گھر تو آخر اپنا ہے !!!!!

پھر ایک بار ہمارا وطن لہو لہو ہے ، اور ہم شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپائے بیٹھے ہیں ، کہیں بھی جائیں کسی سے بھی بات کریں وہ چاہے انٹرنیٹ کے فورمز ہوں یا ٹی وی کے مزاکرے یا پھر اخبارات کے کالمز ہر جگہ جیسے آگ لگی ہے
ملتی ہے یہ خبر اخبار میں
جل رہا ہر شہر اخبار میں
میں آج کچھ لوگوں کے بارے میں بات کروں گا جو ہمارے اندر مایوسی پھیلا رہے ہیں ، مجھے معلوم ہے بہت سارے دوست میرے نظریات سے متفق نہیں ہوں گے مگر میں پھر بھی چاہوں گا کہ صرف ایک بار میرے لکھے ہوئے پر غور کریں ، یہ مت سوچیں کہ کون کہ رہا ہے یہ سوچیں کیا کہ رہا ہے ، یہ آپ کے میرے گھر کی بات ہے اور میرا اور آپکا وطن ہی اصل گھر ہے
میں دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے وہ دوست جو بہت اچھا لکھتے ہیں اور کچھ اثر و رسوخ رکھتے ہیں وہ اب ایک نئی روش پر چل نکلے ہیں ، انہیں دیس کے اندر ہونے والی واقعیات سے کوئی واسطہ رکھنا اچھا نہیں لگتا ، انہیں کچھ شعر و شاعری (وہ بھی رومانوی) اور فلم ٹی وی کھانا پینا اور گپ شپ جس میں وہ حقیقت سے دور بھاگ رہے ہوتے ہیں ، ایسے جیسے ایک نشہ میں ڈوبے ہوئے لوگ  ۔ ۔ ۔ جنہیں اپنے گرد و نواح سے کوئی واسطہ ہی نہ ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے جملے اب سننے کو ملتے ہیں
سیاست پر بات نہ کریں ، کہ اس میں نظریات کا تصادم ہوتا ہے
مذہب پر بات نہ کریں ، کہ اس میں عقائد کا تصادم ہوتا ہے
حالات پر بات نہ کریں ، کہ اس میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں  ۔ ۔
اور یہ کیوں نہ کریں ، کیونکہ ہمارا ان سے کوئی تعلق ہی نہیں اور ہم امن پسند ہیں
ارے  ۔۔ ۔  ہم پھر کیا بات کریں ، ہمارا اگر ان تعلق نہیں تو پھر ہم کیا ہیں ، کون ہیں ، کیوں ہیں  ۔ ۔ ۔
سیاست گندی ہے ، مذہب ذاتی مسلہ ہے ، حالات کے ذمہ دار ہم نہیں ہیں  ۔ ۔ ۔ مگر
درد دل کے واسطے پیدا کیا انساں کو
ورنہ عبادت کے لئے کم نہ تھے کرو بیاں
مگر انساں  ۔ ۔ ۔ انسان کہاں ہیں ہم ، کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ان سب حالات کی وجہ ہم خود ہیں ؟ جی ہم ہیں ان سب واقعیات کے ذمہ دار
ہمارے پاس وقت نہیں ہے نا  ۔  ۔ ان “فضول“ باتوں کے لئے  ۔ ۔ ۔ مگر ہمارے پاس مشورے بھرے پڑے ہیں جو ہم مفت میں بانٹتے پھرتے ہیں  ۔ ۔ ۔  مگر کیا کبھی ہم نے خود ان مشوروں پر عمل کیا ہے  ،  ، ،؟
چلیں آپ قرآن حدیث کو چھوڑ دیں (جو ہم حقیقت میں چھوڑ چکے ہیں ) صرف انسانیت کو ہی لے لیں ، کچھ اپنے آپ سے سوال کریں
– کیا ہم جو کما رہے ہیں اس میں ہم قناعت پر ہیں یا نہیں ، کیا ہماری کمائی کے حصے داروں تک  حصہ پہنچ رہا ہے ؟
– کیا ہم جو کھا رہے ہیں ، وہ دوسروں کو میسر ہے ؟ اگر نہیں تو کیا ہم ان کو یہ حصہ دے رہے ہیں ؟
– کیا ہم جو مباحث میں دوسروں پر الزام دیتے ہیں خود اس نظریہ پر عمل کرتے ہیں ؟
ایسے ہی کتنے سوال ہیں جو ہمیں خود سے پوچھنے ہیں ، ہمیں آج جتنی اتحاد کی ضرورت ہے شاید پہلے کبھی نہ تھی ، آج ہمارے گھر پر غیروں نے حملے کر کر کہ کھوکلہ کر دیا ہے ، کیا ہم اتنے بے حس ہیں کہ اپنے گھر کی حفاظت نہیں کر سکتے ، میں آج اپنے انٹر نیٹ کے سب دوستوں سے کہتا ہوں کہ نکلیں باہر اور اکھٹے ہو جائیں ، اور گھر کے دشمنوں کے آگے سینہ سپر ہوں ، آج اس گھر کے محافظ اپنی جان دے رہے ہیں تو ہم کیوں نہیں  ۔ ۔ ۔ کس کام کی یہ زندگی اگر گھر ہی نہ رہا
اٹھو !!!!
آج آپکو آپ کا گھر بلا رہا ہے ، اسے بچاؤ ، یاد رکھو ، تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرئے گی ، بے شک اس وقت ہمارا کوئی لیڈر نہیں ہے ، مگر ہمیں معلوم ہے کہ قافلہ جب بنے گا تو بڑے سے بڑے “غرور“ کو بہا لے جائے گا
کیا اب بھی ہمیں اپنے کسی لیڈر پر بھروسہ ہے ؟
وہ لیڈر جو اپنے دیس سے زیادہ اپنی حفاظت پر توجہ دے رہے ہیں
وہ لیڈر جو بکے ہوئے ہیں
وہ لیڈر جو عوام کا سامنہ نہیں کرنا چاہتے
وہ لیڈر جو اپنے ہی گھر کو لوٹ کر غیروں کے گھر کو بھر رہے ہیں
وہ لیڈر جن کے گھر ساری دنیا میں ہیں ، اور سب سے پہلے بھاگنے والوں میں شامل ہونگے
اب ہم سب لیڈر ہیں اور کیا آج ہم اپنے آپ سے وعدہ نہیں کر سکتے کہ آج سے ہمارا لیڈر صرف پاکستان ہے ، وہ پاکستان جو ہماری جان ہے وہ پاکستان جو ہماری پہچان ہے ، آج ملکر باہر نکلیں اور بدل دیں پاکستان کا مستقبل  ۔ ۔ ۔
میں جانتا ہوں  ۔ ۔ ۔ زیادہ تر دوست اسے دیوانے کی بڑک سے زیادہ اہمیت نہیں دیں گے ، مگر یہ دیوانگی اس دیوانگی سے اچھی ہے جو میرے دیس کو تباہ کر رہی ہے  ۔  ۔۔ میں لکھ رہا ہوں اور لکھتا رہوں گا  ۔۔  ۔ ۔ اور اپنی سی کوشش کرتا رہوں گا  ۔ ۔ ۔ کہ ہم اکھٹے ہو جائیں ، میری کمزور آواز شاید کسی اور آواز کے شامل ہونے سے نئی صبح کا گجر بن جائے
یاد رکھیے ، اس راہ میں دکھ ہیں ، مگر اس گھر کے لئے دکھ سہنے پڑیں گے کہ
موج بڑھے یا آندھی آئے
دیا جلائے رکھنا ہے
گھر کی خاطر ، سو دکھ جھیلیں
گھر تو آخر اپنا ہے !!!!!
Advertisements

2 responses to this post.

  1. same thinking to all. but AWAM is bayhiss

    جواب دیں

  2. Posted by Pleasureinblues on جنوری 11, 2010 at 7:54 صبح

    اظہر صاحب ، بلا شبہ آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن آپ کی اس پوسٹ سے کوئی بہتر لائحہٗ عمل میسر نہیں آتا۔ کیا رہبروں کے ستائے ہوئے ایک غیر منظم ہجوم (اگر ایسا ہو سکا تو) موجودہ نظام کے خلاف مؤثر ثابت ہوسکے گا۔ رہی بات نظریات کی تو میں آپ سے متفق ہوں ۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: