نیا افسانہ

پتہ نہیں میری محبت اتنی سچی کیوں نہیں تھی کہ اسے منوں مٹی کے نیچے جانے سے نہ روک سکی ، میں نے اسکی قبر پر پانی چھڑکتے ہوئے دانستہ طور پر اسکی قبر کی مٹی ہاتھوں سے صاف کر دی ، اور ایک الوداعی نظر مٹی کے اس ڈھیر پر ڈالی ، جو تازہ پھولوں میں ڈھک چکا تھا ، ایسا لگا کہ جیسے یہ پھول مٹی کے جیسے ہی ہوں ، ہم انسان بھی عجیب ہوتے ہیں ، ہماری زندگی بھی پھولوں جیسی ہی ہوتی ہے ، کھلتے ہیں اور پھر خوشبو بکھرا کر مٹی میں مل جاتے ہیں ، انسان کی زندگی پھول کی زندگی سے کہاں مختلف ہے ، میں جانے کے مڑا تو ایسا لگا جیسے اس نے آواز دی ہو ، رکو ۔ ۔۔ ۔۔ میں ٹہر گیا ، میں مڑ کر پھر مٹی کے ڈھیر کو دیکھا ، اور اسی طرح قبرستان سے باہر نکل آیا جیسے ایک دن اسنے میرے “رکو“ کہنے پر ایسے ہی مجھے اس دنیا کے قبرستان میں اکیلا چھوڑ دیا تھا ۔۔ ۔ ۔ ۔ کیا یہ انتقام تھا ؟
ہماری ملاقات کوئی اتفاق نہیں تھا ، اس نے میری کہانیاں پڑھیں تھیں ، اور پھر اسنے مجھے خط لکھے ، عجب بات تھی ، اسکی تعریف بھی تنقید لگتی تھی اور تنقید بھی تعریف ، میرے افسانے میں جب میں نے اپنے ایک کردار کو خود کُشی کرا دی تھی تو اسنے مجھے بہت سنائی تھیں ، کردار میرا تھا منظر کشی اسنے کر دی تھی ، کہانی کے اتنے رخ بتائے کہ میں خود بھی سوچنے لگا کہ میں اپنے کردار کو مار کہ واقعٰی ہی کوئی جرم کیا ہے ، پھر ایک دفعہ اس نے مجھے دفتر میں آ لیا ، اور میں نے اسے پہچان لیا ، ہم بہت دیر خاموش بیٹھے رہے ، اور پھر اسی نے خاموشی توڑی ، لکھنے والے لگتے نہیں آپ ، میں ہنس دیا ، اور پھر میری کہانیوں میں تبدیلی آتی چلی گئی ، میری ہر کہانی کا انجام اسکی مرضی سے ہوتا ، اور کتنی ہی کہانیوں کا آغاز بھی اسی کی وجہ سے ہوتا ، پھر جب میرا پہلا ناول “آگ کا ستون“ چھپا تو مجھ سے زیادہ خوشی اسے ہوئی ، اور جب اس ناول کو بیسٹ سیلر ایوارڈ ملا تو اسنے میرے آفس کو پھولوں سے بھر دیا ، عجب انداز تھا اسکا ، ایسا لگتا تھا کہ وہ اس گیت کی تصویر ہو “اب تو تم سے ہر خوشی اپنی ، تم پے مرنا ہے زندگی اپنی “ اور پھر ایک دن اسنے کہا ، جدائی آ پہنچی ، اور میں بُت بن گیا ، اسے جاتے دیکھتا رہا ، بس منہ سے نکلا “رکو“ مگر ۔ ۔ ۔ ۔ اسنے میری زندگی قبرستان کر دی ۔ ۔۔ ۔ ۔ کہانیاں بدل گئیں ، بے انجام کہانیاں ، آغاز تو ہوتا مگر انجام نہیں ۔ ۔۔ ۔ تھا ، میں ان بے انجام کہانیوں میں دفن ہو گیا تھا
مگر ایک دن اسکا فون آیا ، میرے جنازے کو کاندھا ضرور دینا ، کل چار بجے شارپ ۔ ۔۔ ۔ ۔ اسنے فون رکھ دیا ، ہر کہانی کی طرح اسے اپنی کہانی کا انجام بھی پتا تھا ، میں چار بجے جب اسکے گھر پہنچا تو جنازہ نکل رہا تھا ، میں نے آگے بڑھ کہ سرہانے والی سائیڈ سنبھال لی ، ہوا چل رہی تھی ، آیتوں بھری چادر اڑتی تو ایک سفید کپڑے کی جھلک نظر آتی ، پتہ نہیں مجھے لگا کہ اس سفید کپڑے میں سے میری کہانیوں کا انجام نکل رہا ہو، جنازہ میت گاڑی میں رکھ دیا گیا ، میں اسکے سامنے والی جگہ بیٹھ گیا ، کون ہے اس سفید کپڑے میں لپٹا ، میں سوچتا رہا ، مگر میں جان گیا تھا ، کہ یہ وہ ہی ہے جسنے میری ہر کہانی کو اپنی کہانی بنا ڈالا ، آج اپنے انجام میں مجھے بھی شامل کر لیا ، میرا دل کر رہا تھا یہ سفید پردہ گرا دوں اور پوچھوں کہ میں نے تمہارا کیا بگاڑا تھا کہ تم نے مجھے رونے بھی نہیں دیا ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔
اور پھر اسے منوں مٹی تلے دفنا دیا گیا ، میں دفتر پہنچا تو کورئیر والا منتظر تھا ، ایک بڑا لفافہ دیا ، اس کی طرف سے تھا ، اس کی اپنی کہانی تھی ، جس کا کردار میں تھا ، مگر انجام ۔ ۔ ۔ ۔ اسنے دو صفحے خالی بھیجھے تھے ۔ ۔ ۔۔ ۔ یعنی انجام باقی تھا ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے وہ خالی صفحے پھاڑ کہ ڈسٹ بن میں ڈالے ، اور اپنا نیا افسانہ لکھنا شروع کیا
پتہ نہیں میری محبت اتنی سچی کیوں نہیں تھی ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: