کتنا بُرا ہوں میں

نہیں جانتا کہ دنیا کیا ہے ، نہیں جانتا کہ مذہب کیا ہے ، نہیں جانتا کہ گناہ کسے کہتے ہہیں ، نہیں معلوم کہ ثواب کا منبہ کیا ہے ، مگر اتنا جانتا ہوں کہ میں ایک بُرا انسان ہوں ، اتنا بُرا کہ شاید میرا جسم بدبودار ہو چکا ہے ، میں گلا سڑا ہوا ہوں ، جسے نہ تو یہ معاشرہ قبول کر نا چاہتا ہے ، نہ ہی خدا ۔ ۔۔ ۔
کبھی خدا کا باغی ہوں تو کبھی انسانوں کا ، دولت کا پجاری ہوں تو کبھی ہوس کا غلام ، میں بہت بُرا انسان ہوں ، بہت ہی برا ، جس میں اچھا صرف یہ ہے کہ میں ہوں ، اگر میں نہ ہوتا تو کیا ہوتا ، کائنات ایسے ہی چلتی ، محبتیں ہوتیں ، نفرتیں ہوتیں ، عزب ملتی ، بے عزتی ہوتی ۔ ۔۔ ۔ مگر مجھ جیسا بے کیف انسان کوئی نہ ہوتا ۔ ۔ ۔
اب کیا کروں ؟ جیوں یا مروں ، جلوں یا دکھوں ۔ جاگوں یا سو جاؤں ۔ ۔۔ ۔
کیا کروں کیا نہ کروں ، کہ جو بھی کروں گا وہ بُرا ہو جائے گا ، ہماری کفن کی دُکان اس لیئے دیوالیہ ہو جائے گی کہ لوگوں نے مرنا چھوڑ دینا ہے ، ہمارے لیے تو شاید کفن بھی نہ ملے ۔ ۔ ۔۔
مایوسیاں شاید مقدر ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور مقدر سے کیسے کوئی لڑے
اور لڑنے والے تو بُرے ہی ہوتے ہیں
اور میں
کتنا بُرا ہوں ۔ ۔ ۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: