تم نہیں بدلو گے ۔ ۔



کیا جب بھی میں ٹی وی کھولوں گا تو ایسی ہی سلگتی خبریں ملیں گیں ، میں نے جھلا کر کہا تو وہ ہنس پڑا
تم کوئی تفریحی چینل کیوں نہیں لگا لیتے جیسے کوئی فلمی یا پھر گیتوں بھرا  ۔ ۔ ۔ اور کچھ مچھی مصالحہ بھی دیکھا کرو بڑے میاں ، کیا رونا دھونا لگائے رکھتے ہو
دیکھتا ہوں  ۔ ۔ ۔ وہ بھی مگر دل پھر ادھر ہی لگا رہتا ہے   ۔ ۔ ۔ 
یار عجیب آدمی ہو  ۔ ۔ ۔ اچھا دیکھو بے شک ، مگر اتنا اثر مت لو ، بھلا تمہارے ساتھ تو کوئی پرابلم نہیں ہے ، اچھا کھاتے ہو پیتے ہو  ۔ ۔  سر کڑاھی میں اور انگلیاں گھی میں  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر یہ لوگ جو مرتے ہیں یہ بھی تو میرے ہی لوگ ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔

ارے تمہارے رشتے دار ہیں کیا ؟

نہیں مگر  ۔ ۔  ۔ ۔
ارے چُپ کر یار  ۔ ۔ ۔  دیکھ مرنے والے مرتے رہیں گے ، جب تک اپنی موت آنی ہے ہم تو مزے کر لیں  ۔ ۔ ۔ کیا روز روز مرنا ۔ ۔ ۔

ہاں  ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے سوچا  ۔ ۔ ۔  ۔
یہ سب خود کش بھی تو یہ ہی سوچتے ہونگے نا ۔ ۔ ۔ ۔ کہ کیا روز روز مرنا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس نے میری طرف دیکھا اور ایک زہریلی مسکراہٹ سے کہا  ۔ ۔ ۔ تم نہیں بدلو گے  ۔ ۔۔ ۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: