پاکستانی فرعون

مصر کے عوام سے اگر کوئی پوچھے کہ فرعونوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے تو وہ انہیں مصر کے لئے رحمت کہیں گے کہ انکی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہی فرعون اور انکی باقیات ہیں ، مگر دوسری طرف وہ اپنے حکمرانوں کی فرعونیت کو برداشت نہیں کر پا رہے ، یہ شاید مصر کی بدقسمتی ہے یا خوشقسمتی کہ فرعونوں کے اس دیس میں فرعونیت سوائے دکھاوے کے کچھ نہیں رہی ۔ ۔ ۔ اور ہر فرعونِ راہ فرعون کے مصداق ہوتا ہی رہا ، ہر فرعون پچھلے فرعون سے حکومت چھینتا رہا اور خدا بن بیٹھتا ۔ ۔

یہ فرعونیت بھی عجیب لقب ہے ، فرعون کے دور میں ہر کوئی فرعون ہوتا تھا جو فرعون کو مانتا تھا ۔ ۔ ۔ بڑے فرعون (یعنی بادشاہ وقت) سے لیکر ایک عام سپاہی تک سب فرعون تھے ، مگر ہر ایک کا درجہ مختلف تھا ، یعنی سب سے بڑا فرعون اور اس سے چھوٹا اور اس سے چھوٹا ۔ ۔۔ ۔ ۔

اگر آپ نے غزہ کے مقبرے دیکھے ہوں تو آپ نے دیکھا ہو گا کہ ایک بہت بڑا اہرام ہے اور اسکے قریب ہی چھوٹے چھوٹے تین مقبرے ہیں جو ایک جیسے ہیں مگر کچھ فاصلے پر مزید اہرام ہیں جنکا سائز مختلف ہے ۔ ۔ ۔ یہ فرعونوں کے رتبے ہیں ۔ ۔ ۔

ویسے غزہ پر مجھے فلسطین والا غزہ بھی یاد آتا ہے ، جہاں کے غلام ، بنئ اسرائیل کی غلامی میں مصری فرعونوں کے لئے مقبرے بنا رہے ہیں ۔ ۔۔ بلکہ تمام عرب حکمرانوں کے لئے ۔ ۔۔

میں ان فرعونوں کے انداز حکمرانی کا قائل ہوں کہ زندہ فرعون تو خدا ہوتا ہی تھا (نعوذباللہ) مگر مرتے ہوئے بھی ایسا انتظام کر جاتا کہ اسکی قوم ایک عرصے تک اسکی لاش کی خدمت کرتی رہتی ۔ ۔۔ ۔ ذرا سوچیں کہ ایک فرعون مر گیا تو اسکی لاش کو خنوط کیا گیا ، اسکے لئے کیا کیا ٹیکنالوجی ایجاد کی گئی ، کتنے سائنسدانوں نے مرکب بنائے ۔ ۔ ۔ اور دوسری طرف کتنے ہی آرکیٹیکٹ اسکے مقبرے کی ڈآئزئنگ کرتے رہے ، کتنے لوگ سونے کے زیورات جمع کرتے رہے اور کتنے ہی لوگ پتھروں کو تراشتے رہے ، اہرام کی ایک ایک اینٹ یا بلاک منوں نہیں ٹنوں وزنی ہے جسکو اٹھانے کے لئے کتنے ہی غلام چاہیے ہونگے ، اور پھر ان سب کے کھانے پینے کے لئے کہاں سے آتا ہو گا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ان غلاموں کو زندہ رکھنا فرعونوں کی مجبوری تھی ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس زمانے کی سب ٹیکنالوجی ، سب ایجادات سب کاروبار اور سب کا جینا ، مرنا، دکھ، سکھ، محنت، مزدوری صرف فرعونوں کے عیش و آرام کے لئے تھی ۔۔ ۔

اب ذرا موجودہ دور میں واپس آ جاتے ہیں ، اپنے اردگرد دیکھیے اور ذرا غور کریں کہ کیا ہم انہیں فرعونوں کے دور میں نہیں رہ رہے ؟؟ سب سے بڑا فرعون سُپر پاور کا حکمران اور باقی چھوٹے فرعون ہم پر حاکم ۔ ۔ ۔ ہمارا ایک ایک قدم ان فرعونوں کے تابع ہے ، ہماری محنت کا پھل فرعون کھا رہے ہیں ، چاہے وہ حاکم ہوں یا کوئی کاروباری ، حتہ کہ ایک دوکان والا بھی موقع ملنے پر اپنی فرعونیت ظاہر کر دیتا ہے

آپ ذرا سوچیے کہ یہ فرعون مر کہ بھی نہیں مرتے ، کیا کہا ، ایسا کون ہے ، ارے ، اب کس کس کا مزار دیکھاؤں ؟ سجدے تک تو ہو رہے ہیں ، ہر زندہ فرعون کسی مردہ فرعون کی کوکھ سے ہی جنم لے کر آیا ہے ، یہ ہی فرعونیت کی معراج ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مگر ہماری بدقسمتی کہ ہمارے فرعونوں کی راہ میں کوئی موسٰی نہیں ۔ ۔ ۔ کیونکہ ہم سامری کے بچھڑے کی پوجا میں اتنے کھو چکے ہیں کہ موسٰی آ کہ بھی کہے تو ہم کہیں گے ، کہ جاؤ تم اور تہمارا خدا لڑو فرعون سے ۔ ۔۔ ۔۔ ۔

اسی لئے تو میں بار بار سوچتا رہتا ہوں ، کہ پاکستانی فرعون ہیں یا فرعون پاکستانی تھے ؟؟؟؟؟؟؟؟

Advertisements

2 responses to this post.

  1. آپ بُہت اچھا لکھ رہے ہیں ۔ یہ پڑھنے کے بعد میں نے آپکا سابقہ بلاگ کُتے بھی پڑھا ہے وہ بھی پسند آیا اسی لیے اُس پر بھی تبصرہ کیا ہے ۔ آپکا بُہت شُکریہ۔(ایم۔ڈی)۔۔

    جواب دیں

  2. واقعی اظہر صاحب۔۔۔ آپکی تحریر میں بہت پختگی ہے۔۔۔ اور آپ الفاظ کے زریعے دل موہ لینے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔۔۔ اللہ آپ کو ہمیشہ اچھا لکھنے کی طاقت اور الفاظ عطا فرمائے۔۔۔ آمیں۔۔۔ اور آپکو اچھی صحت سے نوازے۔۔۔ آمیں۔۔۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: