العین میں پاک و ہند گرانڈ مشاعرہ

ان حالات میں جب بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر ھے ، انڈو پاک گرانڈ مشاعرہ کرانے کی ہمت ہمارے بہت ہی محترم دوست جناب سکھدیو صاحب نے کی ، امریک غافل  بھائی نے انکا ساتھ نبھایا اور العین کے حسین شہر میں ایک بہت ہی کامیاب مشاعرہ منعقد ہوا  ۔ ۔۔ جسکی صدارت جناب سرفراز علی حسین (پاکستان) نے کی اور مہمان خصوصی تھے بھارت سے آئے ہوئے انور جمال انور نے ، نظامت کے فرائض رفیق صاحب نےانجام دئیے  ۔ ۔ ۔
اس مشاعرے میں العین جیسے چھوٹے شہر کے بہت ہی اچھے سامعین شامل ہوئے ، جن میں زیادہ تعداد بھارتی دوستوں کی تھی ، اور سچی بات تو یہ ہے کہ میں جب سٹیج پر بلایا گیا ، تو سامنے دیکھ کر ٹانگیں کانپ کر رہ گئیں  ۔ ۔ ۔  اسکی وجہ شاید چند بڑے ناموں کے بیچ میرے جیسے عام بندے کی تھی  ۔ ۔ ۔  اور اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اسنے مجھے بہت عزت دی  ۔ ۔ ۔ اور مجھے میرے کلام پر جو کہ کچھ مختلف تھا دوسرے لوگوں کی بنسبت سراہا گیا   ۔ ۔ ۔
اصل میں میں نے سوچا تھا کہ میں اسکی تفصیل لکھوں گا مگر ذاتی مصروفیات کی بنا پر ایسا نہ کر سکا ، مگر اس مشاعرے کے چند اشعار ضرور جو ذھن میں رہ گئے پیش کر رہا ہوں اور پھر جو میں نے پڑھا اور اس مشاعرے کی کچھ تصاویر بھی  ۔ ۔ ۔
ایک بھارت کے شاعر ہیں جناب عابد صاحب (میں نام بھول رہا ہوں شاید) انکے اس شعر کو بار بار پڑھایا گیا
رشتہ دل سے رشتہ ہے جان کا
مان ہے یہ تو سارے ہندوستان کا
اور بھی ہیں ہمیں انکی بھی قدر ہے
رتبہ بہت بلند ہے اردو زبان کا
————————————
ایک اور شاعر کے اس شعر پر بھی بہت تالیاں بجیں (انڈین اور پاکستانی مشاعروں کے درمیان داد دینے کا یہ سب سے بڑا فرق ہے )
نہ بچوں کا خیال نہ اہل و اعیال کا
کھو گئے ہو تم تو شاعروں کے بیچ میں
————————————-
سرفراز صاحب نے اپنی مشہور غزل “دین و دنیا حاضر ہوں“ سنائی جسکے چند منتخب اشعار یہ ہیں
ہم مزدور کی بات تو سن لیں گے
لیکن پہلے خون پسینہ حاضر ہوں
قاضی صاحب باہر آئے ہیں
اچھا اچھا اچھا حاضر ہوں
—————————————————
اب وہ جو میں نے وہاں پڑھا
پھول کبھی آگ میں اگتے نہیں
ہرے پتے تو یوں ہی جلتے نہیں
نفرتوں کی زندگی ہے چار دن کی
محبتوں میں لوگ کبھی مرتے نہیں
————————-
پیغام (ایک نظم)
بارود کی فصل بونے والو
تم نے پھول اگائے ہوتے
بندوقوں کے شعلوں سے تم نے
نفرت کے گیت نہ گائے ہوتے
سیاست چمکانے کی خاطر
انساں ، انساں نہ لڑائے ہوتے
محلوں میں رہنے والو تم نے
غریبوں کے بھی سر چپھائے ہوتے
سرحدوں سے پہچان ہے اپنی
سرحد پے دل یہ ملائے ہوتے
جیسے ہم تم ہیں مل کہ بیٹھے
ایسے ہی دل بھی ملائے ہوتے
پڑوسی کبھی بھی بدلتے نہیں ہیں
بڑوں کے قول نبھائے ہوتے
اپنی اپنی پہچان نہ ہم کھوتے
جو اپنے کے ہم نہ ستائے ہوتے
————————-
میں بھی انساں تو بھی انساں
فاصلے اتنے کیوں درمیاں
کیا ہوا جو نام الگ ہیں
تیرا ایشور میرا رحماں
پیغام محبت کا سب دیتے ہیں
تیری گیتا میرا قرآں
خوشبو کا کوئی وطن نہیں
گل کا دیس بس گلستاں
اظہر سرحدیں کیوں مٹائیں
یہ تیری میری ہیں پہچاں
 
 
 
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: