سفید کمرے کی کالی دیوار – دوسری قسط

ہے بھگوان ، میرے ساتھ ایسا کیا ہوا ہے ، کل پاپا بھی کہ رہے تھے کہ تم اب شلوار قمیض نہ پہنا کرو ، بلکہ پینٹ شرٹ میں رہا کرو ، لگتا ہے کسی نے مجھے مسلمان سمجھ کر اغواء کیا تھا ، مگر ایسا کیوں ، وہ جتنا سوچ رہا تھا اتنا ہی الجھ رہا تھا ۔۔۔
اگلے دن وہ جب یونیورسٹی پہنچا تو ، سب دوستوں نے گھیر لیا ، کیا ہوا کہاں تھے ، ہزار سوال مگر جواب کا تو اسے خود نہیں معلوم تھا ، مگر اسے بار بار اسے اس سفید کمرے کی کالی دیوار یاد آ رہی تھی ، اس نے اپنے سب سے قریبی دوست ، اقبال سے اسکا ذکر کیا ، اقبال اسکا واحد ایسا دوست تھا جو اس کی دلچسپیوں میں حصہ لیا کرتا تھا ۔
تم کیا سمجھتے ہو تمہارے ساتھ انہوں نے کیا کیا اور پھر تمہیں چھوڑ دیا
یار یہ ہی تو میں نہیں سمجھ پا رہا ، لال خان نے الجھے لہجے میں کہا
تم نے اپنے اندر کیا چینج فیل کیا ہے ؟ اقبال نے پوچھا
یار سوائے گنجا ہونے کے اور کوئی تبدیلی نہیں تھی مجھ میں
کیا سر کے کسی خاص حصے میں درد محسوس ہوتا ہے ؟
نہیں یار ۔ ۔ ۔ ۔  لال خان مزید الجھ چکا تھا
اچھا یہ بتاؤ کہ تہماری روز مرہ کی زندگی میں کیا فرق آیا ہے
کچھ نہیں ، سوائے اسکے کہ اب میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھے کچھ کرنا چاہیے ، ہاں کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے کوئی میرے اندر بول رہا ہو ۔ ۔ ۔۔ مگر شاید یہ وہم ہی ہو
ہم ۔ ۔ ۔ اقبال نے بھی گہری سانس لی
وہ دونوں ایک ہوٹل میں داخل ہوئے ، اور چائے کا آرڈر دیا  ۔ ۔ ۔
اچھا ایک کام کرتے ہیں  ۔ ۔ اقبال نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
کیا  ۔ ۔۔
تمہیں یاد ہے ہم لوگوں نے ڈائناٹیکس کے بارے میں کچھ کلاسز لیں تھیں
ارے ہاں ، وہ اپنے وکٹر پنگا  ۔ ۔   نے  ۔ ۔
پنگا نہیں بھائی ، پے نی گا  ۔ ۔۔ 
ارے وہی پنگا ہی ہوا نا  ۔ ۔ تو کیا تم چاہتے ہو کہ وہ میرا سیشن کرے
ہاں ، آزمانے میں کیا حرج ہے  ۔ ۔ ۔
چلو ابھی چلتے ہیں ، لال نے اٹھتے ہوئے کہا
ہاں ٹھیک ہے  ۔ ۔ ۔ دونوں نے چائے ختم کی اور وکٹر پےنگا کی طرف اپنی موٹر سائکلوں پر نکل پڑے
———————————-
وکٹر پے نگا ، لال کی یونیورسٹی میں کلرک تھا ، مگر اسکی سب کے ساتھ بنتی تھی ، ہنس مکھ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ سب کا ساتھ بھی دیتا تھا اسلئے اسٹوڈنس اور استاد سب کا دوست تھا ، اسے ماروئی علوم سیکھنے کا خبط تھا ، مگر سائنس کی بکس بھی پڑھتا تھا اسلئے الجھا ہوا رہتا تھا ،  اسکی فیملی کسی دوسرے شہر میں رہتی تھی ، اسلئے ایک کمرے کے گھر میں اکیلا ہی رہتا تھا ، جس میں اسکی کتابیں بکھری رہتی تھیں  ۔ ۔ ۔ اقبال نے اسکے گھر کے دروازے پر لگی بیل پر ہاتھ رکھ دیا  ۔  ۔۔
دروازہ ایسے کھلا جیسے وکٹر انہیں کے انتظار میں تھا  ۔۔ ۔
ارے لال بابو ، وہ اسے اسی نام سے بلاتا تھا جس سے لال کو چڑ تھی ، اور اسنے بھی جواب دیا
جی پنگا بھائی  ۔ ۔ ۔  ہم ہیں
پھر پنگا اے کتنی دفعہ کہا ہے کہ پے نی گا ،
اور میں نے کتنی بار کہا ہے کہ لال خان  ۔ ۔ ۔
ارے ارے تم تو ادھر ہی شروع ہو گئے ، اقبال نے درمیان میں ٹوکا ، وکٹر بھائی اندر نہیں آنے دو گے کیا  ۔ ۔
ارے ارے کیوں نہیں ، تو دروازہ پورا کھولو ، ورنہ یہ پھٹپھٹیاں کوئی اٹھا لے جائے گا  ۔ ۔
او کے اوکے   ۔ ۔ ۔
وہ موٹر سائکلیں صحن میں کھڑی کر کے اندر آ گئے ،
کیا پیو گے  ۔ ۔
صرف سادہ پانی  ۔۔  دونوں ایک ساتھ بولے
اور پھر ہنس پڑے
وکٹر نے فریج سے پانی کی بوتل نکالی اور گلاس میں پانی ڈال کہ لال خان کو دیا اور دوسرے گلاس میں پانی انڈیلتے ہوئے پوچھا  ۔ ۔ لال بابو کیا ہوا تمہارے ساتھ ، کچھ سراغ ملا ؟
سراغ کے لئے تہمارے پاس آئے ہیں ، لال کی جگہ اقبال بولا
میرے پاس وہ اسے گلاس پکڑاتے ہوئے حیرت سے بولا
تم نے ایک دفعہ کہا تھا نا کہ تم ڈائنایٹیکس کی مدد سے پتہ کر سکتے ہو کہ ہم چاہے بے ہوش ہوں تو ہمارے اردگرد کیا ہوا؟
ہاں ، آڈیٹنگ سے پتہ چل سکتا ہے ، مگر میں ایکسپرٹ نہیں ہو اس علم کا ، مجے بتاؤ کیا ہوا
یار لال کو اغواء والی جگہ پر ایک بار ہوش آیا تھا ، اور اسے صرف ایک کمرہ یاد ہے جسکی دیواریں سفید تھیں اور ایک کالی دیوار تھی  ۔۔ ۔
اوہ  ۔÷ ÷  ÷ یہ تو اچھی بات ہے ، یعنی تمہارا لاشعور واقعٰی ہی کام کر رہا تھا
تو پھر کیا تم میری مدد کر سکتے ہو ۔ ۔
کوشش کر سکتا ہوں  ۔ ۔۔ اگر چاہو تو میرے استاد کے پاس چلتے ہیں جس سے میں نے یہ علم جانا ہے  ۔ ۔
ہاں یہ ٹھیک ہے  ۔  ۔ ویسے وہ کون ہے  ۔ ۔ ۔
تم جانتے ہو انہیں
ہیں  ۔ ۔ ۔ اقبال نے حیرت سے پوچھا  ۔  ۔  ہم جانتے ہیں
پروفیسر شکیل صدیقی  ۔ ۔  ۔
سر شکیل  ۔  ۔ دونوں کے منہ سے نکلا  ۔ ۔ ۔ نہیں یار  ۔ ۔ ۔
ہاں   ۔ ۔۔ ۔   وکٹر کے لہجے میں اعتماد تھا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور تھوڑی دیر میں وہ شکیل صدیقی کے گھر میں تھے  ۔ ۔ ۔  جو لال کی آڈیٹنگ کے لئے تیار ہو چکے تھے  ۔ ۔ ۔
انہوں نے لال کو ایک ایزی چئیر پر بٹھایا  ۔۔ ۔
اور کہا آنکھیں بند کرو  ۔۔۔
بتاؤ تم کہاں تھے جب تمہیں اغواء کیا گیا
میں گھر جا رہا تھا ، جب ایک آدمی میرے پاس آیا  ۔۔ ۔ اور کہا کہ اسکی کار کا ٹائیر پنکچر ہو گیا ہے ۔ تو میںنے اسکی کار کی طرف گیا  تو پچھلی سیٹ کا دروازہ کھلا اور اس آدمی نے مجھے دھکا دیا اور میں گاڑی کےاندر تھا ۔۔۔ جیسے میں اندر گرا کسی نے میرے منہ پر گیلا کپڑا رکھ دیا  ۔ ۔ ۔ پھر مجھے کچھ ہوش نہیں کیا ہوا  ۔ ۔ ۔
شکیل صاحب نے اسے واقعہ پھر دھرانے کو کہا  ۔ ۔ ۔
میں گھر جا رہا تھا  ۔ ۔ کہ ایک آدمی میرے پاس آیا
آدمی کیسا تھا  ۔ ۔ ۔  اسنے کیا پہنا تھا  ۔  ۔۔ شکیل صاحب سوال کرتے گئے اور پھر لال خان بتاتا گیا ۔۔ ۔
شکیل صاحب ایک ہی واقعے کو بار بار سنتے اور ہر بار مزید تفصیل میں جاتے حتہ کہ جب لال خان نے بتایا کہ وہ کسی ایسی جگہ پر ہے جہاں فارسی بولی جاتی ہے  ۔ ۔ ۔ تو وہ اور اقبال حیران رہ گئے  ۔ ۔۔ ۔
اور جب قبرص کی لیباٹری کی بات ہوئی تو پروفیسر شکیل کے بھی پسینے چھوٹ چکے تھے  ۔ ۔ ۔
وہ آڈٹ سیشن کو کمپلیٹ کر چکے تھے  ۔ ۔۔  ۔ ۔ ۔
لال خان اب تھر تھر کانپ رہا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  شکیل صاحب نے ٹھنڈے پانی کی بوتیلں لے کر آئے اور تینوں نے پانی پیا ۔ ۔ ۔ ایک عجیب سی خاموشی تھی  ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ یہ  ÷ ۔ ۔  ۔ ۔ بہت ہی خطرناک چیز ہے  ۔۔ ۔ مجھے گورمنٹ کو بتانا ہو گا  ۔  ۔ ۔
ہاں ۔۔۔ یہ بہت ضروری ہے  ۔ ۔ ۔ لال تم کوشش کرو کہ زیادہ وقت اقبال کے ساتھ گذاروہ  ۔ ۔ ۔ ۔ اقبال  ۔ ۔ ۔تم بھی اسکی ہیلپ کرنا بلکے ٹہرو میں ابھی اپنے ایک دوست کو فون کرتا ہوں ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پھر شکیل صاحب کے لنکس سے لال خان ، فوج کی ایک لیب میں پہنچ چکا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ اسکے والدین کو بھی بتا دیا گیا تھا ، اقبال اسکے ساتھ تھا ، پروفیسر شکیل کو بھی فوج نے اپنی حفاظت میں لے لیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب کچھ چند گھنٹوں میں ہوا تھا  ۔ ۔ ۔
ایم آر آئی ، کے بعد اسکے برین میں چھپی چپ کا پتہ چل چکا تھا ۔۔۔۔۔ جس سے ایک خاص قسم کی ریز نکل رہیں تھیں  ۔ ۔ ۔ جنہیں ڈی کوڈ کیا جا رہا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  قبرص میں فوج کے ایجنٹ کو انفارمیشن دی جا چکی تھیں  ۔۔ ۔
تقریباً تین دن لگ گئے تھے ان سب باتوں میں اس درمیان لال خان نے اپنے ذہن میں آوازیں سنیں تھیں  ۔ ۔  اور اسنے اقبال پر حملہ بھی کیا تھا  ۔ ۔ ۔ اسلئے اسے احتیاط کے طور پر ایک کمرے میں بند کر دیا گیا تھا  ۔  ۔۔  جو بالکل خالی تھا ، اسے کھانا بھی چھت سے دیا جاتا تھا  ۔۔  ۔ لال پوری طرح سے سمجھتا تھا کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے ، اسلئے وہ تعاون بھی کر رہا تھا
قبرص سے انٹیلی جنس رپورٹس آ چکی تھیں ، اور ایک کمانڈو مشن ترتیب دیا جا چکا تھا ، لال کی ویوز کا منبع پتہ کیا جا چکا تھا اور وہ ایک امریکی سیارے کے چینلز استعمال کر رہا تھا  ۔  ۔ ۔  جو کہ جی پی ایس (گلوبل پوزیشنینگ سیسٹم ) کو استعمال کرتا تھا  ۔۔ ۔ یہ ایک عام سیارہ تھا جو کہ ہر طرح کی جی پی ایس ڈیوائس کے ساتھ لنک ہو جاتا تھا  ۔۔۔ لیکن جب لال جسے مسلسل مانیٹر کیا جا رہا تھا ،  نے چلانا شروع کیا کہ مجھے ادھر کیوں بند کیا ہے باہر نکالو  ۔ ۔ ۔  تو پتہ چلا کہ لال کو ایک روبوٹ کی طرح کنٹرول کیا جا رہا تھا  ۔ ۔ ۔ اسلئے اسے اب ایک میگنیٹک فیلڈ میں بھیج دیا گیا تھا ، اور اس کمرے کی دیواروں کو پلاسٹک سے بنایا گیا تھا تا کہ لال کو خودکشی پر مجبور نہ کیا جا سکے  ۔ ۔ ۔ ۔
دوسری طرف کمانڈر اسحاق کی ٹیم قبرص پہنچ چکی تھی  ۔ ۔ ۔  اور لیب کا پتہ بھی چلا لیا گیا تھا ، یہ سب کچھ انتہائی خفیہ تھا مگر پھر بھی کالی بھیڑوں کی وجہ سے اسرئیل اور امریکہ کے خفیہ ادارے بھی سرگرم ہو چکے تھے ، لیباٹری پر حفاظتی انڈیکیٹر انتہائی سطح پر کر دیا گیا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔
کمانڈر اسحاق اس وقت ایک شاپنگ پلازہ کے پلے لینڈ میں گیم کھیل رہا تھا ، وہ اس وقت ایک لاابالی جوان لگ رہا تھا ، جو قبرص میں پیسے اڑانے آیا ہو  ۔ ۔ ۔   اسکے ساتھ کیپٹن ناصر جمیل تھا جو کمیونیکیشن انجنئیر تھا اور اس وقت ہوٹل میں ڈانس فلور پر ایسے ناچ رہا تھا جیسے اسے ناچنے کے سوا کوئی کام ہی نا ہو ، یہ الگ بات کہ اس کی آنکھیں اس سیکیورٹی گارڈ پر لگی ہوں جسکے پاس ایک الگ طرح کا وائیرلیس نظر آ رہا تھا   ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اسی ڈانس فلور کے بار کے پاس میجر صابر تھا جو اس وقت بئیر کا مگ لئے چسکیاں لے رہا تھا ،  میجر صابر بلانوش تھا مگر نشہ اس پر ہوتا ہی نہیں تھا   ۔ ۔ ۔ ۔  پیسے بنانے کا ماہر تھا  ۔ ۔ ۔ ۔  کسی بھی جگہ کسی کی جیب کی صفائی ہو یا پھر بینک ڈکیتی یا پھر اے ٹی ایم مشین  ۔ ۔ ۔ ۔ سب اسکے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا اور دوسری خصوصیت تھی کہ وہ روپ ایسے بدلتا تھا کہ پتہ ہی نہیں چلتا تھا  ۔ ۔ ۔ اسی لئے اپنے بے تکلف دوستوں میں وہ بھانڈ کہلاتا تھا  ۔ ۔ ۔  مجھے وہ وائرلیس چائیے ناصر نے صابر کے پاس آ کر سیکورٹی والے کی طرف اشارہ کیا  ۔ ۔ ۔ مل جائے گا  ۔ ۔ ۔ میں کمرے میں جا رہا ہوں  ۔ ۔ ۔۔
تھوڑی دیر میں وہ تینوں ایک کمرے میں موجود تھے  ۔  ۔  ۔۔  ناصر نے اس وائرلیس کو جو  صابر نے اسے لا کر دیا تھا کھولا ہوا تھا ، مجھے یقین ہے یہ اسرائیلی کوڈ ہے  ۔۔ ۔  اسنے ایک چپ کو سرکٹ سے الگ کیا اور ایک  دوسرے سرکٹ میں لگا دیا جو اسنے بنایا تھا اس میں سے آوازیں آنے لگیں  ۔ ۔ ۔ ۔  لیب کو لاک کر دیا گیا ہے ، اب اس میں کوئی آ جا نہیں سکتا  ۔ ۔ ۔  ۔  اسی لمحے کمانڈر کے موبائیل کی بیل بجی  ۔ ۔ ۔ ۔ اور خطرہ ہے ۔۔ ۔ ۔  بھاگو  ۔ ۔ ۔  ناصر نے اپنا سرکٹ اٹھایا اور تنیوں ایک ساتھ کمرے سے باہر تھے  ۔ ۔ ۔ کاریڈور میں کوئی نہیں تھا  ۔ ۔ ۔  صابر نے آرام سے چلتے ہوئے ایک کمرے کے لاک پر ایک کارڈ لگایا  ۔ ۔ ۔ آٹومیٹک ڈور کھل گیا  ۔ ۔ ۔ اور تینوں کمرے کے اندر تھے  ۔ ۔ ۔  کمرے کے اندر پہنچتے ہی لاگ جیسے وہ کسی کاٹھ کباڑ کے کمرے میں آ گئے ہوں ، کمرے میں شاید مرمت کا کام چل رہا تھا  ۔ ۔ ۔اسی لمحے میں کان پھاڑ دینے والا دھماکہ ہوا  ۔ ۔ ۔  تینوں تو تیار ہی تھے جیسے  ۔  ۔ ۔ پھر جیسے کاریڈور میں طوفان آ گیا ہو ، لوگ اپنے اپنے کمروں سے نکل رہے تھے  ۔۔ ۔  ۔ ۔ انہیں بھی دروازے سے دھواں اندر آتا دکھائی دیا اور ساتھ ہی فائر الارم بج اٹھا  ۔ ۔ ۔ ۔  تینوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور گیلے رومال منہ پر رکھ کر باہر نکل آئے کاریڈور میں بھگدڑ مچی تھی  ۔ ۔ ۔ ۔  وہ اسی بھگدڑ میں شامل ہو کر ہوٹل سے نکل آئے تھے  ۔ ۔ ۔  تھوڑی دیر میں ہوٹل خالی ہو چکا تھا  ۔ ۔  ۔ ۔
(جاری ہے )
کوشش کروں گا کہ تیسری اور آخری قسط جلد پیش کروں
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: