اظہر اظہر مرے اظہر

آگ میں جلا دیا
مجھے یوں مٹا دیا
کہا تھا پیار ہے مجھے
نہیں نہیں کہلا دیا

رگوں میں زہر ہے بھرا
زہر سا مجھے بنا دیا
لگا تھا یوں کہ زندگی
پل میں موت کو لا دیا

وہ خواب تھا مگر مرا
نہیں تھا اسے بتا دیا
وہ تھا مگر نہیں بھی تھا
وہ ہے مگر یہ لگا پتا

اظہر اظہر مرے اظہر
نو نے مجھے ہے کیا دیا
وفا جفا کے بیچ میں
دیکھ تو نے لا کھڑا کیا

Advertisements

One response to this post.

  1. اچھی تحریر ہے

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: