر گاندھی چاہتا تو فسادات کو روک سکتا تھا ، مگر اس نے ایسا نہیں کیا اور اس کو اسی کی منافقت لے ڈوبی ، مجھے یوں لگتا ہے جیسا کہ پاکستان ٹوٹنے کا سبب میرا اردو زبان کے بارے میں بیان تھا جو بنگالیوں کو سمجھ نہیں آیا
جی سر ، کچھ ایسا ہی ہوا ، بہت سے لوگ آپ کے بیان کو ہی اس سقوط ڈھاکہ کا سبب سمجھتے ہیں
خیر آگے چلیں ، اور ذرا تیز چلیں ، کہ وقت بہت کم ہے
سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی ، جو پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ذولفقار علی بھٹو کی سربراہی میں پاکستان کوبدلنے کے لیے تیار ہوئے ، اور روٹی کپڑا مکان کا نعرہ دیا
گریٹ ، روٹی کپڑا مکان ، انٹرسٹنگ ۔ ۔۔ یہ تو بنیادی ضرورت ہے ہر انسان کی
جی سر ، اسی کو بنیاد بنا کر پاکستانی عوام کو بھٹو عوامی لیڈر بنایا گیا ، مگر بھٹو اچھی اور بُری باتوں کا مجموعہ تھے ، بھٹو نے معاشی ، سیاسی ، مذہبی اصلاحات کے نام پر بہت کچھ بدل ڈالا ، بھٹو نے پاکستان کو پہلا متفقہ آئین دیا ، پاکستان کو عالم اسلام میں اہم مقام دلوایا ، اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی ، جو کہ بھارت کے ایٹمی دھماکے کا جواب تھی
کیا مطلب پاکستان نے بھی ایٹمی دھماکے کیے ؟
جی سر پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے مگر بہت سالوں کے بعد ، پاکستان اب دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت ہے
ایٹمی طاقت ؟ کیا تباہی کے ہتھیار رکھنے سے ملک طاقت بن جاتے ہیں یا ظآلم ؟ امریکہ کی مثال ہمارے سامنے ہے ، جس نے جاپان کو برباد کر کہ رکھ دیا
سر ہم نے اپنے دفاع کے لیے ایٹمی طاقت کا انتخاب کیا ، ہمیں مجبور کیا گیا ، اسی لیے تو بھٹو نے کہا تھا کہ ہم گھاس کھائیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے
تو اب یقینا گھاس کھا رہے ہو گے تم لوگ ۔ ۔ ۔ ۔ قائد نے زہر خند لہجے میں کہا
سس سسر آپ کسی حد تک ٹھیک ہیں ہمارے ملک میں ابھی تک غربت پر قابو نہیں پایا جاسکا ، ہم ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود معاشی طور پر خود کفیل نہیں ہیں ، ہماری معیشت کا بوجھ غیر ملکی قرضے ہیں
کیا ، غیر ملی قرضے ؟ کیا پاکستان میں وسائل ختم ہو گئے ہیں ،یہاں کس چیز کی کمی ہے ، ٹھیک ہے مشرقی پاکستان الگ ہو گیا ، مگر مغربی پاکستان ایک زرعی علاقہ ہے ، پنجاب اور سندھ کی دھرتی ہے ، بلوچستان کی معدنیات اور سرحد کی محنت کش عوام ہے ، کیا کمی ہے ہم میں کہ ہم مقروض ہو گئے ہیں
سس سر ، سرحد کو اب خیبر پختون خواہ کہا جاتا ہے ، اور آپکی بات ٹھیک ہے پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں مگر مسائل کی بھی کمی نہیں ہے ، ہمیں کوئی ایسا لیڈر نہیں ملا جو ہمیں متحد رکھ سکتا سب لوگ کرپٹ ملے ہیں ، جنہوں نے خود کو تو امیر کر لیا مگر اس ملک کو غریب کر دیا ۔ ۔ ۔ پروفیسر صاحب نے کن اکھیوں سے وزیر اعظم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ، وزیر اعظم نے کچھ بولنا چاہا مگر کسمکسا کر رہ گئے
بھٹو کے دور میں پاکستان میں اسلامی سربراہی کانفرنس ہوئی ، جس نے پاکستان کی عالم اسلام میں اہمیت کو اجاگر کیا ، بھٹو کے زمانے میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا ، بھٹو کے زمانے میں ہی شراب پر پابندی لگائی گئی اور بھٹو کے زمانے میں ہی پاکستان میں پاکستان میں معاشی اصلاحات کی گئیں جنکا اثر کچھ مثبت اور کچھ منفی ہوا بھٹو کے زمانے میں ہی پہلی بار بلوچستان میں خانہ جنگی کی کوشش کی گئی ۔ ۔ ۔ جو آج تک جاری ہے
انٹرسٹنگ ۔ ۔ ۔ یہ بھٹو تو کافی ملٹی ٹیلنٹڈ لگتا ہے ، جس نے ہر اس چیز پر ہاتھ ڈالا ، جو کسی بھی ملک کو آباد یا برباد کر سکتی ہے، قائد نے سپاٹ لہجے میں کہا
جی ہاں ، اسی لیے بھٹو آج بھی ایک مثال ہے ، مگر بھٹو کا انجام اچھا نہیں ہوا
اوہ ، کیا اسے بھی قتل کیا گیا ؟
نہیں سر ، مگر قتل بھی کہ سکتے ہیں ، ١٩٧٧ میں تاریخ کے متنازع ترین انتخابات ہوئے ، جس کے نتیجے میں پاکستان میں دوسرا مارشل لا جنرل ضیا کے ہاتھوں لگا ، جس نے پاکستان کو مزید اندھیروں میں دھکیل دیا، اور بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا
اوہ ۔ ۔۔ وہ کیوں ؟
ان پر ایک قتل کا مقدمہ تھا ، عدالت نے موت کی سزا دی ، جو آج تک ایک متنازع فیصلہ جانا جاتا ہے اور اسکا الزام ضیاالحق پر رکھا جاتا ہے
ہممم۔۔۔۔ ضیا کے مارشل لا نے کیا کیا ؟ کہا پہلے مارشل لا کی طرح تھا یا مختلف تھا
بہت مختلف تھا سر ، ضیا کی قسمت بہت اچھی تھی ، اسکے مارشل لا کے بعد ہی روس نے افغانستان پر حملہ کر دیا اور گرم پانی تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگا ، امریکہ اس جنگ میں آ گیا اور پاکستان کو مہرہ بنا لیا ، پاکستان نے امرکہ کا بھرپور ساتھ دیا مگر ساتھ ہی اپنی سرزمین کو افغانوں سے بھر دیا ، اور پاکستان میں منشیات اور دھشت گردی کا سیلاب آ گیا جو آج تک ہمارے وطن کو دیمک کی طرح کھا رہا ہے
اوہ۔ ۔ ۔۔ یعنی ہم لیاقت کے زمانے سے ہی امریکہ کے طفیلیے رہے ، اور وہ ہزروں میل دور سے ہمیں کنٹرول کرتا رہا ہے ، امریکی ہمیشہ سے دنیا پر قبضے کی کوشش میں رہے ، اور جنگیں لڑتے رہے مگر ہزراروں میل دور سے
جی سر ایسا ہی ہے ، امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد بہت جنگیں لڑیں ہیں اور ساری کی ساری امریکہ سے ہزاروں میل دور لڑی ہیں ، اور پراکسی جنگیں تو بہت سی لڑ رہا ہے
کون سی جنگیں لڑیں ؟
سر ویت نام کے ساتھ ایک طویل جنگ کی ، پھر افغانستان ، پھر عراق ، لبیا ، یوگوسلاویہ ، بالٹک ریاستوں اور ابھی یمن اور شام میں بھی امریکہ جنگ لڑ رہا ہے
کیا امریکہ کا کیوبا اور میکسیکو کے درمیان تنازعات ختم ہو گئے ہیں ؟
جی نہیں سر ، مگر امریکہ نے کبھی غیر مسلموں کے ساتھ تباہی والی جنگ نہیں کی ، حتیٰ کہ وہ شمالی کوریا کی دھمکیوں کو بھی نظر انداز کر رہا ہے اور بھارت کے کشمیر کے ظلم کو بھی
ہاں ایسا ہی ہے ، پاکستان کو اسلامی دنیا کی رہبری کے لیے بنایا گیا تھا مگر تمہاری باتیں سُن کر مجھے لگتا ہے کہ پاکستان خود غیر مسلموں کے تابع ہو چکا ہے
افسوس کے ساتھ مجھے اعتراف ہے سر ایسا ہی ہے ، بہرحال ، پاکستان کو افغآن جنگ نے دھشت گردی کی طرف دھکیل دیا ، روس ٹؤٹ گیا اور امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور بن گیا ، اور اس نے پاکستان کو اکیلا چھوڑ دیا
ایک اسلامی ملک کو غیروں پر اتنا اعتماد کرنا ہی نہیں چاہیے ،ہمیں ہمارا قرآن بہت کچھ بتاتا ہے کہ دنیا میں کیسے رہنا ہے
سر ہم اب ہر معاملے میں مذہب کی مدد نہیں لیتے ، بلکہ اپنے فہم سے فیصلے کرتے ہیں
واہ ۔ ۔ ۔ کمال ہے ۔ ۔ پھر پاکستان بنانے کا مقصد ہی فوت ہو گیا ، فاطمہ جناح نے طنزیہ لہجے میں کہا اور قائد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ، بھائی ، یہ پاکستان وہ نہیں جس کو آپ نے بنایا تھا ، شاید ہم غلط جگہ آ گئے ہیں
مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے فاطی ، قائد نے تشویش ناک لہجے میں کہا ، میں نے پاکستان کو اسلامی نظریات کی جدید مملکت بنایا تھا ، اگر مغربی جمہوریت ہی یہاں چلانی ہوتی تو ہندوستان کی تقسیم کی کیا ضرورت تھی ، ڈاکٹر اقبال نے تو ١٩٣٠ میں ریاستی خود مختاری کا نظریہ پیش کیا تھا ، ہم امریکہ روس یوگوسلاویہ کی طرح ریاستی خود مختاری کے ساتھ رہ سکتے تھے ، کیا ہم ہزار سال اکھٹے نہیں رہے ؟ مجھے تو لگتا ہے میرا ویژن ہی بدل ڈالا گیا ہے اس پاکستان میں
سر ہم آج تک اسی بحث میں اُلجھے ہوئے ہیں کہ آپ کیسا پاکستان چاہتے تھے ؟ اسلامی یا سیکولر، اگر ہم ہزار سال اکھٹے رہے تھے تو پھر الگ ملک کی کیا ضرورت تھی ؟
میرے خیال میں میں اسکا جواب دے چکا ہوں ، اصل میں انگریزوں نے ١٨٥٧ کی جنگ آزادی میں ہی ہندو اور مسلمانوں کو الگ الگ کر دیا تھا ، انگریزوں نے مسلمانوں کی سلطنت ختم کی تھی ، ہندوؤں نے اس خاتمے کے لیے انگریز کو خوش آمدید کہا ، اسکا آغاز انڈین کانگریس کے قیام سے شروع ہوا جس کا بانی ایک انگریز تھا ، اور اسے ہندوستان کی سیاسی جماعت بنایا گیا مگر اصل میں وہ ہندو جماعت تھی ، اسی طرح مسلم لیگ بھی تھی جو مسلمانوں کی جماعت تھی ، میں نے بھی بہت کوشش کی کہ ہندو مسلم اتحاد بنا رہے مگر کانگریس نے یہ ہونے نہ دیا اور ہندوستان کو ہندو مملکت بنانے کی کوشش کی ، جس کی وجہ سے پاکستان کا قیام ممکن ہوا ، اور پھر ہندو نے ہی پہلے مسلمانوں کو الگ قوم قرار دیا جبکہ ہندوستانی مسلمان اسی دھرتی کا حصہ ہیں ، باہر سے آئے ہوئے عرب فاتحین ہوں یا مغل یا افغانی وہ آئے اور ختم ہو گئے ، کیا مغل اسی سرزمین کا حصہ نہیں بنے ؟ کیا اکبر نے وہ نہیں کیا جو آپ بتا رہے ہو آج کے پاکستان میں ہو رہا ہے ؟
سر آپ نے بھی تو غیر مسلموں کو اپنی کابینہ میں رکھا جس کی وجہ سے ہمیں یہ کنفیوژن ہے کہ پاکستان خالص اسلامی مملکت نہیں بلکہ سیکولر ری پبلک ہے
واٹ ۔۔۔۔۔؟ کیا اکبر کے سارے نورتن مسلمان تھے ؟ کیا ٹیپوسلطان کی سلطنت کے وزیر ہندو نہیں تھے ؟ کیا عباسی ، سلجوق ، سلاطین دلی کے حکمرانوں کے دربار میں صرف مسلمان ہی تھے ؟ مسلمانوں نے ہمیشہ اپنی غیر مسلم رعایا کو اپنے درباروں میں نمائندگی دی ، مسلمان اگر اقلیت میں رہے تو روس کی لامذہبی ریاست میں بھی اپنا آپ قائم رکھا ہے ، امریکہ یورپ میں پہچان رکھی ہے ، ہم نے ہسپانیہ کو کھویا تو ہم نے یورپ تا کاشغر مسلمانوں کی حکومتیں قائم کیں ، تو پاکستان کے بارے میں کیوں پوچھا جا رہا ہے کہ وہ اسلام سے متعلق ہو گا کہ نہیں ؟ مجھے آپ کے سوالوں پر حیرت ہے ، شاید میں اپنا پیغام صحیح نہیں پہنچا سکا ، مجھے اسکا دُکھ ہے ، قائد کی آواز میں لرزش تھی ، کیا مجھے ریڈیو پر پاکستان کی قوم کو میرے پیغام کی تشریح کا موقع دیا جائے گا ؟
سر ۔ ۔ ۔ آپ کی یہ سب باتیں پاکستانیوں اور باقی دنیا تک پہنچ رہی ہیں ؟
وہ کیسے ؟
سر یہ سب کچھ براہ راست نشر کیا جا رہا ہے ، ٹی وی پر اور سٹیلائٹ پر ، ساری دنیا یہ سب دیکھ رہی ہے
اوہ ، اچھا ۔ ۔۔ یعنی میں پاکستانیوں سے براہ راست بات کر سکتا ہوں ؟
جی ہاں سر ،
تو میں انگلش میں ہی بات کروں گا ، کیونکہ میں زیادہ واضح کر سکوں گا دینا کو
سر کوئی بات نہیں ، ہمارے ہاں اب ایسی ٹیکنالوجی ہے ، کہ آپ کی اس ساری بات کو ہر کوئی اپنی اپنی زبان میں سُن سکتا ہے
محترم قائد ، ہم نے آپ کا ایک خطاب رکھا ہے اس بریفنگ کے بعد، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنے تاثرات قوم کے سامنے بیان کریں ، وزیر اعظم نے موءدب لہجے میں کہا
ٹھیک ہے ، پروفیسر پھر کیا ہوا ، ضیا کے دور کا اختتام کیسے ہوا
سر ، صدر ضیا کا طیارہ تباہ ہو گیا ، اور وہ اور نکے بہت سے ساتھی مارے گئے
اوہ میرے خدایا ، کیا ہمارے ہاں حکمران مارے ہی جاتے رہے ؟
بدقسمتی سے ایسا ہی ہے محترم قائد ، ضیا کے بعد پھر سے جمہوری میوزیکل چئیر شو شروع ہوا ، ایک حکومت آتی ،گرا دی جاتی ، ہم نے ضیا کے بعد دس سالوں میں آٹھ جمہوری حکومت کو دیکھا اور پھر ١٩٩٨ میں جنرل مشرف نے تیسرا مارشل لا لگا دیا
اوہ ، یعنی پھر فوجی حکومت ۔ ۔ ۔
جی سر، اور یہ حکومت بھی گیارہ سال رہی ۔۔ ۔
یا خدا ، میں نے پاکستان کو ایسا تو نہیں بنانا چاہا تھا جہاں لوگ اقتدار کی رسہ کشی کرتے رہیں ، پھر تو عوام کے لیے کیا کیا ہو گا ان اقتدار کے حواریوں نے ؟ میں نے تو بار بار کہا کہ حاکم عوام کے خادم ہوتے ہیں ، اور تمہاری باتوں سے لگتا ہے کہ قوم بکھر گئی ، ان میں ایمان نہیں رہا اور سب الگ الگ ہو گئے
جی سر کچھ ایسا ہی ہوا ہے ، ہم نے آپ کے فرمودات بھلا دیے ، اب ہم میں نہ اتحاد ہے نہ تنظیم ہے اور نہ ہی ایمان ہے ۔۔ ۔
تو پھر قوم نہ رہی نا ، ریوڑ ہوا انسانوں کا ، قائد کی آنکھوں میں موتی جھلمانے لگے
کمرے میں ایک بار پھر سکوت طاری ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر نئی فوجی حکومت نے کیا تیر مارا ، محترمہ فاطمہ جناح کے لہجے میں طنز تھا
تیر کیا مارنا تھا ، ہماری رہی سہی ساکھ بھی مٹی میں ملا دی گئی ، امریکہ میں دو جہاز دو بڑی بلڈنگ سے کیا ٹکرائے کہ امریکہ کو مسلمان دُنیا کو کھنڈر بنانے کا ٹھیکہ مل گیا ، مسلمانوں کی کمزوریوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ، امریکہ نے غداروں پر ڈالروں کی بارش کر دی ، تو ہم کیوں پیچھے رہتے ۔ ۔ ۔ ہم نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ، یہ بڑی عجیب سی بات ہے کہ جب بھی پاکستان میں فوجی حکومت آئی دنیا میں کچھ ایسا ضرور ہوا جس کی وجہ سے مغرب کو پاکستان کی ضرورت پڑی اور پاکستانی حکمرانوں نے اس کا بھرپور فائدہ اُٹھایا ، اسی کی وجہ سے آج ہمارے جتنے بھی حکمران ہیں انکے بچے امریکہ اور مغرب میں بہت آسان زندگی بسر کر رہے ہیں اور ہمارے حکمران دن بہ دن امیر سے امیر تر ہوتے گئے اور عوام غریب تر
پروفیسر صاحب ، سیاست کی باتیں نہ کریں ، یہ درست نہیں ہے ، وزیر اعظم نے زہر خند لہجے میں کہا
یہ سیاست نہں حقیقت ہے سر ، پروفیسر صاحب نے بھی اسی لہجے میں جواب دیا
یاد رکھیے قائد تو کچھ گھنٹوں کے لیے ادھر ہیں ، آپ کو جواب دہی کرنا پڑے گی ان الفاظ کی ۔ ۔۔ صدر صاحب بھی وزیر اعظم کے لہجے میں بولے
دیکھ لیجیے قائد ، آپ نے ہمیں یہ کہا تھا کہ حکمران خادم ہوتے ہیں عوام کے ۔۔ ۔ یہ ۔۔ ۔
میں کیا دیکھوں اور کیا کہوں ۔ پی ایم صاحب نے سچ کہا کہ ۔ ۔ ۔ سیاست حقیقت نہیں ہوتی ، مگر حقیقت پر سیاست نہیں کی جا سکتی ، میری جیب میں کھوٹے سکے تھے ۔ ۔۔ مگر یہ ہی کھوٹے سکے عالمی طاقتوں کے لیے چمکتی اشرفیاں بن گئے ، خیر پھر کیا ہوا اگلے دس سالوں میں ۔۔ ۔
ہونا کیا قائد ، ہر آمر کی طرح ، فوجی حکومت میں جمہوریت کا تڑکا لگایا گیا اور موقعہ پرست سیاست دان فوجی حکومت کا حصہ بن گئے اور کہا کہ ہم فوجی حکمران کو وردی میں ہزار بار جتوائیں گے ۔ ۔ ۔اور ایسا ہی ہوا ، اور ملک کے دو بڑے لیڈران جو جلا وطن تھے واپس آئے ، پیپلز پارٹی کی بے نظیر بھٹو جو ذولفقار کی بیٹی تھیں اور مسلم لیگ کے نواز شریف ۔ ۔ ۔ دونوں نے دھشت گردی کی لہر کے باوجود عوامی مہم شروع کی ، اور اسی دوران بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی میں قتل کر دیا گیا
کیا ۔ ۔۔ ۔ قائد اور انکے ساتھی ایک ساتھ چلا اُٹھے ،۔۔۔۔ پھر قتل ۔۔ ۔ اوہ میرے خُدایا ۔۔ ۔ پاکستان ۔۔ ۔ ہے یا کوئی مقتل گاہ ۔ ۔ ۔۔
جی یہ تو بڑے لوگ تھے جو قتل ہوئے ،مگر پچھلے بیس سالوں میں دھشت گردی سے اسی ہزار سے زیادہ پاکستانیوں نے جان گنوائی ہے ، ایک وقت تھا کہ ہمارے ہاں روز خودکش دھماکے ہوتے تھے، عوام آج تک حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کا خمیزہ بھگت رہے ہیں
ہاں جب حاکم ۔۔ ۔ عوام سے الگ ہوں تو ایسا ہی ہوتا ہے ،
پھر سر انتخابات ہوئے پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی ، تو عوام کے لیے انہوں کیا کرنا تھا ، عدالتوں میں اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے مقدمے ہی لڑتے رہے ، اور پھر یہ ہی حال آج کی حکومت کا ہے ۔۔ ۔ ۔
بس ختم ؟۔۔ ۔ ۔ ۔ قائد نے بے زار لہجے میں پوچھا
جی سر ، اب اگر کچھ آپ پوچھنا چاہتے ہیں تو میں حاضر ہوں
یہ بتاؤ اقوام عالم میں ہمارا کیا مقام ہے
قائد میں آپ سے سیاسی بات نہٰں کروں گا گو مجھے اپنا انجام معلوم ہو چکا ہے ، ہمارا مقام ایک ٹشو پیپر جیسا ہے
ٹشو پیپر ؟ مطلب ؟
جب دُنیا کو ہماری ضرورت ہوتی ہے تو ہمیں سر آنکھوں پر بٹھا لیتے ہیں ، جب ضرورت ختم ہوتی ہے تو ہمیں فضول کہ کر ڈسٹ بن کی نظر کر دیتے ہیں اور یہ چکر پاکستان کے ساتھ شروع سے ہی چل رہا ہے
ہماری معیشت کیسی ہے
ہماری معیشت ایک طفیلی معیشت بن چکی ہے ، ملک میں کارخانے بند ہو رہے ہیں ، ہمارا ہر فرد ایک لاکھ سے اوپر کا مقروض ہے ، پہلے امریکہ ، پھر روس اور اب چین کا انفلوئنز بڑھ رہا ہے ، ہم اس پر خوشیاں مناتے ہیں کہ کوئی باہر سے آ کر ہمارے کام کر دے ، خود اپنا کام کرتے ہوئے ہمیں شرم آتی ہے
پروفیسر صاحب ، آپ اس سچوئشن کا بہت فائدہ اُٹھا رہے ہیں ، پی ایم ۔ ۔۔ کا لہجہ بےبسی سے بھرپور ہے
کیا پاکستان میں کچھ بھی مثبت نہیں ہوا ان ستر برسوں میں
ہوا ، بلکل ہوا ، ہم ایٹمی طاقت بنے
کیا ایٹمی طاقت بننے سے عوام کی زندگی پر کوئی فرق آیا
جی بہت فرق آیا ، ہم براہ راست جنگ سے محفوظ ہوئے تو پراکسی وارز کی زد میں آ گئے
دوسری ترقی ہمارا میڈیا ہے ، جو بہت ہی آزاد ہو چکا ہے
آزاد میڈیا ضروری ہے ۔۔ ۔ مگر ذمہ دار میڈیا ہونا چاہیے ۔ ۔۔
سر ہم ذمہ داری نہیں لیتے بلکہ اپنے ذمہ بھی جو ہوتا ہے وہ دوسروں کے ذمہ کر دیتے ہیں
یعنی تم لوگ بھی چینی بن گئے ہو ؟
چیینی ؟ نہیں سر چینی بہت محنتی قوم ہے ، آج چین نے بنا لڑے ساری دنیا میں اپنا لوہا منوا لیا ہے ، آج چین دنیا کے ہر کونے میں کسی نہ کسی صورت موجود ہے
چینی اور محنتی ؟ یہ تو افیون زدہ قوم ہے ، قائد نے حیرت سے پوچھا
سر تھی ، اب نہیں ۔ ۔ ۔ ہماری یہ ہی بدقسمتی رہی کہ ہمارے بعد بننے والے ممالک بھی ہم سے آگے ہیں ۔ ۔ ۔
میرے خیال میں یہ کبھی نہ ختم ہونے والی بحث ہے ، وزیر اعظم نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا اور ویسے بھی قائد کے پاس وقت کم ہے ، اس بریفنگ کو اب ختم کردینا چاہیے
ہاں ۔ ۔ ۔ میرے اندر بھی اب ہمت نہیں کہ اتنا سب کچھ سہ سکوں ۔ ۔ ۔ خدا کی پناہ ۔ ۔ ستر سالوں میں ہم یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ ہمارے قیام کا مقصد کیا تھا ، قائد کا لہجہ دکھیا تھا
سر آپ کے لیے ایک ضیافت کا اہتمام کیا گیا ہے ، جس میں اراکین اسمبلی اور ملک کی نامور شخصیات شامل ہونگی ، صدر نے قائد سے کہا
نہیں ۔ ۔ ۔ مجھے ناموروں سے نہیں ۔ ۔ ۔ عوام سے ملنا ہے ، ناموروں کے کارنامے تو میں اب سُن چکا ہوں
سر آپ عوام میں نہیں جا سکتے
کیوں ؟
سر دھشت گردی کی وجہ سے کوئی بھی وی آئی پی عوام میں نہیں جانا چاہتا
کیا موت کے ڈر سے ؟
جی سر ۔ ۔۔ آپ کو بتایا جا چکا ہے کہ ہمارے کتنے ہی لیڈر قتل ہوئے ہیں ۔۔ ۔
مرے ہوؤں کو کیا مارنا ، ہم تو بہت پہلے مر چکے ہیں ، اور دشمن میرے بھی تھے ۔ ۔۔ مگر عوام میرے ساتھ تھے ، مجھے کبھی بھی عوام میں جا کر خوف نہیں رہا بلکہ مجھے وہ میرے محافظ لگے اور انہیں میں انکا محافظ لگا
قائد اُٹھ کھڑے ہوئے ، مجھے عوام سے ملنا ہے ، اگر تم لوگ نہیں ملاؤ گے تو میں خود باہر جاؤں گا ۔ ۔ ۔ قائد کے مضبوط لہجے میں سختی تھی
آرمی چیف نے کہا ، قائد آپ میرے ساتھ چلیں ، میں آپ کو عوام سے ملواتا ہوں ÷ ÷ ÷ ÷
اور قائد انکے ساتھی آرمی چیف کے ہمراہ ہال سے نکل گئے
صدر اور وزیراعظم ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عصر کا وقت تھا ، قائد کو فیصل مسجد ہیلی کاپٹر سے لایا گیا ، قائد کو لینڈ مارکس کے بارے میں بتایا گیا جو واضح نظر آ رہے تھے ، پاکستان مانومنٹ ، سنچورس مال ، فیصل مسجد ، ائیرپورٹ ۔ ۔ انکے ساتھ صدر اور وزیر اعظم کو بھی آنا پڑا ، میڈیا سب کچھ براہ راست دکھا رہا تھا ، عوام کا جم غفیر قائد کی ایک جھلک دیکھنے کو بے قرار تھا ، عصر کے وقت ایسا اجتماع شاید ہی کسی نے دیکھا ہو گا ، قائد کو امام صاحب نے خوش آمدید کہا اور عصر کی نماز ادا کی گئی ، نماز کے بعد ہجوم بے قابو ہو گیا تھا ، قائد کو کہا گیا کہ وہ خطاب کریں ، مگر قائد نے مسجد میں خطاب سے منع کر دیا اور قائد کو مسجد سے باہر لایا گیا ، جہاں صحافیوں نے قائد کو گھیر لیا ، فیصلہ ہوا کہ ایک فوجی ٹرک پر سے قائد کا خطاب ہو گا اور اسکے بعد ایک پریس کانفرنس ہو گی
فوجی ٹرک کو چاروں طرف سے فوجیوں نے گھیرا ہوا تھا ، قائد کے سامنے مائک موجود تھا جگہ جگہ ساؤنڈ سسٹم لگا دیا گیا تھا ،جگہ جگہ بڑی بڑی اسکرینیں نصب ہو گئیں تھیں ، یہ سب کچھ فوج نے کیا تھا ، سب نے محسوس کیا کہ موسم بہت معتدل ہو گیا ہے ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی
قائد نے اسلام علیکم کہا
ہجوم کی طرف سے وعلیکم سلام کہا گیا
پھر قائد اعظم زندہ باد کے نعرے لگنا شروع ہوئے تو لگتے ہی چلے گئے
قائد نے ہاتھ اُٹھایا اور چُپ رہنے کے لیے کہا ، مجمع اب خاموش ہو چکا تھا
مجھے آج خدا نے موقع دیا کہ میں آپ کو دیکھ سکوں ۔ ۔ ۔ پاکستان کو دیکھ سکوں ۔ ۔ ۔ یہ دیکھ کہ خوشی ہوئی کہ پاکستان اب ایک ترقی کرتا ہوا ملک ہے ، مگر مجھے جو کچھ بتایا گیا ہے پچھلے ستر سالوں کے بارے میں ۔ ۔ ۔۔ اسے سُن کر بہت دُکھ ہوا ، مگر میں یہ بھی کہوں گا کہ آپ نے بھی ستر سالوں میں خود کو نہیں بدلا ، پاکستان کی بنیاد اسلام تھا آپ نے اسلام کے سنہری اصولوں کو چھوڑ دیا ہے ، آپ آج یہ بحث کرتے ہیں کہ پاکستان سیکولر ملک بنایا گیا ، اگر پاکستان کو سیکولر ہی بنانا ہوتا تو تقسیم کیوں ہوتی ؟ کیا باقی ہندوستان سیکولر نہیں تھا ؟ پاکستان کو اسلام کے نظام حکومت کی لیب بننا تھا ، جدید دور میں ایک مثالی ملک ہوتا ، ہمارے درمیان ایک ہی رشتہ تھا جو اسلام کا تھا ، مگر مجھے پتہ چلا کہ قومیت کے بنیاد پر پاکستان ٹوٹ چکا ہے ، اور اب بھی یہاں قومیت ، زبان اور مسلک کی بنیاد پر تقسیم بڑھ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مگر سب سے بڑا دُکھ یہ ہوا کہ ۔ ۔ ۔ عوام اور حکمران بالکل الگ الگ ہو چکے ہیں ۔ ۔ ۔ بڑی عمارتیں تو ہم نے بنا ڈالیں ۔ ۔ مگر بڑے کام نہیں کر سکے
میں اردو کو صحیح نہٰیں بول سکتا تھا مگر آج بول رہا ہوں ، کہ شاید اللہ نے آپ کو ایک موقعہ اور دیا ہے ، پاکستان کی قدر کرو ، اس کے لیے تمہیں دن رات کام کرنا چاہیے ، مجھے پتہ چلا ہے کہ چین جیسا ملک بھی آج ایک سُپر پاور بن چکا ہے ، آپ کو ان سے سیکھنا چاہیے ، آپ کو میں نے تین اصول دیے تھے ، ایمان اتحاد تنظیم ۔۔ ۔ مگر افسوس کہ آپ نے سب بھلا دیا ، ابھی وقت ہے اپنی کوتاہیوں سے سیکھیں ۔ ۔ اور صرف کام کام کام کریں ۔ ۔ ۔
میرے پاس وقت بہت کم ہے ۔۔۔۔۔ بس اتنا کہوں گا ۔ ۔ ۔ ۔ کہ پاکستان کی قدر کرو ۔ ۔ ۔ ۔ ہجوم نہیں قوم بنو ۔ ۔ اللہ پاکستان کی حفاظت کرے، آمین، پاکستان زندہ باد
قائد کا سانس پھول چکا تھا ۔ ۔ ۔ وہ کرسی پر بیٹھ گئے ، انہیں تیزی سے ٹرک سے اتارا گیا اور ایمبولینس کے کے ذریے سی ایم ایچ پہنچایا گیا ، جہاں انہیں طبی امداد دی گئی ، قائد نے ہسپتال میں جدید ترین مشنری دیکھی اور پوچھا کیا پاکستان میں سب ہسپتال ایسے ہیں ، نہیں سر ، یہ فوجیوں کے لیے ہے عام لوگوں کے لیے ہسپتال بہت کم ہیں ۔ ۔ ۔ اور انکا حال بھی ابتر ہے
یعنی سب کچھ صاحب اقتدار اور صاحب ثروت لوگوں کے لیے ہے پاکستان میں ۔ ۔ ۔
سر کچھ ایسا ہی ہے ، میں باہر جانا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ قائد اُٹھ کھڑے ہوئے ،
سر آپکو آرام کی ضرورت ہے ،
نہیں میرے پاس اب صرف دو گھنٹے ہیں ۔ ۔ ۔
اور سب روکتے ہی رہ گئے اور قائد عوام میں گھل مل گئے ، دھکم پیل شروع ہو گئی لوگ قائد سے ہاتھ ملانا چاہ رہے تھے ، فوجی بہت مُشکل سے ہجوم کو کنٹرول کر پا رہے تھے ، اور پھر ایک شخص قائد کے قریب آیا ۔ ۔۔ اور زور سے چیخا ، جناح تُم نے پاکستان بنا کر سب سے بڑا گُناہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ تُجھے اللہ کبھی معاف نہیں کرے گا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسنے اپنی جیکٹ سے چھوٹی سی مشین گن نکالی اور اور قائد پر گولیاں برسا دیں مگر گولیاں قائد کے جسم سے ٹکرا کر گرتی رہیں ۔ ۔۔ جب اسنے دیکھا کہ قائد پر گولی کا اثر نہیں ہو را تو وہ ان سے لپٹ گیا ۔ ۔۔ اور اللہ اکبر کا نعرہ لگایا ۔ ۔ ۔ قائد اور وہ زمین پر گرے ۔ ۔ مگر کچھ بھی نہ ہوا ۔۔۔ قائد نے اسکا ہاتھ پکڑ رکھا تھا جس میں خودکُش جیکٹ کا کنٹرول تھا فوجیوں نے بھی اسے پکڑ لیا ۔ ۔۔ اور بمشکل اسے قائد سے الگ کیا قائد اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔فوجیوں نے دھشت گرد کو چھاپ لیا تھا ۔۔ ۔ مجمع تو گولی چلتے ہی تتر بتر ہو گیا تھا ۔ ۔۔ لوگ اب کافی دور کھڑے تھے ۔ ۔ ۔ سب کچھ اناً فاناً ہوا تھا ۔ ۔ ۔ دس منٹ بعد تمام چینل یہ سب کچھ بریکنگ نیوز پر چلا رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ چینل نے تو قائد کی موت کی خبر بھی نشر کر دی تھی ۔ ۔۔ مگر جب چینل کے کیمرے نے قائد کو فوجیوں کے گھیرے میں دیکھایا تو ۔ ۔ ۔سب کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ ۔۔ اور کیمرہ مین اب فوجیوں کے سامنے آ گئے تھے ۔ ۔ ۔
قائد نے ایک بار پھر سختی سے فوجیوں کو ہٹایا اور دھشت گرد کے قریب آئے جس کو اب فوجیوں نے جکڑ رکھا تھا ۔ ۔۔ اور اپنی گونجتی آواز میں اردو میں بولے
پاکستان گناہ نہیں تھا ، پاکستان ایک انعام ہے ، اللہ کا مسلمانوں کے لیے ۔۔ ۔ اور تم سے کس نے کہا کہ پاکستان میں نے بنایا ؟ پاکستان برصغیر کے مسلمانوں نے بنایا ۔ ۔ ۔ میں تو ہندوستان سے انگریز کو نکالنا چاہتا تھا ۔۔ ۔ مگر ہندو بنیے نے مسلمانوں کی زندگی اجیرن کر دی تھی ۔۔ ۔ ۔ پاکستان ہم نے نہیں ہندو بنیے نے بنایا تھا ، تقسیم ہندو نے کی تھی ۔ ۔۔ اور پاکستان تو اسی دن بن گیا تھا جب پہلے ہندوستانی نے اسلام قبول کیا تھا ۔ ۔۔ ۔
تُم نے ۔۔۔ مسلمانوں کے ہندوستان کو ہندو کے حوالے کر دیا ۔ ۔ ۔ وہاں کے مسلمانوں کا کچھ نہیں سوچا ۔ ۔ ۔ ۔ دھشت گرد پھر چلایا
ایک فوجی نے آگے بڑھ کر اسکی زور کا تھپڑ رسید کیا اور چیخا ۔۔ ۔ یہ میرا باپ ہے ، میری قوم کا باپ ہے ۔ ۔ ۔ آج یہ نہ ہوتا تو ۔۔ ۔ ۔تو بھی نہ ہوتا ۔ ۔ ۔ آخ تھو ۔ ۔۔ اسنے دھشت گرد پر تھوک دیا
نہیں میرے بچے ۔ ۔ ۔ یہ بھٹکا ہوا ہے ، اور قائد فوجیوں کا گھیرا توڑ کر عوام میں پہنچ گئے ۔ ۔ ۔۔ میں آج کے زمانے میں مر چکا ہوں مجھے دوبارہ نہیں مارا جا سکتا
لوگ قائد کے اردگرد پھر سے جمع ہونا شروع ہو گئے ۔ ۔ ۔ ان میں زیادہ تر نوجوان تھے اور بچے بھی تھے لڑکے لڑکیاں سب قائد کے گرد جمع ہو رہے تھے مگر اب کوئی دھکم پیل نہیں تھی
وہ سب قائد کے اردگرد آتے گئے اور بیٹھتے گئے ۔ ۔ ۔ قائد کے گرد ایک دائرہ بنتا چلتا گیا ۔ ۔۔ فاطمہ جناح جنہیں فوجیوں نے آگے آنے سے روکا تھا وہ بھی اب قائد کے ساتھ کھڑی ہوئیں تھیں
میرے بچو ۔ ۔ ۔ پاکستان اللہ کا انعام ہے ۔ ۔۔ یہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ۔ ۔ یہ ایک مقدس زمین ہے ، جسے اللہ نے اسلام کے لیے چُنا ، مسلمان مصیب میں نہیں گبھراتا ، ہمیں بہت دُکھ دیے گئے ہیں ، مگر ہم مسلمان ہیں ، ہم اُس نبی ﷺ کے ماننے والے ہیں جس نے بہت دُکھ اُٹھائے ہمارے لیے ۔ ۔ ۔ ہم حُسین کے ماننے والے ہیں ہر زمانے میں حق پر چلنے والوں کے لیے کربلا بپا کی گئی ۔ ۔ ۔ مگر اسلام زندہ ہوا ہر کربلا کے بعد ۔۔ ۔ میں کچھ دیر کے لیے تمہارے پاس ہوں ۔ ۔ مگر میں ہمیشہ تمہارے بیچ میں موجود رہوں گا ۔ ۔۔ میں مایوس نہیں ہوا کبھی بھی ۔ ۔ ۔ تم بھی نہ ہونا ۔ ۔ ہجوم میں پن ڈراپ سیلینس ہو چکا تھا
قائد خاموش ہوئے تو ایک لڑکی اُٹھی ، بابا ۔، ۔۔ مم سس سس سوری سر ۔ ۔۔ مجھے آپ کو بابا کہنا اچھا لگا آپ میرے ابو جیسے ہیں
بیٹا میں اس ساری قوم کا باپ ہوں ۔ ۔۔ اور تم سب میرے بیٹے بیٹیاں ہو ۔ ۔ ۔
بابا ۔ ۔ ۔ آپ کو پاکستان میں اب ایسا کیا لگا ہے کہ آپ اب بھی امید سے ہو ؟
قائد مسکرائے ۔ ۔ ۔ اور اسکی طرف اشارہ کیا ۔ ۔۔
ہاں مجھے امید نہیں یقین ہے کہ پاکستان میں تم ہو ۔ ۔ تم سب ہو ۔ ۔ ۔ بس تم میں جو چیز کی کمی ہو گئی ہے وہ ہے اتحاد ، یقین محکم اور تنظیم کی ۔ ۔ ۔
مگر سر ہم عوام تو یہ سب مانتے ہیں مگر ہمارے حکمران ۔ ۔ ۔ ایک لڑکے نے کھڑے ہو کر کہا
حکمران بھی آپ نے بنائے ہیں ۔ ۔ یاد رکھیے قوم کا رہبر بھی آپ میں سے ہی ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ آپ ہی اسے آگے لاتے ہیں ۔ ۔ ۔ آپ اچھے اور ایماندار لوگوں کو اپنا نمائندہ بنائیں ۔ ۔ ۔ نہ کہ صرف دولت اور طاقت والے کو حاکم بنا دیں
تو آپ موجودہ حکمرانوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں ، ایک اور نوجوان نے پوچھا
وہ سب آپ جیسے ہیں ، قائد نے مختصر جواب دیا ، آپ کو اب خود مقابلہ کرنا ہو گا ۔ ۔ ۔ قربانی دینا ہو گی ۔ ۔۔ یاد رکھو یہ آزادی ایسے نہیں ملی ۔۔ ۔ لاکھوں افراد کی قربانی ہے ۔ ۔ آپ ایک دوسرے کے ۔ ۔ ۔ ۔
ایک دم سے پھر گولیوں کی ترتراہٹ شروع ہوئی گولیاں قائد کے پاس سے گذریں ۔ ۔۔ مگر اب سب کھڑے ہو گئے اور دیکھا تو دھشت گردوں نے اب چاروں طرف سے گھیر لیا تھا ۔ ۔ ۔ کالے کپڑوں میں ملبوس دھشت گردوں کے ہاتھوں میں جدید ہتھیار تھے ۔ ۔ ۔ مگر اس بار انہیں نوجوانوں نے انہیں دبوچ لیا تھا ۔ ۔ ۔ لوگ دیوار بن کہ قائد اور مادر ملت کے اردگرد گھیرا ڈال کہ کھڑے ہو گئے ۔ ۔ ۔ فائرنگ رک گئ تھی ۔۔ ۔ فوجیوں نے ایک ایک دھشت گرد کو دبوچ لیا تھا ۔ ۔۔مگر اس وقت تک کتنے ہی لوگ گولیوں کی زد میں آ چکے تھے ۔ ۔ ۔ ایمبولینسیں چیخ رہی تھیں ۔ ۔ قائد ایک نوجوان جو گولیوں سے چھلنی ہو چکا تھا ۔ ۔ ۔ اس کے سامنے بیٹھ چکے تھے انکا ہاتھ جوان کے ہاتھ میں تھا ۔۔ ۔ ۔۔ جوان کی اکھڑی ہوئی سانسیں بتا رہیں تھیں کہ وہ چند لمحوں کا مہمان ہے اس نے بمشکل بولنے کی کوشش کی
بابا ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے بتائیے کہ میں کیوں مارا گیا ۔ ۔ ۔ میرا قصور کیا تھا ۔۔ ۔ ؟؟
قائد کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔ ۔ ۔۔ میرے بیٹے ۔ ۔ ۔ میرے بیٹے ۔ ۔ ۔ اب نہیں ہو گا ایسا ۔ ۔ ۔ ایک نیا سویرا نکلے گا ۔ ۔۔
مم مم مگر وہ سویرا میں کیوں نہیں دیکھ سکوں گا ۔ ۔ ۔ ۔۔ ؟
قائد نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا ۔ ۔ ۔ میرے بچے ۔۔ ۔ ۔ یہ یقین رکھو کہ تم چراغ آخر شب ہو ۔ ۔ ۔ تمہارے بعد اندھیرا نہیں روشنی ہے ۔ ۔۔ تم نے روشنی کو ختم نہیں ہونے دیا ۔ ۔ ۔
نوجوان نے قائد کے گال سے آنسو پہنچتے ہوئے کہا ۔ ۔ ۔
ہم ہم ہماری روشنی آپ ہیں ۔۔ ۔ ہم ہی بھٹک گئے تھے ۔ ۔
نوجوان نے ایک ہجکی لی اسکے منہ سے خون آنے لگا ۔ ۔ ۔
اللہ ہمیں معاف کرے ۔ ۔ ۔ ہم بھٹک گئے تھے ۔ ۔ ۔۔اور پھر ایک جھٹکا لگا اور اسکی گردن ایک طرف ڈھلک گئی ۔ ۔ ۔ یہ سب کچھ ایک چینل براہ راست دیکھا رہا تھا ۔ ۔ ۔۔ ملک بھر کے لوگوں کی آنکھوں میں آنسو تھے
قائد نے گھڑی دیکھی جس میں بیس منٹ باقی تھے ۔ ۔ ۔۔
قائد نے نوجوان کو آرام سے زمین پر رکھا ۔ ۔ ۔ اور کھڑے ہوئے ۔ ۔ ۔۔ آہ ہو بکا جاری تھی ۔۔۔ فاطمہ جناح بھی زخمیوں کے ساتھ تھیں ۔ ۔۔ سرکاری گاڑیاں اب قائد کے پاس پہنچ چکی تھیں ۔ ۔ ۔ جن میں انکے ساتھی موجود تھے ، گھڑی کی سوئیاں اُلٹی چل رہی تھیں جس پر اب بہت تھوڑا وقت تھا ۔ ۔ ۔ قائد نے ایک نظر ہجوم کی طرف دیکھا اور ہاتھ ہلایا ، فضا قائداعظم زندہ بادہ ، پاکستان زندہ باد ۔ ۔ پائیدہ باد کے نعروں گونجنے لگی ، فاطمہ جناح نے بھی ہاتھ ہلائے ۔ ۔ ۔ اور گاڑی میں بیٹھ گئیں ، گاڑیاں تیزی سے ائرپورٹ کی طرف بڑھنے لگی ، سڑکوں کے ارد گرد لوگ ہی لوگ تھے جنہوں نے بینر اور پاکستان کے جھنڈے اُٹھا رکھے تھے قائد اعظم زندہ باد پاکستان پائندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے
قائد کو رخصت کرنے کے لیے ملک کی اعلٰی شخصیات موجود تھیں ۔ ۔ ۔ قائد سب کے ساتھ ہاتھ ملاتے رہے ۔۔ ۔ ۔ دو بچوں نے قائد اور فاطمہ جناح کو گلدستے پیش کیے، قائد وزیر اعظم صدر اور چیف سے ہاتھ ملا رہے تھے چیف نے انہیں سلیوٹ کیا ۔ ۔۔ اور ساتھ ہی کہا ۔۔ ۔ کہ میری زندگی کا یہ سب سے یادگار سلوٹ ہے ۔ ۔ ۔ قائد کے جہاز کی چند سیڑھیاں تھیں ۔ ۔ انجن اسٹارٹ ہو رہا تھا ۔ ۔قائد نے اندر داخل ہوتے ہوئے ایک بار مڑ کہ دیکھا انکی اآنکھوں میں آنسو جھلما رہے تھے ۔ ۔۔ انکے منہ سے نکلا ۔ ۔
خدایا میرے پاکستان کی حفاظت کرنا ، اس میں رہنے والوں کی حفاظت کرنا ، اسے دنیا میں وہ مقام دینا جس کے لیے یہ بنا تھا ۔ ۔ ۔اور پھر قائد طیارے میں داخل ہو گئے
جہاز کے انجن اسٹارٹ ہو چکے تھے اسکے پنکھے تیزی سے گھوم رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ تین منٹ باقی رہ گئے تھے ۔۔ ۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے جہاز فضا میں بلند ہوا
ابھی جہاز نے ٹیک آف کیا ہی تھا کہ ایک بڑا سا چمکتا ہوا دائرہ نمودار ہوا اور جہاز اس دائرہ میں داخل ہو کر گُم ہو گیا ۔ ۔ ۔ اور دائرہ ایک چمک کے ساتھ غائب ہو گیا ، اسکے ساتھ ہی پھول آسمان سے برسنے لگے یہ ان گلدستوں کے پھول تھے جو قائد اور محترمہ فاطمہ جناح کو دیے گئے تھے
وزیر اعظم نے سر اُٹھا کہ دیکھا ۔ ۔ ۔ اور پھر آسمان کی طرف دیکھا ۔ ۔۔ جیسے کہ رہے ہوں کہ شکر ہے ۔ ۔۔ یہ چلے گئے ، یہ رہ جاتے تو ہمارا کیا ہوتا ؟
دوسری طرف ائیرپورٹ کے باہر ہجوم چھٹنا شروع ہو گیا تھا ۔ ۔ ۔۔ ٹی وی چینل تبصرے کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ سب شکر کر رہے تھے کہ کم سے کم ایک دو ہفتے کے لیے ٹاک شو کا موضوع مل چکا تھا ۔ ۔ ۔ ۔
دوسری طرف ۔ ۔ ۔ ۔ بریکنگ نیوز چل رہی تھی ۔۔ ۔ ۔قائد کے جلوس میں شہید ہونے والوں کی تعداد پچاس ہو چکی تھی ۔۔ ۔ ۔
قائد کی واپسی ۔ ۔ ۔ واپس ہو چکی تھی ۔ عوام بھی نعرہ بازی کر کہ گھر جا چکے تھے ۔۔ ۔ اور قوم ایک بار پھر تھک ہار کر سو چکی تھی ۔۔
(ختم شد)

Advertisements

پاکستان – ضروری تو نہیں

جی ہاں ، پاکستان ضروری تو نہیں ، دنیا پاکستان کے بنا بھی چل رہی تھی نا تو پاکستان کیوں بنا ؟ اس اگست میں میں نے سوچا ہے کہ پاکستان کے حق میں کوئی بات نہ کی جائے ، کہ پاکستان کے حق میں تو بات کرنے والے بہت ہیں ، پاکستان کے مخالف تو نہ ہونے کے برابر ہیں ، اس لیے میں پاکستان کے خلاف بولوں گا ۔ ۔ ۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی تقریری مقابلے میں حق میں اور مخالفت میں تقاریر ہوتی ہیں ، میں کسی مقابلے کا حصہ تو نہیں ہوں ۔ ۔ مگر میں نے موضوع کی مخالفت میں بولنا ہے ، کر لو جو کرنا ہے !!

تو بات ہو رہی تھی کہ پاکستان ضروری تو نہیں تھا ، بلکہ بقول ہمارے الطاف بھائی کے پاکستان دنیا کا سب سے بڑا “بلنڈر“ تھا ، پہلی بات ہے یہ نام ہی غلط ہے ، پاکستان یعنی پاک سر زمین ، یعنی ہندوستان کی زمین ناپاک تھی جو یہ پاک زمین بنائی گئی ، اور یہ پاک زمین بھی تو ناپاک ہندوستان ہی تو تھی ، ہم نے تو نام بدل دیا ، بالکل ایسے جیسے بمبئی کا نام ممبئی کر دیا گیا یا کلکتہ کا نام کولکتہ ہو گیا ۔ ۔ ۔ تو بنارس چنائی بن کہ بدل تو نہیں گیا ؟ اس لیے پاکستان کی زمین بھی پاک نہیں ہوئی ، گو آزادی کے وقت اسے لاکھوں بے گناہوں کے خون سے بھی دھویا گیا اور آج تک دھویا جا رہا ہے

اصل میں لوگ پاکستان کے قیام کو ہی غلط سمجھتے ہیں کیونکہ آج ساٹھ سال بعد ہمیں پتہ چلا ہے کہ پاکستان ایک سیکولر ملک کے طور پر بنا تھا ، اور آج تک ہم جو اسلام کو پاکستان سے جوڑتے رہے ہیں وہ سب غلط ہے ، اس سلسلے میں ہمارے بہت بڑے بڑے دانشور اپنی تحقیق سے ثابت کر چکے ہیں کہ اسلام کا پاکستان سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ، قائد اعظم (یعنی جناح صاحب) بہت ہی بڑے سیکولر انسان تھے ، بھائی جس شخص نے ایک پارسی لڑکی سے عشق لڑا کر شادی کی ہو ، گوکلے جس کا بیسٹ فرینڈ ہو ، سروجنی نائیڈو جسکی تعریف کرتے نہ تھکے ۔ ۔۔ جو اپنی بہن کی شادی تک نہ ہونے دے ۔ ۔۔ اسکا بھلا اسلام سے کیا تعلق ۔ ۔ ۔ جس شخص نے ہمیشہ لباس ہی انگریزی پہنا ہو ، بولتا ہی انگریزی ہو ، زندگی کے بہترین سال اسنے پیسہ کمانے میں گزارے ہوں ، بھلا اسکا اسلام سے کیا تعلق ۔ ۔۔ اور اُس نے ایسا ملک کیوں بنانا تھا کہ جو اسلام کی بنیاد پر بنا ہو ۔ ۔ ۔؟؟ جناح صاحب کی زندگی پر بعد میں نظر ڈالیں گے پہلے پاکستان کو تو دیکھ لیں

تو پاکستان ایک سیکولر ملک بنا تھا ، اسے بعد میں ملاؤں نے ہائی جیک کر کہ اسلامی جمہوریہ بنا ڈالا ، اور ہاں یہ جو لاکھوں بے وقوف مرے تھے پاکستان آنے کے لیے ۔۔ ۔ انہیں لازمی مِس گائیڈ کیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ ورنہ ایک سیکولر ملک سے دوسرے سیکولر ملک میں جانے کے لیے جان دینا بے وقوفی نہیں تو اور کیا تھا ۔ ۔ ۔ اور پاکستان تو تھا ہی سیکولر ، بھئی جس کا وزیر خارجہ ایک قادیانی ہو (جو جناح کا جنازہ تک نہ پڑھے ) ، جس کی کابینہ میں ہندو وزیر ہو ، جسکی فوج کا سربراہ عیسائی انگریز ہو ۔ ۔ ۔ تو اسلامی ممللکت کہاں سے آ گئی ؟؟ جناح صاحب گیارہ اگست والی تقریر میں چیخ چیخ کر کہتے رہے کہ پاکستان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں مگر کوئی سنتا ہی نہیں انکی تقریر (کیونکہ ملتی نہیں ہے پوری )

مگر سمجھ نہیں آتی جب اقبال نے کہا تھا کہ انتظامی طور پر مسلم ریاستیں الگ کر دی جائیں تو پاکستان کی ضرورت کیا تھی ؟؟ اور پھر اسلام کا تڑکا کیوں لگایا گیا ؟ اصل میں پاکستان بنگالی جاگیرداروں نے بنایا تھا ۔ ۔۔ اور اسی لیے بنگال لے کر علیحدہ ہو گئے ، باقی رہا موجودہ پاکستان ۔ ۔ ۔ تو اسکی آزادی تو تھی ہی غلط ۔ ۔ ۔ لفظ آزادی بھی غلط ہے ، علیحدگی ۔۔ ۔ میرے خیال میں یہ بھی غلط ہے ۔ ۔۔ ہندوستان کا بٹوارہ ۔ ۔ ۔ ہاں یہ ٹھیک ہے ، بھئی انگریزوں سے آزاد تو ہندوستان ہوا تھا نا ، پھر ہم ہندوستان سے الگ ہو گئے ، پھر بنگال ہم سے الگ ہو گیا ، اور اب بلوچستان اور سندھ علیحدگی کے لیے تیار ہے ، پنجاب میں سرائیکی الگ ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ پوٹھوہار الگ ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔۔ میرے خیال میں کچھ عرصے بعد راولپنڈی کے جی ایچ کیو کے کسی جنرل کی ٹیبل کا نام پاکستان رہ جائے گا ہے نا ۔ ۔۔ باقی رہی آزادی کی بات ۔ ۔۔ تو اس سرزمین میں بے وقوفوں کی کمی نہیں جو لوگ لاکھوں کی تعداد میں ایک “ہندو“ پروپگنڈے پر اپنی جانیں دے دیتے ہیں کہ پاکستان اسلامی ملک بنے گا ۔ ۔۔ اور تو اور یہاں ایسے بھی لوگ موجود تھے کہ جو لندن جا کہ کہتے تھے کہ مجھے اب ایک غلام ملک میں جا کہ نہیں مرنا اور آزاد ملک میں ہی مر جاتے تھے (جزباتی لوگ) ۔ ۔ ۔۔ اور ابھی بھی ایسے موجود ہیں جو لندن جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں آزاد پاکستان میں واپس نہیں آنا ۔۔ ۔ ۔ مگر جذباتی نہیں ہوتے ۔ ۔۔ کیونکہ پتہ نہیں کب ہوا کا رُخ بدل جائے اور انہیں پاکستان آنا پڑے ایک آزاد ملک سے ۔ ۔ ۔ اور پاکستان کے بننے کی غلطی کو ختم کرنا پڑ جائے ۔ ۔ کیونکہ ۔۔ ۔ ۔ پاکستان ۔۔ ۔ ضروری تو نہیں ۔ ۔ ۔۔
(جاری ہے )

شعائر اسلای کی بے حرمتی کے تدارک کی تگ و تاز

میرے دوست انجنیئر سرفرازاحمد ضیغم کی یہ تحریر شاید ہمارے لئے گریبان میں جھانکنے کا موقعہ دے
——————————————————————————————- امریکہ کی ریاست فلو ریڈامیں ملحدپادریوں نے قرآن مجیدفرقان حمید کے نسخے کو نذر آتش کر دیا۔خبر کے مطابق متنازعہ عیسائی مبلغ ٹیری جونز نے اپنے ناپاک جسارت کے اس منصوبے پر عمل کر دیاجس کے تحت اس نے ستمبر میںمسلمانوں کو خبر دار کیا تھا کہ وہ اپنی کتاب کی حفاظت کرلیںاور اس کا دفاع کریں۔ ٹیری جونز کاخباثتوں سے لبریز بیان ہے کہ اسے مسلمانوں کیطرف سے کوئی جواب موصول نہیںہوا ۔اور اس نے فلوریڈا کے ایک چھوٹے چرچ میں عیسائیوں کی ایک جیوری میں دس منٹ تک قرآن پاک کے سزا اور جزا کے حوالے سے بحث کے عمل کے بعداس ملعون نے قرآن پاک پر مقدمہ چلایا اور فرد جرم عائد کرتے ہوئے پھانسی کی سزا سنائی۔اس موقع پر اللہ کے کلام کوایک گھنٹے تک مٹی کے تیل میں ڈبوئے رکھا اور بعد ازاں پیتل کے ایک ٹرے میں چرچ کے عین درمیان رکھا گیا۔چرچ کے شیطان صفت پادری نے چند دیگر ملعونوں کی موجودگی میں قرآن پاک کے نسخے کو آگ لگا دی۔واضح رہے کہ ملعونوں کی اس تقریب میں عام لوگوں کو بھی دعوت دی گئی تھی لیکن صرف تیس لوگوں نے شرکت کی جبکہ گینز ویلے شہر میں زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی۔ چند لوگوں نے جلتے قرآن مجید کے نسخے کے فوٹو بھی بنائی۔ اپنے گلے میں لعنت کا طوق ڈالنے والے بدبخت اور بدنصیب ٹیری جونز کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب اس کی ستمبر کی وارننگ کے بعد مسلمانوں کی طرف سے کو ئی جواب نہ ملا تو اس نے سوچا کہ حقیقی سزا دیئے بغیر حقیقی ٹرائل نہیں ہو سکتا اس لیے (نعوذ بااللہ) اس نے قرآن مجید کو سزا دے دی ہی۔
شعائر اسلامی کی تضحیک و توہین کا یہ پہلا اورخاکم بدہن !کوئی آخری واقعہ نہیں ہے ۔ قبل ازیںاس حوالے سے بڑے بڑے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ہر نئے واقعے پر مسلمانوں کے اضطراب اور احتجاج میں اضافہ ہی دکھائی دیتا ہے اور عام مسلمان غازی یا شہید کے منصب پر فائز بھی ہو جاتاہی۔ لیکن مسلمان حکمرانوں کا اسطرح کے واقعات پر ردِ عمل سوائے گونگلوئوں سے مٹی جھاڑنے سے زیادہ نہیں ہے ۔وہ معذرت خوانہ روئیے کے ساتھ سوائے مذمت کے کسی اور حرکت کو بڑی جسارت سمجھتے ہیں ۔کیونکہ ان کا مطمع نظر یہی ہے کہ اپنے اقتدار کے عرصہ کو دوام دیا جائے ۔اور کسی بھی ایسی حرکت یا پالیسی سے اجتناب کا راستہ اختیار کیا جائے جس سے عالمی سطح پر اقتدار ساز قوتوں کی دل آزاری کا کوئی پہلو اجاگر ہوتا ہو ۔ امریکہ کی ریاست فلوریڈا کے چھوٹے چرچ کے چھوٹے اور جھوٹے پادری ٹیری جونز نے قرآن پاک نذر آتش کرنے کی جو ناپاک حرکت کی ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے ۔مقتدراور معتبر حلقہ جات کی جانب سے بھر پور مذمت کا سلسلہ ھنوز جاری ہے ۔مذکورہ ملعون نے اپنے بونے قد کو اونچا کرنے کے لیے اور سستی شہرت کے حصول کے لیے لعنت کا طوق اپنے گلے میں ڈالا ہی۔اس طرح وہ ساڑھے پانچ ارب انسانوں کے قلبی جذبات کی توہین کا مرتکب ہوا ہی۔دنیا بھر کے صاحبانِ ادراک قرآن مجید کے اس حسن کے قائل ہیں کہ صاحبِ قرآن سیدنا محمدؐ فخر بنی آدم ہیں۔اور اللہ تعا لٰی عزوجل نے آپ کو تمام جہا نوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے ۔اور قرآن مجید میں رب العزت کے اس احسان کو کون فراموش کرنے کی جسارت اور جرات کر سکتا ہے کہ ’’اللہ تعا لٰی نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا ہے ‘‘۔گویا ٹیری جونز زمانے کا ابو جہل ہے اور قرآن مجید کی تعلیمات کو سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہے ۔وہ ایک جنونی شخص ہے مخبو ط الحوا سی کے عالم میں ہے ۔وہ عیسائیت کا بدمذ ہب ہی۔وہ انتہا پسند ہے ۔وہ بین الا قوامی سطح کی بین المذاہب ہم آہنگی کے مشن کو سبو تاژ کرنے والا وہ شخص ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو با ہم بر سر پیکار کرنے کا مرتکب ہوا ہے ۔اس نے عالمی امن کے خلاف سازش کی ہے ۔وہ خصائل رزیلہ کا حامل ،فسطا ئیت کا نما ئندہ اور ابلیسیت کا تر جمان ہے ۔البتہ ہمارا ایقان اور ایمانی وجدان ہے کہ اس نے جس آگ کو ہوا دے کر شعلہ دیا ہے اس کے انگاروں میں وہ خو جلے گاجس کا تماشہ دنیا دیکھے گی کیو نکہ قرآن مجید فطرت کے افکار کا ترجمان ہے ۔رب العزت اسکا پا سبان ہے اس سے قبل کہ دنیا کا قانون حرکت کرے وہ قا نونِ فطرت کی زد میں ضرور آئے گا اور بہت جلد اس کی بیخ کنی کے عمل کا آغاز ہو جا ئے گا ۔البتہ ہم مقتدر حلقہ جات اور دنیا بھر کے حکمرانوں کی توجہ مبذول کروانا چا ہتے ہیں کہ مذ کورہ واقعہ ہا بیل کے قتل سے بھی بڑا واقعہ ہے ۔اور انسانی تاریخ کے خوبصورت ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے ۔قابیل انسا نیت کا پہلا قاتل ہے ۔ٹیری جونز آج کے گلوبل ویلج کا وحشی قابیل ہے جس نے قابیل کے بعد فساد فی الا رض کا فتنہ برپا کیا ہی۔وہ عالمی مجرم ہی۔وہ انتہا پسندی کی انتہا ئی خطر ناک طرز کا موجد اور بانی ہے ۔ٹیری جونز کا یہ قبیح عمل اس بات کا مکمل عکاس اور غماز ہے کہ انتہا پسندی دیگر مما لک کے بجائے امریکہ اور یورپی ممالک میں زیادہ ہے ۔یہ ملعون اس سے قبل بھی قرآن مجید کو جلانے کے اعلانات کرتا رہا ہی۔امریکی حکومت اسے روکنے کے لئے اپیلیں کرتی رہی لیکن اس کے عزائم کو انتہا پسندی نہ تصور کیا گیا۔دنیا ئے عیسا ئیت کے ایک فرقے کے سر براہ پوپ بینی ڈکٹ کی زبان بھی اب تک گنگ ہے ۔حا لانکہ ملعونہ آسیہ بی بی کے معاملے میں وہ سیخ پاہے ۔ہم طالبان یا القا ئدہ کو مسلمانوں کا نمائندہ یا ترجمان نہیں سمجھتے ۔عالمی سطح پر ان کی سرگرمیاں عالمی امن کی دھجیاں بکھیر رہی ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ آج تک انھوں نے بھی کسی نبی یا الہامی کتاب کی بے حرمتی نہیں کی ۔ٹیری جونز پادری کہلاتا ہے ۔لیکن اس نے قرآن مجید کو جلا ڈالا۔پنجاب کے وزیر کامران ما ئیکل نے اسے نام نہاد پادری کا نام دیا ہے ۔اور صوبائی اسمبلی میں قراردادِ مذمت لائی گئی ہے ۔دیگر عیسائی برادری حصہ بقدر جسہ سے بڑھ کر ٹیری جونز کی مکروہ حرکت کی مذمت کے ساتھ ساتھ سراپا احتجاج ہے ۔ملک بھر کے علماءِ کرام ،مشا ئخ عظام،طلبا،وکلاء صحافی ،تاجربرادری اور تمام لوگ سڑکوں پر ہیںلیکن حکومت کی طرف سے امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے ابھی تک روائتی احتجاج کا تکلف بھی نہیں کیا گیا ۔سلسلہ ہذا میں مفکر اسلام علامہ سید ریاض حسین شاہ مر کزی ناظمِ اعلٰی
جما عتِ اہل ِ سنت پا کستان کا مطا لبہ میرٹ کے عین مطابق ہے کہ اگر امریکی سفیر کو ایک ہفتہ کے دوران پاکستان سے نہ نکالا گیا تووہ کراچی سے ملک گیر لانگ مارچ شروع کریں گی۔
ہم قارئین کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے چا رٹر کی روشنائی صرف طاقت وروں کے لئے روشنائی ہے لیکن مسلمانوں اور مسلمان مما لک کے لئے وہ صرف سیا ہی ہے ۔اقوام متحدہ کا یہ ضابطہ حیات موجود ہے کہ ہر قوم دوسری اقوام اور مذہب کا احترام کرے گی علا وہ ازیں امریکہ اور پاکستان کے مابین extratition terrotiryنا می معا ہدہ موجود ہے جو مجرموںکے تبادلے پر مشتمل ہے یعنی اگر کو ئی پا کستانی جرم کرے اور وہ امریکہ کو مطلوب ہو تو پاکستان اسے امریکہ کے حوالے کرنے کا پابند ہے اور با لکل اسی طرح اگر کو ئی امریکی جرم کرے اور وہ پاکستان کو مطلوب ہو تو امریکہ اسے پا کستان کے حوالے کرنے کا پابند ہے ۔ایمل کانسی کو اسی معاہدہ کی روشنی میں امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹیری جونز ہمارا مجرم ہے کیا پاکستانی حکومت ٹیری جونز کی پاکستان حوالگی کے معاملے میں امریکہ سے مطا لبہ کرے گی؟۔کیا دیگر اسلامی مما لک سلسلہ ہذا میں اپنا کردار ادا کریں گی؟۔بہر حال ہم اپنی رائے کا اظہار کرنے سے اس لئے قاصر ہیں کہ ہم مسلمانوں کو مزید ما یوس نہیں کرنا چاہتے اور دعا بھی کرتے ہیں کہ ہمارے چھپی ہوئی رائے غلط ثا بت ہو جائے ۔
امریکہ کی یہ چال کون سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ مخصوص انداز سے اپنے نیو ورلڈ آرڈر کی تکمیل کے لیے مر حلہ وار پیش قدمی کر رہا ہے ۔وہ آہستہ آہستہ اسلامی قوت کی بیخ کنی کے پلان پر عمل پیرا ہے ۔کابل اور بغداد پر سی۔آئی۔اے بر سرِ اقتدار ہے ۔امریکہ دنیا بھر میں حکمران طبقہ جات کا سب سے بڑا خریدار ہے ۔جہاں کے حکمران اس کی دسترس سے باہر ہوں وہاں اپوزیشن سے سودے بازی کر لیتا ہے ۔تیونس،مصر،یمن اور لیبیا ء میں موجودہ شو رو غل چند دنوں کا نہیں بلکہ سالہا سال کا منصوبہ ہے ۔لیبیا پر نیٹو افواج نے دھا وا بول دیا ہے ۔عالمی اسلامی ردِ عمل سے بچنے کے لئے یہ کہنا دشوار نہیں کہ مسلمانوں کی توجہ لیبیا ء سے ہٹانے کے لئے ٹیری جو نز کی حما قتوں سے فائدہ اٹھالیا گیا ہو۔
المختصر!۔
شعا ئر اسلامی کی ایک تسلسل کے ساتھ بے حر متی اپنی جگہ پر عا لم اسلام کے اعصاب شل کرنے کی بڑی منصوبہ بندی ہے ۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس کے مئو ثر تدارک کے لئے مسلمان عالمی سطح پر کوئی بڑی حکمتِ عملی ترتیب نہیں دے سکی۔اس مو قع پر او۔آئی۔سی کا کردار مایوسی کی منہ بولتی تصویر سے زیادہ اہمیت کا حا مل نظر نہیں آتا۔ضرورت اس امر کی ہے مندرجہ زیل تجا ویز کو غور کے عمل سے گزارہ جائی۔
1. ۔تمام اسلامی ممالک کی مذہبی امور کی وزارتوں کے وزراء خانہ کعبہ میں اکھٹے ہو جا ئیں ۔’’عالمی اسلامی تنظیم تحفط ناموس اسلام‘‘ کے قیام کا اعلان کریں۔بعد ازاں مدینہ شریف میں بارگاہِ رسالت مآب ؐ میں حاضر ہو کر اور سرکار ِ کائنات سیدنا مصطفٰی کریم ؐکو گواہ بنا کر نصب العین کیساتھ استقا مت اور اخلاص کا عہد کریں۔یہ تنظیم تمام اسلامی ممالک میں سرکاری سرپر ستی میں کام کرے ۔دیگر ممالک میں اس کے دفاتر قائم کئے جائیں ۔اقوام ِ متحدہ کے دفاتر کے نیٹ ورک میں بھی دفاتر قائم کرنے کی جدو جہد کی جائی۔
2. ۔ قرآن مجید کو نذر ِآتش کرنے کے اس واقعہ پر عالمی اسلامی سطح پر اعلٰی سطحی سنجیدگی کا مظا ہرہ کیا جائے اور اس کے مئو ثر حل کے لئے سلامتی کونسل کا اجلاس بلوانے کا مطالبہ کیا جائے کیو نکہ مذہبی مسائل پر جو تنا ئو پیدا ہوتا ہے وہ کسی اور معا ملے پر پیدا نہیں ہوتا۔لہٰذا اس واقعے کو عالمی امن سے تعبیر کیا جائے ۔عالمی سطح کا مسلما نوں کا مئو ثر احتجاج امریکہ کو اس بات پر مجبور کر سکتا ہے کہ وہ ٹیری جونز کے خلاف تادیبی کاردائی کری۔
3. ترقی یافتہ ممالک کے مسلمان وہاں کی اعتدال پسند عیسا ئی کمیو نٹی سے رابطے بڑھا کر انھیں قرآن مجید کے اس پیغام سے روشناس کرائیںکہ قرآن انسانیت نوازی کا درس دیتا ہے ۔اس کے ما ننے والے مسلمان سیدنا عیسٰی علیہ السلام اور حضرت سیدہ مریم کے احترام کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔لہٰذا دنیا بھر کی عیسائی برادری ٹیری جونز کی جارحانہ کار وائی سے مکمل لا تعلقی کا اعلان کرے اور اس کی مذمت کرے نیز اسے کیفر کردار تک پہنچا نے کے مطالبے پر اسلامی برادری کا ساتھ دی۔
4. پاکستان کی حکومت ’’امن جرگہ‘‘ تشکیل دے جو امریکہ جا کر اوبامہ انتظا میہ کو ٹیری جونز کے خلاف مئوثر کاروائی پر آمادہ کرے ۔جرگہ میں مسلمانوں کے علاوہ عیسا ئی برادری کے ان رہنما ئوں کو شامل کرے جو امریکہ میں اپنا اثر ورسوخ رکھتے ہوں۔
5. موقع کا اس مناسبت سے دنیا بھر کے مسلمانوں سے انکی ایما نیات ،دینی جذ
بے اور قرآن مجید فرقانِ حمید ،برہانِ رشید سے قلبی لگائو کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہو ئے درد مندانہ اپیل کرتا ہوںکہ وہ قرآن مجید کو طاق نسیاں سے اٹھا لیں ۔غلاف پر موجود گرد جھاڑ لیں ترتیل تلا وت کو اپنا معمول بنائیں ۔یقین جانیں آپ کا یہ عمل حرمت ِ قرآن کا باعث ہوگا اور اس طرح تمام بے نوریاں کافور ہو جا ئیں

جیت ہماری ہو گئ

چاند روشن چمکتا ستارہ رہے
سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے

یہ وہ گیت تھا جو قائد اعظم کی آزادی کی تقریر کے بعد ریڈیو سے سنا گیا تھا جس میں ایک نئی قوم کا نیا جذبہ
اور یہ جذبہ چند سالوں میں بڑھتے بڑھتے ایک اور شکل اختیار کر گیا

آو بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی ۔ ۔ ۔ ۔ جی ہاں یہ گیت پاکستان کی سیر کراتا تھا اسی کا ایک شعر تھا

مشرق میں بنگال سنہرا ، ہر اک طرف ہریالہ ہے
سیلابوں نے سینچا اسکو ، طوفانوں نے پالا ہے
یہیں سراج الدولہ نے  ۔ ۔۔۔ ۔

مگر پھر گیت بدل گئے

گیتوں میں ، خیبر ، مہران ، مکران اور پنجاب رہ گئے

یہ اسی کی دہائی تھی ، اسکولوں کے سالانہ فنکشنز میں ایک ٹیبلو بہت مقبول تھا ، تقریباَ پاکستان کے ہر اس اسکول میں یہ ٹیبلو پیش کیا جاتا تھا جہاں سالانہ فنکشن ہوتا تھا ، اس کا محرک تھا فلم “کھوٹے سکے“ کا یہ گیت جس میں پاکستان کی نمائیندگئ کی گئی تھی اور پھر اس کا اختتام ایک خوبصورت مصرعے پر تھا ، پاکستان میں رہنے والے سب ہیں پاکستانی ، اس گیت میں آپ پنجابی سندھی بلوچی اور پختون کردار دیکھیں گے اور پھر محمد علی صاحب اس گیت کا اختتام پاکستان کی اساس پر کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ پہلے یہ گیت دیکھیں اور پھر اسکے بعد اگلا گیت بھی اسی کا تسلسل ہے

مگر اسی کی دہائی میں ہی پاکستان بدلنا شروع ہو چکا تھا ، افغانستان میں جہاد اور کراچی کی بدامنی نے ہمارے معاشرے پر بہت زیادہ اثر کیا ، آج جس بات کا زور شور سے ذکر کیا جا رہا ہے کہ ہم میں عدم برداشت ہے مگر یہ عدم برداشت کب شروع ہوئی ، اسی کی دہائی سے پہلے اسکا تصور بھی نہ تھا ، پاکستان ایک اسلامی ریاست تھی اور پاکستانیوں میں برداشت اور تحمل بھی بہت تھا ، اور جب ہم میں عدم برداشت شروع ہوئی تو ملک کے حساس طبقے یعنی لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھا اس پر سمجھانے کے لئے ، ایک فلم بنی تھی جس کا نام ہی “برداشت“ تھا ، فلاپ فلم ہونے کے باوجود اس کے کچھ ڈائلاگ آج بھی میرے ذھن میں ہیں ، جس میں ایک فوجی کو اپنے گاؤں کو بچانا پڑتا ہے اپنوں کے ظلم سے ، اور وہ کہتا ہے ،
“میں تو سرحد پر یہ سوچ کر حفاظت کرتا تھا کہ دشمن باہر سے میرے گھر پر بری نظر نہ ڈال سکے ، مجھے کیا پتا تھا کہ مجھے گھر کی حفاظت کی جنگ گھر کے اندر لڑنی پڑے گی “

یاد رہے یہ آج سے بیس پچیس سال پرانی فلم کا ڈائلاگ ہے ، مگر ہم نے اس وقت کان نہیں دھرے تو آج کیسے دھریں گے ، ہاں ایک بات ضرور ہوئی ہے ، ہم پاکستانی اب مزید بٹ گئے ہیں  ۔۔ ۔  مگر پھر بھی امید ہے  ۔ ۔۔  کہ جیت ہماری ہو گئ ،اب پہلے گیت کو اس گیت سے ملا کر دیکھیں اور سر دھنیں کہ ہم کیسے تقسیم ہوتے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔

فوج ، ایجنسیاں ، سیاست دان ۔ ۔ ۔ ایک مطالعہ

یہ ایک چھوٹی سی کہانی ہے پاکستانی فوج اور ایجنسیوں کی ، شاید کچھ اب بدل جائے مگر ممکن ہے بھی اور نہیں بھی ، میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ اپنے مطالعے اور مشاہدے کی بیس پر لکھا ہے ، اگر کوئی غلطی ہو تو معذرت چاہوں گا ، آپ کی آراء کا منتظر رہوں گا ۔ ۔  
———————————

پاکستانی فوج قیام پاکستان سے لے کر آج تک ساری دنیا کی نظروں میں رہی ہے ،  ہندوستان کے بٹوارے کے ساتھ ہر چیز کا بٹوارہ ہوا ، سو فوج کا بھی ہوا ، مگر چالاک انگریز نے پاکستانی فوج کا سربراہ ایک گورا ہی رکھا ، اور ہمارے رہنماؤں نے سوچا کہ چلو اس طرح شاید گورا انکا حکم مانے ، مگر گورے نے قائد کے حکم کو ماننے سے انکار کیا  (جنرل فرانک ) اور برطرفی سہی مگر اپنا جانشین ایک اور گورا ( ڈگلس گریسی ) کو چھوڑا اور اس نے بھی قائد کا حکم نہیں مانا مگر قائد تو دنیا ہی چھوڑ گئے ، تو گوروں نے فوج کو ایسا “ٹرین “ کیا کہ پاکستان کا پہلا ڈکٹیٹر پالنے کے لئے دے دیا ، پاکستان کی فوج اس وقت برٹش آرمی کا بہترین حصہ تھی ، اسی لئے جب سبھاش چندر بوس نے اپنی آرمی بنائی تو اس آرمی میں برٹش افسروں اور سپاہیوں نے اپنی خدمات پیش کیں تو جرمنوں نے انکی بہت تعریف کی (اصل میں ہٹلر اس آرمی کو اتحادی افواج کے خلاف استعمال کرنا چاہتا تھا )

انگریز نے اپنی حکومت قائم رکھنے کے لئے بہترین مخبری (انٹیلی جنس) کا نیٹ ورک بنایا تھا ، اسی لئے پاکستان فوج کے اس خصے کی زیادہ اہمیت تھی یعنی ملٹری انٹیلی جنس کی ، کشمیر پر ہندوستانی فوج قبضہ کر چکی تھی ، دوسری طرف مہاجرین کی آمد تھی ، تیسری طرف ایک نوزیدہ ملک کو بیرونی دنیا میں اپنی پہچان بنانی تھی  ۔ ۔ ۔  قدم قدم پر سازشوں کے جال تھے ایسے میں بہترین انٹیلی جنس ہی حکومت کی مدد گار تھی ، شروع میں ملٹری انٹیلی جنس اور پولیس نے مل جل کر ملک کے خلاف سازشوں کو بے نقاب کیا ، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان آرمی ، بانی پاکستان کو وہ سب کچھ نہیں دے سکی جو وہ چاہتے تھے ، حتہ کہ کشمیر کے موجودہ آزاد حصے کا سہرا بھی ان قبائیلوں کے سر جاتا ہے جنہوں نے اپنی جان دے کر بھارتی افواج کا مقابلہ کیا  ۔ ۔ ۔

میں سمجھتا ہوں پاکستان کے خلاف پہلی کامیاب سازش ، بانی پاکستان کی زیارت سے واپسی پر انکی ایمبولینس کا خراب ہونا اور پھر کسی دوسری گاڑی کا نہ ملنا  ۔ ۔ ۔  یہ وہ سازش تھی جس میں میں سمجھتا ہوں اس وقت کی آرمی اور پولیس کا بہت بڑا ہاتھ تھا کیونکہ وہ اسے بے نقاب نہیں کر سکیں  ۔ ۔ ۔

اور اس کامیابی نے سازشوں کو مزید پھیلا دیا ، جسکے نتیجے میں لیاقت علی خان کی شہادت ہوئی ، اور اس وقت تک فوج میں غیر ملکی  اثر نفوذ ہو چکا تھا ،  گورنر جنرل غلام محمد اپنی عیاشیوں میں گم تھے ، نوزیدہ مملکت تھی ، عوام میں خلوص تھا ، انصار مدینہ کی مثال قائم کر رہے تھے ، مگر وہیں پر ایسے بھی لوگ موجود تھے ، جو جھوٹے کلیم کا دھندا چلا رہے تھے ، بھارت سے آنے والے کروڑ پتی ، پاکستان آ کر فقیر بن چکے تھے ، اور فقیر لکھ پتی ہو چکے تھے ، حکمران جانتے تھے کہ عوام کے جذبات کو کیسے ابھارا جائے ، وہ بیداری جیسی فلموں پر ٹیکس معاف کر کے عوام کو پاکستانیت سکھا رہے تھے  ۔ ۔ ۔ پاکستان اور ہندوستان میں صرف ایک فرق تھا بٹوارے میں ، ہندوستان سے مہاجروں کی لٹی پٹی ریل گاڑیاں آ رہی تھیں اور پاکستان سے سونے سے لدی گاڑیاں ہندوستان جا رہی تھیں ، فسادات کا محور ہندوستانی مسلم اقلیت کے علاقے تھے ، نظام حیدر آباد اور خان آف قلات جیسے لوگ پاکستان کو مدد دے رہے تھے ورنہ پاکستان جن سازشوں کا شکار تھا وہ اسے زندہ نہ رکھ سکتیں  ۔ ۔

خیر بات ہو رہی تھی فوج کی ، پاکستان بنانے والے مخلص تھے ، لیاقت علی خان کے ذہن میں ١٩٤٥ کا بجٹ تھا ، سردار عبدالرب نشتر ، عبدلحق اور قاضی عیسٰی جیسے لوگ اقتدار کو خدمت سمجھتے تھے ، اسلئے وہ عوامی لوگ سمجھے جاتے تھے ، مگر فوج میں افسران اسکے بالکل برعکس تھے ، انہیں عوام سے لنک صرف مہاجرین کی آبادکاری اور سرحدی محافظت تک تھی ، فوج کے جونیر افسران بہت جذباتی تھے اور عوام کے ساتھ تھے سپاہی تو عوامی ہوتے ہی ہیں ، مگر فوج کے سربراہان اور حکمرانوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی شروع ہو چکی تھی ، اصل میں یہ سوچ شاید اسی دن بن گئی تھی جب جنرل گریسی نے قائد اعظم کے حکم کو رد کیا تھا  ۔ ۔ ۔ اور اسی سوچ نے اسکندر مرزا کو اقتدار سنبھالنے کا موقعہ دیا  ۔ ۔ ۔  ۔یہ اسکندر مرزا اس میر جعفر کی نسل میں سے تھا جسنے ٹیپو سلطان کو دھوکہ دیا تھا  ۔ ۔ ۔  اور اسی بنیاد پر اپنے اباء کی خدمات کی دہائی دے کر برٹش انڈیا کی فوج میں کمیشن حاصل کیا تھا  ۔ ۔ ۔   اسکندر مرزا نے گورنر جنرل بن کر مارشل لاء لگا دیا  ۔ ۔ ۔ آج تک اس مارشل لاء کی کوئی منطق پیش نہیں کی جا سکی  ۔ ۔ ۔  اور یہاں سے ہی فوج میں اقتدار کے حصول کے لئے رسہ کشی شروع ہوئی ، اسکندر مرزا جو صدر بن چکے تھے انکو فیلڈ مارشل ایوب خان نے ہٹا دیا  ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں سے پاکستان کی فوج کا ایک نیا روپ بنا ، ایوب خان نے عوام پر اپنی گرفت مضبوط کی ، انٹیلی جنس کو شاید سب سے پہلے ملکی رہمناؤں کی جاسوسی پر لگایا گیا ، فوج نے سیاست میں حصہ بھی اسی دور میں لیا ، فاطمہ جناح کو شکست دینے کے لئے فوجی اور بیورکریسی نے مل جل کر انتخابات کا ڈرامہ رچایا  ۔ ۔ ۔  ۔  ایوب خان نے پاکستان کو بین الاقومی طور پر ایک فوجی طاقت کے طور پر متعارف کروایا  ۔ ۔  ۔  لیاقت علی خان نے روس کو چھوڑ کہ جو دورہ امریکا کیا تھا ، اس کے تاثر کو زائل کیا ایوب خان نے ، اور بھارت کے روس کی قربت کو کم کرنے کے لئے ایوب خان نے روس سے تعلقات کو استوار کیا ، جسکے نتیجے میں ہم نے اسٹیل مل حاصل کی ، پاکستان سیٹو اور سنٹو جیسے فوج معاہدوں کا رکن بنا یعنی پاکستان دونوں بلاک میں تھا  ۔ ۔ ۔ ایوب خان نے بیرونی دنیا پر اپنا رعب تو جما لیا تھا مگر اندرونی سطح پر وہ ناکام تھے، بھارت نے پاکستان کے اسی ابھرتے ہوئے امیج سے گھبرا کر اور اندرونی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر ١٩٦٥ کا حملہ کیا ، جو ناکام یا کامیاب رہا یہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اچانک حملے کی وجہ پاکستانی ایجنسیوں کی ناکامی تھی ، کیونکہ وہ تو ایوب خان کے اقتدار کو مضبوط کر رہی تھی  ، مشرقی پاکستان کے لیڈروں کو تنہا کیا جا رہا تھا  ۔ ۔  ۔  عوام میں ایوب خان کے خلاف غصہ بڑھ رہا تھا  ۔ ۔ ۔  ایوب خان ہر ڈکٹیٹر کی طرح اپنی ایجنسیوں پر بھروسہ کئے بیٹھے تھے  ۔ ۔ ۔  مگر جب وہ تاحیات صدر بننے کے خواب دیکھنے لگے (جو ہر ڈکٹیٹر دیکھتا ہے ) عوام بپھر گئی  ۔ ۔۔  ملٹری انٹیلی جنس نے ایوب کو جانے کا کہ دیا اور ویسے بھی اس دوران ایک نوجوان نے جو ایوب کو ڈیڈی کہتا تھا ، باپ کو عاق کر دیا تھا ، ظلفقار علی بھٹو  ۔ ۔ ۔  عوام میں اپنی اہمیت منوا چکا تھا  ۔ ۔ ۔  اور پھر ایوب خان نے اپنی کمان ایک شرابی اور عیاش جنرل یحیٰی خان نے حوالے کر دی  ۔ ۔ ۔ ۔ یحیٰی خان  ۔ ۔ ۔  پاکستان کا رنگیلے شاہ ثابت ہوا  ۔ ۔ ۔  اس دوران بھارت کو پھیر موقع ملا اور مشرقی پاکستان پر فوج کشی کر دی گئی  ۔ ۔ ۔  انتخابات بھی ہوئے  ۔ ۔  ہماری ایجنسیاں کچھ بھی نہ کر سکیں  ۔ ۔ ۔ جانے کہاں سوئ ہوہیں تھیں جب مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی اور شانتی باہنی کا بیج بویا جا رہا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ سیاست دانوں نے اسی کو موقع جانا اور اقتدار کی رسہ کشی ہونے لگی  ۔ ۔ ۔ اور اسی میں رسہ ٹوٹ گیا  ۔  ۔ اور اپنے اپنے حصے کے رسے کے ساتھ سب رسہ کشی کرنے لگے  ۔ ۔ ۔  بھٹو جو کہ ایوب کے صحبت زدہ تھے ، اپنے ڈیڈی کی روایت پر عمل کیا اور سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن گئے اور انہوں نے ایجنسیوں کو اپنی خدمات پر لگا دیا  ۔ ۔ ۔  بھٹو نے سات سال تک پاکستانی سیاست کو نئے رنگ دیے  ۔ ۔ ۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی تاریخ میں صرف بھٹو کا دور خالص سیاسی تھا ، بلکہ سیاسی اکھاڑہ تھا  ۔ ۔ ۔ بھٹو نے فوج میں بھی اپنا اثر چھوڑا  ۔ ۔ ۔ خاصکر ایجنسیوں میں  ۔ ۔۔  سیاست میں فوج تھی پہلے ہی مگر سیاسی مخالفت میں فوج کی خفیہ ایجنسیوں کو سب سے پہلے بھٹو نے استعمال کیا  ۔ ۔ ۔  ٹارچر سیل بنائے گے  ۔ ۔ ۔ سیاسی مخالفوں کی “عزت افزائی“ کی گئی  ۔ ۔ ۔  مگر بھٹو نے بھی اپنے ڈیڈی والی غلطی کی  ۔ ۔ ۔ وہ بین الاقوامی لیڈر تو بنے اور عوام میں مقبول ہونے مگر عوام کے لئے روٹی کپڑا مکان کے نعرے کے سوا کچھ نہ کر سکے  ۔ ۔ ۔ ۔  بھٹو کی حکومت کی وجہ سے فوج میں واضح تبدیلی ہوئی  ۔ ۔ ۔  فوج میں اسلامی عنصر واضح ہوا اور سیکولر عنصر نے بھی اپنی جگہ بنا دی  ۔  ۔  ایجنسیوں کا بھی قبلہ بدلنے لگا   ۔ ۔ ۔  ۔  اور اس قبلہ کی تبدیلی بھٹو جیسا سیاست دان بھی نہ سمجھ پایا اور  ۔ ۔ ۔  ۔  جنرل ضیاء الحق نے انکا دھڑن تختہ کر دیا تھا  ۔ ۔  ۔  میں ایک بات سمجھتا ہوں کہ شاید فوج نے جو پہلا اتحاد حکومت کے خلاف یا پیپلز پارٹی کے خلاف بنایا وہ قومی اتحاد تھا  ۔ ۔  ۔ کیونکہ اسے فوج کی حمایت حاصل تھی  ۔ ۔ ۔ مگر دوغلے سیاستدان اس “فیور“ کا فائدہ نہ اٹھا سکے اور اسلامی مارشل لاء لگ گیا  ۔ ۔ ۔  ۔

پاکستان روس افغان جنگ میں بین الاقوامی ایجنسیوں کا اڈا بن گیا  ۔ ۔ ۔  روسی کے جی بی ، امریکی سی آئی اے ، بھارتی را اور حتہ کہ ایرانی ایجنسیز تک پاکستان کے کونے کونے میں پھیل گیئیں مخبر خریدے اور بیچے جانے لگے  ۔ ۔ ۔  میں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ کچھ ایجنسیاں جو روس کے ساتھ جنگ کے لئے بنائی گئیں تھیں انہیں بعد میں ختم نہیں کیا گیا  ۔ ۔ ۔ ۔  ایم آئی (ملٹری انٹیلی جنس ) ، آئی بی (انٹیلی جنس بیورہ ) وغیرہ نے اپنی بہت سی ذیلی ایجنسیاں بنائیں  ۔ ۔ ۔ جو کافی حد تک خود مختار تھیں  ۔ ۔ ۔  ان ایجنسیوں نے افغانستان میں بہت “کارنامے“ انجام دئیے  ۔ ۔ ۔  “مجاہدین“ کے “ٹولے“ بنائے  ۔ ۔  ۔ اور پھر ان ٹولوں کو افغانستان میں پھیلا دیا  ۔ ۔ ۔  اندرونی طور پر بیرونی طاقتیں پاکستان کو کمزور کر رہی تھیں ، یعنی ہماری ایجنسیاں بیرون ملک سرگرم عمل تھیں اور بیرونی ایجنسیاں ہمیں کھوکلا کر رہی تھیں  ۔ ۔ ۔  روس افغانستان سے نکل گیا اور امریکہ پاکستان سے  ۔ ۔ ۔ اور باقی سب لوگ ادھر ہی رہ گئے  ۔ ۔ ۔ افغان “مجاہدین“ اور “مہاجرین“  ۔ ۔ ۔  ۔ اور بھارتی ایجنسیاں  ۔ ۔ ۔  اس چیز کا احساس ١٩٨٤ کے آغاز میں ہوا جب کراچی میں تشدد پھوٹ پڑا ایک طالبہ ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوئی ، ہنگامہ ہوا  ۔ ۔ ۔  اور کرفیو لگا دیا گیا  ۔ ۔ ۔  فوجی حکمرانوں کی یہ ہی منطق خراب تھی  ایک طرف وہ سیاست دانوں کو ہم نوا بنا رہے تھے دوسری طرف انہیں کو دبا رہے تھے  ۔۔ ۔  ایک ایسے واقعے کو جسے عام پولیس ہینڈل کر لیتی  ۔ ۔ ۔ اسے سیاسی بنایا گیا اور پھر فوجی بنا کہ کرفیو لگا دیا گیا   ۔ ۔ ۔  ۔ ۔

اب ایجنسیوں نے اپنے گھر کی طرف دیکھا تو  ۔ ۔ ۔ ۔  چوں چوں کا مربعہ تیار تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ کسی کو کچھ پتہ نہ تھا کہ کیا کرنا ہے ، لیڈر خریدے اور بیچے جانے لگے  ۔ ۔ ۔   اور اس کام کے لئے وہ پیسہ استعمال کیا گیا جو افغان وار کی خدمات کا صلہ تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  جو فوج کے پاس “وافر“ مقدار میں موجود تھا  ۔ ۔ ۔ ۔   اور پھر ہمارے امیر المومنین مرد مومن مرد حق ضیاء الحق نے  بین الاقوامی سطح پر پر پرزے نکالنے شروع کئیے تھے  ۔ ۔  ۔ ۔  اور سیاست دانوں کو “تھلے “ لگانے کا منصوبہ بھی ریڈی تھا   ۔ ۔ ۔  ایم کیو ایم کو لسانی طور پر کھڑا کیا جا رہا تھا  ۔ ۔ ۔ کہ یہ لوگ سیاست دانوں پر پریشر گروپ بنا سکیں ۔ ۔  ۔  معصوم وزیر اعظم جونیجو اپنی آل پارٹی کانفرنس کے ڈرامے کی اور اوجڑی کیمپ کے حادثے میں جنرلوں کے ثبوت مٹانے کے عمل کا “راز“ فاش کرنے کی  سزا بھگت چکے تھے کہ  ۔ ۔ ۔  اللہ کے نیک بندے کو اللہ نے ہوا میں ہی اٹھا لیا  ۔ ۔ ۔ ۔

اس حادثے نے ہماری فوج کے ان تمام افسران کو ایک ہی جھٹکے میں ختم کر دیا گیا جو کسی نہ کسی حوالے سے روس افغان جنگ سے متعلق تھے  ۔ ۔ ۔  مجھے ان میں سب سے زیادہ افسوس تھا برگیڈیر صدیق سالک کی شہادت پر ، ایمرجنسی جیسے ناول کے خالق اور پھر سقوط ڈھاکہ کی پہلی سچی جھلک کے مصنف ہونے کی وجہ سے میں انکا مداح تھا  ۔ ۔ ۔

خیر اس حادثے میں اور کچھ بچا ہو یا نہ ہو  ۔ ۔ ۔  ہماری خفیہ ایجنسیاں بچ گئیں  ۔ ۔ ۔  جنرل حمید گُل  ۔ ۔  زندہ رہے ، اسد درانی زندہ رہے  ۔۔ ۔  اور اس وقت کے جہانگیر کرامت بھی کراماتی طور پر زندہ رہے  ۔ ۔۔ 

خیر ایجنسیاں جو خود مختار نہیں بھی تھیں ، انکی بھی ڈوریاں ہلانے والے نہ رہے  ۔ ۔ ۔  اور پھر فوج کو ڈر ہوا کہ کہیں عوام پیپلز پارٹی کو نہ لے آئیں  ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بے نظیر کا استقبال دیکھ چکے تھے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور بے نظیر کی پارٹی فوج کو بھٹو کی موت کا ذمہ دار قرار دے چکی تھی  ۔ ۔ ۔  مگر  ۔ ۔   بے نظیر آ ہی گئی  ۔ ۔ ۔ ۔ اور ایجنسیاں ڈر کے مارے وہ کھیل کھیلنے لگیں جن کے نتیجے میں پاکستان کی ایجنسیاں جو صدر کے ماتحت تھیں  ۔ ۔  ۔  بے نظیر کو گرانے میں کامیاب ہو گئیں  ۔۔ ۔ ۔  اور نواز شریف کو لایا گیا  ۔ ۔  ۔  مگر نواز شریف جو خود ضیاء کی غیر جماعتی اسمبلی کی پیداوار تھے  ۔ ۔ ۔ اور بے نظیر کے دور میں پنجاب کے وزیر اعلٰی کے طور پر طفیلیے سیاست دان سے عوامی سیاست دان تک سفر کر چکے تھے  ۔ ۔ ۔ لہذا وہ بھی صدارتی محل کی بھینٹ چڑھ گئے  ۔ ۔ ۔  اب ایجنسیاں سیاست دانوں کو اپنے ہاتھوں پر نچا رہیں تھیں اور آنا جانا لگ گیا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  ہم نے امپورٹڈ وزیر اعظم تک استعمال کر لیا تھا  ۔ ۔ ۔  اور پھر اسی میوزیکل چئیر کے گیم میں جنرل مشرف نے ١٩٧٧ والا کھیل کھیلنا چاہا مگر اس وقت تک حالات بدل چکے تھے  ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان جو بین الاقوامی طاقتوں نے بھلا دیا تھا ، گریٹ افغان گیم کا حصہ بن چکا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  اور نواز شریف اور بے نظیر دونوں کو باہر دھکیل دیا گیا  ۔ ۔ ۔ ۔

ایوب خان کو ٦٥ کی جنگ اور عالمی پولرازیشن نے اقتدار کو طول دینے کا موقعہ دیا تھا ، ضیاء کو روسی جارحیت نے اور مشرف کو نائن الیون نے  ۔ ۔ ۔ ۔  سامنے کے کھلاڑی اور تھے اور خفیہ اینجنسیاں نئے نئے کھیل کھیل رہیں تھیں ، بھٹو دور میں جیسے فوج دو حصوں میں بٹی تھی ایسے ہی مشرف دور میں ہوا ، اس دفعہ سیکولر طبقہ اوپر آیا مگر مشرف کی ضرورت سے زیادہ امریکہ نوازی نے ملک میں جو بحران جنم دئیے وہ مشرف کو لے ڈوبے  ۔  ۔۔  ایوب خان نے سیاسی طفیلیے بنانے کا فارمولہ بنایا ، ضیاء نے منشیات اور کلاشنکوف سے ملک کو بھر دیا اور مشرف نے خود کُش حملوں  کا تحفہ دیا  ۔ ۔ ۔ ۔

بے نظیر اور نواز شریف بین الاقوامی کھیل کو سمجھ چکے تھے ، اسی لئے دونوں نے میثاق جمہوریت کیا ، اور واپس آ گئے ، حکمرانوں کو نواز شریف سے اتنا ڈر نہیں تھا جتنا بے نظیر سے تھا ، امریکہ کو بھی بے نظیر کی فکر تھی کیونکہ اس کا لھجہ بدل چکا تھا  ۔ ۔  وہ اب عوامی زبان میں بول رہی تھی ۔۔۔۔ یہ زبان ویسی ہی تھی جیسی کبھی بھٹو کی تھی  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

ایجنسیوں کو پتہ تھا کہ اب اگر بے نظیر برسر اقتدار آئی تو فوج کا حکمرانوں پر اثر و رسوخ ختم ہو جائے گا ، اس دوران انہیں ایجنسیوں کو پتہ تھا کہ بے نظیر کا امیج ایک سیکولر لیڈر کا ہے جبکہ نواز شریف کنزرویٹو سمجھے جا رہے تھے ،  پاکستان کی تیسری جماعت یعنی مذہبی جماعتیں سرحد میں اپنے اثر کو کھو چکی تھیں اور باقی ملک میں بھی انکی عزت انکے کرتوتوں کی وجہ سے نہیں تھی ، ١٩٧٧ کے بعد سے مذہبی جماعتوں کا جھکاؤ فوج کی جانب رہا تھا ، مگر اب فوج کو معلوم تھا کہ مذہب کے نام پر اب عوام سے نہیں کھیلا جا سکتا کیونکہ طالبان نے مذہب کی غلط تشہیر کی تھی  ۔ ۔ ۔  فوج کے سیکولراور کنزرویٹو حصوں دونوں نے دونوں لیڈروں کو منظر سے ہٹانے کا فیصلہ کیا مگر بے نظیر پر حملہ کامیاب ہوا  ۔ ۔  ۔ ۔

جنرل مشرف کا خیال تھا کہ بے نظیر اسکا ساتھ دے گی مگر ججز کی برطرفی اور ایمر جنسی نے بے نظیر کے خیالات کو بدل دیا تھا ، اور وہ ایک بار پھر نواز شریف کی ہم آواز تھیں  ۔ ۔ ۔ ۔

فوج کی ایجنسیاں ایک بار پھر سیاست دانوں کی ٹوہ میں تھیں  ۔  ۔ ۔ مگر اس دفعہ سیاست دانوں کے کھیل کھیلا  ۔ ۔ ۔  اور ایک آمر کو پہلی بار  “باعزت“ رخصت کیا  ، مگر سیاست دانوں کی اقتدار کی ہوس آج بھی ہے ہماری زیادہ تر ایجنسیاں صدر کے ماتحت ہیں اور اسی لئے صدر صاحب زیادہ تر ملک سے باہر رہتے ہیں  ۔ ۔ ۔  ۔ اور باقی ایجنسیاں  ۔ ۔ ۔  ۔  امریکی خاطر مدارات میں لگیں ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہ ایک چھوٹی سی جھلک ہے جو ہمارے ملک کی ایجنسیاں کھیل کھیلتیں ہیں ، میں جانتا ہوں کہ آپ لوگ اس تاریخ کو جانتے ہیں مگر ایجنسیوں کی نظر سے دیکھیں تو شاید ہمیں پتہ چلے کہ ہم ابھی تک ایک ڈر سے نہیں نکل پائے کہ اقتدار اگر ہاتھ سے نکل گیا تو کیا ہو گا ، یہ ڈر سیاست دانوں اور فوجی افسران دونوں میں ہے ، اسی لئے ایک دوسرے کے خلاف یہ برسر پیکار رہتے ہیں  ۔ ۔ ۔ اور دوسری طرف ہماری ڈسپلن فوج ، ان ڈسپلن سیاست دانوں کا شکار بھی بنتی ہے  ۔ ۔ ۔ 

آج ہمارے سیاست دانوں میں کوئی بھی قائد اعظم جیسا نہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ ہماری فوج کے سربراہوں میں جنرل گریسی کی روح موجود ہے جو آج بھی عوامی نمائندے کا حکم ماننے سے انکاری ہے  ۔ ۔  ۔ ۔ ۔

آزادی کی کہانی – آخری قسط – تقسیم ہند

سائمن کمیشن نے ١٩٢٧ میں کچھ اور اصلاحات پیش کیں اور اسی سال مسلمانوں نے دہلی تجاویز پیش کیں جنہیں کانگریس نے پہلے منظور کیا اور پھر مسترد کر دیا جسکی وجہ سے مسلمانوں نے ایک پارٹیز مسلم کانفرنس بلائی اور ان حالات کا جائزہ لیا ، ١٩٢٨ میں جواہر لال نہرو نے اپنی مشہور رپورٹ پیش کی جو مسلمانوں کے خلاف جاتی تھی اسلئے مسلم لیگ نے اسے یکسر مسترد کر دیا اور یہاں سے ایک الگ سفر شروع ہوا کانگریس ہندؤں کی جماعت بن گئی اور مسلم لیگ مسلمانوں کی  ۔ ۔ ۔ گول میز کانفرنسوں میں بھی ہندوستان کی آزادی کی بات کی گئی مگر کوئی بھی حتمی فیصلہ نہ ہو سکا  ۔ ۔ ۔
١٩٣٥ میں جو قانون بنا اسکے مطابق کانگریس اور مسلم لیگ کو وزارتیں ملیں مگر کانگریس نے یہ حکومت نہ چلنے دی اور آخر ١٩٤٠ میں لاہور کے جلسے میں مسلم لیگ نے علاحدہ وطن کا مطالبہ کر دیا  ۔ ۔ ۔ ۔
ہندو اخبارات نے اسے قراداد پاکستان کا نام دیا جو آگے چل کر سچ ثابت ہوا اور دو قومی نظریہ کی سچائی بھی سامنے آ گئی ۔ ۔ ۔  ١٩٤٢ میں کرپس مشن نے مزید اصلاحات دیں مگر کانگریس کی ہندوستان چھوڑ دو کی تحریک نے اور پھر سبھاش چندر بوس کی ائی این اے ( انڈین نیشنل آرمی) کے قیام نے مزید مشکلات پیدا کر دیں
١٩٤٤ میں گاندھی جناح مذاکرات پاکستان کے ایشو پر ناکام ہو گئے اور ١٩٤٦ میں مسلم لیگ نے اپنی وزارتوں سے ہندوستانیوں کے دل میں مقام پیدا کر لیا ، اور ١٩٤٦ میں کیبنٹ مشن نے ہندوستان کی خود مختاری کے لئے تجاویز پیش کیں اور جنکا اختتام تین جون ١٩٤٧ کے آزادی کے منصوبے پر ہوا  ۔ ۔  اور ہندوستان تقسیم کے لئے تیار ہو گیا  ۔ ۔  کانگریس نے اس منصوبے کی بہت مخالفت کی مگر مسلمان ہند نے جو عہد ٢٣ مارچ ١٩٤٠ کو کیا تھا وہ ١٤ اگست ١٩٤٧ کو پورا ہو گیا  ۔ ۔ پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک عظیم اسلامی ملک بن کہ ابھرا  ۔ ۔ ۔
چوبیس گھنٹوں کے بعد ہندوستان سو سالہ غلامی سے آزاد ہو گیا  ۔ ۔  آج یہ دونوں ملک ایک حقیقت ہیں اور ہماری دعا ہے کہ ملک امن و محبت سے رہیں  ۔ ۔ ۔
آزادی کی کہانی ختم نہیں ہوئی  ۔ ۔ بلکہ یہ چل رہی ہے ، ہم کہنے کو ١٩٤٧ میں آزاد ہو گئے تھے مگر ہم نے اپنی اس آزادی کی قدر نہیں کی  ۔ ۔  اسی لئیے آج ہم ظاہری طور پر آزاد  ہوتے ہوئے بھی ذہنی طور پر غلام ہو چکے ہیں  ۔ ۔ ۔
میں نے اس کہانی میں صرف حقیقت بیان کرنے کی کوشش کی ہے اگر کوئی غلطی ہو گئی ہو تو اسکی معذرت چاہتا ہوں  ۔ ۔ ۔
کوشش کروں گا کہ اس سلسلے پر مذید کچھ لکھ سکوں اگر وقت نے اجازت دی  ۔ ۔ ۔ آپکی آراء کا منتظر رہوں گا  ۔ ۔ ۔
اظہرالحق
شارجہ ، متحدہ عرب امارات
اگست ٢٠٠٨

آزادی کی کہانی – تیرہویں قسط – ایک اور چنگاری

پہلی جنگ عظیم کے بعد دنیا میں تبدیلیاں شروع ہو چکی تھیں ، جنکا لامحالہ اثر ہندوستان پر بھی ہوا ، خاصکر مسلمانوں پر  ۔ ۔  عثمانی سلطنت کا زوال بہت اثر کر رہا تھا  ۔ ۔ ۔ جسکی وجہ سے ١٩١٩ میں تحریک خلاف چلائی گئی  ۔ ۔ ۔ اور گاندھی جی کی عدم تعاون کی تحریک  نے بھی اسکو بہت اچھا بوسٹ دیا اور انگریز بہت مشکل میں پڑ گئے  ۔ ۔ ۔ تحریک خلافت اور عدم تعاون کی تحریک میں سیکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور مارشل لا لگا دیا گیا   ۔ ۔ ۔ مگر اسکا سب سے افسوسناک واقعہ جلیاںوالا باغ کا تھا جس میں تقریباً چار سو کے قریب لوگ مارے گئے اس واقعے کا مرکزی کردار جنرل ڈائیر تھا اسکی وجہ سے جمیعت علمائے ہند نے جہاد کا فتویٰ دیا اور لوگ جوق در جوق اس تحریک میں شامل ہونے لگے مگر  ۔ ۔ ۔  ترکی ہار گیا ۔ ۔ ۔ اور مسلمانوں میں بہت مایوسی پھیل گئی ۔ ۔ ۔  مگر اس میں زیادہ قصور مسلمانوں کا اپنا بھی تھا جو تنکوں کی طرح سے بکھرے ہوئے تھے  ۔ ۔ ۔
ہندوستان کے مسلمان رہنما مسلمانوں کی اس کیفیت کو سمجھتے تھے  ۔ ۔ ۔ خاصکر علامہ محمد اقبال  ۔ ۔ ۔ انہوں نے اپنی شاعری کی مدد سے قوم میں ایک نئی روح بیدار کی ، مسلمانوں کو انکا ماضی بھی بتایا اور انکا مستقبل بھی  ۔۔  ۔۔   ۔ ۔ ۔  انہوں نے اپنی نظموں اور ترانوں سے ایک نسل کو متاثر کیا  ۔ ۔ ۔ ۔  اقبال نہ صرف ایک اچھے شاعر تھے بلکہ ایک اسکالر بھی تھے  ۔ ۔  انہوں نے ہی ١٩٣١ کے مسلم لیگ کے جلسے میں مسلمانوں کی الگ ریاست کا تصور پیش کیا  ۔۔ ۔  یہاں یہ بات ضرور ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ تصور ہندوستان کی فیڈریشن کے اندر رہتے ہوئے تھا    ۔ ۔ ۔ ۔  مگر ہندؤں کی کم ظرفی اور انگریزوں کی سازشوں نے اسے ایک الگ ملک کی تحریک میں بدل دیا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔