ایک مشاعرہ

حاضرین و سامعین و ناظرین ، آج کے مشاعرے میں آپکو خوش آمدید کہتا ہوں ، آج اس مشاعرے میں ساری دنیا سے بلکہ میں یوں کہوں گا کہ ساتوں براعظموں سے اردو کے عظیم ترین شعراء موجود ہیں ، میں خصوصی طور پر اقبال ، غالب اور میر تقی میر کی اروح کو خوش آمدید کہتا ہوں اور مزید شکریہ ادا کرتا ہوں ، ورڈزورتھ اور ملٹن کی ارواح کا کہ جنہوں نے خصوصی اجازت کے ساتھ اس مشاعرے میں شرکت کی ہے  ۔ ۔ ۔
سب سے پہلے حسب روایت میں یعنی اچھو اچھوی اپنی ایک باسی نظم پیش کرتا ہوں ، نظم کا نام ہے “کہیں دھماکہ نہ
ہو جائے “
 
آنکھیں کھول کہ چل بھیا
خطرہ ہے اب ہرپل بھیا
گھر ، دوکان یا ہو آفس
ڈر کی  ہر اک محفل بھیا
پڑوسن سے اب نہ ملنا
بریکنگ نیوز بن جائے گی
شوق بہت ہے فیشن کا اسکو
ہارڈ سے لوز بن جائے گی
اسکا نزلہ گرے گا تجھ پر
پڑے گا پیٹ میں بل بھیا
آنکھیں کھول کہ چل بھیا
خطرہ ہے اب ہر پل بھیا
ہوٹل کھانا کھانے نہ جا
دفتر سے سیدھا گھر آ
تجھکو نہیں چلے گا پتا
کب کہاں ہو جائے دھماکہ
اگر تو نے سیر کا سوچا
لوگ کہیں گے پاگل بھیا
خطرہ ہے اب ہر پل بھیا
آنکھیں کھول کہ چل بھیا
شکریہ شکریہ  ۔ ۔ ۔  وقت کی تنگی کی وجہ سے میں اب مزید کچھ نہیں سناؤں گا ۔ ۔  ورنہ پڑوسن  ۔ ۔  مارے گی  ۔ ۔  میرا مطلب کہ  ۔ ۔  اب میں دعوت کلام دیتا ہوں  ۔ ۔  جناب شوہرگھرداری کو  ۔ ۔ جو اپنا صدرانہ کلام پیش کریں گے
جئے بھٹو  ۔ ۔ ۔  جئے بھٹو
زندہ ہے بی بی  ۔ ۔  زندہ ہے بی بی  ۔  ۔
حاضرین ؛ واہ واہ  ۔ ۔
مگر یہ شعر نہیں ہے  ۔ ۔  میں اب اپنا کلام پیش کروں گا  ۔ ۔ ۔ ۔  ۔۔  عنوان ہے  ۔ ۔  “بی بی تیرا شکریہ “
 
کھا رہا ہوں اس ملک  کو میں ، آپ کی اجازت ہے
آج ہوں میں جو کچھ بھی وہ آپ کی عنایت ہے
تو نہیں ہے لیکن تیری ، تصویر ساتھ رہتی ہے
تو چالاک ہے کتنا ، بار بار یہ کہتی ہے
مرکہ بھی نہ ہی مری ، بس یہ ہی شکایت ہے
آج ہوں میں جو کچھ بھی وہ  ۔ ۔  آپ کی عنایت ہے
ساری پالن مل جائے تو ، بچوں کی ماں بناؤں گا
نہ ملے گی وہ تو کسی اور کو میں پٹاؤں گا
مجھے ساری اسمبلی کہ ، اب تو حمایت ہے
آج ہوں میں جو کچھ بھی وہ آپکی عنایت ہے
اگر اجازت ہو تو ایک قطعہ صرف بی بی کے لئے  ۔ ۔ ۔
 
قربان کر کہ خود کو ، مرا مقدر بنا دیا
کتنے ہی جیالوں کا ، گاڈ فادر بنا دیا
دس فی صد سے گذارا کہاں ہوتا ہے یہاں
ڈال کہ نوے اور  ۔ ۔  صد – در بنا دیا
واہ واہ  ۔ ۔ ۔ ۔
اب میں چاہوں گا کہ ہمارے بہت محترم جناب “ارمان ملک“ صاحب اپنے زور فکر کے نتیجے سے مستفیض فرمائیں
ٹھیک ہے میں بہت کچھ آپ کو ابھی نہیں بتا سکتا جب ہمیں پتہ چلے گا تو بتا دیں گے  ۔ ۔ ۔ ہاں تو میری رپورٹ کا عنوان ہے  ۔ ۔  “ایک دھماکہ اور سہی “
 
بیانات کا یہ زور سہی
ایک دھماکہ اور سہی
ہر دھشت گرد مخبر ہے اپنا
نیٹ ورک زرا  کمزور سہی
میڈیا کی باتیں ایسی ہی ہیں
بچہ ہے نا منہ زور سہی
شیریں فرہاد کی کیسے ہو گی
مجنوں  اسکا ہے ہور سہی
اب تشریف لاتے ہیں  ، جناب “زیرِ اعظم“  ۔ ۔ ۔  انکا کہنا ہے کہ وہ عظیم تر اعظم کے زیر اثر ہیں  ۔ ۔ ۔
جی گھرداری صاب اجازت ہے  ۔  ۔
جی میں ایک غزلا پیش کرنے کی اجازت چاہوں گا  ۔ ۔ ۔ (گھر داری کی طرف اشارہ کر کہ )
انکی باتیں سچی ہیں انکا وعدہ سچا ہے انکا ارادہ سچا ہے 
سچا ہے انکا آنا جانا سچا ہے بس سچا ہے انکا دعویٰ سچا ہے
مگر
وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو !!!!
(سب نے تحسین کا شور مچا دیا )
نوازش  ۔  ۔۔  جی شکریہ
وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو !!!
وہ باتیں ہی کیا جو باتیں نہ ہوں
وہ ارادہ ہی کیا جو پورا ہو
ہو دعویٰ ہی کیا جو ادھورا ہو !!!!!
 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ایک چھوٹی سی نظم ہے “ہم تماشا دیکھیں گے “
تم گھوڑے لاؤ ہاتھی لاؤ
تلوار چلاؤ یا تفنگ چلاؤ
ہم تمہارا ڈھول و تاشا دیکھیں گے
تم کرو تو سہی ہم تماشا دیکھیں گے
بندے ہمارے ہونگے ، حملے تمہارے ہونگے
الفاظ تمہیں بھیجو گے ، جملے ہمارے ہونگے
بارود کی سیاہی کی ہم بھی بھاشا دیکھیں گے
تم کرو تو سہی ہم تماشا دیکھیں گے
میں سید ، میرا شہر ولیوں کا
تم کافر ، یہ ملک ہے بل یوں کا
قربان ہونے والوں کا اک دن لاشا دیکھیں گے
تم کرو تو سہی ہم تماشا دیکھیں گے
————–
واہ واہ  ۔ ۔ ۔ کیا بات ہے پی ایم صاب کی  ۔ ۔  اب میں اپنے صدر مشاعرہ جناب بُش ٹیکساسوی سے انکے مدبرانہ کلام کا خواستگار ہوں
( سب شعراء کھڑے ہو کر انکے لئے تعظیم دے رہے ہیں )
ویل ہم ٹمارے پوٹری سے بہت ہیپی ہوئے ہیں  ۔ ۔ ۔  اس لئے ہم نے ٹمارے واستے یہ پوئیم لکھے ہیں  ۔ ۔ ۔
 
ٹوئنکل ٹوئنکل بُش سرکار
باقی سب کچھ ہے بے کار
اپ اینڈ اپ ، ورلڈ سے ہائی
اپنی دھرتی ہے اپنا سکائی
ایک ڈوسرا پوئم ہے جو ٹمارے کلین شیو مولانا اقبال نے لکھا ہے ہم کو بہت پسند ہے
 
 
ایک ہیں مُسلم ، بُش کی مہربانی کے لئے
عراق سے لے کر تابخاک باجوڑ و قندھر
ہر ٹائم پے مسلم کی نئی آن نئی شان
ٹیرررسٹ ہیں سب کے سب یہ مسلمان
ایران و افغان ۔ عراق اور پاکستان
یہ چار ممالک میں رہتے ہیں مسلمان
یہ راز سبھی کو ہے معلوم کہ بُش بھی
امریکی نظر آتا ہے حقیقت میں ہے طالبان
(سب نے بہت اصرار کر رہے کہ بُش مزید کلام سنائیں )
میں کل چلا جاؤں گا تو تو کیا کرے گا
میں یاد بہت آؤں گا تو تو کیا کرے گا
میرے جیسا کون ہے ، یہ تمہیں نہیں پتا
مے کین نام ہے ، اوبامہ نہی ہے ایسا
وہ صدر بن جائے تو تو کیا کرے گا
میں یاد بہت آوں گا تو تو کیا کرے گا
 ۔۔ ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ایک لاسٹ پوئم سناٹا ہے ٹم کو جو گالب کے کلر میں ہے
دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی ، پیس کے رات دن
بیٹھے رہیں فلمیں نئی دیکھتے ہوئے
جنوری میں عراق کو زیر کریں
فروری میں ہم افغانیوں سے لڑیں
مارچ کی گرمیوں میں ایران سے الجھیں
اپریل میں ہم کوریا سے کہیں
موسموں کی طرح بیاں بدلتے رہیں
دل ڈھونڈھتا ہے پھر وہ   ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مئی میں ، طالبان کی ، دھمکیاں سنیں
جون میں پاکستان کو ، دھمکیاں دیں
جولائی میں انڈیا سے معاہدے کریں
اگست میں چائنا سے جا بھڑیں
پبلک کو بریکنگ نیوز دیتے ہی رہیں
دل ڈھونڈھتا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ستمبر میں نائین الیون کو منائیں
اکتوبر میں تیل کو بہا ئییں
نومبر کی دوپہر میں عربوں سے ملیں
دسمبر میں اسرائیل سے چلیں
دنیا میں امن کو مٹا تے ہی رہیں
کون کہتا ہے یہ ہمیں فرصت ہے ہمیں
مونگ سارے جہاں کے سینے پر دلیں
۔ ۔  ۔ ۔ ۔ ۔
واہ واہ  ۔ ۔ ۔ ۔
دوستو آپ کی سماعتوں کا بہت شکریہ  ۔ ۔ ۔  ۔۔
اور اب یہ مشاعرہ اپنے اختتام پر پہنچتا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Advertisements

One response to this post.

  1. Posted by Mera Pakistan on اکتوبر 10, 2008 at 8:28 شام

    کافی عرصے کے بعد ایک مزیدار پوسٹ پڑھنے کو ملی ہے۔ لگے رہو بھیا۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: