جج صاحب میرے چالیس سال واپس کر دیجیے

آج کل مجھے پرانی پاکستانی فلموں کا دورہ پڑ گیا ھے ، مگر جتنی فلمیں دیکھتا ہوں غصھ ھے کھ بڑھتا ہی جاتا ہے ، کبھی اس بات پر کھ یھ  پہلے کیوں نہیں دیکھیں اور دوسرا اس پر غصھ کھ یھ کونسا پاکستان تھا ، جس میں وحید مراد، نرالا ، اسلم پرویز ، روزینھ ، زیبا اور شمیم آراء جیسے فنکار تھے ، احمد رشدی ، مالا ، مہدی حسن ، نور جہاں جیسی آوازیں تھیں ، سہیل رانا ، بابا چشتی ، فیروز نظامی ، اور کریم شھاب الدین جیسے موسیقار تھے  ۔ مسرور انور ، سرور بارہ بنکوی اور جانے کتنے ہی ایسے لکھنے والے تھے ، اور کیا فلمیں تھیں ، موسیقار ، کوئیل ، پاٹے خان ، ارمان ، اک نگینھ ، ہل اسٹیشن ، دوراھا ، بہن بھائی ، کبڑا عاشق ۔ ۔ ۔ ۔ اف اف اف  ۔ ۔ ۔ یھ کیا تھا کیسا زمانھ تھا ، جب دل کو چھو جانے والی کہانیاًں بنتیں تھیں  ۔ ۔ ۔۔  اور کراچی ۔۔۔۔۔۔ جیسے دبئی تھا اور لاھور جیسے روم ، مری جیسے سوئزرلینڈ  ۔ ۔  ۔  ۔ ۔  کیا کیا کہوں کیسے زمانے میں تھا یھ سب ۔ ۔۔
مگر میں آج حقیقی دنیا میں ھوں ، آج کا پاکستان میرے سامنے ھے ، جس میں چینلز کی بھرمار ھے ، فلمیں ، ڈرامے ، سٹ کامز ، رائیلٹی شو اور جانے کیا کیا  ، آج رنگوں کی چکا چوند ہے ، آوازوں میں ڈولبی اسٹیریو اور سراؤنڈ وائس جیسی حقیقی آواز ھے ، مگر نھ تو وہ رنگ ھے نھ وہ آھنگ ، وہ کالی (بلیک اینڈ وائٹ) فلمیں ، جنکے رنگ آنکھوں سے ہٹتے ھی نھیں ، آنکھیں بند کرتا ھوں ، رم جھم رم جھم پڑے پھوار کی صدا آتی ھے ، اور جسم سارا بھیگ جاتا ھے ، پھر مینوں رب دی سو تیرے نال پیار ھو گیا اے چنا سچی مچی ، کی صدا ھو یا پھر سلیم رضا کی جان بہاراں کی ندا ، کوکو کورینا ہر پکنک پر گایا جانے والا گیت ھو یا پھر اکیلے نھ جانا اور کبھی تو تم کو یاد آئیں گی کی مدھر تانیں ، ھمیں وہ پرانی ٹیکنالوجی نئی ٹیکنالوجی سے کئی گنا بہتر لگتی ھے ۔ فلم کا ھر منظر بلیک اینڈ وائیٹ ھونے کے باوجود ، کلر نظر آتا ھے ، مونو ریکارڈنگ بھی اسٹیریو سے بڑھ کر لگتی ھے ، آخر ایسا کیوں ہے ؟ 
میں پوچھتا رہا ہوں ہر ایک سے ، کھ تم کہتے ہو کھ ہر آنے والا زمانے پچھلے زمانے سے برا ہوتا ہے ، مگر میں کیا کروں ، مجھے یقین نہیں ، کھ میرے اللھ کا فرمانا میرے سامنے کھ زمانے کو برا نھ کہو کھ زمانھ میں ھوں ،میرے پسندیدہ مصنف ابن صفی اپنے ایک ناول “پیاسا سمندر“ میں لکھتے ہیں ، (شاید یھ اقتباس پڑھنے سے کسی کے ذھن می تبدیلی آئے اور سمجھے کھ قدرت اس سے کیا چاہتی ہے )

“آدمی کتنا پیاسا ہے ، اور کس طرح اسکی پیاس بڑھتی رہتی ہے ، اور کس طرح وہ خوارج میں اپنے لئے تسکین اور آسودگی تلاش کرتا ہے ، مگر کیا کبھی بھی اسے تسکین نصیب ھوتی ہے ؟  کبھی آسودگی ملتی ہے ؟ ، مگر وھ بالکل کسی سمندر ھی کی موج در موج آگے بڑھتا چلا جاتا ھے ، کبھی چٹانوں کو کاٹتا ہے ، کبھی پہاڑوں میں رخنے کر کے انکے پرخچے اڑا دیتا ھے ، اپنی بے چینی کی وجھ وہ خود ہے ، اور اپنی تسکین کا سامان بھی اپنے دامن میں رکھتا ہے ، مگر وہ دوسروں کی پیاس تو بجھا دیتا ھے ، خود اپنی پیاس بجھانے کا سلیقھ نہیں رکھتا  ۔ ۔۔ ۔  تم اسے پیاسا سمندر کھ سکتی ہو بے بی ۔ ۔ ۔ ۔ جو پانی ھی پانی رکھنے کے باوجود بھی ازل سے پیاسا ہے ۔ ۔۔  ۔ اور اس وقت تک پیاسا رھے گا جب تک کھ اسے اپنا عرفان نھ ہو جائے ، لیکن اس میں ہزارہا سال لگیں گے  ۔ ۔ ۔۔  ابھی تو بچوں کی طرح گھٹنوں چل رھا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی تو چاند میں جانے کی باتیں کر رہا ہے ، اسکی ذھنیت اور سوجھ بوجھ اس بچے سے زیادہ نہیں ھے جو ماں کی گود میں چاند کے لئے ہمکتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ وہ مصنوعی سیارے اڑا کر اس طرح خوش ہوتا ہے جیسے بچے صابون کے بلبلے اڑا کر مسرور ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور ایک دوسرے سے شرط بدلتے ھیں کھ دیکھیں کس کا بُلبلا دیر تک فنا نہیں ہوتا ، اور پھر ایسے شیخیاں بگھارتے ھیں جیسے انہوں نے کوئی بہت بڑا کارنامھ انجام دیا ہو ، مگر بے بی ۔ ۔۔ ۔  چاند کا سفر آدمیت کی معراج نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ چاند کی باتیں تو ایسی ہی ہیں جیسے کوئی اپنے اصل کام سے اکتا جائے اور بیٹھ کر گنگنانا شروع کردے ۔ ۔ ۔۔
جانتی ہو آدمیت کی معراج کیا ہے ؟ ۔ ۔۔ ۔  آدمی کی معراج یھ ھے کھ آدمی خود اپنے ہی مسائل حل کر لے ۔ ۔ ۔ ۔ اگر اسنے مصنوعی سیارہ فضا میں پھینکنے کے بجائے سرطان کا کامیاب علاج دریافت کیا ہوتا تو میں سمجھتا کھ اب اسکے قدم اس راہ کی طرف اٹھ گئے ہیں جسکی انتہا اسکی معراج ہو گی ، اگر اسنے چاند تک پہنچنے کی اسکیم بنانے کی بجائے زمین کے ہنگامے کا پرامن طور پر فرو کرنے کا کوئی ذریعھ دریافت کر لیا ہوتا تو میں سمجھتا کھ اب یھ پیاسا نہیں رہے گا ، بلکھ خود کو بھی سیراب کرنے کی صلاحیت اس میں پیدا ہو چکی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ہزارہا سال چاہیں اس کے لئے شمی ہزار سال “

اور پھر اسی کا جواب بھی ابن صفی عمران کے منھ سے کہلواتے ہیں

“ویسے یھ بات اچھی طرح سمجھ لو کھ آدمیت کی معراج صرف حماقت ہے ۔  ۔ ۔ میں یھ بھی تسلیم کر سکتا ہوں کھ آدمی کو ابھی اپنا عرفان نہیں ہوا ، جس دن بھی ہوا وہ احمق ہو جائے گا ، اور یہی اسکی معراج کہلائے گی ۔ ۔ ۔ آدمی ازل سے ہی احمق رہا ہے ، اور وہ ابد تک انشااللہ احمق ہی رہے گا ، ویسے یہ اور بات ہے کھ اسے اپنا عرفان نھ ہو سکے ، احساس نہ ہو سکے کھ وہ احمق ہے ، اسلئے اچھی لڑکی زیادہ سے زیادہ احمق بننے کی کوشش کرو چاند خود ہی بوکھلا کر تمہاری چھت پر اتر آئے گا ۔
تمہیں وہ کہانی تو یاد ہی ہو گی کھ ایک بار ہمارے آباؤ اجداد تالاب میں چاند کا عکس دیکھ کر اس تک پہنچنے کے لئے ایک دوسرے کی دم پکڑ کر کسی درخت کے نیچے لٹکتے چلے گئے تھے اور کس طرح یک بیک اوپر والے بزرگ کے ہاتھوں سے درخت کی شاخ چھوٹ گئی تھی اور وہ سارے برگزیدہ حضرات ایک دوسرے کی دم پکڑے چاند تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے ، وہیں سے آدمیت کی معراج شروع ہوئی تھی ۔ ۔ ۔“

بات فلموں سے شروع ہوئی اور آدمیت کی معراج تک جا پہنچی ، ہماری قوم نے شاید اپنا عرفان حاصل کر لیا ہے ، ٹیکنیکلی بھی اور انسانیت کے حوالے سے بھی  ۔ ۔ ۔ اور ہم بے شک اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ، ایک دوسرے کی دم پکڑ کر چاند پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اب صرف انتظار ہے کھ کس کے ہاتھ سے شاخ چھوٹتی ہے یا دُم۔ ۔ ۔ ۔

میں اپنی اس تحریر کا اختتام ایک ہالی وڈ کی 1999 کی ایک فلم Glaxy Quist کے اس ڈائلاگ سے کروں گا جس میں جب ایلینز پوچھتے ہیں کھ اداکاری کسے کہتے ہیں ، تو وہ کہتے ہیں کھ دیکھو اداکاری یہ ہے کھ ہم جو ہوتے ہیں وہ نہیں کرتے اور جو کرتے ہیں وہ نہیں ہوتا ، تو ایلینز کی سمجھ میں میں بات نہیں آتی ، پوچھتے ہیں کھ یہ کیسے ممکن ہے ، ہم جھوٹ بولتے ہیں ، جھوٹ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ایلینز شاک ہوگئے ، جھوٹ ۔ ۔ ۔  تو جرم ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ہم جرم کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔  
شاید سچ ہی ہے ، ،، ، ،  پرانی فلموں والے لوگ سچے تھے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسلئے اچھے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور اب ہم جھوٹے ہیں  ۔۔ ۔   اور جھوٹ تو جرم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔ اور اسی لئے اب لگتا ہے کہ پاکستان محمد علی کی طرح عوام کی عدالت میں کھڑا چیخ چیخ کر کھ رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
“جج صاحب میرے چالیس سال واپس کر دو  ۔۔ ۔۔ ۔ ۔ میرے چالیس سال واپس کر دو  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔“

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: