بے نقاب سازش – عمران سیریز ایکسٹرا – آخری حصہ

ملک بھر میں امریکہ سفارت خانے کی توسیع کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے ،  انور کو مزید تفصیلات عمران دے رہا تھا جو کہ مغربی اور عرب سفارت خانوں سے حاصل کی جا رہی تھیں اور انور کا چینل انہیں بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کر رہا تھا ، امریکی حکومت نے اسکو سنبھالنے کے لئے نئے سفارت خانے میں بریفنگ کا انتظام کیا تھا ، صدر ، وزیر اعظم اور آرمی چیف کے ساتھ ساتھ نئے سیکرٹ سروس کے چیف مسٹر آر کو بھی مدعو کیا گیا تھا ، اسکے علاوہ تمام ممالک کے سفیر بھی موجود تھے ، ایک فوجی افسر نے سلائیڈز کی مدد سے نئے سفارت خانے کی توسیع کا ماڈل پیش کیا ، اور صدر اور وزیر اعظم اور چیفس کو وہ جگہ دکھائی گئی جسکے بارے میں انور کی رپورٹنگ تھی اور کہا گیا کہ یہ سرنگیں نہیں بلکے تہ خانے بنائے جا رہے ہیں ، جہاں پر ، بھاری اسلحہ رکھا جائے گا ، مگر جب آرمی چیف نے کہا کہ یہ تو بہت خطرناک ہو گا تو کہا گیا کہ اسکے لئے خصوصی انتظامات کئے جا رہے ہیں ، مگر مسٹر آر نے کہا کہ یہ مشینری اور وہ مشینری جو انور کی فوٹیج میں ہے بہت مختلف ہے ، اور یہ مشینری تہ خانے بنانے کے لئے استعمال نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ علاقہ کچے پتھروں کا ہے  ۔ ۔  ۔
ہمیں یقین تھا کہ آپ میں سے کوئی بھی اس بات کو سمجھ جائے گا  ۔ ۔ ۔  اس لئے ہم نے پلان بی تیار کیا ہے ، امریکی سفیر نے زہر خند لہجے میں کہا
پلان بی  ۔ ۔ ۔  صدر کے منہ سے نکلا
چینی سفیر کی بات پر آپ کو یقین ہو گا نا کیونکہ وہ آپکا قریبی دوست ہے اور آپکو اسپر اعتماد بھی ہے ہم نے ایسا ہی سفارت خانہ بیجنگ میں بنایا ہے  ۔ ۔
اتنے میں چینی سفیر وہاں پر آ گئے ، انکے ساتھ ایک بالکل دبلا پتلا مگر لمبا چینی تھا  ۔ ۔  ۔
آپ کیا کہتے ہیں سفیر صاحب
مسٹر پریزیڈنٹ ، مجھے آپ سے اکیلے میں بات کرنی ہے ، چینی سفیر نے بے باک انداز میں کہا
ہز ایکسلینسی ، یہ ہماری زمین ہے آپ کو ہمارے سامنے بات کرنی ہو گی  ۔ ۔
اوکے پھر میں جاتا ہوں  ۔ ۔  ۔ چینی سفیر مڑے ہی تھے کہ انکے سامنے انکا ہی آدمی انہیں روک کہ کھڑا ہوا گیا
انہوں نے چینی میں اسے کچھ کہا  ، تو اس نے بھی چینی میں کچھ کہا  ۔ ۔ ۔
مسٹر چانگ ، یہ ہمارا ہی آدمی ہے  ۔ ۔ ۔  سنگ ہی  ۔ ۔ ۔ ۔  امریکی سفیر نے کہا
ادھر ٹائگر اور چیف سچوائشن سمجھ چکے تھے ٹائگر ایکشن کے لئے ریڈی تھا مگر مسلہ صدر اور وزیر اعظم کا تھا ، اتنے میں چھے امریکی فوجی گنوں کو تانے ہوئے نمودار ہوئے
یہ کیا ہے  ۔ ۔ ۔  وزیر اعظم کی آوز حیرت سے بیٹھ گئی تھی
دوستو  ۔ ۔  ۔  اس جانب  ۔ ۔ ۔
یہ کیا بدتمیزی ہے  ۔ ۔  ۔  صدر صاحب نے شاید پہلی بار گڑ بڑ محسوس کی
آپ نے ایک معاہدے پر دستخط کرنے ہیں مسٹر پریزیڈنٹ
کونسا معاہدہ  ۔ ۔ ۔
وہ گنوں کی چھاؤں میں ایک کانفرنس روم میں پہنچ چکے تھے ، امریکی سفیر نے کہا تشریف رکھیے  ۔ ۔  ۔
اور سامنے رکھے انٹر کام پر کہا ، ڈاکومنٹ لے آؤ  ۔ ۔
ایک دروازہ کھلا اور ٹائگر اور چیف کو اپنی حیرت اور خوشی چھپانے کے لئے بہت ہی کنٹرول کرنا پڑا
دروزاے سے اندر ایک مرد اور دو عورتیں آئیں تھیں ، اور مرد کوئی اور نہیں عمران تھا ، انکے ہاتھ میں فائیلیں تھیں جنہیں صدر ، امریکی سفیر اور چینی سفیر کے سامنے رکھ دیا گیا
صدر نے فائل کھولی اس میں ایک ہی صفحہ تھا  ۔ ۔ ۔ صدر اسے پڑھتے گئے اور انکا چہرہ غصے سے لال ہوتا چلا گیا  ۔ ۔ ۔ انہوں نے فائل وزیر اعظم کی طرف بڑھائی  ۔ ۔ ۔  ادھر چینی سفیر کا بھی وہی رد عمل تھا جو صدر کا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔
یہ کیا بکواس ہے  ۔ ۔ ۔ ہم اپنے ایٹمی پروگرام اور چینی دوست کے ساتھ تعاون کو کبھی ختم نہیں کر سکتے  ۔ ۔ ۔ وزیر اعظم کی آوز جیسے گرج تھی
تم بھول رہے ہو مسٹر کہ چین اب ایک سپر پاور ہے  ۔ ۔ ۔  چینی سفیر نے بھی تیز آواز میں کہا
ٹائگر اور چیف اب سارا کھیل سمجھ چکے تھے اور عمران سنگ ہی کے پاس پہنچ چکا تھا  ۔ ۔ ۔  جو اسے دیکھ کر دانت پیس رہا تھا
تمہیں یہ سائن کرنے پڑیں گے  ۔ ۔ ۔ امریکی سفیر نے چلا کہ کہا
اور ساتھ ہی فون کے لاؤڈر سے امریکی صدر کی آواز آئی
گڈ آفٹرنون دوستو  ۔ ۔ ۔
مسٹر پریزیڈنٹ یہ سب کیا ہے  ۔ ۔ ۔ صدر صاحب نے نرم لہجے میں پوچھا
یہ ضروری ہے ، اگر آپ اسے نہیں کریں گے تو  ۔ ۔ ۔ آپکی امداد ختم کر دی جائے گی اور آپکو قرض دینے والی کمپیوں کے انڈر کر دیا جائے گا ، اور پھر آپ یہ جو تھوڑی سی پالیسی بنا سکتے ہیں وہ بھی نہیں کر پائیں گے ، یہ مت بھولو کہ تمہارا ملک ہمارے پاس گروی رکھا ہے  ۔ ۔ ۔
ہم مر جائیں گے مگر اس پر سائین نہیں کریں گے  ۔ ۔  ۔ صدر صاحب نے اس دفعہ بہت ہی سخت ہلجے میں کہا
اتنے میں چین کے سفیر نے جیب سے ایک چھوٹا سا فون نکال لیا تھا اور وہ اپنے پریزیڈنٹ کو چینی میں سچوئشن بتا رہے تھے
تو پھر اپنے ملک کی بربادی کے لئے تیار ہو جائیں  ۔ ۔ ۔ ۔
مسٹر پریزیڈنٹ  ۔ ۔ ۔ چین کے سفیر نے تیز لہجے میں کہا ، اگر آپ نے انہیں مجبور کیا ، تو چائنا اپنا سارا سرمایہ امریکی مارکیٹ سے نکال لے گا ، اور آپ جانتے ہیں کہ اسکا کیا مطلب ہے  ۔ ۔  ۔
ہز ایکسیلنسی آپ کو ہم مغربی بندر گاہ پوری دے دیں گے  ۔۔ ۔ امریکی صدر نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا
وہ پہلے ہی ہمارے پاس ہے ، ہم اپنے دوستوں کو تنہا نہیں چھوڑتے  ۔ ۔ ۔
ٹھیک ہے اگر آپ سائن نہیں کریں گے ، تو پھر آپ کے جسموں میں ایسا انجیکشن لگایا جائے گا کہ آپ کل ہی ختم ہو جاؤ گے  ۔  ۔۔
ہم مرنے کے لئے تیار ہیں  ۔ ۔  ۔ ۔ مگر ملک سے غداری نہیں کریں گے  ۔ ۔ ۔
میں اپنے ملک کو تمہاری کرتوت بتا رہا ہوں چینی سفیر نے موبائل اپنے کان سے لگایا ہی تھا کہ سنگ ہی نے اسے جھپٹ لیا ، عمران نے سنگ ہی کو پکڑ لیا تھا مگر وہ بام مچھلی تھا پھسل گیا  ۔ ۔  ۔ 
امریکی سفیر نے فوجیوں کو اشارہ کیا ، وہ سب اپنی گنیں اٹھا کہ صدر اور وزیر اعظم پر تان دیں مگر انہیں فوجیوں میں سے دو ان فوجیوں کی کنپٹیوں پر گنیں لگا دیں  ۔ ۔ ۔  روشی اور جولیا نے امریکی سفیر کو کور کر لیا تھا عمران سنگ ہی کے پیچھے کھڑا تھا  ۔ ۔ ۔ ٹائگر اور چیف نے اپنی خفیہ جیبوں کے ہتھیار نکال لئے تھے اور انہوں نے بقیہ چار فوجیوں سے گنیں چھین لیں تھیں  ۔ ۔  جو اب جولیا اور روشی کے ہاتھ میں تھیں  ۔ ۔  ۔
امریکی سفیر اس سیکنڈوں کی کاروائی میں سُن ہو چکا تھا ،  عمران نے سنگ ہی کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
مسٹر امریکن پریزیڈنٹ ، آپ کا سفیر اور سارا سفارت خانہ ہماری سیکرٹ سروس کے قبضے میں ہے ، آپکو اب ہماری بات ماننا ہو گی
رابرٹ یہ کیا کہ رہا ہے  ۔ ۔ ۔
سر یہ ٹھیک کہ رہا ہے یہاں سچویشن بدل چکی ہے  ۔ ۔ ۔ ہم سب انکے قبضے میں ہیں ، ہمارے فوجی بھی انہیں کے آدمی نکلے ہیں
اوہ  ۔ ۔ ۔  ٹھیک معاہدے پر دستخط نہ کرو  ۔  ۔ ۔  رابرٹ انہیں جانے دو  ۔ ۔  مسٹر پریزیڈنٹ میں تکلیف کی معافی چاہتا ہوں
نہیں مسٹر پریزیڈنٹ ، تمہیں اب میری قوم سے معافی مانگنا ہو گی  ۔ ۔ ۔ عمران نے چیختے ہوئے کہا
واٹ ، تم کون ہو ، تمہں پتہ ہے کہ میں سپر پاور کا صدر ہوں  ۔ ۔ ۔ امریکی صدر کی آواز میں غرور تھا
تمہیں معافی مانگنا ہو گی سپر پاور  ۔ ۔  ۔ ورنہ اس سفارت خانے کے تہ خانوں میں موجود ان تمام لوگوں کو قتل کر دیا جائے گا جو تمہاری فوج کے بڑے دماغ ہیں
اوہ  ۔ ۔ ۔ رابرٹ انہیں کیسے پتہ کہ  ۔ ۔  ۔ ۔ اوہ  ۔ ۔  نو
سر یہ لوگ جانے کب سے ہمارے سفارت خانے کے اندر ہیں  ۔ ۔ ۔
اوہ یہ بہت بڑا سیکیورٹی بریج ہے  ۔ ۔ ۔  مسٹر میں اپنے مشیروں سے بات کرتا ہوں
نہیں کوئی ٹائم نہیں  ۔ ۔ ۔  آپ کے پاس دس منٹ ہیں وہ بھی کسی چینل کو بلانے کے
میں اپنے چینل کو بلا رہا ہوں ، عمران نے جیب سے اپنا موبائل نکال لیا  ۔ ۔  انور آ جاؤ   ۔ ۔
اور انور جیسے پاس ہی کھڑا تھا اپنے کیمرا مین کے ساتھ وارد ہو گیا  ۔ ۔ ۔ کیمرا مین نے اسے کیو دیا  ۔ ۔
ناظرین ہم اس وقت امریکی سفارت خانے میں موجود ہیں جہاں کچھ دیر پہلے ملک کے صدر اور وزیر اعظم کو یرغمال بنا کر زبردستی ایک معاہدے پر دستخط کے لئے مجبور کیا گیا اور اسکے ساتھ ہمارے دوست ملک چین کو بھی  ۔ ۔  ۔ انور ابھی اتنا ہی کہ پایا تھا کہ سنگ ہی اس پر پل پڑا ، عمران نے اسے اسکے بالوں سے پکڑلیا تھا ، انور سنبھل چکا تھا اسنے مائک ہاتھ میں لیکر پھر شروع ہو گیا ، یہ ناظرین ایک بین الاقوامی مجرم ہے  ۔ ۔  ۔  سنگ ہی  ۔ ۔ 
سنگ ہی کے منہ سے گالیوں کا طوفان آیا ہوا تھا وہ انگریزی چینی اردو میں اکھٹی گالیاں دے رہا تھا عمران اسے رگید رہا تھا ، کہ اچانک ایک فوجی نے اسکے سر پر اپنی مشین گن کا دستہ دے مارا ، یہ فوجی کوئی اور نہیں جوزف تھا ، ارے ارے چچا ہے میرا  ۔ ۔ ۔  ۔ کالیے  ۔ ۔ ۔
باس ایسے ہی ٹائم ضائع کر رہا تھا  ۔ ۔  ۔ ۔ اے مسٹر ٹم بولو ۔ ۔  کیا بولٹا ٹم  ۔ ۔  وہ انور کی طرف مڑا جو دم بخود کھڑا تھا  ۔  ۔
رابرٹ یہ لائیو کیسے جا رہا ہے ، شاید پریزیڈنٹ کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا وہ کیا کہے  ۔  ۔ ۔
سر سارا حفاظتی سسٹم ڈاؤن ہے  ۔ ۔ ۔  اس تقریب کی وجہ سے  ۔ ۔  ۔
اوہ  ۔  ۔ ۔  تو مسٹر پریزیڈنٹ تم معافی مانگو گے کہ نہیں  ۔ ۔ ۔
اوکے اوکے  ۔ ۔  ۔
میں امریکی پریزیڈنٹ ، اپنی طرف سے اور اپنی قوم کی طرف سے آپکی قوم سے اور اسکے لیڈروں سے انکے ساتھ ناروا سلوک پر معافی مانگتا ہوں ، اور ساتھ ہی چینی دوستوں سے بھی اپنے سفارت خانے کے عملے کے غلط رویے کی معافی مانگتا ہوں ، امید ہے اس واقعے سے ہمارے تعلقات متاثر نہیں ہونگے ،اور نہ ہی ہمارے کو آپریشن میں فرق آئے گا  ۔  ۔
زندہ باد  ۔ ۔  ۔ زندہ باد زندہ باد  ۔ ۔ ۔ ٹائیگر اور چیف نے نعرہ لگایا
ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ  ۔ ۔ ۔ عمران کے فون کی فائیرنگ رنگ پھر بج اٹھی سب چونک گئے ، عمران نے چور نظروں سے سب کو دیکھا اور فون کو کان سے لگا لیا  ۔ ۔ ۔  دوسری جانب سر رحمان تھے  ۔ ۔ ۔  ڈڈ ڈیڈی  ۔ ۔ ۔ سلام علیکم  ۔  ۔ ۔  مجھے تم پر فخر ہے بیٹے  ۔ ۔  ۔   جج جج شکریہ  ۔ ۔  مجھے بھی آپ پر وہ ہی ہے   ۔ ۔ ۔  تمہاری ماں تمہیں گھر بلا رہی ہیں فارغ ہو کر فورا آؤ ۔ ۔ ۔
جج جی  ۔ ۔ ۔ میں آتا ہوں  ۔  ۔ ۔  صدر نے  ۔ ۔ ۔ اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھا  ۔ ۔ ۔  ہم سب کو تم پر فخر ہے  ۔ ۔ ۔   ویل ڈن بوائے  ۔ ۔ ۔ ویل ڈن  ۔ ۔ 
وزیر اعظم نے بھی اسکے گالوں پر تھپکی دی  ۔ ۔ ۔ اور کہا شکریہ  ۔۔ ۔ میں آپ کا نام تو نہیں جانتا مگر مجھے بھی قوم کے اس سپاہی پر فخر ہے  ۔ ۔  شکریہ  ۔ ۔
جج جی  میں تو بس ایسا ہی ہوں سلمان کی مونگ کی دال کھانے والا   ۔ ۔ ۔
مونگ کی دال   ۔ ۔ ۔ سب ہنس پڑے  ۔  ۔۔ اور ہال کی جانب چل پڑے
صدر اور وزیر اعظم واپس اسی جگہ پر آئے جہاں پر سب مہمان تھے اور بڑی اسکرین پر یہ سب کچھ دیکھ چکے تھے ، فضا ایک بار پھر نعروں سے گونج اٹھی تھی  ۔ ۔ ۔  امریکی سفیر کا سر جھکا ہوا تھا  ۔ ۔  ۔
صدر صاحب نے وزیر اعظم کی طرف دیکھا اور ڈائس پر جا کھڑے ہوئے  ۔  ۔  دوستو آج جو کچھ ہوا ، اس میں جس کا بھی قصور تھا ، وہ سب کو معلوم ہو چکا ہے ، ہم سمجھتے ہیں اتقام سے معاف کر دینا زیادہ اچھا ہے  ۔ ۔ ۔ ہم اس کیس کے سب لوگوں کو معاف کرتے ہیں  ۔ ۔  ۔ ایک بار پھر تالیاں گونجی اور صدر صاحب اور وزیر اعظم  باہر کی جانب بڑھ گئے جہاں انکی کار موجود تھی  ۔۔ امریکی سفیر نے انہیں رخصت کرنے کے لئے ہاتھ ملانا چاہا ، مگر وزیر اعظم نے چینی سفیر کو بلایا اور ساتھ میں گاڑی میں بٹھا دیا  ۔ ۔  ۔اور امریکی سفیر سے ہاتھ ملائے بنا ہی رخصت ہو گئے ا، یہ سارا سین وہاں موجود میڈیا نے اپنے کیمروں کے توسط سے گھر گھر میں پہنچا دیا تھا  ۔ ۔  ۔۔
————————————————————————————
عمران دانش منزل میں بلیک زیرو کے ساتھ تھا ، رانا پیلس کو کچھ دنوں کے لئے لاک کر دیا گیا تھا ، مسٹر آر رانا پیلس میں ہی تھا ، صدر صاحب نے خصوصی طور پر اسے پارلیمنٹ کے سامنے سب کچھ بتانے کا کہا تھا ، اب عمران بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کیا کیا جائے کس کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے  ۔  ۔ ۔ ظاہر ہے سیکرٹ سروس کے لوگ سامنے نہیں آ سکتے تھے کسی بھی صورت اور ٹائگر پہلے ہی سیکرٹ سروس کا چیف بن چکا تھا
سازش کے سیاست دانوں میں کچھ کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور کچھ پر مقدمات قائم ہو چکے تھے ، کچھ نے خود ہی پبلک کے سامنے اقرار کر لیا تھا ، امریکی سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر نکالا جا چکا تھا ، عوام میں اس سیکرٹ سروس کے لوگوں سے ملنے کا شوق بڑھ رہا تھا ، مگر ظاہر ہے وہ نامعلوم ہیرو ہی رہنا چاہتے تھے ، صدر اور وزیر اعظم نے سر سلطان سے کہ کر خصوصی طور پر پارلیمنٹ میں ایکسٹو کے نمائیدے کو خطاب کی دعوت دی تھی  ۔ ۔ ۔ ۔
آپ خود کیوں نہیں جاتے ، آپ کا سیکرٹ سروس سے تعلق نہیں ہے
نہیں کالے صفر ،  مجھے لوگ پہلے ہی لائیو ایکشن میں دیکھ چکے ہیں  ۔ ۔ ۔  ارے ہاں  ۔  ۔۔  اسنے فون اٹھایا اور نمبر ڈائیل کر کہ بولا
تم نے کل پارلیمنٹ سے خطاب کرنا ہے  ۔  ۔ ۔۔
بس کہ دیا نا  ۔  ۔ ۔ ۔ ۔
——————————————————————————
پارلیمنٹ ہاؤس آج فل تھا ، گیلیریز بھی بھر چکی تھیں ، آج سیکرٹ سروس کے نمائندے نے تمام حالات سے آگاہ کرنا تھا ، پچھلے دو دن سے ساری دنیا کے میڈیا میں چرچا تھا کہ کس طرح امریکی سازش اسی پر الٹ گئی تھی اور ساری دنیا کے سامنے امریکی قوم کو شرمندہ ہونا پڑا تھا ، جگہ جگہ امریکہ کے بارے میں تبصرے ہو رہے تھے اور چھوٹے ملکوں کے بارے میں اسکی سازشوں سے دنیا کو آگاہ کیا جا رہا تھا  ۔ ۔  ۔
سلیمان نے مکمل قومی لباس پہنا تھا ، تلاوت اور نعت کے بعد کاروائی شروع ہوئی ، سیکرٹ سروس کو خراج تحسین پیش کیا گیا ، اسپیکر نے کہا کہ سیکرٹ سروس کا نمائیندہ اس بارے میں تفصیل بتائے گا  ۔ ۔  ۔ اور یہ بھی بتایا گیا کہ سوال و جواب نہیں کیا جائے گا  ۔ ۔ ۔
سلمان نے  ۔ ۔ ۔ ڈائس پر کھڑے ہو کر ہال پر نظر ڈالی  ۔۔ ۔ ۔
مجھے سیکرٹ سروس نے آپ کو سب بتانے کے لئے سیلکٹ کیا ہے ، تفصیلات یہ ہے کہ  ۔ ۔ ۔  اسکے بعد سلمان نے سامنے رکھے ہوئے صفحے پڑھنے شروع کئیے ، وہ درمیان میں دو بار پانی بھی پی چکا تھا  ۔ ۔  سب لوگ حیرت سے سن رہے تھے اور جب اسنے بتایا کہ کس طرح صدر اور وزیر اعظم کو یرغمال بنایا گیا تھا ، ہال سے شیم شیم کی آوازیں آئیں  ۔ ۔ ۔ اور پھر اسنے آخری حصے پر کہا باقی تو آپ کو پتہ ہے جو لائیو دکھایا گیا  ۔ ۔۔ ۔
ہال تالیوں سے اور نعروں سے گونج رہا تھا ، سلمان نے اپنا پسینہ صاف کیا  ۔ ۔  ۔ ایک بات  ۔ ۔ ۔ ایک بات میں اپنی طرف سے کہنا چاہتا ہوں  ۔ ۔ ۔ ۔ میں اس ملک کا عام سا شہری ہوں ، ایک چھوٹے سے فلیٹ میں اپنے مالک کے ساتھ رہتا ہوں ، میں ایک باورچی ہوں  ۔ ۔ ۔   میری سلطنت باورچی خانہ ہے ، میں اس کے لئے بجٹ بناتا ہوں ، مجھے پتہ ہے کہ میرے صاحب کو بھوک لگتی ہے ، انہیں کھانا کیا دینا ہے ، میں اپنے باورچی خانے میں سب ضروری چیزیں رکھتا ہوں ۔۔  ۔ پہلے میں صاحب کو کھلاتا ہوں پھر خود کھاتا ہوں   ۔ ۔ ۔ کیا آپ لوگ اس ملک کو ایک باورچی کی طرح نہیں چلا سکتے  ۔ ۔ ۔  بھوک ہم سب کو لگتی ہے  ۔۔  ۔ مگر ہر کوئی باورچی نہیں ہوتا  ۔ ۔ ۔ آپ اپنے ملک کے باورچی ہو  ۔ ۔ ۔  ملک کو کھلانا آپ کی پہلی ذمہ داری ہے ، پہلے بھوکوں کو کھلائیے پھر خود کھائیے  ۔۔ ۔ ۔ نہ آپ بھوکے رہیں گے نہ عوام  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شکریہ  ۔  ۔ ۔ ۔
ایک بار پھر ہال تالیوں سے گونج اٹھا ، سلمان نے صدر اور وزیر اعظم اور اسپیکر اور اپوازیشن لیڈر سے ہاتھ ملایا اور انکے کان میں کچھ کہا اور پروقار انداز میں قدم اٹھاتا ہال سے باہر نکل گیا  ۔۔ ۔
اپوازیشن لیڈر نے مائک کو آن کیا اور کہنا شروع کیا ، جیسا کہ ہمیں پتہ ہے کہ ہماری سیکرٹ سروس کے پرانے چیف نے یہ سازش بے نقاب کی تھی ، مگر ہمارے حکمرانوں نے اسے ٹکنے نہیں دیا اور مستفعی ہونے پر مجبور کیا  ۔ ۔۔  اور ایسے ہی سر سلطان اور سررحمان جیسے لوگوں کو جنہوں نے اس ملک کے لئے بہت کچھ کیا ، میں انکی واپسی کا مطالبہ کرتا ہوں  ۔ ۔ ۔
صدر صاحب کھڑے ہوئے ، میں آپ کو یہ خوشخبری دیتا ہوں کہ مسٹر ایکسٹو اپنے عہدے پر ہی موجود ہیں ، یہ ٹمپریری سیٹ اپ تھا جو انتظامی مجبوریوں کی وجہ سے بنایا گیا تھا ، سر سلطان اور سر رحمان  ۔۔ ۔ اپنے عھدوں پر ہی قائم ہیں  ۔ ۔ ۔ سر رحمان کا استعفٰی منظور نہیں کیا گیا ہے ۔ ۔ 
ہال ایک بار پھر تالیوں سے گونج اٹھا  ۔ ۔ ۔
————————————————————————————————-
 
ایک بار پھر دانش منزل کے کانفرنس روم میں سب جمع تھے ، ماسوائے روشی کے ، جسے عمران نے کچھ دنوں کے لئے انڈر گراؤنڈ کروا دیا تھا ، عمران اور ٹائیگر بھی موجود تھے
عمران منہ ہلا رہا تھا ، مگر اسکے منہ میں چیونگم نہیں تھی  ۔ ۔ ۔ وہ خیالی ببل بنا کہ پھوڑ رہا تھا جولیا منہ بنا رہی تھی
اسپیکر سے سیٹی کی آواز آئی  ۔ ۔ ۔ سب ایکٹیو ہو گئے ، سوائے عمران کے اسکے چہرے پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا  ۔ ۔
آپ سب کو حالات کا علم ہے ، مجھے یقین ہے کہ اس کیس سے آپ کو نیا جذبہ ملا ہو گا ، میں خصوصی طور پر رضوان یعنی ٹائیگر کا شکر گذار ہوں کہ اسنے ان مشکل حالات میں بہت اچھے طریقے سے اپنے کردار کو نبھایا  ۔ ۔  ۔
تو کیا ٹائیگر اب ٹیم کا حصہ ہے  ۔ ۔ ۔
نہیں وہ اسی جگہ پر رہے گا جہاں اسکی ضرورت ہے  ۔ ۔ ۔
اوکے  ۔  ۔ ۔ اینڈ آل  ۔ ۔ ۔  ۔ ۔
چلو بھائی اب مجھے کھانا کون کھلا رہا ہےا  ۔ ۔  ۔
تمہارا باورچی ، کہاں گیا  ۔  ۔ ۔
ارے نہ پوچھو وہ اب لیڈر بن گیا ہے ، سارا دن لوگ اس سے ملنے آتے ہیں  ۔ ۔ ۔  انہیں وہ نت نئے کھانے کھلاتا ہے اور جب میں جاتا ہوں تو میرے سامنے وہ ہی مونگ کی دال رکھ دیتا ہے  ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ عمران نے منہ بنا کہ کہا  ۔  ۔ ۔ ۔
اور سب ہنس پڑے  ۔ ۔ ۔  ۔۔ تو پھر اب آپ کیا کریں گے  ۔ ۔ ۔  صفدر نے ہنستے ہوئے پوچھا  ۔ ۔  ۔۔
وہ ہی جو پہلے کر رہا تھا  ۔۔  ۔ ۔ ۔ اب میں ایک فلم بناؤں گا  ۔ ۔  ۔  پجابی فلم  ۔ ۔ ۔
باورچی گُجر  ۔ ۔ ۔  ۔
نہیں باورچی گُجر نہیں ، گُجر دا باورچی  ۔ ۔ ۔  یا باورچی دا گُجر  ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ نئیں گُجر باورچی  ۔ ۔ ۔ نئیں  ۔ ۔ ۔ عمران نے اپنے چہرے پر الجھن پیدا کر لی تھی  ۔ ۔ ۔
سب کے چہروں پر مسکرہٹیں تیرنے لگیں  ۔ ۔ ۔ ۔
Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by Obaid Ullah on ستمبر 2, 2009 at 1:32 صبح

    Assalamu AlaikumAzher bhai buhut khoub. MashaAllah aap nay Ibne Safir or Mazher Kaleem sahib kay baad Imran Series ka kaam koob sanbhala hay. Bhai aap nay buhut likha hay bulkay buhut hi acha. Aap ishi per kaam karna shrou kar dayn apnay farigh ouqaat mayn. Wassalam

    جواب دیں

  2. Posted by shakil on ستمبر 4, 2009 at 4:19 شام

    Azhar, It’s all to my surprise. You are doing good, continue and try to do in english and you may to get your place in english speaking countries immigrant circle. There is a big possibility to make money with the talent have but not in Pakistan. Sorry to say, we Pakistanis love peek to read and not buy and read. Allah Hafiz with best wishes and love.

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: