مجھے جینے دہ ۔ ۔

میں ایک عام عادمی ہوں ، نہ تو بہت پڑھا لکھا ہوں نہ ہی میرا آئی کیو لیول ایکسٹرا آدینری ہے ، میں بے روزگار ہوں ، بیمار ہوں ، فیملی والا ہوں ، کرائے پہ رہتا ہوں ، مجھے جینے کے لیے کھانے کے ساتھ دوا بھی ضروری ہے ، مگر کیا کروں اب یہ سب کچھ چھن رہا ہے ، جو تھوڑی بہت جینے کی لگن تھی وہ بھی نہیں رہی ، کیونکہ میں مایوس ہو چکا ہوں ، اگر مایوسی کفر ہے تو میں کافر ہو چکا ہوں ، پتہ نہیں کافر کسے کہتے ہیں ، میرے ملک میں تو ہر کوئی ایک دوسرے کو کافر کہتا ہے ، اتنے کافروں میں ایک اور کافر کا اضافہ ہو گیا تو کیا فرق پڑے گا ؟ کیا کہا مجھے امید رکھنی چاہیے ، کیسی امید کونسی امید ؟ ارے یار یہاں عجیب دستور ہے ، گوالا پٹرول مہنگا ہونے پر دودھ مہنگا کر دیتا ہے ، سبزی مہنگی ہو جاتی ہے ، گھی چینی آٹا سب مہنگا ہو جاتا ہے ، کسی کی زندگی میں فرق نہیں آتا ، جسکو اللہ نے دیا ہے تو بس اب اسکو کوئی کمی نہیں ، میں اپنے بچپن سے سُنتا آیا ہوں کہ اگر کوئی بُرا کرے تو اسکے ساتھ بُرا ہوتا ہے ، اگر اچھے دن نہیں رہے تو برے دن بھی نہیں رہتے ، مگر شاید یہ بات میرے لیے نہیں ہے ، یا اس ملک کے غریبوں کے لیے نہیں ہے ، یا یہاں کا خُدا کوئی اور ہے ؟؟ اب کہو گے کہ شرک کر رہا ہے ، ارے میں کہاں شرک کروں گا ؟ جب اللہ نے خود دولت و طاقت والوں کو اختیار دیا ہے تو میں کیوں شرک کروں گا، اللہ نے ان لوگوں کو اپنے ساتھ دولت اور طاقت میں شراکت دی ہے ، اب وہ بندہ جس کے پاس زرا سا بھی اختیار ہے وہ ہی خُدا بنا پھرتا ہے ، چاہے وہ دودھ والا ہو یا میرا مالک مکان ۔۔ ۔ ۔ وہ سڑک پے بیٹھا سپاہی ہو یا میرے ملک کا وزیراعظم ۔ ۔ ۔ ہر کوئی اپنا اختیار جتا رہا ہے اور اپنی “خُدائی“ طاقت کا بھر پور مظاہرہ کر رہا ہے ۔ ۔۔ ۔ میں اور بھی بہت کچھ کہ سکتا ہوں ۔ ۔ ۔ مگر ابھی صرف اتنا کہوں گا ۔۔۔ ۔ میں جینا چاہتا ہوں ۔۔ ۔ خدا را ، مجھے جینے دو ۔ ۔ ۔۔ مجھے جینے دو ۔۔ ۔ ۔ مجھے جینے دو ۔ ۔۔

Advertisements
%d bloggers like this: