زبان ناپاک ہوتی ہے

انکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ریوڑ کی شکل میں رہتے ہیں ، اور انکا ایک لیڈر ہوتا ہے ، جو اپنی تھوتھنی اٹھا کر ان سب کی رہبری کرتا ہے ، مگر انکی ایک اور بھی خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ ہر کوئی خود کو لیڈر سمجھتا ہے ، اور چاہے کتنی کھلی جگہ پر یہ ہوں ایک دوسرے کو رگڑتے رہتے ہیں ، یہ عجیب جانور ہے جسے گندگی پسند ہے ، جب کچھ بھی نہ ملے تو اپنا فضلہ بھی کھا لیتا ہے ، جس جگہ رہتا ہے اسے گندا کرتا ہے ، جو لوگ اسے کھاتے ہیں ، انہیں سب سے بڑا مسلہ ہی اسکے گوشت کو صاف کرنے کا ہوتا ہے ، یہ بیماریوں کا باعث بنتا ہے نہ صرف انسانوں کے لیے بلکہ جانوروں کے لیے بھی ، مگر یہ پھر بھی پالا جاتا ہے ، اسے کھایا جاتا ہے ، اسے ایک خوبصورت شکل دی جاتی ہے ، مگر یہ اپنی خصلتیں نہیں بدلتا ، بدلے بھی تو کیسے کہ یہ تو جانور ہے ، اسکا سب سے زیادہ کام کھڑی فصلیں تباہ کرنا ہے ، انکا ریوڑ جب بھاگتا ہے تو نہیں دیکھتا کہ آگے کیا ہے اور سب کچھ روندتا چلا جاتا ہے ، یہ جانور دوسرے تمام جانوروں سے مختلف طریقے سے اپنی افزائش کرتا ہے ، ایک مادہ کتنے ہی نروں کے ساتھ ہوتی ہے اور یہ واحد جانور ہے جو مادہ نہ ملے تو نر کو یہ تختہ مشق بنا لیتا ہے ، اس معاملے میں یہ بہت تمیز سے قطار بنا لیتا ہے کہ میری باری آ جائے گی

آپ بھی سوچیں گے کہ مجھے آج کیا سوجھی ، آج میں نے اپنے حاکموں دیکھا تو یہ بالکل اس جانور جیسے لگے ، یہ بھی گندگی سے لتھڑے ہوئے ہیں ، مگر ایک دوسرے کو چاٹ رہے ہیں ، اقتدار کے لئے قطار بنا کر کھڑے ہیں ، اور عوام سے انکا دور کا واسط نہیں ، اب کیا کروں کہ میں نہ اپنے حاکموں کا نام لے سکتا ہوں ، اور نہ اس جانور کا کہ زبان ناپاک ہوتی ہے

Advertisements

One response to this post.

  1. آپ نے ٹھیک ہی کہاہے۔ کچھ زیادہ فرق نہیں ان میں۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: