آزادی کی کہانی – تیرہویں قسط – ایک اور چنگاری

پہلی جنگ عظیم کے بعد دنیا میں تبدیلیاں شروع ہو چکی تھیں ، جنکا لامحالہ اثر ہندوستان پر بھی ہوا ، خاصکر مسلمانوں پر  ۔ ۔  عثمانی سلطنت کا زوال بہت اثر کر رہا تھا  ۔ ۔ ۔ جسکی وجہ سے ١٩١٩ میں تحریک خلاف چلائی گئی  ۔ ۔ ۔ اور گاندھی جی کی عدم تعاون کی تحریک  نے بھی اسکو بہت اچھا بوسٹ دیا اور انگریز بہت مشکل میں پڑ گئے  ۔ ۔ ۔ تحریک خلافت اور عدم تعاون کی تحریک میں سیکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور مارشل لا لگا دیا گیا   ۔ ۔ ۔ مگر اسکا سب سے افسوسناک واقعہ جلیاںوالا باغ کا تھا جس میں تقریباً چار سو کے قریب لوگ مارے گئے اس واقعے کا مرکزی کردار جنرل ڈائیر تھا اسکی وجہ سے جمیعت علمائے ہند نے جہاد کا فتویٰ دیا اور لوگ جوق در جوق اس تحریک میں شامل ہونے لگے مگر  ۔ ۔ ۔  ترکی ہار گیا ۔ ۔ ۔ اور مسلمانوں میں بہت مایوسی پھیل گئی ۔ ۔ ۔  مگر اس میں زیادہ قصور مسلمانوں کا اپنا بھی تھا جو تنکوں کی طرح سے بکھرے ہوئے تھے  ۔ ۔ ۔
ہندوستان کے مسلمان رہنما مسلمانوں کی اس کیفیت کو سمجھتے تھے  ۔ ۔ ۔ خاصکر علامہ محمد اقبال  ۔ ۔ ۔ انہوں نے اپنی شاعری کی مدد سے قوم میں ایک نئی روح بیدار کی ، مسلمانوں کو انکا ماضی بھی بتایا اور انکا مستقبل بھی  ۔۔  ۔۔   ۔ ۔ ۔  انہوں نے اپنی نظموں اور ترانوں سے ایک نسل کو متاثر کیا  ۔ ۔ ۔ ۔  اقبال نہ صرف ایک اچھے شاعر تھے بلکہ ایک اسکالر بھی تھے  ۔ ۔  انہوں نے ہی ١٩٣١ کے مسلم لیگ کے جلسے میں مسلمانوں کی الگ ریاست کا تصور پیش کیا  ۔۔ ۔  یہاں یہ بات ضرور ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ تصور ہندوستان کی فیڈریشن کے اندر رہتے ہوئے تھا    ۔ ۔ ۔ ۔  مگر ہندؤں کی کم ظرفی اور انگریزوں کی سازشوں نے اسے ایک الگ ملک کی تحریک میں بدل دیا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: