ہمارا اپنا رنگ

زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہماری فلموں میں بدمعاشوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے ، جو جتنا بڑا بدمعاش ہے اتنا ہی بڑا ہیرو ہے ، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ٹرینیڈ شاید سلطان راہی کی مولا جٹ نے شروع کیا تھا مگر بہت سارے لوگ ہماری خاموش فلموں کے مظہر شاہ کو بھول جاتے ہیں  ۔ ۔ ۔  ہمارے یہاں کی پہلی فلم (یعنی ہندوستان کی ) راجہ ہریش چندر تھی  ، جو خاموش فلم تھی ، یہ ایک ہندو راجے کی کہانی تھی  ۔ ۔ ۔ مگر ہماری پہلی بولتی فلم عالم آرا تھی یہ ایک اسلامی مذہبی فلم تھی  ۔ ۔ ۔۔ جسکی قوالیاں آج بھی مقبول عام ہیں  ۔۔ ۔ پھر تو جیسے برصغیر میں کہانیوں کا طوفان آ گیا  ۔۔ ۔۔  کبھی یہ مذہبی تھیں کبھی اخلاقی کبھی صرف ناچ گانا  ۔ ۔ ۔  مگر سیاست کو اس میڈیا میں اتنا ڈسکس نہیں کیا گیا ، حتہ کہ آزادی کی تحریک بھی فلموں کی کہانیوں کو ایسے متاثر نہ کر سکی جیسے دوسری جنگ عظیم کے دوران ہالی وڈ نے پراپگنڈا فلموں کا انبار لگا دیا  ۔ ۔ ۔ مگر ہمارے ہاں کے لوگ  ۔  ۔ ۔ جوار بھاٹا ، انمول گھڑی ، جگنو  یا بغداد کے چور اور مغلیہ سلطنت کے کارناموں پر ہی ڈبے کے ڈبے خرچتے  چلے گئے  ۔ ۔ ۔
برصغیر میں آزادی کے بعد جب ہندوستان اور پاکستان میں جذبات عروج پر تھے ، بیداری اور گنگا کی دھرتی جیسی فلموں کا آغاز ہوا  ۔ ۔ ۔ ہندوستان میں مدر انڈیا اور پاکستان میں جاگتے رہو جیسی فلمیں بھی بنی  ۔ ۔ ۔ مگر سیاست کا صرف ایک ٹچ دیا جاتا تھا ، مگر پھر برصغیر میں سیاست کا عروج ہوا اور بھارت میں لیڈر اور پاکستان میں سیاست جیسی فلمیں بھی بنیں  ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان میں اسلام کے بارے میں فلموں کا دور آیا اور بھارت میں سیکولر ازم کا پرچار ہونے لگا  ۔ ۔ ۔ 
فلموں میں پیغام دیا جانے لگا  ۔ ۔ ۔ ۔  مگر ہماری قوم نے اس پیغام کو تفریح کی شگر کوٹڈ گولی سمجھ کر نگل لیا اور سب بھول گئے  ۔ ۔ ۔ جب ٹی وی آیا  ۔ ۔ ۔  تو فلم کی روایت کو اپنایا اور تھیٹر کا انداز بنایا  ۔ ۔ ۔ ۔ قوم کو پہلے تفریح کے لئے باہر نکلنا پڑتا تھا اب گھر میں ہی سب کچھ آ گیا  ۔ ۔۔ ۔  فلم کا اثر دو تین گھنٹے کا ہوتا تھا ، مگر ٹی وی کی سیریلز نے اسے ہفتوں پر محیط کر دیا ۔  پاکستان ٹی وی نے اردو بولنے اور سمجھنے والوں کے دل موہ لئیے  ۔۔ ۔ ۔  سعادت حسن منٹو ہو یا خواجہ ناظم الدین جیسے کہنہ مشق فنکار   ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مرزا غالب بندر روڈ پر اور تعلیم بالغاں جیسے طنز ہوں یا پھر خدا کی بستی اور انکل عرفی جیسی سماجھی کہانیاں  ۔  ۔  پاکستان کے ٹی وی نے معاشرے کا عکس منعکس کر دیا  ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر فلم اور ٹی وی میں واضح فرق آ گیا  ۔ ۔۔  ۔ کہاں زرقا ، شہید  جیسی فلموں کا زمانہ تھا اور کہاں  ۔ ۔ ۔  فلم کو مکمل طور پر رومانس کے دور میں لے آیا گیا  ۔ ۔  ۔ بے شک ارمان ، کنیز اور سات لاکھ اور آئنیہ جیسی فلمیں ٹی وی کے دور کی ہیں مگر یہ ٹی وی کے سحر کو کم نہ کر سکیں  ۔ ۔ ۔ ۔ اور ٹی وی ہمارے معاشرے کے دکھ سکھ کا ساتھی بن گیا  ۔ ۔ ۔
مگر یہ کیا  ۔ ۔ ۔ ہوا  ۔  ۔  ادھر وی سی آر آیا ادھر ہماری قوم سینما سے دور ہونے لگی  ۔ ۔ ۔ ۔  اور بڑی سکرین کا مزہ چھوٹی سکرین میں سما گیا ۔ ۔ ۔ ۔  پھر جیسے ہمارے ٹیلنٹ کو زنگ لگنا شروع ہوا  ۔ ۔ ۔ ۔  رہی سہی کسر ڈش نے پوری کر دی  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم غیروں کو اپنوں پر ترجیع دینے لگے   ۔ ۔ ۔  ہمارے لکھاری  ۔۔ ۔  ہمارے موسیقار ، ہمارے شاعر  ۔ ۔۔ ۔ ۔  اپنی مٹی کی خوشبو کو اپنی تخلیقات سے الگ کر کے لے گئے  ۔ ۔ ۔ ۔  پھر ٹی وی چوبیس گھنٹے کا ہو گیا  ۔۔  ۔ چینلز کی بھرمار ہو گئی  ۔ ۔ ۔  ہر ایک اپنے اپنے رنگ میں سب کو رنگنا چاہتا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ اور ہماری قوم  ۔ ۔ ۔  جو رنگ برنگے پھولوں کا گلدستہ تھی  ۔ ۔۔ ۔  ایک بے ترتیب سی جھاڑی میں بدل گئی  ۔ ۔ ۔ ۔
اب ہمارے لکھاری قوم کے لئے نہیں لکھتے ، بلکہ قوم سے لکھواتے ہیں  ۔ ۔ ۔ اور قوم ہے کہ ہر دن نیا ڈرامہ لکھے جا رہی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ہم وہ کوے ہیں جو ہنس کی چال چلنا چاہتے ہیں اور اپنی بھول چکے ہیں  ۔ ۔ ۔ اب کوئی جالب نہیں ہے ہم اب کوئی فیض نہیں ہے  ۔ ۔ ۔  اب ہم اپنا منہ کھولنے کے سکے لیتے ہیں  ۔ ۔ ۔ عہدے لیتے ہیں اور پھر منہ بند کر لیتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔
ہمارے کھیل تماشے کمرشل ہیں  ۔  ۔  ہماری میڈیا ہماری قوم کا ترجمان نہیں ہے ، وہ صرف اس ایک فیصد سے بھی کم طبقے کے اوپر ڈرامے بناتا ہے جسے ملک کی نوے فیصد آبادی جانتی ہی نہیں  ۔  ۔ ۔ ۔  اسی لئیے ہمارے ساتھ وہ کچھ ہوتا ہے جو ہم سوچ بھی نہیں سکتے
ہونے کو تو ہماری قوم کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے ، اسکے افراد کو غیر اقوام کے ہاتھ بیچا جا سکتا ہے ، اسے کبھی انتہائی مذہبی اور کبھی انتہائی سیکولر بھی بنایا جا سکتا ہے ، اس قوم کے ملک پر اندر سے بھی مارا جا سکتا ہے باہر سے بھی ، کوئی بھی لچا لفنگا جسکے پاس حرام کا پیسہ ہو اس ملک کا حکمران بھی بن سکتا ہے  ۔ ۔ ۔ اور اپنی دولت میں اضافہ کر سکتا ہے  ۔۔۔ ۔
مگر کیا اب بھی ہم اس دور میں واپس جا سکتے ہیں ، جہاں ہماری تفریح کے موضوعات چاہے کتنے ہی تنازع کے حامل کیوں نہ ہوں ، ہم انہیں سنتے تھے ، ہمارا ٹی وی منٹو کا مقدمہ چلاتا تھا  ۔ ۔۔  ہماری فلموں میں رنگینی تھی ، گیت تھے  ۔  ۔ ہم ریڈیو پر آپ کی فرمائش سنتے تھے  ۔۔۔ ۔۔ احمد رشدی ، مالا ، اخلاق احمد  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسی آوازیں تھیں ، روبن گھوش ، بابا چشتی جیسے موسیقار تھے ، مسرور انور اور قتیل شفائی جیسے نغمہ نگار تھے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وحید مراد ، زیبا جیسی جوڑی تھی  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کیا اس شور کے زمانے میں وہ سکون کا زمانہ واپس نہیں لایا جا سکتا ؟  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شاید اب بھی وقت ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  دلوں پر اثر کرنے والی تحریر لکھی جانی چاہیے ، گنگنائے جانے والے گیت بنانے چاہییں  ۔ ۔ ۔ ۔ سڑکوں کو سنسان کرنے والے کھیل بھی ہونے چاہیے  ۔ ۔ ۔ مگر یہ  تب ہی ممکن ہے جب  ۔۔  ہم سب ایک ہی رنگ میں رنگے ہیں  ۔ ۔ ۔ جو ہمارا اپنا رنگ ہے  ۔ ۔ ۔ اس دیس کی مٹی کا رنگ ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ جو ایک ہی رنگ ہے اور وہ رنگ ہے  ۔  ۔ ۔ پاکستان  ۔ ۔ ۔  ہمیں خود کو پاکستانیت کے رنگ میں رنگنا پڑے گا  ۔ ۔ ۔ ورنہ ہم ایک اجڑے چمن کے باسی بن کہ رہ جائیں گے ۔۔۔ اور “میرے مطابق“ موجودہ خلفشار کا ایک حل بھی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ ہمیں سمجھنے کی توفیق دے (آمین)
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: