آزادی کی کہانی – آخری قسط – تقسیم ہند

سائمن کمیشن نے ١٩٢٧ میں کچھ اور اصلاحات پیش کیں اور اسی سال مسلمانوں نے دہلی تجاویز پیش کیں جنہیں کانگریس نے پہلے منظور کیا اور پھر مسترد کر دیا جسکی وجہ سے مسلمانوں نے ایک پارٹیز مسلم کانفرنس بلائی اور ان حالات کا جائزہ لیا ، ١٩٢٨ میں جواہر لال نہرو نے اپنی مشہور رپورٹ پیش کی جو مسلمانوں کے خلاف جاتی تھی اسلئے مسلم لیگ نے اسے یکسر مسترد کر دیا اور یہاں سے ایک الگ سفر شروع ہوا کانگریس ہندؤں کی جماعت بن گئی اور مسلم لیگ مسلمانوں کی  ۔ ۔ ۔ گول میز کانفرنسوں میں بھی ہندوستان کی آزادی کی بات کی گئی مگر کوئی بھی حتمی فیصلہ نہ ہو سکا  ۔ ۔ ۔
١٩٣٥ میں جو قانون بنا اسکے مطابق کانگریس اور مسلم لیگ کو وزارتیں ملیں مگر کانگریس نے یہ حکومت نہ چلنے دی اور آخر ١٩٤٠ میں لاہور کے جلسے میں مسلم لیگ نے علاحدہ وطن کا مطالبہ کر دیا  ۔ ۔ ۔ ۔
ہندو اخبارات نے اسے قراداد پاکستان کا نام دیا جو آگے چل کر سچ ثابت ہوا اور دو قومی نظریہ کی سچائی بھی سامنے آ گئی ۔ ۔ ۔  ١٩٤٢ میں کرپس مشن نے مزید اصلاحات دیں مگر کانگریس کی ہندوستان چھوڑ دو کی تحریک نے اور پھر سبھاش چندر بوس کی ائی این اے ( انڈین نیشنل آرمی) کے قیام نے مزید مشکلات پیدا کر دیں
١٩٤٤ میں گاندھی جناح مذاکرات پاکستان کے ایشو پر ناکام ہو گئے اور ١٩٤٦ میں مسلم لیگ نے اپنی وزارتوں سے ہندوستانیوں کے دل میں مقام پیدا کر لیا ، اور ١٩٤٦ میں کیبنٹ مشن نے ہندوستان کی خود مختاری کے لئے تجاویز پیش کیں اور جنکا اختتام تین جون ١٩٤٧ کے آزادی کے منصوبے پر ہوا  ۔ ۔  اور ہندوستان تقسیم کے لئے تیار ہو گیا  ۔ ۔  کانگریس نے اس منصوبے کی بہت مخالفت کی مگر مسلمان ہند نے جو عہد ٢٣ مارچ ١٩٤٠ کو کیا تھا وہ ١٤ اگست ١٩٤٧ کو پورا ہو گیا  ۔ ۔ پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک عظیم اسلامی ملک بن کہ ابھرا  ۔ ۔ ۔
چوبیس گھنٹوں کے بعد ہندوستان سو سالہ غلامی سے آزاد ہو گیا  ۔ ۔  آج یہ دونوں ملک ایک حقیقت ہیں اور ہماری دعا ہے کہ ملک امن و محبت سے رہیں  ۔ ۔ ۔
آزادی کی کہانی ختم نہیں ہوئی  ۔ ۔ بلکہ یہ چل رہی ہے ، ہم کہنے کو ١٩٤٧ میں آزاد ہو گئے تھے مگر ہم نے اپنی اس آزادی کی قدر نہیں کی  ۔ ۔  اسی لئیے آج ہم ظاہری طور پر آزاد  ہوتے ہوئے بھی ذہنی طور پر غلام ہو چکے ہیں  ۔ ۔ ۔
میں نے اس کہانی میں صرف حقیقت بیان کرنے کی کوشش کی ہے اگر کوئی غلطی ہو گئی ہو تو اسکی معذرت چاہتا ہوں  ۔ ۔ ۔
کوشش کروں گا کہ اس سلسلے پر مذید کچھ لکھ سکوں اگر وقت نے اجازت دی  ۔ ۔ ۔ آپکی آراء کا منتظر رہوں گا  ۔ ۔ ۔
اظہرالحق
شارجہ ، متحدہ عرب امارات
اگست ٢٠٠٨
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: