آزادی کی کہانی – گیارہویں قسط – برطانوی دور

گو مغل سلطنت کا سورج غروب ہو چکا تھا اور ساری دنیا میں مسلمان شکست و ریخت میں تھے مگر  ۔ ۔ ۔ امت مسلمہ سے خدا نے کبھی بھی امید نہیں چھینی  ۔ ۔ ۔ کوئی نہ کوئی تحریک ضرور اٹھتی رہی جسنے اس تشخص کو زندہ رکھا جو ایک اور نشاہ ثانیہ کی وجہ بنا  ۔ ۔ ۔ جہاں انگریزیوں نے ہندوستان کو نقصان پہنچایا ، وہیں نئی جدت بھی دی  ۔۔ ۔  اٹھارویں صدی کے وسط میں ہندوستان میں ریل گاڑی کا آغاز ہوا ، ٹیلی گراف کی لائنیں بچھائیں گئیں اور تعمیرات کا سلسلہ شروع ہوا  ۔۔ ۔ ۔ افسوس اس وقت کے مسلمانوں نے اسے کافروں کی چیزیں سمجھا اور ہندؤں نے انہیں اپنایا اور انگریزوں سے زیادہ قریب ہو گئے  ۔ ۔ ۔ ہندؤں نے نئی تعلیمات کو قبول کیا اور مسلمان صرف مذہبی تعلیمات تک محدود ہو کر رہ گئے  ۔ ۔ ۔
١٨٨٥ میں انگریزوں کے ایک گروہ نے انڈین نیشنل کانگریس قائیم کی جسکا بنیادی مقصد ہندوستانیوں کو حقوق دلانا تھا اور اسکی باگھ دوڑ بال گندھار تلک نے سنبھالی اور پہلی بار کسی پلیٹ فارم سے انگریزوں کے قبضے کے خلاف آواز بلند کی گئی  ۔۔ ۔۔ کانگریس کے پہلے صدر چندر بینر جی تھے  ۔ ۔
دوسری طرف سر سید احمد خان نے مسلمانوں میں تعلیم کی روح پھونکی اور اسی تعلیم کی وجہ سے مسلمانوں نے ١٩٠٦ میں مسلم لیگ قائم کی  ۔ ۔ ۔
١٨٥٧ کی جنگ آزاد تک ایک چیز مشترک ہو چکی تھی اور وہ تھی زبان  ۔ ۔ ۔ جسے اردو کہا جاتا ہے ، مگر جب مسلمانوں کی سلطنت ختم ہوئی تو اردو ہندی تنازعہ کھڑا ہو گیا  ۔ ۔ ۔ اردو کیونکہ عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی اسے مسلمانوں کی زبان کہا گیا اور ہندی کو گورمکھی میں لکھ کر ہندؤں کی زبان ٹہرایا گیا   ۔ ۔ ۔ گرچہ بولنے میں دونوں ایک ہی تھیں  ۔ ۔ ۔
(جاری ہے )
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: