الحمدوللہ میں مسلمان ہوں

میں ایک تاجر ہوں ، کاروبار بہت پھیلا ہوا ہے ، تین فیکٹریاں ہیں ، ایک شوگر مل ہے ، اور ان سب کے علاوہ میری ایک بروکر فرم بھی ہے ، جو میرے شئیر کے کاروبار کو دیکھتی ہے ، ملک سے باہر بھی مختلف بزنس ہیں میرے ، جن میں یورپ میں ایک سپر سٹور کی چین ہے ، ہاں فیملی ایک دو بیٹے ہیں ایک بیٹی ہے ، دو بیویاں بھی ہیں ، سب کچھ ہے مگر چین نہیں ہیں ، اتنا بزنس ہونے کے باوجود گذارا مشکل سے ہی ہوتا ہے ، کبھی یہ مسلہ کبھی وہ مسلہ ، سارا دن رات بزنس میں گذر جاتا ہے ، پیسہ کمانا آسان نہیں ہے جناب ، ہاں جی لوگ بھی کام چور ہو گئے ہیں ، اب دیکھیں میری فیکٹریوں میں کوئی دو ہزار افراد کام کرتے ہیں ، جنکو اچھی خاصی تنخواہ دیتا ہوں ، مگر انکا پیٹ ہی نہیں بھرتا ، ہر دوسرے دن مہنگائی کا رونا روتے ہیں ، ارے بھائی مہنگائی ہر ایک کے لیے ہے ، اب دیکھیں نا میں ہر سال نئے ماڈل کی کار بدلتا ہوں ، مگر اس سال بہت مشکل ہو گئی ہے ، ہماری حکومت کو تو بس جتنا دو اتنا ہی کم ہے ، میری نئے ماڈل کی کار پورٹ پر کلیرنس کی منتظر ہے ، اوپر سے بیٹی کی فرمائش ہے کہ اسے اپنی گریجویشن کی تقریب میں نئی سپورٹ کار میں جانا ہے، اب مہنگائی ہمارے لیے بھی ہے سوچنا پڑتا ہے ، مگر یہ کیا یہ چھوٹے لوگوں کے پیٹ ہی نہیں بھرتے ، میں اس دن ایسے فیکٹری کا چکر لگانے چلا گیا ، وہاں لنچ بریک تھا ، مزدور ایسے کھانے پر ٹوٹے تھے کہ کیا کہوں ، اور ایک مزدور اتنا کھانا کھا رہا تھا جتنا میں ہفتے میں بھی نہ کھا سکوں ، کھانے پر یاد آیا ، ڈاکٹر بھی عجیب ہوتے ہیں ، اب مجھے شوگر ہے تو ہر چیز سے احتیاط ، اوپر سے صرف چار کلو ہی وزن بڑھا تھا ، بیگم نے ورزش پر لگا دیا ، وہ تو اچھا ہے ڈآکٹر نے سخت ورزش سے منہ کیا ہے کہ ہارٹ پرابلم بھی ہے نا تھوڑا سا ، کچھ گردوں کا درد بھی ہو جاتا ہے ، اسلیے تو بھئی میں تو بہت احتیاط سے کھاتا ہوں ، مگر یہ مزدور ۔ ۔ ۔ تبھی تو انکو ہر بیماری لگتی ہے ، اور پچھلے دنوں کیا ہوا ، ہمارے سینئر اکاؤنٹنٹ کا انتقال ہو گیا ، سوچا کہ یہ متوسط طبقے کا بندہ تھا تو اسکے گھر چلا گیا ، اف اللہ ، کیا بتاؤں ، میری گاڑی کا تو کباڑا ہو گیا ، اتنی دھول ، مجھے تو ویسے بھی ڈسٹ الرجی ہے ، پھر اسکے بچوں سے ملا وہ بھی عجیب تھے ، نہ رو رہے تھے نہ ہنس رہے تھے ، میں نے اسکے گھر والوں کو دو لاکھ کا چیک دیا ، بھئی وہ ہمارے ساتھ اس وقت سے تھا جب میرے پاس صرف ایک سپر سٹور تھا ، جو میں نے اپنے والد کی جائداد بیچ کر بنایا تھا ، یہ جائداد کا چکر بھی عجیب ہوتا ہے ، بھئی میں بیچ سکتا تھا بیچ دیا ، میرا چھوٹا بھائی ناراض ہو گیا تھا ، اب تک ناراض ہے ، ویسے اگر میں اس وقت اسے اسکا اور دوسرے بھائی کا حصہ دے دیتا پھر تو یہ میری انڈسٹری کیسے بنتی ؟ آج میرا ٹرن اور ماہانہ دو بلین سے بھی اوپر ہے ، یہ سب میری محنت کا نتیجہ ہے ، ورنہ اگر میں بھی یہ سوچنے بیٹھتا کہ بھائی ناراض ہے ، یا بہن یا ماں ناراض ہے تو اتنی عزت اور دولت کیسے کماتا ؟ بس جی اس دنیا میں آگے بڑھنے کا ایک ہی طریقہ ہے وہ ہے آگے والے کو گرا کہ اس پر چھڑھ کہ آگے بڑھ جاؤ ، ورنہ کوئی تمہیں گرا کہ آگے چلا جائے گا ، اور یہ سلسلہ کبھی رکتا نہیں ہے ، بزنس کو بڑھانے کے سب سے ضروری چیز ہے ٹیکٹس ، کچھ لوگ اسے دھوکا دہی یا جھوٹ بھی کہتے ہیں ، مگر بھئی اگر دھوکا نہیں دو گے تو دھوکا کھا جاؤ گے ، اور اگر سچ پر چلے تو سب سے زیادہ مار کھاؤ گے ، اب مثال لے لیں نا ، اگر میں ٹیکس میں اپنے سارے اثاثے شو کر دوں تو پھر مجھے کتنا زیادہ ٹیکس دینا ہو گا ؟ بھئی یہ سب کرنا پڑتا ہے بزنس ہے نا ، اب میں نے اپنا بہت سارا پیسہ فکسڈ انکم میں لگا دیا ہے ، اب ہر مہینے اتنا سود اس پر مل جاتا ہے کہ میں اگر کچھ بھی نہ کروں تو موجودہ اسٹیٹس کو برقرار رکھ سکتا ہوں ،اب لوگ کہتے ہیں کہ سود برا ہے ، ارے بابا پیسہ آنا برا نہیں ہوتا جانا برا ہوتا ہے ، مجھے سب سے زیادہ ڈر ہی اسی چیز کا ہے کہ اگر کبھی یہ پیسہ (میرے منہ میں خاک) میرے پاس نہ رہا تو میں کیا کروں گا ، بس یہ دھڑکا لگا رہتا ہے ، اسی لیے میں نے اپنا معمول بنا رکھا ہے ، کہ اپنی فیکٹریوں سے ہر سال پچاس لوگوں کو حج کرواتا ہوں ، ویسے تو میرا اور میری فیملی کا بھی اصول ہے کہ رمضان کا آخری عشرہ حجاز میں ہی گذارا جائے ، اسکے لیے میں ہر سال بیس سے پیچس دن کی چھٹی کرتا ہوں بزنس سے ، رمضان کا آخری ہفتہ ہم لوگ عمرہ وغیرہ کرتے ہیں ، میں اور بیگم آخری تین چار روزے بھی رکھ لیتے ہیں ، عید کے دن واپس آتے ہیں وطن ، اور پھر کم سے کم دو ہفتے کے یورپ ٹور پر جاتے ہیں ، مجھے تو میلان بہت پسند ہے ، ویگاس اور ٹیکساس کے کسینو کی راتیں بہت دلکش ہوتیں ہیں ، بہت انجوائے ہوتا ہے ، دن بھر گھومتے ہیں اور رات کو جھومتے ہیں ، ہاں میری بیگم کو میامی بیچ بہت پسند ہے ، وہاں اسے آزادی محسوس ہوتی ہے ، ظاہر ہے وہ اپنے وطن کی بیچ پر مختصر لباس نہیں پہن سکتی ، پتہ نہیں ہمارے لوگ کب اس دقیانوسی ملا کریسی سے نکلیں گے ، بند ذھن کے بند لوگ ، اسی لیے میری بیٹی یہاں ایڈجسٹ نہیں کر پا رہی ، میں نے اسکے لیے لندن میں ایک پینٹ ہاؤس لیا ہے ، اسکی شادی کا سرپرائز گفٹ ، مگر وہ سیریز ہی نہیں ہوتی ، کبھی ایک کے ساتھ ہینگ آؤٹ کبھی دوسرے کے ساتھ ، خیر یہ نوجوانوں کے مزہ کرنے کی عمر ہے ، شادی تو ہو ہی جائے گی ، ہاں چھوٹا بیٹا بہت نالائق ہے ، میں نے اسے امریکہ پڑھنے کے لیے بھیجا اسنے وہاں شادی کر لی ، وہ بھی ایک دوسرے لڑکے سے ، کہتا ہے کہ اسے اب پتا چلا ہے کہ وہ گے ہے ، اپنے وطن میں تو اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا ، مگر مغرب میں تو اب یہ عام بات ہے ، بڑے بیٹے نے اپنا ہی دھندا شروع کر رکھا ہے ، پارٹی بوائے ہے ، مگر پیتا کچھ زیادہ ہے ، بالکل اپنی ماں پر گیا ہے ، وہ تو اب اتنی عادی ہے کہ رات کو پیے بنا اسے نیند ہی نہیں آتی ۔ اور اسکی بھی پارٹیاں ختم نہیں ہوتیں ، مگر اچھا ہے اسکی پارٹیوں سے مجھے اچھی کمپنی ملتی ہے ، آج کل کی خواتین تو بہت ہی ایڈوانس ہیں ، ڈسپوزیبل ریلیشن پسند کرتیں ہیں ، بھئی یہ سب کچھ ہماری پہچان ہے ، جب اوپر والے نے دیا ہے تو پھر انجوائے کیوں نہ کریں ، ہاں بھولنا نہیں چاہیے اسے ، میں بھی نہیں بھولتا ، ہر ہفتے دو سے تین غریبوں کو دس بیس ہزار بانٹ دیتا ہوں ، بھی اللہ کو بھی تو خوش رکھنا ہے ، اور پھر رمضان کے روزوں کا صدقہ دے دیتا ہوں ، اور ڈبل ٹرپل کر کہ دیتا ہوں ، مجھے پتہ ہے کہ کل اسکو بھی منہ دیکھانا ہے ، آخر میں مسلمان ہوں ، الحمدوللہ

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: