جیت ہماری ہو گئ

چاند روشن چمکتا ستارہ رہے
سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے

یہ وہ گیت تھا جو قائد اعظم کی آزادی کی تقریر کے بعد ریڈیو سے سنا گیا تھا جس میں ایک نئی قوم کا نیا جذبہ
اور یہ جذبہ چند سالوں میں بڑھتے بڑھتے ایک اور شکل اختیار کر گیا

آو بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی ۔ ۔ ۔ ۔ جی ہاں یہ گیت پاکستان کی سیر کراتا تھا اسی کا ایک شعر تھا

مشرق میں بنگال سنہرا ، ہر اک طرف ہریالہ ہے
سیلابوں نے سینچا اسکو ، طوفانوں نے پالا ہے
یہیں سراج الدولہ نے  ۔ ۔۔۔ ۔

مگر پھر گیت بدل گئے

گیتوں میں ، خیبر ، مہران ، مکران اور پنجاب رہ گئے

یہ اسی کی دہائی تھی ، اسکولوں کے سالانہ فنکشنز میں ایک ٹیبلو بہت مقبول تھا ، تقریباَ پاکستان کے ہر اس اسکول میں یہ ٹیبلو پیش کیا جاتا تھا جہاں سالانہ فنکشن ہوتا تھا ، اس کا محرک تھا فلم “کھوٹے سکے“ کا یہ گیت جس میں پاکستان کی نمائیندگئ کی گئی تھی اور پھر اس کا اختتام ایک خوبصورت مصرعے پر تھا ، پاکستان میں رہنے والے سب ہیں پاکستانی ، اس گیت میں آپ پنجابی سندھی بلوچی اور پختون کردار دیکھیں گے اور پھر محمد علی صاحب اس گیت کا اختتام پاکستان کی اساس پر کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ پہلے یہ گیت دیکھیں اور پھر اسکے بعد اگلا گیت بھی اسی کا تسلسل ہے

مگر اسی کی دہائی میں ہی پاکستان بدلنا شروع ہو چکا تھا ، افغانستان میں جہاد اور کراچی کی بدامنی نے ہمارے معاشرے پر بہت زیادہ اثر کیا ، آج جس بات کا زور شور سے ذکر کیا جا رہا ہے کہ ہم میں عدم برداشت ہے مگر یہ عدم برداشت کب شروع ہوئی ، اسی کی دہائی سے پہلے اسکا تصور بھی نہ تھا ، پاکستان ایک اسلامی ریاست تھی اور پاکستانیوں میں برداشت اور تحمل بھی بہت تھا ، اور جب ہم میں عدم برداشت شروع ہوئی تو ملک کے حساس طبقے یعنی لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھا اس پر سمجھانے کے لئے ، ایک فلم بنی تھی جس کا نام ہی “برداشت“ تھا ، فلاپ فلم ہونے کے باوجود اس کے کچھ ڈائلاگ آج بھی میرے ذھن میں ہیں ، جس میں ایک فوجی کو اپنے گاؤں کو بچانا پڑتا ہے اپنوں کے ظلم سے ، اور وہ کہتا ہے ،
“میں تو سرحد پر یہ سوچ کر حفاظت کرتا تھا کہ دشمن باہر سے میرے گھر پر بری نظر نہ ڈال سکے ، مجھے کیا پتا تھا کہ مجھے گھر کی حفاظت کی جنگ گھر کے اندر لڑنی پڑے گی “

یاد رہے یہ آج سے بیس پچیس سال پرانی فلم کا ڈائلاگ ہے ، مگر ہم نے اس وقت کان نہیں دھرے تو آج کیسے دھریں گے ، ہاں ایک بات ضرور ہوئی ہے ، ہم پاکستانی اب مزید بٹ گئے ہیں  ۔۔ ۔  مگر پھر بھی امید ہے  ۔ ۔۔  کہ جیت ہماری ہو گئ ،اب پہلے گیت کو اس گیت سے ملا کر دیکھیں اور سر دھنیں کہ ہم کیسے تقسیم ہوتے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: