کنگ اِز سنگھ

کہا جاتا ہے کہ دنیا میں فساد کی جڑ یہ تین عناصر ہیں ، یعنی ، زر ، زن ، زمین  ۔ ۔ ۔ مگر اسی کا الٹ بھی یہ سمجھا جاتا ھے کہ دنیا میں اگر امن چاہیے تو وہ صرف از صرف زر ، زن اور زمین سے ہی ہو سکتا ھے  ۔ ۔ ۔
 
ہمارے دیس میں ان دنوں “زر“ کا بہت چرچا ہے ، اور یہ “زر“ ایک “زن“ کی وجہ سے مشہور ہے اور اب تو اس “زر“ کو “زن“ کی قربانی سے “زمین“ بھی مل گئی ہے  ۔ ۔ ۔  باپ تو تھا ہی “حاکم“ بیٹا بھی بن گیا  ۔ ۔ ۔
 
 
ہمارے دیس کے لوگ بہت بھولے ہیں ، زرداروں کو حکومت دیتے ہیں ، یوسف کو “چاہ“ سے نکال کر منصب پر بیٹھا دیتے ہیں ، “رحمان“ کے سہارے امن قائم کرتے ہیں اور “تاثیر“ کی پُراثر باتوں پر فلسفے بگھارتے ہیں
ہم  ۔ ۔  ۔ ۔ ہم بہت عجیب قوم ہیں ، بے چینی ہماری فطرت ہے ، جہاں ہمیں سکون ملنا شروع ہوتا ہے ، ہم وہاں خودکُش حملے کر دیتے ہیں  ۔ ۔ ۔  بم دھماکوں کے یہ ڈھول ہم اپنے گلے میں ڈالے پیٹتے جا رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ اور رقص بھی کر رہے ہیں  ۔ ۔ ۔  مردہ ضمیر مردہ رہنماؤں کے مردہ بیانوں پر مَردود بن کر بیٹھ چکے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔  پیروں میں صیاد کی زنجیریں جنہیں ہم گھنگرو سمجھ کر بجائے جا رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ اور گائے جا رہے ہیں کہ “رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے “
 
 
یہ کارنامے ہیں ہمارے ، کون کہتا ہے ہم میں اتحاد نہیں  ۔ ۔ ۔  ہم ہر اس بات پر متفق ہیں  ۔ ۔ ۔  جو ہمیں مزید پستی میں لے جائے  ۔ ۔ ۔ پاتال تو کہیں دور رہ گیا ہے  ۔ ۔ ۔ ہم اپنے درد خود پیدا کرتے ہیں اور پھر اسی پر آہ و فغاں کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔
 
 
ہماری تاریخ بھی عجیب ہے ، ہم نے ہمیشہ جانے والے کو کوسا ہے اور آنے والے کو خوش آمدید کہا ہے  ۔ ۔ ۔  وہ “لیاقت“ سے لبریز ہو یا پھر کوئی “غلام“  ۔۔ ۔ ۔ “اسکندر“ ہو یا پھر بے صبرا “ایوب“  ۔ ۔ ۔ ۔  ملک کو دولخت کرنے والا “مجیب“ ہو یا  بابر عیش کوش کا داعی “آغا جی“  ۔ ۔ ۔ ۔ یا پھر عوامی “بھٹو“ ہو یا پھر اندھیروں بھرا “ضیاء“  ۔ ۔ ۔ ۔  وہ “دختر مشرق“ ہو یا پھر “شریف“ بیوپاری  ۔ ۔ ۔  اس ملک کا خسرو “پرویز“ ہو یا عزیز رکھنے والا “شوکت“  ۔ ۔ ۔ سب آتے جاتے رہے اور ہم صرف گردن گھما گھما کر انہیں “منصب“ دیتے رہے اور خود کو بے توقیر کرتے رہے  ۔ ۔ ۔ ۔
 
 
کیا اس لئے ہندوستان دولخت ہوا تھا ؟ کیا پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے والے ایسے لوگ تھے  ۔ ۔ ۔ ۔ کیا ان حالات کے ذمہ دار یہ چند گنے چُنے لوگ ہیں ؟  ۔ ۔۔  نہیں ہرگز نہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ اس ملک کا ایک ایک شہری  ۔ ۔ ۔ ایک ایک باسی ان حالات کا ذمہ دار ہے  ۔ ۔ ۔  ہماری وہ قوم ہے جو جہالت کے دور سے بھی پیچھے کی ہے  ۔ ۔ ۔ ہم اپنی بیٹیاں زندہ دفن کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔۔اور بیٹوں کو غیروں کے ہاتھوں بیچتے ہیں ۔۔۔۔۔  ہم اپنے ہی ہم وطنوں کو قتل کرنا عبادت سمجھتے ہیں  ۔ ۔ ۔  ۔ اپنا گھر جلانا ہمیں اچھا ہی نہیں بہت اچھا لگتا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ہم قوم نہیں ریوڑ ہیں  ۔ ۔۔ ۔۔  ۔ کچھ جنگھلی جانورں کا جنہیں جب بھی کوئی چاہے جیسے بھی چاہے ہانک لیتا ہے  ۔ ۔۔ ۔ ۔
 
 
آج میں خود کو قرون وسطیٰ کے اس بطل (نائیٹ) کی طرح سمجھ رہا ہوں ، جسکے جسم پر قسم قسم کے ہتھیار سجے ہوئے ہیں ، مگر وہ ان میں سے کوئی ہتھیار بھی استعمال کرنے کا ہنر نہیں رکھتا  ۔ ۔ ۔ ۔ میرے مخالف میرے اس “گٹ اپ“ کو “کلاؤن“ کا روپ سمجھتے ہیں اور ہنستے ہیں  ۔ ۔ ۔  اور میں پھر مزید بھونڈی حرکتیں کرتا ہے  ۔ ۔ ۔۔  اور اپنے مخالفوں سے کہتا ہوں  ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھو میرے پاس شاہین مزائیل ہے ، غوری مزائیل ہے ، میرے پاس الضرار ٹینک ہے ، میرے پاس تھنڈر ایٹین ہے ، میرے پاس آگستا ہے ، میرے پاس ایف سکسٹین ہے  ۔۔  ۔ اور سب سے بڑھ کر میرے پاس ایٹم بم بھی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔   مگر میرے ان “خطرناک“ کھلونوں سے کسی کو کوئی ڈر نہیں  ۔۔ ۔ ۔ امریکہ کو بھی نہیں ، اسرائیل کو بھی نہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ القاعدہ کو بھی نہیں ، طالبان کو بھی نہیں  ۔ ۔ ۔ ۔
اور ہاں  ۔ ۔ ۔ ہندوستان کو بھی نہیں  ۔ ۔۔ ۔ ۔ کیونکہ انکا “سنگھ اِز کنگ “ ہے  ۔ ۔ ۔ اور اب ہمارا “کنگ اِز سنگھ “ ہے  ۔ ۔ ۔ ۔
کوئی “میچ“ نہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ ہم نے یوم دفاع پر  ۔ ۔ ۔  یہ “دفعہ “ چار سو اکیاسی  “دفع“ ، “دفع“ کیا ہے !!!!!
Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by خاور on ستمبر 7, 2008 at 10:55 شام

    بہت اچخی تحریر ہے خاور کا لہجه محفلوں میں کچھ اسی طرح کا هوتا ہےآپ نے جو میزائیلوں کے نام لکھے غوری شوری والے تو جی اپ نے کیا دیکھے هیں ؟؟یه سب ایک پروپیگینڈا ہے عوام کے ـ ـ ـ آرتھ رکھنے کے لیے ـآپ دیکھ لینا پینسٹھ کی جنگ اور اکہتر کی لڑائی کی طرح جب ان کی حقیقت بھی اشکار هو گی تو قوم کا تراھ نکل جائے گا ـیاپھر کارگل کے فوجی جھوٹ تو اپ کو معلوم هی هیں ـباقی جی ایٹم بم مارچ دوهزار تین سے بحق وڈی سرکار ضبط هو چکا ہے ـاور وڈی سرکار اب ” گووانڈیوں ” کے ایٹم بم کو پالش وغیرھ کر کے دیکھا رهی ہے که جی پاک لوگ باز آؤ ـ

    جواب دیں

  2. Posted by Unknown on ستمبر 8, 2008 at 7:06 شام

    سرکار آپ نے نثر میں شاعری کردی وہ بھی نوحہ اور مرثیہ دونوں ہی آپ کے اندازِ سخن کو تکتے رہ گئے۔  بہت خوب انداز ہے
    رضوان

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: