ایک کیو ایم – مزید باتیں اور جوابات

انکل اجمل نے میری ایم کیو ایم کی تحریر کو اپنے بلاگ پر جگہ دی ، جسکے لئے میں انکا شکر گذار ہوں ، آج میں اسی پوسٹ سے جڑے ہوئے کچھ سوالوں کے جواب دے رہا ہوں ، مگر پہلے کچھ میرے اپنے بارے میں تاکہ آپ لوگ سمجھ سکیں کہ یہ مضمون لکھنے والا کون ہے  ۔ ۔ ۔
– پہلی بات میری پیدائش کراچی میں نہیں ، پنڈی میں ہوئی تھی ، لیکن میرا بچپن ، جوانی کراچی میں ہی گذری ، پہلی کلاس سے گریجویشن تک تعلیم میں کراچی میں ہی حاصل کی ١٩٧٦ سے لیکر ١٩٩٩ تک میری فیملی بھی کراچی میں ہی تھی ، مگر اب پنڈی شفٹ ہو چکے ہیں
– میرا تعلق ایک کشمیری گھرانے سے ہے ، ہمارے آباء  کشمیر سے آ کر پنڈی میں آباد ہوئے ، اور میں مہاجر نہیں ہوں ، ہاں کراچی میں ہماری حیثیت مہاجروں کی سی تھی ، کیونکہ ہم نے زندگی وہاں گذاری اور اپنے وطن (یعنی پنڈی) میں بعد میں آئے ، مگر میں آج بھی کراچی کو اپنا شہر سمجھتا ہوں ، وجہ یہ ہے کہ میں تو پچھلے دس سال سے بیس دن سے زیادہ پنڈی نہیں رہا
– اور مہاجر (یعنی اردو اسپیکنگ) کے لوگوں سے میرا تعلق اتنا گہرا ہے کہ میری دو بھابھیاں خالص اردو اسپیکنگ فیملی سے ہیں ، اور انکی فیملیاں ایم کیو ایم کی کتنی قریب ہیں ، وہ یہ ہے کہ ان فیملیز میں دو “یونٹ انچارج“ ہیں  ۔ ۔ ۔
– میرے دوستوں میں زیادہ تر اردو اسپیکنگ ہیں ، اور انکا تعلق کراچی سے ہے ، اور وہ ایم کیو ایم کے بہت نزدیک ہیں ، مگر وہ ان لوگوں میں سے ہیں ایم کیو ایم کے جو تنقید برداشت بھی کرتے ہیں اور غلطیوں کو مانتے بھی ہیں ، اور بہت اچھے انسان ہیں ، اور اسی لئے وہ میرے دوست ہیں آج تک   ۔ ۔  ۔ ۔ 
– میں نے دس سال کراچی کے مختلف اسٹیٹیوٹ میں کمپیوٹر پڑھایا ہے ، پیٹرومین ، آئی سی ٹی اور ایڈوانس کمپیوٹر اکیڈیمی ، کیمبرج کمیپوٹر اور فاسٹ جیسے انسٹیٹیوٹ میں رہا ہوں  ۔ ۔  اور مجھے فخر ہے کہ ملیر میں میں پہلا انسٹریکٹر تھا جسنے ملیر جیسے ایریا میں سندھ ٹیکنیکل بورڈ سےمنظور کروایا اور ان کے اسٹوڈنٹس کو وہ جگہ دلائی جو اس زمانے میں صرف بڑے انسٹیوٹ کے لئے سمجھا جاتا تھا اور  ۔ ۔  یاد رہے میرے سارے اسٹوڈنٹ اردو اسپیکنگ تھے
– اور میں ہی وہ بندہ ہو جسنے کراچی کی پبلک لائبریری کو کمپوٹریز کیا تھا ، آپ کراچی کے ہمدردوں کو کتنی لائبریریز کا معلوم ہے ؟  تیموریہ ، یا لیاقت لائبریری  مگر فرئیر ہال لائبریری ، غالب لائبریری اور کورنگی اور اورنگی کی لائبریریز کو کون جانتا ہے ؟
– یاد رہے یہ میں اس وقت کر رہا تھا جب کراچی میں ایم کیو ایم ایک طاقت بن چکی تھی ، آپ نے ایم کیو ایم کی تنقید کا حصہ پڑھا مگر کسی نے ایڈمینسٹیریٹر فارق ستار کا پیراگراف پڑھا ہے ؟ ، کسی نے ایم کیوایم کے ان بچت بازاروں کا حصہ پڑھا ؟
– دوستو میں ایم کیو ایم کا مخالف نہیں ، میرے کالج میں یہ جماعت موجود تھی ، میرے محلے میں موجود تھی میرے گھر میں موجود تھی   ۔۔ ۔ ۔ سو کیا میں ایم کیو ایم کو نہیں جانتا؟؟
– ایک بات پتہ نہیں میں کیوں نہیں کہنا چاہتا تھا مگر اب کہنی پڑ رہی ہے ، میں اسی ٨٠ کے آخر سے ٩٠ کے درمیان تک ، میں میڈیا میں کافی ایکٹیو رہا ، یاد رہے یہ پاکستان میں پی ٹی وی کی اجارہ داری کے خاتمے کا آغاز تھا اور این ٹی ایم اور ایس ٹی این جیسا میڈیا شروع ہو چکا تھا ، میں ان دنوں ٹی وی ، ریڈیو اور فلم (ایسٹرن فلم اسٹیوڈیو میں شوٹنگ ہوتیں تھیں ) اور اسٹیج میں برابر حصہ لیتا تھا ، بے شک میرا زیادہ کام آف دا اسکرین ہے مگر شاید اب بھی کچھ لوگوں کو “اے ہاشمی“ یاد ہو  ۔ ۔
– یہ میری خود نمائی (اللہ مجھے معاف کرے ) صرف اسلئے بیان کر رہا ہوں کہ آپ دوستوں کو پتہ چلے کہ میں یہ باتیں کس بنیاد پر کرتا ہوں ، میرے ایک کالج فیلو کو قائد کے غدار کے طور پر قتل کر دیا گیا تھا ، اسکی ماں نے اسے اسکی انگلیوں سے پہچانا  ۔ ۔ ۔
– آپ کو شاید یاد نہ ہو میں یاد دلاتا ہوں کہ لاشوں کو عورتوں نے کندھا دیا ، بے شک مگر آپ کو معلوم ہے کیوں ؟ اسلئے نہیں کہ مرد نہیں تھے ، بلکہ انہیں مجبور کیا گیا تھا  ۔ ۔ ۔  ۔  ورنہ اس وقت کے اخبار میں ایم کیو ایم کے ایک ہمدرد ندیم کمانڈو کی نماز جنازہ تین پولیس والوں نے ادا کی تھی  ۔ ۔  ۔ جسکی تصویر اس وقت کے اخبارات میں موجود ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ 
– چلیں یہ سب اسٹیبلشمنٹ کی کارستانیاں تھیں ، فوج کو ایم کیو ایم سے خار تھی  ۔ ۔ ۔ مگر کوئی صرف اتنا بتا دے کہ کھجی گراؤنڈ میں کن لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا ، اور وہاں پولیس کے داخلے پر گھر گھر سے کیوں پتھراؤ ہوتا تھا ؟
– اگر آفاق اور عامر ایجنسیوں کے بندے ہیں تو آج بھی حقیقی کے علاقوں میں الطاف حسین کو کیوں برا سمجھا جاتا ہے ؟
– جو لوگ شاہ فیصل کالونی کے رہنے والے ہیں انہیں معلوم ہے ، کہ اسی چوراہے پر جہاں الطاف حسین کی تصویر پر روز تازہ پھول چڑھائے جاتے تھے وہیں اسی تصویر پر جوتوں کے ہار بھی پڑے !!!!!!!!
– آپ کیوں بھول جاتے ہیں اس زمانے میں جن جوانوں کے قتل پر الطاف بھائی خون کے آنسو روتے تھے ، انکے نام کیا تھے ؟ کیا وہ نام شریف لوگوں کے ہوتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔؟؟؟
– کیا الطاف بھائی نے مہاجر قوم کو اپنا سونا بیچ کر ہتھیار خریدنے کو کیوں کہا ؟ اور شاید میری بھلکڑ قوم طالبان کے آمد کے غوغے پر الطاف بھائی کے ہتھیار خریدنے کے بیان کو بھول چکے ہیں  ۔ ۔ ۔ تو پھر بیس سال پہلے کا بیان کہاں یاد آئے گا
اب میں ایک اور طرف آتا ہوں ، جہاں مہاجر قومی مومنٹ ، متحدہ قومی مومنٹ بنی  ۔ ۔  ۔ ۔  اور حقیقی کہاں سے آ گئی ، حق پرست کون تھے ؟ اور پھر کہاں گئے ؟ جی ہاں یہ چولے بدلے جاتے رہے ہیں  ۔ ۔ ۔  ایم کیو ایم کے یہ نام تو یاد ہیں مگر آپکو پی پی آئی یاد ہے ؟ جی ہاں پنجابی پختون اتحاد ، کیا کوئی بتائے گا یہ پی پی آئی کیوں بنی تھی ، یہاں ایک تبصرے میں ایک قوم کی بات کی گئی تھی ، میں نے اس “حملے“ کی وڈیو دیکھی تھی ، جسکا آغاز ایک سین سے ہوتا ہے جس میں اس مخصوص قوم کے گھر کو جلایا جا رہا تھا کہ کچھ بچے بھاگ کر نکلے اور انہیں پکڑ کر دوبارہ اسی آگ میں اچھال دیا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر ایک آبادی کو دیکھایا گیا جس کو “علاقہ غیر“ سے آنے والے لوگوں نے گھیرا اور پھر  ۔ ۔  ۔ ایک ایک گھر کو جلایا گیا اور وہ ہی کیا گیا جو انکے ساتھ ہوا تھا  ۔  ۔ ۔  میں ان کو الفاظ میں کیسے بیان کروں  ۔ ۔  ۔  بس انسان کو درندہ بنتے دیکھا ہے میں نے  ۔ ۔ ۔ ۔
خیر جب مہاجر قومی موومنٹ کو اپنی طاقت بنانے کے لئے جن لوگوں کا سہارا لیا تھا وہ کسی نہ کسی طرح جرائم میں ملوث تھے ، جب ایم کیو ایم نے دھونس دھاندلی سے جگہ بنا لی ، مگر ظاہر ہے آپ چاہے کتنے ہی طاقت ور ہوں ، اقتدار کے ایوانوں میں غنڈہ گردی نہیں چل سکتی ، وہاں غنڈہ گردی بڑی سطح پر کی جاتی ہے ، اس لئے مہاجر قومی موومنٹ نے “شدت پسند“ عناصر کو خود سے الگ کرنا چاہا ، تو ظاہر ہے وہ لوگ تو اس جماعت کو اوپر لے کر آئے تھے انکا اثر اتنی جلدی نہیں جا سکتا تھا  ۔ ۔ ۔  اس لئے ایک اچھے آدمی جسے دنیا عظیم طارق کے نام سے جانتی تھی ، اسنے ایم کیو ایم کو ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی شروع کی  ۔ ۔ ۔  تو انہیں وہ ہی صلہ ملے جو “غداروں“ کو ملتا ہے  ۔ ۔  ۔
اب ایم کیو ایم حق پرست جماعت بنی  ۔ ۔ ۔  اور پھر صوبائی اسمبلی سے قومی اسمبلی تک پہنچی ، ایم کیو ایم نے دو اتنخابات میں سمجھ لیا تھا کہ اسمبلیوں میں “شدت پسند“ نہیں بلکہ “چُپ شاہ“ جیسے لوگ چاہیے جو “خادم“ رہیں  ۔ ۔۔  اور پھر ملکی سطح پر قوم پرست جماعت کو وہ اہمیت نہیں مل سکتی تھی جو ایک سیاسی جماعت کو ملنی چاہیے ، اس کی مثالیں جئے سندھ تحریک اور سرائیکی تحریک اور بلوچی تحریک کے اسمبلی ممبران کی تھیں  ۔ ۔ ۔ ۔  اسلئے ملکی سطح پر چولا بدلا گیا  ۔ ۔ ۔  اور ایم کیو ایم نے یہ بھی سمجھ لیا تھا کہ عوامی بھتے سے انکا امیج متاثر ہو رہا تھا ، اور پھر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے ساتھ قربت سے بھی انہیں بہت کچھ سیکھ لیا تھا کہ “کمانے“ کے اور بہت اچھے ذریعے ہیں  ۔ ۔ ۔   جیسے ٹھیکوں میں کمیشن اور کمیشن پر ٹھیکے  ۔ ۔  ۔
سو ایم کیو ایم اب ایک سیاسی جماعت بن چکی ہے ، بالکل پی پی اور ن لیگ کی طرح ، اس میں وہ ہی سوچ ہے جو کسی بھی سیاسی جماعت کی ہو سکتی ہے ، اقتدار کا راستہ اسمبلیوں سے ہو کر جاتا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اب یہ جماعت اسی پر کاربند ہے 
اچھی بات یہ ہوئی ہے ، کہ یہ جماعت اب مڈل کلاس کی نمائیندہ بننے کی اہل ہے ، مگر اسکے لئے اسے اپنے ماضی سے تعلق توڑنا ہو گا اور قوم سے معافی مانگنا ہو گی ، اور اگر یہ لوگ اپنی غلطیوں کو نہیں مانیں گے تو پھر یہ ہمیشہ “متنازعہ“ رہیں گے  ۔ ۔  ۔ اور  کراچی کو منی پاکستان ہی رہنا ہو گا  ۔ ۔ ۔ 
باقی رہی الطاف حسین کی بات تو ظاہر ہے ہر سیاسی پارٹی شخصیت پرستی پر چلتی ہے ، ن لیگ کو نواز شریف چاہیے ، پی پی کو زرداری ، تو شخصیت پرستی ہر جماعت میں ہے ، تو پھر اس جماعت پر اعتراض کی وجہ کوئی نہیں ہونی چاہیے ، مگر پاکستانی جماعت کا لیڈر پاکستان میں ہی ہونا چاہیے ، کم سے کم کبھی کبھی پاکستان کا دورہ ہی کر لیا کرے صدر زرداری کی طرح  ۔ ۔ ۔ ۔
 
Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by Rashid on ستمبر 4, 2009 at 5:41 شام

    صرف ایم کیو ایم ہی نہیں بلکہ بحیثیت پاکستانی قوم آگے بڑھنا ہے تو ایک قومی مفاہمفت کی ضرورت ہے‌ جیسا کے میں‌نے پہلے بھی عرض کی کہ ایم کیو ایم کو کوئی استثنا نہیں کہ ہر سیاسی جماعت کا کم و بیش یہی ماضی ہے پھر بلوچستان اور مشرقی پاکستان میں ڈھائے گئے مظالم کا حساب بھی تو دینا ہے نہ کسی نے وہ تو ایم کیو ایم نے نہیں‌کیے نا؟۔ یا تو ماضی کو دفن کرکے مستقبل پر توجہ مرکوز کی جائے کہ حمام میں برہنہ سبھی تھے اور ہیں۔۔ یا پھر لوگ خود ایک دوسرے سے ساؤتھ افریقہ کی طرز پر معافی مانگیں‌اور اپنے جرم کا اعتراف کریں جو منہ سے جھاگ اڑاتے اور لفظوں سے انگارے برساتے ماحول میں فی الحال ممکن نہیں لگتا۔۔ ابھی فی الحال ایک اور دس بارہ برس ہم نے ماضی کو ہی پیٹنا ہے اتنے میں دیکھیں زمانہ کہاں بڑھ جاتا ہے اور ہم کہاں‌رہ جاتے ہیں

    جواب دیں

  2. بہت معلوماتی تحریر ہے کچھ حقیقتیں عیاں ہوئی ہیںہمارے بلاگر حضرات اس نازک موضوع کو بھی چھیڑ رہے ہیں اس کے لیے مبارک باد قبول فرمائیںhttp://urdunama.org/shazel

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: