ہم گئے لاہور!!

کہا جاتا ہے جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا ، اور ہمیں یہ اعزاز آج سے پچیس سال پہلے حاصل ہو چکا ہے ، یعنی ہم پچیس سال پہلے پیدا ہو چکے تھے ، حالات نے ہمیں پچیس سال بعد دوبارہ پیدا ہونے کا موقعہ دیا

ہوا کچھ یوں کہ پچھلے دس بارہ مہینوں سے فارغ بیٹھ بیٹھ کر ہم اکتا گئے تھے ، سوچا کہ چلو کچھ کام ہی کی تلاش کریں ، ایک دوست نے لاہور میں ایک جاب کا بتایا جو ہماری قابلیت کے مطابق تھی ، پہلا انٹرویو فون پر ہوا اور پھر تھری سافٹ ( یہ کمپنی کا نام ہے ) نے ہمیں کہا کہ وہ ہماری قابلیت روبرو جانچنا چاہتے ہیں ، سو ہم بھی امید کا دامن ہاتھ میں لئے لاہور کے لئے جی ٹی روڈ سے نکل کھڑے ہوئے ، جس میں ہمارے ساتھ تھے ، ہمارے بردار نسبتی اور عامر صاحب جنکی سوزوکی کو ہم نے بُک کیا تھا ، اور ساتھ میں دو اور دوست بھی مل گئے جو لاہور جا رہے تھے ، اور وہیں کے رہائیشی تھے ، جنکی مدد سے ہمیں تھری سافٹ ڈھونڈنے میں آسانی ہوئ

خیر ، پنڈی کے کاک پُل سے ہم جی ٹی روڈ کی طرف مڑے ، اور مندرہ سے ہوتے ہوئے جہلم کی طرف بڑھے ، تقریبا ایک سال تک ہسپتال میں مقید رہنے کے بعد کھلی سڑک پر چلنا اچھا لگ رہا تھا ، میں اردگرد کے منظروں میں کھویا تھا کہ عامر کی آواز نے چونکا دیا ، وہ دیکھیں ، وہ چھت پر پیجارو نظر آ رہی ہے ، ارے ہاں یہ اس مکان کی چھت پر پیجارو کیسے چڑھی ، کیا کوئی ایکسیڈنٹ ؟؟؟

نہیں نہیں ، عامر نے کہا ، یہ بہت مزے کی کہانی ہے ، اچھا ، وہ کیا ؟ میں نے پوچھا
یہ گھر ایک کاروباری شخص کا ہے ، جس نے ایک پیجارو خریدی اور وہ پیجارو اسکے بیٹوں کے درمیان لڑائی کا باعث بن گئی ، کیونکہ ہر بیٹا اس پر اپنا حق جتا رہا تھا ، بابا جی کو بہت غصہ آیا اور ایک دن انہوں نے کرین منگوائی اور پیجارو کو چھت پر رکھوا دیا ، اور اسکی رجسٹریشن اور باقی سارے کاغزات سب کے سامنے جلا دئیے ، یہ واقعہ جہلم کا ہے ، جی ٹی روڈ پر جاتے ہوئے آپ کو سڑک سے کچھ فاصلے پر یہ پیجارو چھت پر کھڑی واضح نظر آتی ہے ۔ ۔

ہم کافی دیر تک معاشرے میں دولت کی نمود و نمائش اور اولاد کی نافرمانیوں پر بات کرتے رہے ، مگر میں تو کھویا رہا راستے میں ، پنجاب میں فصل کی کٹائی ہو چکی ہے ، کھیتوں میں بوائی اور کٹائی جاری ہے ، پوٹھوہار کا علاقہ بھی خوبصورت کھیتوں سے مزین ہے ، دور تک پھیلے ہوئی زمین اور اس پر رنگ کسی کینوس کا نقشہ پیش کر رہے تھے ، اور انہیں منظروں میں ہم دریائے جہلم کے پُل پر پہنچے ، میں جو پوٹھوہار کی خوبصورت زمیں میں گم تھا ایک دم چونک گیا ، دریا تو کیا مٹی کے تودوں کے سوا کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے جوہڑ نظر آ رہے تھے ، یہ دریا تھا ، سوکھا ہوا دریا ؟؟ ایسا لگا جیسے میں کسی ٹھنڈے کمرے سے ایک دم جلتے سورج کے نیچے آ گیا تھا ۔ ۔ ۔۔ مجھے برسوں پہلے اس پل کے نیچے ٹھاٹھیں مارتا دریا یاد آیا ، وہ کیا منظر تھا ، مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے ریل گاڑی دریا کے اندر چل رہی ہو ۔ ۔۔ ۔ میں بچپن کی یادوں سے واپس آ گیا پُل گذر چکا تھا مگر میری آنکھوں میں وہ سوکھا دریا تھا ، میرے اندر کچھ ٹوٹ سا گیا تھا ، یہ میرے دیس کی شان تھا دریا اب ایسے لگا جیسے میرے ہم وطنوں کی آنکھوں کی طرح خشک ہو گیا ہو ۔ ۔ ۔ اے اللہ یہ سب کیوں ۔ ۔ ۔ میں سوچتا رہا اور لالہ موسٰی کا نام نظر آیا ایک بورڈ پر موٹر وے لکھا نظر آیا ، میں نے موٹر وے نہیں دیکھی تھی کہ تیرہ سال بعد تو پاکستان آیا تھا ۔ ۔۔ ۔ بیمار ہو کہ

ہم موٹر وے سے کیوں نہیں جا رہے ؟ میں نے عامر سے پوچھا

او جی بات یہ ہے کہ یہ کیری ڈبہ ہے جو سی این جی پر چلتا ہے ، موٹر وے پر پٹرول والے لوگ سفر کرتے ہیں اور سو کلو میٹر تو نارمل سپیڈ ہے یہ کیری ڈبہ اتی سپیڈ برداشت نہیں کرے گا اور سی این جی کہاں سے لائئں گے ، جی ٹی روڈ پر آسانی سے مل جائے گی

مگر میں نے موٹر وے دیکھنا ہے ۔ ۔ ۔

ہم کالا شاہ کاکو کے انٹرچینج سے موٹر وے پر جائیں گے ۔۔ ۔

اچھا ۔۔۔۔ میں آتے جاتے قصبوں میں ایک بار پھر کھو گیا ۔ ۔۔

اظہر بھائی ، دبئی کی ہائی وے تو اس سے بہت ہی اچھی ہونگی ۔ ، ، ، ،

نہیں ۔ ۔ ۔ میرے منہ سے بے اختیار نکلا ، ایسی ہی تو ہیں ، میں نے دل ہی دل میں موازنہ شروع کر دیا ، میں یو اے ای کی ریاستوں میں خود گاڑی دوڑاتا پھرتا تھا ، میں نے اپنی کمزور ٹانگوں کی طرف دیکھا ، جو اب مجھے ہی نہیں سنبھال پا رہیں تھی گاڑی کہاں چلاتا ۔ ۔

ایسی ہی روڈز ہیں یار ، بس سپیڈ ذرا زیادہ ہے ، ہاں تھوڑی صفائی بھی ہے ، باقی سب کچھ ایسا ہی ہے ۔ ۔ ۔

اس دوران ہم کتنی ہی چونگیوں سے گذر چکے تھے ، عامر ہر چنگی آنے سے پہلے روپے ہاتھ میں رکھتا اور چنگی ناکے پر کھڑے بندے کے ہاتھ پر رکھتا اور رکے بنا ہی آگے بڑھ جاتا ،

کتنے پیسے دیتے ہو عامر بھائی ، میں نے پوچھا

بیس روپے ، اور کہیں پر دس بھی ہیں ،

اچھا ، ایک چنگی ناکے پر رکتے ہوئے میں ریٹ لسٹ دیکھی ، جہاں دو سو سے لیکر بیس روپے تک کا ریٹ تھا ، میں نے ٹریفک کو دیکھا اور سوچنے لگا کہ ایک گھنٹے میں کتنی گاڑیاں گزرتی ہونگی ۔ ۔ ۔ تھوڑی سی کیلکیولیشن کے بعد تو میری آنکھیں ہی کھل گئی ۔ ۔ اتنا ہماری گورنمنٹ کماتی ہے صرف ایک چنگی سے اور ۔ ۔۔ ۔ اور ۔ ۔۔ پھر میرے سامنے ہمارے حکمرانوں کی عیاشیاں نظر آنے لگیں تو یہ تھوڑا لگا ۔ ۔ ۔ ۔ اگر صرف چنگی پر ہی پانچ روپے فی گاڑی بڑھا دیں تو ۔ ۔ ۔ بس بس بس ۔ ۔ میں آگے سوچ ہی نہ سکا

اب ہم گجرات میں تھے ، فرنیچر کی دکانوں پر سجے فرنیچر کو دیکھ کر میں ایک بار پھر ایکیا دبئی میں پہنچا تو موازنہ ہوا کہ نہیں یہ بہت ہی مختلف اور حسین ہے ۔ ۔ ۔ ان دکانوں کی سجاوٹ اور فرنیچر کے اسٹائیل پر ہی میں سوچ رہا تھا کہ ہم کسی سے کم نہیں ، یہ پروڈکٹ پاکستانی ہے ، اسی مٹی کی ۔ ۔ ۔۔ برتنوں کی دکانیں ۔۔ ۔ یہ یہ سب کچھ پاکستانی ہے ۔ ۔۔

میں ایک بار پھر ایک خواب دیکھنے لگا کہ جس میں میں نے ایک گھر بنایا اور اس کی ایک ایک چیز پاکستان کی تھی ، فرنیچر ، پینٹ ، سنیٹری ، برتن ، چولہا ، ہیٹر اور تو اور ٹی وی فریج سب کچھ پاکستانی ۔۔ ۔ ۔ گاڑی بھی پاکستانی ۔ ۔ ۔۔ مگر ایک دم سے مجھے ایسے لگا جیسے میں ایک صحرا میں ہوں ۔ ۔۔ ۔ اور میرے گھر کے چاروں طرف ۔ ۔ ۔ ریت ہی ریت ہے ۔ ۔ ۔

اور ہاں دریائے راوی پر سے بھی گذرے جو دریا کم اور نالہ زیادہ لگ رہا تھا ، میرے دل میں ایک بار پھر درد سا اٹھا ۔۔ ۔ ۔ مگر میں دبا گیا ۔ ۔۔

اظہر بھائی ، ہم اب موٹر وے کی طرف جا رہے ہیں ، عامر نے مجھے چونکا دیا، اوہ ۔ ۔۔ میں نے اپنے اردگرد دیکھا تو ایسا لگا کہ میں دبئی کی کسی روڈ پر ہوں، یہ موٹر وے ہے ۔۔ ۔ ۔ میں نے پوچھا

نہیں یہ تو لنک روڈ ہے ، ہم انٹر چینچ سے موٹر وے پر آ جائیں گے ، ویسے یہ نواز شریف کا کارنامہ ہے ، مگر لوگ نہیں مانتے عامر نے کہا

اچھا کیوں

وہ کہتے ہیں کہ نواز شریف نے یہ روڈ اپنے گھر کو جانے کے لئے بنائی کہ انہیں فری وے مل سکے

اچھا تو انکا گھر اس روڈ پر ہے

نہیں ، ہمارے ہاں کی روایت ہے کہ کوئی اچھا کام ہو تو اس پر ہر طرح کی تہمت لگائی جاتی ہے ، یہ الگ بات تہمت لگانے والے بھی اسی موٹر وے کے مسافر بنتے ہیں ۔ ۔۔

اسکے بعد عامر نے نواز شریف کے قصیدے شروع کر دئیے تھے ۔ ۔۔ ۔ مگر میں موٹر وے کی خوبصورتی میں کھو گیا ، واقعی ہی یہ پاکستان کا اثاثہ ہے ، اور اس کو واقعٰی ہی پورے پاکستان کو لنک کرنا چاہیے ، انفراسٹرکچر ترقی کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے ، ہم موٹر وے کو چھوڑ کر لاہور میں داخل ہو رہے تھے ، کہ کالی وردیوں نے ناکا لگا کہ روک لیا ، آپ کی تلاشی لینی ہے

لیجیے انہوں نے ہمارے بیٹھے بیٹھے ہی گاڑی کو دیکھا اور کلئیر کر دیا ۔ ۔۔ بہت تیز نظریں ہیں انکی عامر نے گئیر بدلتے ہوئے کہا اور ہم کنال روڈ پر آ گئے ، تو بے اختیار میرے منہ سے نکلا ، خوبصورت ، ونڈرفل ۔ ۔ ۔۔ اور جب ہم ماڈل ٹاؤن میں تھری سافٹ کا آفس ڈھونڈھ رہے تھے ، تو میں بنگلوں کو دیکھ رہا تھا ، اتنا بڑا علاقہ اور اتنے امراء ۔ ۔ ۔ ۔ واقعٰی ہی میرا ملک امیر ہے ۔ ۔ ۔

خیر انٹرویو ہوا اور ہم نے واپسی کے لئے کمر کسی ۔ ۔ ۔ ۔۔ رات کے آٹھ بج چکے تھے ، اس بار راستہ لاہور کے اندر سے تھا ، چوبرجی سے گزرتے ہوئے میری آنکھوں کے سامنے سے جیسے لاہور کے ہزاروں سال گذر گئے ، تاریخ بتاتی ہے کہ لاہور کا نام ہندؤں کے سب سے بڑے اوتار ، رام کے بیٹے پر ہے ۔ ۔۔ ۔ پھر ہزاروں برس گذرتے چلے گئے اور یہ شہر بسا رہا ، اجڑتا بھی رہا ، مگر دلی کی طرح نہیں ، میرے سامنے مینار پاکستان آ گیا ، روشنی میں نہایا ہوا ، میرے آنکھوں کے سامنے پھر ایک ریل چلنے لگی ، تحریک آزادی ، مجھے محسوس ہوا کہ مینار پاکستان مجھے بلا رہا تھا مگر وقت نہیں تھا نا ۔ ۔ ۔ ۔ کہ گاڑی میرے اختیار میں نہیں تھی ، پھر مجھے اپنی قوم نظر آئی چنگ چی رکشوں میں ٹھنسی ہوئی اور مجھے لگا کہ یہ سب مینار پاکستان سے دور بھاگے جا رہے ہیں میں بھی ان میں شامل تھا ۔۔ ۔۔ مگر مجھے مینار پاکستان کی تئیس مارچ انیس سو چالیس کی آوازیں صاف سنائئی دے رہیں تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے اپنا دھیان بٹا دیا تھا ۔ ۔ ۔ مگر جب ہم داتا دربار کے سامنے سے گذرے تو ایسا لگا کہ میں نے بہت کچھ مِس کر دیا ہے ، میں نے دور سے داتا صاحب سے معذرت کی ، کہ داتا کی نگری می آ کر بھی داتا کے دربار نہ جا سکا ۔ ۔۔ ۔ مگر یہ ضرور سوچا کہ اگلی دفعہ ضرور آؤں گا اگر جاب مل گئی ۔ ۔۔ ۔ لاہور سے نکلتے ہی اندھیری سڑک ہو گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے کامونکی میں کھانا کھایا اور گوجرانوالہ میں رفریشمنٹ لی ، ٹھنڈنک مزاج پوچھ رہی تھی کہ سارے راستے میں ایک جگہ اسٹریٹ لائٹ نظر آئیں ، ارے یہ کیسے

آپ بتاؤ ، عامر نے پوچھا

پتہ نہیں سمجھ نہیں آیا کہ سارے راستے میں صرف اس جگہ اسٹریٹ لائیٹ کیوں روشن ہیں

یہ راجہ پرویز اشرف کا ایریا ہے ، یہاں دن میں بھی اسٹریٹ لائیٹ جلتیں ہیں

اوہ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔میرے ذھن نے پھر کہانیاں بنا ڈالیں ، ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ہم گھر با خیریت پہنچ گئے

دو ہفتے کے بعد مجھے پتا چلا ، کہ تھری سافٹ والوں نے میری بیماری کی وجہ سے مجھے جاب نہیں دی ، شاید میں راجہ پرویز اشرف کے جیسا نہیں تھا ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ یا بیماری شاید پاکستان کو لگنے والی بیماری جیسی ہی تھی ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ جسکو کوئی بھی اہمیت دینے کو تیار نہیں ۔ ۔ ۔

Advertisements

2 responses to this post.

  1. پتہ نہیں سمجھ نہیں آیا کہ سارے راستے میں صرف اس جگہ اسٹریٹ لائیٹ کیوں روشن ہیں

    یہ راجہ پرویز اشرف کا ایریا ہے ، یہاں دن میں بھی اسٹریٹ لائیٹ جلتیں ہیں
    lo bhaii na raha raja na rahi rani ab bhero khud hi pani

    جواب دیں

  2. بہترین۔۔۔

    اس سے اچھا لفظ میرے پاس نہیں آپ کی اس تحریر کی تعریف کے لیے۔۔۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: