آزادی کی کہانی – دسویں قسط – ایک اور دورِ غلامی

انگریز جانتے تھے کہ وہ طاقت سے ٹیپو سلطان کو شکست نہیں دے سکتے انہوں نے حیدرآباد کے نظام کو سازش کے تحت شکست دی اور معاہدے کو توڑتے ہوئے میسور پر حملہ کر دیا ١٧٩٩ میں ٹیپو سلطان کو شکست ہوئی  ۔ ۔۔ وہ میدان جنگ میں شیر کی طرح لڑا اور شہادت پائی ، اسنے اپنے مقولے کو سچ کر دیکھایا کہ “شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے “  آزادی کی جنگ کا وہ پہلا سپاہی تھا جسکی عظمت کو انگریزوں نے بھی تسلیم کیا  ۔ ۔ ۔
مغل سلطنت نام کی باقی تھی دہلی میں بادشاہ آتے رہے اور جاتے رہے ، جن میں محمد شاہ رنگیلے جیسے لوگ بھی تھے اور شاہ عالم جیسے بھی   ۔ ۔۔ اورنگزیب سے بہادر شاہ ظفر تک تقریباً سترہ بادشاہ گزرے ، مغل سلطنت صرف دہلی تک رہ گئی اور پنجاب میں سکھ اور بنگال میں مرہٹوں کا زور بڑھتا چلا گیا اور ١٨٥٧ میں پورا ہندوستان انگریزوں کے قبضے میں چلا گیا  ۔ ۔ ۔ ۔
مگر ایک بات ضرور ذہن میں رکھنی چاہیے کہ مسلمانوں نے اپنی عظمت کو ایسے ہی نہیں کھویا  ۔ ۔  انہوں نے آخر دم تک جدوجہد کی ، سید احمد بریلوی ، شاہ ولی اللہ ، شاہ اسماعیل وغیرہ انگریزوں سکھوں اور مرہٹوں سے آخر دم تک نبرد آزما رہے  ۔ ۔ ۔
انگریز اپنے زرخرید غلاموں کی مدد سے دہلی کی طرف بڑھتے چلے گئے اور انہیں پتہ چل گیا کہ اب لوہا گرم ہے ، تو انہوںے نے اپنے قبضے کو باقاعدہ کرنے کے لئے چال چلی  ۔۔ ۔  دہلی کے سپاہیوں کو بندوقں کے جو کارتوس دئیے گئے تھے ان کے اوپر چرما چڑھا ہوا تھا جسے سپاہی کو دانتوں سے کھیچ کر اتارنا پڑتاھ  ۔ ۔ ۔ اور بندوق کو بھرتا  ۔ ۔ ۔ بتایا گیا کہ کارتوسوں پر جو چرمہ ہے وہ سؤر اور گائے کا ہے ، مسلمانوں میں سؤر حرام ہے اور ہندؤ گائے کو مقدس جانتے ہیں ۔ ۔۔ ۔  یہ واقع ایک بنیاد بن گیا بغاوت کی اور بقول انگریز کے غدر کی  ۔ ۔ ۔ اور انگریز اس غدر کو کچلنے کے بہانے دہلی میں داخل ہو گئے  ۔۔  ۔ اور بادشاہ کو قید کر لیا  ۔ ۔ ۔ تاریخ کے اوراق کے مطابق اگر بہادر شاہ ظفر ، جنرل بخت خان کی بات مان لیتا تو شاید آج کی تاریخ کچھ اور ہوتی مگر وہ بادشاہ وہ تھا کہ جب بھاگنے کا وقت آیا تو وہ اس انتظار میں تھا کہ کوئی خادم اسے جوتا پہنائے  ۔ ۔ ۔ تو وہ کسی کا ساتھ کیسے دیتا  ۔ ۔ ۔ اور پھر ١٨٥٧ میں دہلی اجڑ گئی  ۔ ۔ ۔
مغلوں کا جلال ختم ہوا اور تاجدار برطانیہ کا سورج طلوع ہوا جسے اگلے سو سال تک ہندوستان کی دھرتی کو جلانا تھا  ۔ ۔ ۔ اور ہندوستانیوں کو کتوں کے برابر کرنا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ دہلی کی تباہی نے سارے ہندوستان کو مایوس کر دیا اور خاصکر مسلمان مزید پستی میں چلے گئے  ۔ ۔ ۔ ۔
(جاری ہے )
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: