اجتماعی توبہ

 
ماہ رمضاں آیا اور گیا  ۔۔ ۔  مسلمانوں نے عبادتیں کیں دعائیں مانگیں اپنے اچھے مستقبل کی اپنی اولاد اور اپنی صحت کی ہر طرح کی  ۔ ۔ ۔  ہاں ساتھ ساتھ مجاہدین کی کامیابی کی بھی دعائیں مانگیں گئیں  ۔ ۔۔  پتہ نہیں یہ مجاہدین کون ہیں کہاں ہیں  ۔ ۔۔ ۔  اب رمضان جب ختم ہو رہا ہے تو عید کی خوشیاں لا رہا ہے  ۔ ۔ ۔   میں سوچ رہا ہوں کہ کیا واقعٰی ہی اس عید پر ہمیں خوشیاں منانی چاہیں ؟
کل پاکستان میں ستائیسویں شب تھی ، تمام چینلز نے اجتماعی دعا کروائی  ۔ ۔ ۔ لوگ روتے ہوئے دیکھے گئے  ۔ ۔  ۔  کچھ لوگوں نے اجتماعی توبہ بھی کی  ۔۔ ۔ مگر کیا واقعٰی ہی ایسا ہی کیا ہے ہم نے  ۔ ۔ ۔ ؟؟؟  کہا جاتا ہے کہ ہمیں نیت پر شک کرنے کا کوئی حق نہیں ، بات تو ٹھیک ہے مگر  ۔ ۔  کیا کریں  ۔۔  میں برسوں سے ایسی ہی دعائیں سنتا دیکھتا اور مانگتا آ رہا ہوں  ۔ ۔ ۔   مگر کوئی دعا بھی اثر نہیں کرتی   ۔  ۔ نہ قبول ہوتی ہے  ۔ ۔ ۔ ہر رمضان کے بعد ہم پھر وہ ہی شب و روز میں مصروف ہو جاتے ہیں  ۔ ۔ ۔  رمضان  ۔ ۔ ۔ ہمارے لئے بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی بچے کو چھٹی کا دن اور خاصکر جب آدھی چھٹی پوری ہو جاتی ہے  ۔ ۔۔ ۔ ۔ 
اس دفعہ جو لفظ بار بار سننے میں آیا وہ تھا اجتماعی توبہ  ۔ ۔  ۔  میں نے مسجدوں میں دیکھا لوگوں نے کی توبہ  ۔ ۔ ۔ مگر صرف ان کمزوروں نے ان معذوروں نے جن کے پاس شاید گناہ کرنے کا وقت ہی نہیں ہے اور نہ ہی طاقت  ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو گناہ وہ کر رہے ہیں انہیں وہ کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے  ۔ ۔ ۔  مجھے معلوم ہے بہت سارے میری اس بات سے متفق نہیں ہونگے مگر جس تن لاگے وہ ہی جانے  ۔ ۔ ۔
مجھے سب سے زیادہ اعتراض شاید عامر لیاقت پر ہوتا مگر کیا کروں وہ تو میڈیا کا بندہ ہے ، اسے شو آف کرنا ہی پڑتا ہے ، مگر اس ائیر کنڈیشنڈ ہال میں بیٹھے سیکڑوں لوگ جو رو رہے تھے  ۔۔ ۔ کاش ان میں سے ایک بھی  ۔۔  ۔  وہ سب کچھ کر پائے جو وہ مانگ رہا تھا  ۔ ۔ ۔  کاش رمضان کو صرف عبادتوں کا مہینہ نہ سمجھا جائے بلکہ آنے والے سال کے لئے زندگی گذارنے کی پریکٹیس ہے  ۔ ۔ ۔  مگر کیا کریں  ۔ ۔  ہم تو ایسے ہی ہیں  ۔ ۔ ۔ ہمیں ایک دم سے سب کچھ چاہیں  ۔ ۔۔ اپنی غلطیوں کا مداوا بھی اور زندگی کی آسائیش بھی  ۔ ۔ ۔  ہمارے ذھنوں میں بٹھا دیا گیا ہے  ۔۔  ۔ کہ ہم نے اس مہینے کی عبادت سے اگلے سالوں کی عبادتوں کا اسٹاک کر لیا ہے  ۔ ۔  اس مہینے رو دھو کر آنے والے دنوں میں صرف ہنسے کی گارنٹی لے لی ہے  ۔ ۔ ۔  اس مہینے میں جو پڑھ پڑھا لیا ہے جو دے دلا دیا اس نے ہمیں آنے والے گیارہ مہینوں کی گارنٹی دے دی ہے  ۔ ۔  ۔ ابھی جو توبہ کی ہے  ۔  ۔ وہ اب آئیندہ نہیں تو کم سے کم اگلے رمضان تک ویلیڈ ہے  ۔ ۔ ۔  یہ ہماری سیف شیلڈ ہے جس نے ہمیں وہ سب کرنے کی اجازت دے دی ہے جو ہم رمضان میں کرنے سے توبہ کرتے رہے  ۔ ۔ ۔
ذرا ایک بار بس ایک بار اپنے آپ کے سامنے بیٹھ کر اپنی اسکروٹنی تو کریں  ۔ ۔ ۔  کیا ہمیں بھوکے کی بھوک کا اندازہ ہوا  ۔ ۔۔ کیا پیاسوں کی پیاس کا اندازہ ہوا  ۔ ۔ ۔ کیا نیند کی لذت کو قربان کر کہ ہم نے ان جاگتی آنکھوں کو جانا ہے جن کی نیند اور سکھ چین لوٹ لیا گیا ہے  ۔ ۔ ۔ کیا اعتکاف کی صورت میں بیٹھ کر ہمیں اندازہ ہوا ہے کہ صرف اور صرف اللہ کے سہارے لوگ کیسے رہ رہے ہیں ؟؟ اور کیا ہم نے اپنے مال کو ایسے مصرف میں دیا ہے کہ جس سے دنیاوی منفعت کی توقعٰی نہیں ؟؟ کیا ہم نے کسی انجان شخص کو گلے لگایا ہے اسکے آنسو پونچھے ہیں  ۔ ۔  ۔ ۔
اگر ایسا کچھ نہیں کیا  ۔ ۔  اور اگر کیا بھی ہے تو صرف رمضان کے احترام کی وجہ سے مجبوراً تو پھر ہم نے کچھ نہیں کیا  ۔ ۔۔   جیسے ایک نماز سے دوسری نماز کے درمیان اللہ کی اصل عبادت اور اسکی اطاعت کا امتحان ہوتا ہے  ۔ ۔  ۔ اسی طرح ایک رمضان سے دوسرے رمضان کے درمیان بھی اس سے زیادہ کٹھن امتحان ہوتا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔
آج ہماری پوری قوم اجتماعی توبہ تو کر رہی ہے ، مگر کیا واقعٰی ہی یہ توبہ آنے والے دنوں میں قائیم رہے گی  ۔ ۔ ۔ کیا اس توبہ کو کرنے کی زیادہ ضرورت ہمارے امراء ، وزراء اور افسران کو عام لوگوں سے زیادہ نہیں ؟  میں نے کسی بھی دعا میں امراء اور وزراء کو اجتماعی توبہ کرتے کیا دعا مانگتے نہیں دیکھا  ۔۔ ۔ شاید انہیں اسکی ضرورت ہی نہیں  ۔ ۔۔ ۔!!!!!
میں نہیں کہتا کہ آپ کوئی عہد کریں اپنے آپ سے  ۔  ۔ ۔ ہر انسان اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے ، مگر اب ہمیں انفرادیت سے ہٹنا پڑے گا  ۔ ۔  ۔ میرا انفرادی عمل کتنے ہی اجتماعی عملوں کو متاثر کرتا ہے یہ میں بھی جانتا ہوں آپ بھی  ۔ ۔ ۔
یقین کریں جس دن ہم نے اجتماعیت کو سمجھ لیا ہم دنیا کی بہترین قوم ہونگے ، آئیے ہم اللہ سے یہ وعدہ کریں کہ ، عبادات ہماری صرف ہمارے لئے ہونگی اور اعمال دوسروں کے لئے  ۔ ۔ ۔ کیونکہ ہمارے اعمال سے ہی دوسرے متاثر ہوتے ہیں اچھے بھی برے بھی  ۔ ۔ ۔ یاد رکھیے اللہ شاید ہماری عبادات کی کوتاہی کو معاف کر دے مگر ہمارے عملوں کو جنکی وجہ سے دوسرے متاثر ہوتے ہیں کبھی معاف نہ کرے  ۔ ۔ ۔ ۔ چاہے ہم کتنی ہی توبہ کیوں نہ کر لیں  ۔ ۔  ۔  اس رمضان کو ہمیں اپنا ٹریننگ پیریڈ سمجھنا چاہیے اور اس ٹریننگ کو آنے والے ہر پل میں یاد رکھنا چاہیے  ۔ ۔ ۔  تا کہ اگلے رمضان میں ہم اللہ کے آگے عبادات کا “انبار“ لگائیں ۔ ۔ ۔ تو اسکے ساتھ یہ سکون بھی ہو کہ ہم نے ہر ممکن کوشش کی تھی کہ ہمارے ذاتی یا اجتماعی عمل سے کسی کو دکھ نہ ہو نہ نقصان ہو  ۔۔ ۔  ۔ یقین کریں پھر توبہ ضرور قبول ہو گی  ۔ ۔ ۔ ۔ اور حالات بھی بدلیں گے  ۔  ۔   اور عید کی خوشیاں بھی سچی ہو جائیں گیں  ۔  ۔ ۔
اللہ مجھے ، آپکو اور ہم سب کو معاف کرے ، اور ہمیں توفیق دے کہ ہم ایسے مسلمان بنیں کہ جیسا اللہ ہمیں بنانا چاہتا ہے  ۔۔ ۔ (آمین)
Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by Mera Pakistan on ستمبر 28, 2008 at 10:21 شام

    آمین ثم آمین آپ نے ہمارے دل کی بات کہ دی، شکریہ

    جواب دیں

  2. Posted by Iftikhar Ajmal on ستمبر 29, 2008 at 2:01 صبح

    ہم لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ ہم لوگ کہتے تو سب اچھا ہیں مگر کرتے اس کا اُلٹ ہیں ۔ مجھے کوئی بیس سال پرانی بات یاد آئی ۔ کوئ صاحب فوت ہو گئے تھے اور انہیں دفن کرنے قبرستان گئے ۔ فارغ ہو کر واپس چلے تو قبرستان کے گیٹ پر ایک ساتھی بولے " بس یہ حد ہے ۔ اس سے اندر ہم بہت اچھے مسلمان ہو جاتے ہیں اور اس سے باہر نکلتے ہی ہم شیطان کے شاگرد بن جاتے ہیں"

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: