شاید اس دفعہ کی بشارتیں سچ ہوں ۔ ۔ ۔ ۔

واقعیٰ ہی کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے آگاہی ایک عذاب ہی ہوتا ہے ، جاننا اور پھر ایسی باتیں جاننا جن پر کوئی بھی یقین نہ کرے تو اس کا کیا کیا جائے ، چلیں آج میں ایک آسان سی بات کر رہا ہوں ہماری زندگیوں میں وہ آرام و سکون کیوں نہیں جو مغربی ممالک کے لوگوں میں ہے ، اور پھر ہمارے ہاں غریب اور امیر کا فاصلہ اتنا کیوں بڑھتا جا رہا ہے ؟ اور ہمارے حکمران عوام سے اتنے دور کیوں ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ کیا یہ ایسی باتیں ہیں جو سمجھ میں نہیں آتیں ؟

بہت سارے دوست کہیں گے ، یہ تو روز کی باتیں ہیں ، غریب کو امیر برا لگتا ہے ، عوام کو حاکم ، ترقی پزیر اور غریب ممالک کو مغرب میں ہرا ہرا نظر آتا ہے ، یہ سب تو نارمل ہے ۔ ۔ ۔ ۔  کیا واقعٰی ہی ؟؟

یہ ہم لوگ ہی ایسے کیوں ہیں ؟ نہیں جی ہم ہی ایسے نہیں ہم سے بہت سارے ہیں ، سرمایہ دارانہ نظام کے چکر میں پھنسے سب کے سب  ۔ ۔ ۔  کیا زوال شروع ہو چکا ہے ، شاید ابھی نہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر شاید ہاں  ۔ ۔ ۔ ۔ 

قدرت کی وارننگز  ۔ ۔ ۔ زلزلے اور قحط کی شکل میں نظر آ رہی ہیں ، مگر کون ہے جو یہ نشانیاں سمجھے  ۔ ۔ ۔ ۔ جو سمجھتے ہیں انہیں چُپ کرا دیا گیا ہے ، اور جو سمجھنا چاہتے ہیں انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا سمجھیں ، مگر زیادہ تعداد تو انہیں کی ہے جو ان سب سوچوں سے آزاد ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔  کچھ نے خود کو وقت  کے دھارے پر چھوڑ دیا ہے اور کچھ نے وقت کا انتظار کرنا مناسب جانا ہے  ۔ ۔ ۔

کچھ بھی ہو  ۔ ۔  ۔اب تبدیلی کا وقت آ چکا ہے ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مشکل وقت شاید اسی برس شروع ہو  ۔ ۔ ۔  میں صرف اپنے دیس کی بات کروں گا  ۔ ۔ ۔  جہاں اب حکومت پراکسی ہے اور ہمارے اصل حکمران اپنی جنگ ہار چکے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ کل کے دھشت گردوں کے مذاکرات کر رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ اور دھشت گرد  ۔ ۔ ۔  ۔ اپنے آقاؤں کے ایجنڈے جا جھنڈا جا بہ جا لہرا رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔  عوام کی بے حسی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ قبرستان اب ایک تفریح گاہ بن گئی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  

آپ نے شاید شیر کو نیل گائے کے ریوڑ میں سے ایک نیل گائے کو شکار بناتے دیکھا ہو گا، شیر کے ڈر سے تو سارے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں مگر جب شیر ان میں سے کسی ایک کو اپنا شکار بنا لیتا ہے تو  ۔ ۔ ۔  سب آرام سے چرنے لگتے ہیں  ۔ ۔ ۔ شاید اب ہم بھی ایسے ہی ہو گئے ہیں ، اپنے “ریوڑ“ میں سے کسی کی کمی کو محسوس ہی نہیں کرتے  ۔ ۔۔ ۔  ۔ ۔

مجھے آج دنیا کے بڑے بڑے واقعیات یاد آ رہے ہیں  ۔ ۔  ۔  ٹرائے کی جنگ ، رومنوں اور ایرانیوں کی دشمنی  ۔۔ ۔ ۔ اور یونان اور ہندوستان کی تہذیبوں کا اتار چڑھاؤ ۔  ۔ ۔ ۔ مگر مجھے اپنے جیسے کہانی کہیں نظر نہیں آتی  ۔ ۔ ۔ ۔ کہ ایک قوم جو اپنے ہونے کو صرف چھے دہایوں تک ہی جانتی ہو  ۔ ۔ ۔ ۔  اپنے مستقبل کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے  ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ ۔  ۔

آج میں اپنے آپ کو اس آخری مسلمان کی جگہ رکھ رہا ہوں جو ہسپانیہ سے رخصت ہوا تھا ، اس مایوسی کے ساتھ کہ شاید اب الحمرا کے محلوں میں کبھی کوئی بھی مسلمان قدم نہ رکھ سکے گا  ۔۔ ۔ ۔ ۔ آج ایسی ہی مایوسی مجھے اپنے پاکستان سے ہو رہی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بس صرف اتنا ہے کہ اس دفعہ مسلمان تو اپنی جگہ پر جما ہوا ہے ، اس سے اسکا ہسپانیہ (پاکستان) رخصت ہو رہا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مگر کیا واقعٰی ہی ہم اپنے زوال اعلٰی پر پہنچ چکے ہیں  ۔ ۔ ۔  ؟ شاید ہاں  ۔ ۔ ۔۔ کیونکہ ہمیں روز ایک لارنس آف عربیہ نئے روپ سے  عثمانیوں سے نجات دلاتا ہے ، اور ہم روز ایک نئی تحریک خلافت کو جنم دیتے ہیں  ۔۔۔  ۔ روز کوئی بی اماں کہتی ہے بیٹا خلافت بے جان دے دو  ۔ ۔ ۔ اور روز کوئی جنرل ڈائر  ۔ ۔ ۔ ہمارے لئے نئے نئے جلیاںوالہ باغ تعمیر کرتا چلا جاتا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔  روز نیا جے پال ہمیں للکارتا ہے  ۔ ۔ ۔ مگر نہ تو کوئی غازی علم دین ہوتا ہے اور نہ ہی بھگت سنگھ  ۔ ۔  ۔ ۔ ۔

ہمارے شاعر و ادیب  ۔۔  ۔ ۔ ۔ محبوب کی زلفوں میں ایسے الجھے ہیں کہ سب تحریروں کا محرک دولت و دنیا ہی ہے  ۔ ۔  ۔ ۔  اقبال جیسا شاعر تو دور کی بات  ۔ ۔  ۔ جالب جیسا منہ پھٹ بھی نہیں ہے اب  ۔ ۔ ۔ ۔سب کچھ کمرشل ہو چکا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  سب بکتا ہے خریدا جاتا ہے ۔ ۔  ۔ ۔ مگر دان کچھ بھی نہیں ہوتا ہم سے  ۔ ۔ ۔ ۔

مگر پھر بھی وقت کا گجر کچھ اور ہی سنا رہا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ عجیب بشارتیں ہیں میرے آگے پیچھے   ۔ ۔ ۔ ۔ وہ کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نہیں جانتا یہ کیسے ہو گا  ۔ ۔ ۔ مگر ہو گا  ۔ ۔  ۔ اور بہت جلد ہو گا  ۔ ۔ ۔  میں بھی دیکھوں گا آپ بھی دیکھیں گے  ÷ ۔ ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ہم سب دیکھیں گے  ۔ ۔ ۔ یہ دیوانے کی بھڑک ہی سمجھ لیں  ۔ ۔ ۔  کچھ بشارتیں یوں ہیں  ۔ ۔ ۔

– ایک بڑا زلزلہ جو ساری دنیا میں ایک ہی دن آئے گا  ۔ ۔ ۔  ۔
– ایک جنگ جو افریقہ کی تاریکیوں سے شروع ہو گی  ۔ ۔ ۔
– ایک ایسا دن جب سرمایہ دار اپنے سرمائے کو چھوڑ کہ بھاگے گا  ۔ ۔ ۔ 
– ایک ایسا دن جب جدید دنیا کے سب ہتھیار بے کار ہو جائیں گے  ۔ ۔ ۔ ۔

کیسے ؟؟  ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سوال میرا بھی ہے  ۔ ۔۔ ۔ میں نے بھی بشارتیں دینے والے سے پوچھا ہے  ۔ ۔ ۔  اس کا کہنا ہے آرڈر آ چکا ہے  ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ اس دفعہ دیر نہیں ہو گی  ۔ ۔ ۔  شاید دیوانہ جیت جائے  ۔ ۔ ۔  اور عقل والے ہار جائیں  ۔ ۔ ۔  ۔ ۔۔ ۔ شاید اس دفعہ کی بشارتیں سچ ہوں  ۔ ۔ ۔ ۔

Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by Raffat on اپریل 6, 2010 at 7:59 صبح

    hummmmmmmmm. Batt agar samj ajaya tu loog bohat saree cheezoo say buch jayaa.

    جواب دیں

  2. Posted by Shahid on اپریل 8, 2010 at 7:12 شام

    بہت اچھے اظہر بھائی

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: