میرا 2010

میں بکھر چکا ھوں ،میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مجھے ایسا لکھنا پڑے گا ، ٢٠١٠ میری زندگی کا ایک ایسا سال جس میں اللہ نے مجھے اتنے بڑے امتحان میں ڈالا کہ جس سے ابھی تک نہیں نکل پایا ۔

٢٠٠٩ میں مجھے اپنی اہلیھ کے کینسر نے توڑ ڈالا تھا اور میرا بیٹا ماں اور باپ کی شفقت سے دور ھو گیا تھا ، اللہ کے کرم سے میری اہلیھ بہتر ہوئی ، ایک بڑی جنگ لڑ کھ ، میں نے ٢٠١٠ کا آغاز یہ سوچ کر کیا کہ چلو اب کچھ آرام ملے گا اور میں اپنے اوپر قرضوں کے بوجھ ک اتار سکوں گا ، اسی سوچ کے ساتھ ٢٠١٠ کا آغاز کیا ، مگر جنوری کے آخر میں میری اھلیھ کا ایک اور آپریشن کروانا پڑا ، جس نے مجھے فنانشلی بکھیر دیا ، اور میرا بال بال قرض میں بندھ گیا ، میرے اردگرد کے لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اظہر کے ساتھ تو کوئی نہ کوئی مسلھ رھتا ہی ہے ، اور پھر مجھے مجبوراَ بنک سے قرض لینا پڑا پتہ نہیں ہم لوگ کیوں اپنوں کے لئے اتنے جذباتی ہو جاتے ہیں ، کچھ دن پہلے جب میرے ایک “دوست“ نے کہا کھ اظہر تم نے اللہ پر توکل نہیں کیا ، اسلئے تم قرضے میں جکڑے گئے ، مگر میں کیا کہوں کہ کیسی کیسی راتوں کو اللہ سے کہتا رہا کہ وہ سبب پیدا کرے مگر شاید وقت اور بیماری نے میرے ساتھ یھ ہی کرنا تھا

میں بہت پریشان ہو چکا تھا ، نہ دن کو چین اور نہ رات کو آرام ، یہ سوچتے سوچتے رات گزر جاتی کہ اب کیا ہو گا ، میری اس کیفیت کا اندازا میری یھ نظم ھے جو میں نے اپنے مفلوج ھونے سے ایک ہفتہ پہلے لکھی تھی

میری زندگی میں ، ہونا ہے کیا کبھی سوچتا ہوں ، تو ڈر جاتا ہوں

آج ہے کیا ، کل ہو گا کیا کبھی سوچتا ھوں ، تو ڈر جاتا ہوں

یہ نظم یو ٹیوب پر اس ایڈریس پر موجود ہے

اور پھر یہ ڈر حقیقت بن گیا ، وہ اپریل کا آغاز تھا ، میں صبح آفس گیا اور شام کو مفلوج ہو کر ہسپتال پہنچ گیا ، ایک مہینھ شارجھ کے کویت ہسپتال میں ابتدائی علاج ہوا اور پھر مجھے پاکستان بھیج دیا گیا ، کھ مزید وہ مجھے ہسپتال نہیں رکھ سکتے تھے ، نھ میرے ساتھ کوئی رہ سکتا تھا ، جو مجھے اٹھاتا اور بٹھاتا اور ضروریات کو سنبھالتا ، پاکستان میں اطلاع دی گئی ، میں وھیل چئر پر پاکستان آ گیا اور ایک مقامی ہسپتال میں مجھے میری بہن نے داخل کروا دیا ، ڈاکٹر آتے رھے میڈیسن لکھتے رھے ٹسٹ ھوتے رھے ، اور فزیو بھی چلتی رھی ، میری بیوی جو خود کینسر کی مریض ھے میرا بوجھ بھی اٹھانے لگی ، میرا بیٹا جو پہلے ہی ماں کو بیڈ پر ایک سال تک دیکھتا رہا اب مجھے بیڈ پر دیکھ کر بالکل ہی بجھ گیا ۔۔۔ ۔۔ ۔ انتہائی چڑچڑا ھو گیا

خیر یھ سب ہوتا رہا اور میں نے جو کچھ کمایا تھا وہ سب ختم ہو گیا ، میں نے ایک دو مہینے مانگ تانگ کہ چلائے مگر کب تک ، آخر ایک دن مجھے ہسپتال سے بھی نکلنا پڑا ، یہ شاید اتنی بڑی بات نہ تھی ، بڑی بات یہ ہوئی ، کہ مجھے سب نے چھوڑ دیا ، میرے خونی رشتوں نے جن کو میں اپنی بیماری تک دینے والا تھا ، جب لینے والا بنا تو سب نے چھوڑ دیا ، گھر تک نہ دیا رہنے کو ، مجھے مجبوراَ کرائے کا گھر لینا پڑا ، سونے کے لئے ایک بیڈ اور بیٹھنے کے لئے ایک کرسی ، اور کچن کے برتن چولھا ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔

میں نے جسکو اپنی تکلیف بتائی اس نے ہمدردی کچھ نے زکوہ دینے کی کوشش کی مگر میرے دل نے نہیں مانا ، میں جو اوپر والا ہاتھ تھا اللہ کی دی ہوئی بیماری نے مجھے نیچے والا ہاتھ بنا دیا ، میں جو محنت کرنے والا تھا اسے مفلوج کر دیا گیا ، میں جو ہنسنے ہنسانے والا تھا ، اسے صرف رونے کے لئے چھوڑ دیا گیا ، جو درد مند تھا اسے سراپا درد بنا دیا

مگر ، ۔ ۔ ۔۔ ۔ مگر میں نے ہمت نہ ہاری ، میں اٹھ کھ کھڑا ہو گیا ، اللہ نے مجھے ایک بار پھر اپنی ٹانگوں پر کھڑا کیا ، میرے بازو اٹھنے لگے ، میرے ہاتھوں میں گرفت آتی گئ ۔۔۔۔ ۔۔ ۔ ۔ اور میں نومبر کے آتے آتے چلنے لگ گیا ، اور ایک بار پھر دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینے کا حوصلھ پیدا کرنے لگا ۔ حتہ کہ میں صحیح سے چل نہیں پاتا ابھی تک مگر چلنا تو تھا نا ، اس بھاگتی ہوئی دنیا میں میں نے نوکری کے لئے اپلائی کرنا شروع کیا تو ایک نیا امتحان تھا میرے سامنے ، میرے بیس سال کے تجربے کی کوئی ویلیو نھیں تھی ، مجھ سے کہا گیا ، کہ آپ بےوقوفی کرتے ہیں ، پاکستان میں جاب نہیں کر سکتے آپ ، آپ باھر ہی جائیں ، یہاں کچہ نہیں رکھا ، کوئی کہتا ہے کہ اتنے تجربے کار بندے کو نہیں لے سکتے ، پیسے بہت مانگو گے ، میں نے کہا نہیں مجھے صرف جینے کا آسرا دے دو مگر ۔ ۔۔ نہیں ۔ ۔۔ کوئی سفارش ہے ؟ نہیں میرا تجربہ ہی سفارش ہے ، میری تعلیم میری قابلیت سفارش ہے ، ہا ہا ہا ، کس دنیا سے آئے ہو بھیا ، یہاں سفارش ہی چلتی ہے ، کوئی ڈاکخانہ ملاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔

آج جب نیا سال شروع ہوا ، تو پیچھے مڑ کہ دیکھا ۔ تو اللہ کا شکر ادا کیا کہ اسنے مجھے گر کہ اٹھنے کا حوصلہ دیا ، مگر ساتھ دکھ بھی ہے ، میں نے بہت سے “اپنے“ کھو دیے ، جیب خالی ہو گئی ، در در کا بھکاری بن گیا ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ مگر اب بھی امید ٹوٹی نھیں ، میں زندہ ہوں ، اور زندگی سے آنکھیں ملا کر کھڑا ہوں، مگر کب تک ؟

ہوا بہت تیز ہے ، چراغ بھی ہے مدہم

ڈرتا ہوں کہیں اندھیرا نہ ہو جائے یہاں

ناامیدی کی رات گو ختم نہیں ہوئی ابھی

امید کی کرنیں کوئی تو دکھائے یہاں

میں شاید بکھر چکا ہوں ، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں کبھی ایسا لکھوں گا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔

Advertisements

3 responses to this post.

  1. بس اتنا ہی کہوں گا میرے ایک استاد کہا کرتے تھے۔
    ” اکثر لوگ منزل کے بہت قریب پہنچ کر ہمت ہار جاتے ہیں عین اس وقت جب منزل ان سے ایک قدم کے فاصلے پر ہوتے ہیں”۔
    اور ۔ ۔ ۔
    "اور ہم مردوں کے پاس سوائے لڑنے کے کوئی بھی آپشن نہیں ہوتا۔”۔

    جواب دیں

  2. Posted by RayofLight on جنوری 4, 2011 at 4:44 شام

    That’s indeed bad but you should not lose hope, if God has gave you strength to stand-up then he will also pave path for you. Just believe in God and be strong, InshaAllah you’ll be fully recovered soon and will also find a good job. Stay strong and have firm believe that God is with you and will never leave you alone. My best wishes and prayers are with you.

    جواب دیں

  3. اظہر بھائی۔۔۔ اب فی الحال آپ کہاں ہیں؟ پاکستان میں یا امارات میں۔۔۔ اگر امارات میں ہیں تو میں آپ سے ملنا چاہوں گا۔۔۔ امید ہے آپ ملاقات کا موقع دیں گے۔۔۔۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: