جنت کی آگ

میں ایک جنتی ہوں  ۔ ۔ ۔ کچھ ہی دیر پہلے میں نے جنت میں قدم رکھا ہے ، میرا استقبال میرے سے پہلے آنے والوں نے کیا ہے ، انکے چہرے روشنی ہے  ۔ ۔ ۔  مجھے یقین آ گیا کہ میں نے جو کچھ کیا وہ بہت ہی نیک کام تھا  ۔۔ ۔ اسی لئے تو مجھے اتنی پزیرائی مل رہی ہے  ۔ ۔ ۔  مگر میں نے تو اور بھی بہت کچھ سُن رکھا تھا کہ میرا استقبال جلیل القدر ہستیاں کریں گیں ، وہ ہستیاں جنکے دیدار کے لئے  دنیا کی زندگی میں میں نے کیا کیا عبادتیں نہ کیں  ۔ ۔ ۔ ۔ میری عبادتوں کا صلہ ضرور ملے گا  ۔ ۔۔  اور میں نے اپنی جان تک ایک عبادت کے لئے دی  ۔ ۔ ۔  میری زندگی جہاد کرتے گذری  ۔ ۔ ۔  اور موت بھی شہادت کی پائی  ۔ ۔ ۔۔  مجھے اپنی دنیاوی زندگی یاد آنے لگی
میں نے جب گریجیویشن کیا تو سب کی طرح مجھے بھی نوکری نہیں ملی ، مجھ سے کہا گیا کہ میں وظیفہ کروں تو مجھے ضرور نوکری ملے گی  ۔ ۔ ۔۔ میں نے ہر طرح کے وظائف پڑھے مگر کچھ نہ ہوا اور ایک دن مجھے مسجد میں ایک بہت ہی نورانی صورت والے جوان نے کہا کہ زندگی کا مقصد نوکری نہیں ہونا چاہیے ، نوکری تو دنیاوی فائدے کے لئے کی جاتی ہے ، اس نے مجھے بتایا کہ ہم پڑھے لکھے جوانوں کے ساتھ کتنا ظلم ہو رہا ہے اور ساری دنیا کی برائی ہی یہ دنیا کی لذت ہے  ۔  ۔۔ اسنے مجھے ایک بامقصد زندگی کی آفر کی اور پھر میں ایک جہادی تنظیم کا رکن بن گیا  ۔ ۔ ۔ میرے والدین نے بہت مخالفت کی  ۔۔ ۔ مگر مجھے حق کی راہ مل چکی تھی  ۔۔ ۔ ۔ پھر میں نے سوچا کہ اگر نوکری صرف زندہ رہنے کے لئے کرنی ہے تو بہتر ہے جہاد کیا جائے روٹی تو اللہ دے ہی دیتا ہے   ۔ ۔ ۔ ۔
میرے رہبروں نے مجھے کھانے پینے کی فکر سے آزاد کر دیا ، مجھے تین وقت کا کھانا ملتا تھا ساتھ میں دھلے دھلائے کپٹرے بھی  ۔۔  ۔ ۔ میری زندگی کا پل پل عبادت میں گذرنے لگا  ۔ ۔۔ ۔ پھر مجھے اسلحے کا استعمال سکھایا گیا  ۔۔ ۔ ۔ دنیا کے جدید ترین اسلحے کی سمجھ دی گئی  ۔۔ ۔۔  میں نے کتنے ہی معرکوں میں حصہ  لیا  ۔ ۔ ۔ پہلے میں نے سوچا کہ شاید میں اپنوں کے خلاف لڑنے جا رہا ہوں مگر پتہ چلا کہ میرے اپنے صرف وہ ہیں جو میرے نظریہ زندگی کو مانتے ہیں  ۔ ۔  ۔ اور باقی لوگ تو ویسے بھی بے حس ہیں ، اگر وہ مارے بھی جائیں تو کیا فرق پڑے گا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مگر ایک دن میرے رہبر کے قلعے پر ہوائی حملہ ہوا اور میرے بہت سارے ساتھی شہید ہو گئے  ۔ ۔ ۔ ۔  تب ہمیں رہنمائی کرنے والوں نے کہا کہ دشمن بہت طاقتور ہے اور ہمارے پاس فضائی طاقت نہیں اسلئے  ۔ ۔ ۔ ہم خود کو ہتھیار بنا لیں  ۔ ۔ ۔ ۔ اور دشمن کو تہ و بالا کر دیں  ۔ ۔  ۔ ۔  پھر ایک ایک کر کہ ہم نے شہروں میں خود کو اڑا لیا  ۔ ۔ ۔ ۔  جنت اتنی سستی ہو گی میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا  ۔ ۔۔ ۔اور پھر آج جب میں نے خود کو ایک بھرے بازار میں بارود سے اڑا لیا  ۔ ۔ ۔ تو میں جنت میں آ گیا  ۔۔ ۔ ۔ جہاں میرے سارے ساتھی موجود تھے  ۔ ۔ ۔ ۔ انکے چہرے چمک رہے تھے  ۔ ۔ ۔  میں انکی طرف بے تابی سے بڑھا تا کہ انہیں اپنے گلے سے لگا سکوں  ۔ ۔ ۔ مگر یہ کیا  ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب تو مٹی کے پتلے تھے  ۔ ۔۔  اور مٹی بھی جلتی ہوئی مٹی  ۔ ۔۔ ۔ انگارہ جسم تھے انکے اور پھر میں بھی جلنے لگا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  جانے کہاں سے ایک آواز آ رہی تھی   ۔ ۔  ۔ ۔ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر میں نے تو جہاد کیا تھا  ۔ ۔  ۔  جہاد نہیں فساد کیا تھا تم نے  ۔ ۔۔  ۔۔  تم فسادی ہو  ۔ ۔  ۔۔ تم نے اللہ کی زمین پر فساد پیدا کیا  ۔ ۔ ۔ تم نے بے گناہوں کو قتل کیا  ۔ ۔ ۔۔ تم نے اپنے ہی بھائیوں کو چیر پھاڑ کہ رکھ دیا  ۔ ۔ ۔ ۔ مگر میں تو نمازی تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ روزہ دار تھا  ۔ ۔  ۔ ۔ تمہاری نمازیں تمہارے منہ پر دے ماری جا رہی ہیں  ۔ ۔  ۔ تمہارے روزے فاقے تھے  ۔ ۔۔ ۔ ۔  مگر میں تو دین کی تبلیغ کر رہا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں تم دین کی تبلیغ نہیں کرتے تھے تم انتشار پھیلاتے تھے  ۔ ۔ ۔ فساد پیدا کرتے تھے  ۔ ۔  ۔ اللہ نے تمہیں نرم خوئی کو کہا تھا تم شعلہ بیان بنے  ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ نے تمہیں درد دل رکھنے کو کہا تھا تم درد دینے والے بن گئے  ۔ ۔ ۔ ماؤں سے بیٹے ، بیویوں سے شوہر اور بہنوں سے بھائی چھین لئے  ۔۔ ۔ ۔  تم درویش کے بھیس میں شیطان ہو  ۔ ۔ ۔ اور تم جیسوں کے لئے جلتی آگ ہی جو تمہیں قیامت تک جلائے گی  ۔ ۔۔  ۔ زمیں پر فساد برپا کرنے والوں کا انجام یہ ہی ہے  ۔ ۔ ۔ 
ان آوازوں کے ساتھ ہی میرا جسم آگ کا شعلہ بن گیا  ۔  ۔ ۔  اور مجے جلتے تیل میں گرا دیا گیا  ۔ ۔۔ ۔ مجھے ہر اس اذیت کو سہنا ہے قیامت تک جو میری نادنیوں کی وجہ سے بے گناہوں پر بیتی  ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے معافی کا سوچا  ۔ ۔  ۔ مگر وقت گذر چکا ہے  ۔ ۔ ۔ مگر اے کاش میں اپنے ان ساتھیوں کو بتا سکتا کہ انکے پاس ابھی معافی کا وقت موجود ہے ابھی بھی وہ اللہ کے راستے پر چل سکتے ہیں  ۔۔ ۔ ۔  میں چلاتا ہوں  ۔ ۔ ۔ مگر کوئی نہیں سنتا  ۔ ۔ ۔  اور ہر روز میں اپنے ہی کسی بھائی کو اسی آگ کے دریا میں جلتے دیکھ رہا ہوں  ۔ ۔  ۔ ۔ اور یہ صدا لگاتار آتی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔  ایک بے گناہ انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Advertisements

5 responses to this post.

  1. Posted by ماوراء on ستمبر 20, 2008 at 9:24 شام

    کاش یہ سب ہمارے جہادی بھائی سمجھ سکیں۔ اللہ ہم سب پر رحم کریں اور ہدایت دے۔ آمین۔ویسے لکھا بہت اچھا ہے۔:)

    جواب دیں

  2. کاش یہ سادہ سی بات ان لوگوں کی بھی سمجھ آسکتی جو معصوموں کی جان کے بدلے جنت کی خواہش رکھتے ہیں۔

    جواب دیں

  3. Posted by Mera Pakistan on ستمبر 21, 2008 at 2:17 صبح

    کاش آپ کی بات ان کو بھی سمجھ آ جائے جو غیرمسلموں کی جنگ کو اپنی جنگ سمجھ رہے ہیں اور ان کی خاطر اپنی جانیں بھی گنوا رہے ہیں اور اس کے بدلے معصوموں کو بھی مروا رہے ہیں۔

    جواب دیں

  4. بہت خوب اظہر۔

    جواب دیں

  5. Posted by Azhar Ul Haq on ستمبر 22, 2008 at 5:30 شام

    زیک بہت شکریہ ، آپ کی تعریف میرے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے ، اللہ آپکو خوش رکھے
    میرا پاکستان ، بس یہ ہی مسلہ ہے کہ ہم غیروں کے ہاتھوں کا کھلونا ہیں  ۔ ۔  ۔ وہ جب چاہتا ہے کھیلتے ہیں جب چاہیں توڑ دیتے ہیں
    راشد بات سمجھ میں آتی ہے مگر جذبات اس سمجھ پر حاوی ہو جاتے ہیں
    ماروا ، جہادی بھائی کوئی اور نہیں ہم میں سے ہی ہیں ۔ ۔  ۔ ۔ آپکی پسندیدگی کا شکریہ

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: