سفید کمرے کی کالی دیوار – پہلی قسط

چپ ٧٨٦ ، ایک ایسی مائیکرو چپ ہے جو برین کے ایک مخصوص حصے میں فکس کی جاتی ہے ، اور پھر وہ شخص ایک سنٹرل سسٹم سے منسلک ہو جاتا ہے ، جسے اپنی مرضی سے استعمال کیا جاتا ہے ،
اسے ایک یہودی سائنسدان نے اٹلی میں بنایا تھا ، جو کہ معذور افراد کو دوبارہ فعال کرنے والے دماغی سسٹم پر کام کر رہا تھا ، مگر نائن الیون کے واقعٰی کے بعد اس نے اسے اسرائیل کو دے دیا اور پھر امریکہ کی ایک انتہائی جدید لیب میں اسے مزید اضافوں کے ساتھ خود کُش بمبار بنانے کے لئے استعمال کیا جانے لگا
ایسے لوگوں کے لئے ، عرب ممالک اور وسطی ایشیائی ممالک کے علاوہ ، برصغیر پاک و ہند سے بھی لوگوں کو اغوا کیا جانے لگا ، کوشش کی جاتی کہ مذہی طور پر جذباتی نوجوانوں کو اس کام میں استعمال کیا جائے ، کیونکہ چپ کی وجہ سے وہ آسانی سے اپنے آپ کو ختم کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ۔ ۔ ۔۔ ۔
مگر ایک غلطی نے اس چپ کو دنیا سے ہی مٹا دیا ، شاہد خان ، جو ایک سی آئی اے کی طرف سے بندے اٹھانے پر معمور تھا ، پشاور میں ایک لڑکے کو جب اٹھایا تو وہ بھول گیا کہ وہ لڑکا مسلمان نہیں تھا ، پشاور کے چند گنے چنے ہندو تاجروں میں سے ایک کا بیٹا تھا ، نام تھا اسکا لال خان ، دوسری غلطی یہ ہوئی کہ یہ لڑکا پڑھا لکھا تھا ، اور وہ بھی سائنس کا اسٹوڈنٹ ، جو اپنا فارغ وقت طرح طرح کے تجربات میں گذارتا تھا، مگر وہ بہت بحث کیا کرتا تھا ، کہ مسلمان اگر بہت اچھے ہیں تو پھر انکے ساتھ اتنا برا کیوں ہے ، اسی بحث مباحثے کی وجہ سے وہ شاہد خان کی نظروں میں آ گیا تھا  ۔ ۔ ۔
شاہد نے اسے اغوا کر کے کابل پہنچایا اور وہاں سے ایران اور پھر ترکی کے راستے یونانی قبرص ، جہاں چپ لگانے کی لیب تھی ، لال کو بے ہوش کیا گیا ، بلڈ چیک کر کے ڈاکٹروں نے آپریشن ٹیبل پر اسے ڈال دیا ، لال کا سر پہلے ہی مونڈ دیا گیا تھا ، اسے ٹیبل پر الٹا لٹایا گیا تھا ، ایک ڈاکٹر نے اسکا سر ایک شکنجے میں جکڑ دیا تھا ، اور اسکے اوپر ایک روبوٹیک آرم کو لایا گیا تھا ، یہ ایک بہت ہی سنسیٹیو روبوٹیک آرم تھی ، جسنے سارا آپریشن خودکار طریقے سے کرنا تھا ، اور پھر ایک مارکر سے ایک ڈاکٹر نے ایک ریپورٹ کو دیکھتے ہوئے گول دائرہ سا بنایا ، اور دوسرے ڈاکٹر نے اپنے سامنے کے پینل سے ایک بٹن کو دبا دیا ، روبوٹیک آرم سے ایک نیلے رنگ کی روشنی نکلی اور پھر اسی نشان پر آ کر رک گئی ، ایک چھوٹی سی آری چلنے لگی اور ساتھ ہی سرخ رنگی کی لیزر بھی چل رہی تھی ، جو زخم سے خون کے اخراج کو روک رہی تھی ، پھر ایک انچ کا گول دائرہ سا بن گیا ائر پھر ایک روبوٹیک آرم نے اسے اٹھایا ، اور اندر سے دماغ نظر آنے لگا ، روبوٹ نے چپ اٹھائی جسکے ساتھ ریشم کی طرح تار لپٹے ہوئے تھے ، پھر روبوٹ نے وہ تار دماغ کے ساتھ منسلک کرنے شروع کر دئیے ، اسکرین پر اسکا کافی بڑا عکس نظر آ رہا تھا ، ساتھ ہی آواز آنا شروع ہو گئی ، ویلڈنگ اسٹارٹ ، ویلڈنگ کمپلیٹ ، لیفٹ آرم ٹیسٹنگ ، لال خان کا بایاں بازو اوپر نیچے ہلنے لگا ، لیٍفٹ ہینڈ ٹیسٹنگ ، لال خان اپنے بائیں ہاتھ کو موڑنے لگا ، پھر آواز ابھری ، لیفٹ تھمب ٹیسٹنگ ، انڈیکس فنگر ٹیسٹنگ ، اور اسی طرح باری باری ہر اعضاء کا ٹیسٹ ہونے لگا ، ٹیسٹنگ کمپلیٹ کی آواز آتے ہی ، روبوٹ نے ، فکسنگ چپ کمپلیٹ کا میسج دیا اور ، پھر سر کے کاٹے ہوئے حصے کو دوبارہ اسی جگہ لگا دیا گیا ، اسیمبلنگ کمپلیٹ ، اور پھر روبوٹ نے ایک اسپرے کیا ، تو جلد ایسے برابر ہو گئی جیسے وہاں کبھی کچھ ہوا ہی نا تھا  ۔ ۔ ۔ پلاسٹک سرجری کمپلیٹ کی آواز آتے ہی روبوٹ آرمز ہٹ گئیں اور ایک ڈاکٹر نے اسکی آکسیجن اور دوسرے آلات کو لال خان کے جسم سے الگ کیا ، اور اسٹریچر کو دھکیلتے ہوئے ایک کمرے میں لے آئے ، جہاں اسے ایک بیڈ پر منتقل کیا گیا  ۔ ۔ ۔  اور وہ کمرے کا دروازہ بند کر کے چلے گئے ، لال خان ابھی تک بے ہوش تھا ، تھوڑی دیر میں وہ ہلنے لگا اور اسنے آنکھیں کھول دیں ، اسکی آنکھوں میں ویرانی سی تھی ، وہ دیوار کی طرف دیکھنے لگا جس کا رنگ کالا تھا ، اصل میں دوسری طرف سے اسے دیکھا جا رہا تھا ،  دوسری طرف ایک کنٹرول روم تھا ، جس میں مختلف لوگ اپنی اپنی اسکرینوں پر جھکے ہوئے  تھے ،  ایک وہیل چئیر پر ایک بوڑھا گھومتا پھر رہا تھا ، یہ ڈاکٹر گور تھا ، اس تمام پروجیکٹ کا نگران،  کنٹرول روم بہت سارے ایسے کمروں سے منسلک تھا جس میں آبجیکٹ کو رکھا جاتا تھا ، ایک طرف سے دروازہ کھلا اور ایک باوردی لمبا آدمی داخل ہوا اسکے ہاتھ میں ایک فائل تھی ، اس نے ڈاکٹر گور کو وہ فائل دی  اور بولا ، سر پی کے ون ون نائین ، فائنل رپورٹ ، اور فوجی انداز میں سلوٹ کر کہ چلا گیا ، ڈاکٹر نے لال خان کی طرف دیکھا جو ابھی تک صرف حیرت سے آنکھیں جھپکا رہا تھا ، ہونہ ، ماریا ، وہ اپنی وئیل چئیر کو ایک لڑکی کی ڈیسک کے سامنے لا کہ بولا ، ٹیسٹ ہم ، اوکے ڈاکٹر ، ماریا نے  اپنے کی بورڈ پر انگلیاں چلانا شروع کیں ، بیٹھو ، اور لال خان اٹھ بیٹھا ، اسکی آنکھوں میں ویرانی اور بڑھ چکی تھی ، قرآن سناؤ ، وہ چپ رہا ، قرآن سناؤ ، وہ پھر چپ رہا ، ڈاکٹر ماریا نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا ، اوکے کوئی اور کمانڈ دو ، ابھی وہ پوری طرح ہوش میں نہیں ہے
ہاتھ اوپر ، نیچے ، دیوار پر ہاتھ مارو  ۔ ۔ ۔ ایسے ہی ماریا اسے ٹیسٹ کرتی رہی ، اوکے ڈاکٹر یہ بالکل کنٹرول میں ہے ، ٹھیک ہے ، اسے کیمپ میں بھجھوا دہ ، لال خان کے کمرے میں ایک نرس داخل ہوئی اور اسنے لال خان کو انجیکشن لگایا ، اور پھر دو آدمی اسے ایک اسٹرئچر پر ڈال کہ باہر لے گئے  ۔ ۔۔ ادھر کنٹرول روم میں ڈاکٹر کے پاس ایک اور فائل آ چکی تھی  ۔ ۔ ۔
لال خان کو جب ہوش آیا تو اسنے اپنے آپ کو اپنی گلی کے نکڑ پر ٹیک لگا پایا ، پہلے تو وہ خالی آنکھوں سے سوچتا رہا پھر وہ یک دم چونک کہ اٹھا ، اسنے سر پر ہاتھ پھیرا تو پتہ چلا کہ اسکے بال نہیں ہیں ، اسنے اپنی جیبیں ٹٹولییں سب کچھ موجود تھا  ۔ ۔ ۔  رات کا وقت تھا اسنے اپنے گھر کا دروازہ کھٹکٹایا ، اوہ  ۔ ۔ ۔ اسکے باپ نے دروازہ کھولا تھا اور پھر وہ اس سے لپٹ گیا ، خداوند کا کرم ہے تو صحیح سے آ گیا ، وہ اس سے سوال پوچھ رہے تھے مگر لال خان کے پاس کچھ جواب نہیں تھا ، وہ کہتا رہا کہ اسے کچھ پتہ نہیں ہے ، اور جب اسنے سنا کہ وہ ایک ہفتہ غائیب رہا ہے تو ذہن پر زور ڈالنے کے باوجود اسے کچھ یاد نہ سکا ، ہاں بار بار اسے سفید کمرے کی کالی دیوار ضرور یاد آ رہی تھی  ۔ ۔ ۔ ۔
 
 
 
(جاری ہے )
Advertisements

4 responses to this post.

  1. اگلی قسط کب آئے گی؟تجسس ہو رہا ہےجیسے پچپن میں رسالے میں کوئی قسط وار کہانی آتی تھی اور پورا ہفتہ ٹینشن میں گزرتا تھا

    جواب دیں

  2. Posted by Muhammad on اپریل 28, 2009 at 5:36 شام

    آج کا سوال ۔ اگلی قسط کب آئے گی۔

    جواب دیں

  3. Posted by Iftikhar Ajmal on ستمبر 1, 2009 at 9:51 صبح

    بہت دنوں بعد یہاں آیا ہوں ۔ کئی ماہ سے بہت مصروفیت رہی ۔ آج آپ کی یاد آئی تو آیا مگر کچھ پڑھنے کا وقت نہیں ہے ۔ اللہ آپ کو ترقی دے اور آپ کی ہمت برقرار رکھےhttp://www.theajmals.com/blog

    جواب دیں

  4. can we have your face book connection?

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: