پاکستان یا مسجد ضرار

کہنے کو ایک معمولی سا سوال ہے مگر اسکا جواب ہی ہمارے مستقبل کی بنیاد ہے ، آج ساٹھ سالوں کے بعد ہمیں یاد آئی ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا کہ نہیں ؟ ہم روز اخبارات اور دیگر میڈیا میں یہ بحث زور و شور سے دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کا اسلام سے کوئی تعلق ہے کہ نہیں ، ہمارے ہاں یہ تقسیم واضح نظر آ رہی ہے ، ایک طبقہ جو صرف مذہبی ریاست کی بات کرتا ہے ، اور دوسرا طبقہ خلافت راشدہ سے کم پر راضی نہیں ، ایک طبقہ مذہب کو ذاتی فعل قرار دے کر اسے عملی زندگی سے الگ کرتا ہے ، تو ایک اور طبقہ مذہب کو ہی ہر فساد کی جڑ سمجھتا ہے ۔ ترقی کا سرچشمہ سیکولرازم کو قرار دیا جاتا ہے ، مگر دوسری طرف نہ تو پوری طرح سیکولرازم کو قبول کیا جاتا ہے اور نہ ہی چھوڑا جاتا ہے

پاکستان کے بانی پاکستان کو کیسا دیکھنا چاہتے تھے ؟ یہ سوال بار بار پوچھا جاتا ہے ، اور اسپر تبصرے کیے جاتے ہیں اور پھر ان تبصروں پر تبرے بھی بھیجھے جاتے ہیں ، کچھ بڑے دانشور قائد اعظم کو سیکولر مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ کبھی بھی مذہبی نہیں رہے ، بلکہ انکا رہن سہن اور حتہ کہ کھانا پینا تک مغربی طرز کا تھا ، بلکہ انہیں عطا ترک ثانی تک بنا ڈالا ، مگر بھول گئے کہ اتا ترک نے مسجدوں میں تالے لگوائے تھے اور اذان پر پابندی لگا دی تھی ہر طور سے مغربی نظر آنے کی کوشش کی تھی مگر آج تک مغرب ترکی کو اپنا نہیں سکا اور اب ترکی واپس اپنی مذہبی پہچان کی طرف جا رہا ہے ، مگر ہم ان سے کیوں سیکھیں ، ہم نے تو مغربی بننا ہے

ہمارا معاشرہ بھی عجیب تضاد کا شکار ہے ، ایک طرف ہم نے نماز کو عادت بنا لیا ہے اور دوسری طرف مغرب کی نقالی میں ہم مغرب کو بھی مات کر رہے ہیں ، ہمارے نوجوان اتنے زیادہ مغربی ہو چکے ہیں کہ اگر وہ آدم کا پسر ہے تو ممنوعہ پھل کھانے کے لیے بے چین ہے ، اور اگر حوا کی دختر ہے تو سانپ کا زہر چوس رہی ہے ، اور اب تو باغ عدن بھی کسی اکھاڑے کا منظر پیش کر رہا ہے ، جہاں ممنوعہ پھل ایسے بانٹا جا رہا ہے جیسے کسی مندر میں پرشاد بانٹا جاتا ہے ، اور ظاہر ہے ممنوعہ پھل کھانے کے بعد سب کے سب ننگے ہو چکے ہیں مگر کوئی بھی اب ستر پوشی نہیں چاہتا ، کہ یہ ملک نیوڈ بیچ ہے ۔ ۔ ۔ جس میں ننگا ہونا عزت و تکریم کی علامت ہے

بات ننگے پن کی ہو رہی ہے ، آپ تو جانتے ہیں کہ عیسائیوں کے ہاں معصوم فرشتے ننگے ہی ہوتے ہیں ، ہمارے ملک کے یہ دو فیصد فرشتے جن کے لیے یہ ملک باغ عدن سے کم نہیں ، اور یہ بات بھی ہے کہ انہیں عدن سے نکالا نہیں جاتا بلکہ یہ خود وقت آنے پر عدن سے بھاگ نکلتے ہیں ، اور دوزخی لوگوں میں جا کہ جنت کے مزے لیتے ہیں ، جب تک دوبارہ عدن کے حالات انکے لیے سازگار نہیں ہو جاتے ۔

اس لیے اب عدن میں اگر اسلام آ جائے تو ننگے فرشتے کیا کریں گے ؟ ویسے میں بھی اب سوچ رہا ہوں کہ ہمیں اسلام نے کیا دیا ہے ، سب ترقی کے راستے بند ، فرقے بندیوں اور بنیاد پرستیوں نے معاشرے کو ناسور بنا دیا ہے ، کیا یہ اسلام ہے ؟ جو صرف خود کش بمبار پیدا کرتا ہے ؟ کیا یہ اسلام ہے جو ترقی کو روکتا ہے ؟ کیا یہ اسلام ہے جو نہ خوش ہونے دیتا ہے اور نہ اداس ۔ ۔۔ ۔

عجب مخمصے میں جان پھنسی ہے ، جسے دیکھو وہ حسین (رض) کا پیروکار بنتا ہے ، مگر کربلا میں پانی سب سے پہلے خود بند کرتا ہے ، خود کو یزدییت کا دشمن گردانتا ہے ، اور یزید کی طرح چاہتا ہے کہ ہر کوئی اسکی بیت بھی کرے ، عجب لوگ ہیں یہ ، خیمے بھی جلاتے ہیں ، اور حلیم بھی پکاتے ہیں ، یہ جو چوں چوں کا مربع بنی ہے قوم ہماری ، اور دن بدن ہم جس دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں ، اسکا علاج اسلام بھی نہیں کر سکے گا ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ کیونکہ ہم سلامتی تو چاہتے ہیں مگر صرف اپنی ذات کی ۔ ۔ ۔ اور قوم جب ہجوم بن جاتی ہے تو اسکا حال اس ریوڑ جیسا ہو جاتا ہے جسپر درندے بار بار جھپٹ کر اسے ختم کر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔۔

لہذا اب پاکستان کو ہرگز اسلامی مملکت نہ سمجھا جائے ، ہم منافقین کا ٹولہ ہیں ، اور ہماری پوری کوشش ہے کہ یہ مسجد زرار بن جائے ۔ ۔۔ ۔ ۔ تا کہ اسے سچے مسلمان آ کر گرا دیں یا پھر اس کا وہ ہی حشر کریں جو مسجد قرطبہ کا عیسائیوں نے کیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔۔ اور ہمارے لیے بھی کہیں حکم نہ آ جائے “بے شک یہ ہی لوگ جھوٹے ہیں“

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: