میرے مجاہدو ، میرے محافظو ، میرے جوانوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا فخر مت توڑو ۔ ۔ ۔ ۔۔

نوٹ ؛ یہ کالم پاکستانی فوج کے خلاف نہیں ، بلکہ ان جنرلوں کے خلاف ہے جو اس ملک کو نوچ رہے ہیں ، اور اپنی جیبیں بھر رہے ہیں ، ورنہ میری فوج کے جوان تو ایسے ہیں کہ پینسٹھ کی جنگ کے انڈین جنرل کہتے تھے کہ یہ جب نعرہ تکبیر لگاتے ہیں ، تو ہمارے آدھے سے زیادہ سپاہی سہم جاتے ہیں ، ہماری فوج کے نان کمیشن افسران کو آج بھی دنیا کا بہترین ٹرینر مانا جاتا ہے ، ایک صوبیدار جب ایک لفٹین بناتا ہے تو اسے وہ تربیت دیتا ہے جو اسے پاک آرمی کا مین ایٹ بیسٹ بنا دیتا ہے ، اور اسے پھر صاب کہ کہ سلوٹ مارتا ہے ، مگر افسوس وہ ہی لیفٹین جب جنرل بنتا ہے ، تو اپنے کتنے ہی استادوں کی کیتی کرائی پر مٹی پھیر دیتا ہے ۔ ۔ ۔ بلڈی سویلین ، کا نعرہ ہے وہ ہی جنرل لگاتا ہے ، جو سویلین کی حفاظت کے قابل نہیں ہوتا ، ورنہ فوج سے زیادہ ڈسیپلن ادارہ کوئی نہیں ، اور ان سے زیادہ محب وطن بھی کوئی نہیں ۔۔
——————————————————————————————————————————-

بہت پہلے کی بات ہے ، شاید بیس سال پہلے کی ، پاکستان میں ایک فلم بنی تھی ، جسکا نام تھا برداشت ، اظہار قاضی نے اس میں مرکزی کردار ادا کیا تھا ، یہ وہ زمانہ تھا جب ہماری فلم انڈسٹری میں کچھ کرییٹیو مائنڈ تھے ، فلم کا مرکزی کردار ایک فوجی تھا ، جو سرحد سے لڑ کر واپس گھر آتا ہے ، اور پھر اسے گھر پر سیاست دانوں اور مذہبی شدت پسندوں سے واسطہ پڑتا ہے ، اور وہ ہر ممکن طریقے سے ان سے براہ راست تصادم سے بچتا ہے ، مگر آخر کار اسکی برداشت ختم ہو جاتی ہے ، اور وہ ہتھیار اٹھا لیتا ہے اور کہتا ہے ، کہ میں تو فوجی تھا ، میرا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے ، مگر مجھے کیا پتہ تھا کہ میرے دشمن میرے ہی گھر میں ہیں اور مجھے جنگ بھی وطن کے اندر لڑنا ہو گی اور اپنوں سے لڑنا ہو گی ، فوجی یہ نہیں کرتا وہ اپنوں سے نہیں دشمنوں سے لڑتا ہے ۔ ۔۔ ۔

یہ کہانی تھی ایک سپاہی کی جو جانتا تھا کہ فوجی ہونے کا مطلب کیا ہوتا ہے اور اسکا فرض کیا ہوتا ہے ، مگر آئیے ایک اور کہانی بھی سنیے جو کسی فلم کی نہیں بلکہ ملک خداداد پاکستان کے ایک جنرل کی ہے ، نام تھا اسکا یحیٰی خان ، جسے جنرل آغا بھی کہا جاتا ہے ، جب ملک ٹوٹ گیا ، اور اس شرابی کبابی جنرل کو اتار دیا گیا تو ایک دن جب وہ پوچھنے لگا کہ یہ لوگ مجھے کیوں برا کہتے ہیں میں اناں دی کھوتی نوں ہتھ لایا اے ؟

ذرا دیر کو میں اپنی فوج کے کارناموں کو سوچنے بیٹھا تو پہلی جنگ 1947 کی نظر آئی جہاں کشمیر کے محاذ پر افسر اور جوان ملکر لڑے اور نوزائدہ مملکت کو کشمیر دیا اور آنے والے وقت کے سیاست دانوں اور جنرلوں کے لیے انکی نوکریاں پکی کرنے کا تحفہ دیا ، ابھی ملک اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوا تھا کہ جنرل اسکندر مرزا نے اس پر قبضہ کر لیا ، اور پھر تو جیسے ان بھیڑیوں کو لہو لگ گیا ، ایک آتا رہا ایک جاتا رہا ، کسی کو کتا بنا کر اتارا گیا (جنرل ایوب) کسی کو اللہ نے فضا میں ہی اڑا دیا (جنرل ضیاع) اور ایک تو ابھی زندہ ہے اور بھڑک مار رہا ہے کہ میں اک دن لوٹ کہ آؤں گا ۔ ۔۔ ۔ ۔

میرے ملک میں عوام کبھی بھی آزاد نہیں رہے ، اور ہمیشہ ہی انہیں روندتے رہے بوٹ ، کبھی یہ بوٹ فوجی ہوتے اور کبھی پولیس کے اور جب ان سب سے بچ گئے تو انہیں فوجیوں کے طفیلیے سیاست دان مسلتے رہے ، یہ سیاست دان بھی عجیب قوم ہے ہمارے ملک کی ، فوجی ڈکٹیٹر کو ڈیڈی کہتے ہیں ، ملک تڑواتے ہیں ، اور پھر خود مارشل لاء ایڈمینسٹریٹر بن جاتے ہیں ، یہ ایسے لوہے کے لوگ ہیں جو ان فوجی آمروں کے مقناطیس سے ایسے چپکتے ہیں کہ ، لوہار کی دوکان رائے ونڈ کا محل بن جاتی ہے ، اور پھر ایسے اسلام پسند کہ اسلامی اور جمہوری اور اتحاد بھی کر کہ اپنا قبلہ واشنگٹن شریف کو بنا کر ایسے سجدہ ریز ہوتے ہیں کہ کوئی ڈرون حملہ یا خود کش بھی اتنی ڈائریکٹ جنت نہیں پا سکتا جتنی یہ اسلامی سیاہ ست دان پاتے ہیں جنکی دنیا بھی جنت اور آخرت تو ہے ہی کہ ان سے بڑا مسلمان کوئی ہو ہی نہیں سکتا

یہ فوج بھی عجیب ادارہ ہے ہمارا ، انکا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا مگر یہ سیاست کرتے ہیں ، کہا جاتا ہے یہ حکم کے غلام ہوتے ہیں ، مگر ہمارے فوجی حکمران ہوتے ہیں ، کہا جاتا ہے ، یہ وطن کے حفاظت کرتے ہیں ، مگر ہمارے وطن کو بیچ کھاتے ہیں ، کہا جاتا ہے یہ موسٹ ڈسلپلن ہوتے ہیں مگر ہمارے تو اب موسٹ ڈسٹارشن کا شکار ہیں ، فوج عوام کی حفاظت کرتی ہے ، مگر ہماری فوج ہم پر حکمرانی کرتی ہے ، سیاست دانوں کے لیے ہم کیڑے مکوڑے اور فوجیوں کے لیے “بلڈی سویلین“

میرے فوجی جواں ہمتوں کی داستاں ، سپاہی لانس نائیک محفوظ شہید سے لیکر حوالدار لالک جان تک ، یہ سب میری قوم کا فخر ہیں ، مگر کیا میں انگلیوں پر گنے ہوئے چند افسران کے جو زیادہ سے زیادہ میجر لیول سے اوپر کے نہیں تھے انہوں نے اپنے سینے تان دیے دشمن کی توپوں کے سامنے

مگر افسوس ان میں کوئی جنرل نہ تھا ، کہ سہل پسند جنرلوں کو سیاست سے فرصت ملتی تو اپنے گھر کی سرحدوں پر لگنے والی آگ دیکھ سکتے ، میں دعویٰ کرتا ہوں کہ آپ کسی بھی جنرل برگیڈیر یا کرنل لیول تک کے افسروں کے گھر دیکھیں اور انکے خاندان کا رہن سہن ، کسی بھی لاڑڈز یا امیر سے کم نہیں ، یہ رئٹائیر ہوتے ہیں تو لاکھوں کے ساتھ کروڑوں کے جائداد بھی سمیٹ لیتے ہیں ، جو انہیں وطن بیچینے کا انعام لگتا ہے ، اور پھر سب گھر والے مل جاتے ہیں ، اگر گھر کا ایک بندہ کمیشن افسر بنا تو پھر سارے گھر والوں کے وارے نیارے ، میں پنڈی کے ایک ایسے برگیڈئیر کے بارے میں جانتا ہوں جو آرمی کی تعمیرات کے انچارج ہیں اور ان سے ملنے کی قیمت کم سے کم دس ہزار ہے ، جی ہاں صرف ملنے کی قیمت اور وہ اپنے خاندان کے لیے نئے ماڈل سے کم کی کار سے زیادہ راضی نہیں ہوتے ، ایک سائین کرنے کے لیے ، کیونکہ بلڈی سویلین بھی تو ایسے ہی ہیں حرام کا پیسہ حرام میں ہی تو جاتا ہے نا

میں نے اپنی فوج کے افسران کی محافل میں شراب کباب اور شباب کو مچلتے دیکھا ہے ، نشے میں دھت یہ جنرل جب اپنی اپنی میسوں میں ناچتے ہیں اور اپنی ہی قوم کو گالیاں دیتے ہیں تو کیا کہوں کیا کیا دل کرتا ہے کہنے کو ، میں نے بہت عرصہ پہلے لکھا تھا اس پر ، ایک بہت ہی پرانی کہاوت ہے ہماری افواج کے بارے میں بلکہ ایک انڈین جنرل نے یہ کہا تھا کہ ، اگر میرے پاس پاکستانی سپاہی ہوں اور انڈین افسر تو میں ساری دنیا پر حکمرانی کر سکتا ہوں

پاکستان کی قسمت ہی عجیب ہے ، اس کی فوج کے افسر ہمیشہ سے ہی پاکستان کو نقصان پہنچاتے آئے ہیں ، جنرل گریسی سے لیکر جنرل کیانی تک سب ہی قوم کے خرچے پر چرچے کرتے رہے اور حرام کھاتے رہے ، آج ایسے ہی رنگیلے افسروں کے لیے دل سے نکلے الفاظ ۔ ۔ ۔۔

اے وطن کے رنگیلے جوانوں ، میرے پیسے تمہارے لئے ہیں

سرفروشی تھا ایماں تمہارا ، جراءتوں کے پرستار تھے تم
جو حفاظت کرے سرحدوں کی ، وہ فلک بوس دیوار تھے تم

اے لالچ کے زندہ نشانوں ، میرے جیسے تمہارے لئے ہیں

بیویوں ماؤں بہنوں کی نظریں ، تم کو دیکھیں تو یوں تڑپ جائیں
جیسے خاموشیوں کی زباں سے ، دے رہیں ہوں وہ تم کو صدائیں

قوم کے اے جری پہلوانوں ، کیا یہ بچے مرنے کے لئے ہیں؟

تم پے جو کچھ لکھا شاعروں نے ، اس میں شامل تھی آواز میری
اڑ کہ پہنچے ہو تم جس افق پر ، کیسے جائے گی پرواز میری

ڈالروں کے اے رازدانوں ، میرے پیسے تمہارے لیے ہیں

اب تم اپنی حفاظت نہیں کر پائے ، سرحدوں کی نہیں کر پائے ، تو ہماری حفاظت کیا کرو گے ؟؟؟؟

میرے سیاہ ست دانوں اور جنرلوں ،خدا کے لئے اب ہماری جان چھوڑ دو ، اور یہ ملک اس کے خیر خواہوں کے حوالے کر دو ۔ ۔ ۔ ایسا نہ ہو کہ اب یہ حملے عوام کریں ۔ ۔ ۔ ۔ تمہاری بیرکوں پر اور تمہارے محلوں پر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔

(اس کالم کو لکھ کر میری آنکھیں نہ جانے کیوں بھیگ گئیں ، اور دل یہ ہی دعا نکلی )

چاند روشن چمکتا ستارہ رہے
سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے

اس جھنڈے سے اب قوم کی لاج ہے
اس جھنڈے پے اب قوم کا آج ہے
جان سے کیوں نہ ہم کو یہ پیارا رہے

اور پھر یہ بھی آواز دل سے ابھری

جاں جاتی ہے بے شک جائے
پرچم نہ تیرا جھکنے پائے
غازی کو موت سے کیا ڈر ہے
جاں دینا جہاد اکبر ہے

قرآں نے ہے یہ بتلایا
اے مرد مجاہد جاگ ذرا ، اب وقت شہادت ہے آیا
اللہ ُ اکبر ، اللہ ُ اکبر

اور ابھی تک میری آنکھوں کے سامنے ایس ایس جی کے کمانڈو جوشیلے انداز میں اللہ ہو کا نعرہ لگاتے گزر رہے ہیں ۔۔ ۔۔ اور میں بھیگی آنکھوں سے ان سبکو کہ رہا ہوں

میرے مجاہدو ، میرے محافظو ، میرے جوانوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا فخر مت توڑو ۔ ۔ ۔ ۔۔ تم میرا فخر ہو ۔ ۔ ۔ ۔

Advertisements

One response to this post.

  1. Posted by سفیر on اگست 20, 2011 at 1:38 شام

    ہم آپ کے جذبات کی قدر کرتے ہیں۔۔۔ اللہ رحم کرے ہم سب پر۔۔۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: