میرا دیس تو ایسا نہیں تھا

بہت دنوں کے بعد جب لکھنے بیٹھا تو ظاہر ہے اپنے حالات سامنے تھے ، دل خوں کے آنسو روتا ہے اور اسی دل کی یہ صدا ہے ، شاید ہم سب بھی یہ ہی کہنا چاہتے ہیں کہ “میرا دیس تو ایسا نہیں تھا“
یہ لڑنے جھگڑنے والوں کی بستی
یہ نفرت کی سیاست چالوں کی بستی
یہ آگ اور انگاروں کی دنیا
یہ بندوقوں بموں بھالوں کی بستی
 
جیسا ہے یہ تو ایسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
 
 
بنایا تھا اسکو خوں دے کہ اپنا
سجایا تھا  ہم نے مل کہ یہ سپنا
مل کہ ہم نے کیا تھا حاصل
اک ساتھ تھا سب کے دل کا دھڑکنا
 
اک تھا ،ٹکروں کے جیسا نہیں تھا

میرا دیس تو ایسا نہیں تھا

 
آندھی بھی آئی ، طوفاں بھی آئے

بادل بھی گرجے ، سیلاب بھی آئے
روکا سب نے دیوار بن کہ
دشمن کے گولے سینے پے کھائے

 

جینا اور مرنا  تو ایسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
 
کوئی بھوک سے بلکتا نہیں تھا
دکھوں سے کوئی سسکتا نہیں تھا
چوری تو تھی پر ڈاکا نہیں تھا
زردار تھے مگر کوئی اندھا نہیں تھا
 
مقصد جیون کا پیسا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
 
میرا خدا ہم کو اتحاد دے دے
اجڑے ہوؤں کو آباد دے دے
دے دے ہمیں تو رحمتیں اپنی
ٹوٹے دلوں کو تو شاد دے دے
 
 
خدا سے یوں جدا سا نہیں تھا
میرا دیس تو ایسا نہیں تھا
Advertisements

2 responses to this post.

  1. nice to read your poetry,yes our homeland was not like this,it was cleaned with all nonsense which is going now a days.

    جواب دیں

  2. Posted by Obaid Ullah on ستمبر 2, 2009 at 1:43 صبح

    MashaAllah very nice Azher bhaiAllah Islamic Republic of Pakistan ki Hifazat karay,Aameen

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: