ایک دھشت گرد سے انٹرویو!

دوستو ان دنوں دھشت گردی بہت ہے اس کو جاننے کے لئے ہم نے بڑی مشکل سے ایک دھشت گرد کو انٹرویو دینے پر راضی کیا  ۔ ۔ ۔ اصل میں انہیں ایک جگہ خود کُش حملہ کرنے جانا ہے ، اور انہیں شہادت کی بہت جلدی ہے اسلئے زیادہ طویل انٹرویو نہیں دے سکیں گے  ۔ ۔ ۔
– آپ کا نام ؟
-دھشت گرد!!
– آپ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں !!
– دھشت نگری سے ، ویسے کچھ لوگ اسے پاکستان بھی کہتے ہیں !!
– اچھا ، مگر پاکستان میں تو اچھے لوگ رھتے ہیں
– ہاں مگر اب ہم نہیں رہنے دیں گے ، اپنی جان قربان کر کہ انہیں اپنے جیسا بنا دیں گے !!
– اگر آپ برا نہ مانیں تو آپ اپنی قومیت یا مذہب بتا دیں
– دھشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا قومیت بھی نہیں ہوتی صرف دھشت مذہب اور دھشت گردی قومیت ہو سکتی ہے
– اچھا آپ یہ دھشت کیوں پھیلاتے ہیں ؟
– اچھا لگتا ھے نا
– ہیں !!! اچھا لگتا ہے لوگوں کو مارنا
– دیکھو جیسے آپ کو کھانا کھانا پڑتا ہے زندہ رہنے کے لئے ایسے ہی ہمیں دھشت گردی کرنی پڑتی ہے ، جس دن کوئی دھشت نہ پھیلے کھانا ہضم ہی نہیں ہوتا  ۔ ۔ ۔
– مگر آپ کیوں ایسا چاہتے ہیں ؟ خود سکون سے رہیں اور باقی سب کو رہنے دیں
– کیوں کہ ہمیں سکون نہیں چاہیے ، آپ کو بھی سکون نہیں چاہیے ، دیکھو نا اگر دنیا میں لوگ ایک دوسرے کو حق دینا شروع کر دیں تو پھر یہ مسلہ ہی نہ ہوتا  ۔ ۔ ۔ مگر لوگ کسی کو بھی سکون میں دیکھنا نہیں چاہتے
– آخر آپ کو دوسروں کو مار کہ ملتا کیا ہے ؟
– تمہیں کھانا کھا کہ کیا ملتا ہے ؟ اور کھانا تم کیوں کھاتے ہو؟
– بھوک مٹانے کے لئے !!
– تو یہ بھی ایک بھوک ہے ، جو جانیں لے کر بجھتی ہے
– مگر آپ کو پتہ ہے کتنے گھر اجڑ جاتے ہیں کتنے  ۔ ۔ ۔
– بس بس بس  ۔  ۔۔  تم لوگ بھی عجیب ہو ، بموں سے ، مزائلوں سے اور ڈیزی کٹرز سے جب مارتے ہو تو کوئی گھر نہیں اجڑتا ؟ کوئی نہیں بولتا کسی کو درد نہیں ہوتا ، کیا وہ انسان نہیں ہوتے  ۔ ۔ ۔ کیڑے مکوڑے ہوتے ہیں نا ۔ ۔
 
 
– مگر اس طرح انہیں کو مارا جاتا ہے جو ہمارے امن کے لئے خطرہ ہوتے ہیں !!

– ہا ہا ہا ، امن کے لئے ہر جگہ ایک جنگ لڑی جا رہی ہے  ۔ ۔ ۔  چند دن کے بچے سے لیکر نوے سال کے بزرگ تک خطرہ ہیں امن کے لئے اور امن کن کے لئے  ۔ ۔ ۔ ۔ ان لوگوں کے لئے جو تم سے زیادہ امن میں ہیں ، تمہارے ہر شہر میں روز لاشیں گرتیں ہیں ، وہاں ایسا کب ہوتا ہے ، نشے میں ڈوبی شامیں ، مستی سے تھرکتے لوگ ، انہیں کیا پتہ کہ جنگ کیا ہوتی ہے  ۔ ۔ ۔ انہیں کیا پتہ لاش کیسی ہوتی ہے ، انکے لئے یہ صرف ایکشن فلم کے کسی منظر سے زیادہ نہیں ہے ، میرے پاس کتنا بارود ہے ، کتنا بارود ہے جس سے میں ماروں گا کتنے لوگوں کو ، ایک کو دس کو یا پھر سو کو ، مگر وہ تو ایک پل میں ہزاروں بستیاں اجاڑتے ہیں ، کاش میرے پاس اتنا بارود ہو کہ میں ان نشے میں ڈوبی بستیوں کو اڑا دوں  ۔ ۔ ۔ 
دھشت گرد کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی تھیں اور آنسو بھی ، جیسے پانی میں آگ لگی ہو  ۔ ۔ وہ ہچکیاں لینے لگا
– میں ۔ ۔ ۔ میں  ۔ ۔ تم سے بدلہ نہیں لے رہا ، میں تو مجبور ہوں ، میرے پاس کیا ہے ، کبھی مجھے ڈالر سے خریدا جاتا ہے کبھی بیچا جاتا ہے ، کبھی مجھے کافر کہ کہ خود سے الگ کر دیا جاتا ہے اور کبھی مجھے قبائیلی کہ کر ابسلیٹ کر دیا جاتا ہے  ۔ ۔ ۔  بہانے بہانے سے میرے گھر پر ڈاکے ڈالے جاتے ہیں ، تو میں کیا کروں  ۔ ۔ ۔
– مگر احتجاج کے اور بھی تو راستے ہیں ،
– کونسے راستے ؟ اور کس سے کریں احتجاج کون سنے گا ، جہاں پر منصف خود انصاف کی تلاش میں ہو وہاں کون سنے گا
– مگر اب ایسا نہیں ساری سوسائیٹی مظلوموں کے ساتھ ہے
– کونسی سوسائیٹی  ۔ ۔ ۔  جو آج تک کسی ایشو پر متفق نہیں ہو سکے ، ارے ہم دھشت گرد کم سے کم ایک بات پر تو متفق ہیں کہ دھشت پھیلائی جائے  ۔ ۔ ۔ تم تو امن کے لیے بھی متفق نہیں ہو ، کٹھ پتلیاں ہو جنکی ڈوریں کوئی اور ہلاتا ہے  ۔ ۔ ۔ اور ایسے لوگوں سے دنیا کو پاک ہو ہی جانا چاہیے  ۔ ۔ ۔ زنخے کہیں کے
– دیکھیں  ۔ ۔  آپ سبکو گالی دے رہے ہیں ، لوگ امن کے لیے جانیں قربان کر رہے ہیں
– امن کے لئے جان قربان کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ زندہ رہیں  ۔ ۔ ۔ ۔
– واہ جی ہی جان دینے والا کہ رہا ہے
– ہاں میں مجبور ہوں ، میری ڈوریں کوئی اور ہلا رہا ہے ، مگر تم تو آزاد ہو ، مل کیوں جاتے ، مجھے روک کیوں نہیں لیتے ، آج سارے لوگ ان علاقوں میں چلیں جہاں پر سورش ہے انہیں گلے لگائیں اور بتائیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں ، انہیں انکے درد سے درد ہوتا ہے ، کیوں نہیں جاتے وہاں ۔ ۔ ۔ کیوں بلوچوں کو اکیلے کرتے ہو ، کیوں سواتیوں کو اپنے سے الگ کر رہے ہو کیوں ادھر نہیں جاتے ، ویسے تو پکنک اور ہنی مون سپاٹ بنا رکھا تھا نا اسے ، اب کیوں ڈرتے ہو ، اپنے ہی لوگوں کو تکلیف میں چھوڑ دیا ہے تم نے ، اسی لئے آج ہم تمہیں یاد دلاتے ہیں خود کو مٹا کر کہ ہم مٹنے والے نہیں !!!
– مگر آپ کی لڑائی تو مغرب سے ہے امریکہ سے ہے آپ اپنے ہی جیسوں کو کیوں مار رہے ہو
– کیا تم نے کسی انگریز خود کُش حملہ آور کا سنا ہے ؟
– نہیں کبھی نہیں بلکہ تاریخ میں بھی ایسا نہیں
– کیا تم نے نے رومن گلیڈیٹر کا سنا ہے
– ہاں سنا ہے ، اور ہاں انگریزوں میں تو نائٹ ہوتے تھے نا
– ہاں ، کیا تم لوگوں میں کوئی ، نائٹ یا گلیڈیٹر ہے ؟
– آج کل ایسے لوگوں کو کمانڈو کہتے ہیں
– ہا ہا ہا ، ہاں یہ بھی خوب کہا کمانڈو  ۔ ۔ ۔  تمہارے ملک میں تو ایک خاکروب سے لیکر صدر تک کمانڈو ہوتے ہیں ، اور انکی حفاظت کے لئے مزید کمانڈو ، اور انکے لئے اور کمانڈو  ۔ ۔ ۔  دوست کمانڈو اور نائٹ میں بہت فرق ہوتا ہے ، نائٹ اکیلا ہوتا ہے اور کمانڈو بہت سارے  ۔ ۔ ۔   یعنی میں ایک نائٹ ہوں ۔۔ ۔
– نائٹ تو نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ بزدل نہیں ہوتا تھا ، وہ سامنے آ کر وار کرتا تھا
– میں سامنے ہی جا کر خود کو اڑاؤں گا تم دیکھ لینا
– کیا آپ یہ سب کچھ کر کہ جنت میں جاؤ گے  ۔ ۔ ۔
– جنت  ۔ ۔ ۔ میں نےسوات جیسی جنت کو جہنم بنتے دیکھا ہے ، اب کسی جنت کی تمنا نہیں  اور پھر میرا کوئی مذہب نہیں میں صرف ایک دھشت گرد ہوں ، صرف ایک دھشت گرد  ۔ ۔ ۔ جسکا کام صرف دھشت پھیلانا ہے ، نفرت پھیلانا ہے
– کیا کوئی ان تمام باتوں سے بچاؤ کا راستہ ہے ؟
– ہاں ہے ، اتحاد ، ایک قوم ایک جان ہو جائے تو ، کوئی بھی دھشت نہیں پھیلا سکتا ، کوئی سازش نہیں کر سکتا کوئی ظالم حاکم نہیں ہو سکتا کوئی ناانصافی نہیں ہو سکتی  ۔ ۔ ۔ تہمارے پاس تو اتنی بڑی دولت ہے ، ایمان ، اتحاد ، تنظیم ، اس سے بہتر کیا ہو گا ، کیا یہ تمہارے قائد نے نہیں کہا تھا کہ ہمیں تو آئین چودہ سو سال پہلے ہی دیا جا چکا ہے ، ہمارے قانون تو بنے بنائے ہیں بس انہیں نافذ کرنا ہے ، جب تک تہماری ہپو کریسی ختم نہیں ہوتی کچھ نہیں بدلے گا  ۔ ۔ ۔ 
– کیا آپ اپنا ارادہ بدل نہیں سکتے ؟
– کاش بدل سکتا ، ہمیں بدلنے کو تو کہ رہے ہیں خود کیوں نہیں بدلتے ، یاد رکھو جب تک خود نہیں بدلو گے کچھ نہیں بدلے گا ، اچھا اب تم جاؤ میں نے عبادت بھی کرنی ہے ،
– عبادت ، مگر آپ نے تو  ۔ ۔ ۔ ۔
– پلیز ، میں جانتا ہوں میں نے کیا کہا تھا ، مگر کچھ بھی ہو میں انسان ہوں ، اور جانتا ہوں رب نے مجھے کیوں بنایا ، اور میں اپنے رب کی دی ہوئی چیز کو ایسے ختم کر رہا ہوں ، اس سے معافی تو مانگ لوں
– یعنی آپ کے اندر کا انسان زندہ ہے ، تو پھر  ۔،  ۔ ۔
– انسان زندہ ہے ، مگر اسے درندگی نے بھنبھوڑ دیا ہے ، تم نے کبھی کوئی ہارر مووی دیکھی ہے جس میں ایک ڈیمن کا خون کسی دوسرے کو لگتا ہے تو وہ بھ ڈیمن بن جاتا ہے ، میرے دوست ایسا ہی ہو رہا ہے ہمارے ساتھ بھی ، جب تک اکیلے اکیلے ہم سے لڑو گے ہم تمہیں بھی ڈیمن بناتے رہے گیں  ۔ ۔ ۔ ۔ پھر تم چاہے صلیب دکھاؤ یا ہلال  ۔ ۔ ۔ ۔ یا پھر اوم  ۔ ۔۔  ۔ ہم پر کوئی اثر نہیں ہو گا  ۔ ۔  ۔۔  اب جاؤ  ۔ ۔ ۔
– مگر  ۔  ۔ ۔ ابھی اور بہت کچھ پوچھنا ہے  ۔ ۔
– کیا ؟ کیا تم یہ سب کچھ نہیں جانتے جو پوچھنا چاہتے ہو  ۔ ۔ ۔ ۔۔ اور کیا تمہیں پتہ نہیں تمہیں کیا کرنا ہے ؟
– ہاں شاید ۔۔ ۔
– تو پھر خدا حافظ  ۔ ۔ ۔ دھشت گرد نے کہا اور کھڑا ہو گیا ، میں نے اسے پہلی بار غور سے دیکھا تھا ، وہ ایک جوان آدمی تھا ، اسکی آنکھوں میں عجیب سی یاسیت تھی ، بال کچھڑی تھے اور ایسا لگتا تھا جیسے وہ کب سے نہ نہایا ہو  ۔ ۔  اس نے مجھے جلتی نظروں سے دیکھا مجھے لگا کہ وہ کہ رہا ہو مجھے روک لو ۔ ۔ ۔  میں بھی شاید اسے روکنا چاہتا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ مگر شاید مجھے بھی اسکی شہادت کی ضرورت تھی ، میں نے اسے نہیں روکا اور وہ چلا  گیا   ۔ ۔ ۔ ۔
 
Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by FATIMA on اپریل 8, 2009 at 4:46 شام

    this interview was too much long,it should be short and strong .

    جواب دیں

  2. Posted by Muhammad on اپریل 13, 2009 at 8:22 صبح

    Yes, it is a bit long … but this covers approx. aspects of what a "dehsaht gard" thinks.The major things missing in this interview is : In the start is uanble to capture the reader.After reading 3rd question; reader might loose interest in the interview.A really good effort but there is always a chance of improvement

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: