آزادی کی کہانی – نویں قسط – برطانوی راج

سولہویں صدی کے آخر میں انگریزوں اور مغلوں کے درمیان بیجاپور کی لڑائی ہوئی اور پھر انکے درمیان معاہدہ امن ہوا اور اورنگزیب کے زمانے میں ہی ایسٹ انڈیا کمپنی کو عروج ملا اور ہندوستان کی ایک مصروف تجارتی منڈی بن گیا  ۔ ۔ ۔ اورنگزیب کے دور میں مرہٹوں نے بغاوت کی اور پچاس سال کے بعد بنگال میں ایک بڑی لڑائی لڑی گئی  ۔ ۔ ۔
سترویں صدی کے شروع میں اورنگزیب کی وفات کے بعد نادر شاہ نے دھلی فتح کیا اور مرہٹوں نے سلہٹ اور بسین پر قبضہ کیا  ۔ ۔  ۔  ١٧٥٠ میں مرہٹوں نے امن معاہدہ کیا اور تھوڑے ہی عرصے کے بعد سراج الدولہ نے کلکتہ فتح کر لیا  ۔ ۔ ۔ اور یوں برصغیر تقسیم در تقسیم ہوتا چلا گیا ۔ ۔ ۔ ۔
انگریزوں نے پلاسی کے میدان میں سراج الدولہ کو شکست دی جو غداروں کی وجہ سے جنگ میں ہار گیا تھا  ۔ ۔ ۔ اور اسکی کے ساتھ انگریزوں نے ودیواش میں فرانسیسیوں کو شکست دی ، پانی پت کی تیسری لڑائی میں احمد شاہ ابدالی نے مرہٹوں کو شکست دی اور یوں حیدرآباد دکن اور میسور کی ریاستوں میں مسلمانوں کی حکومتیں قائم ہو گئیں اور حیدر علی جیسے سلطان سامنے آئے مگر انگریزوں نے اپنے قدم جمانے شروع کر دئیے تھے ۔ ۔  ۔ بکسر کی لڑائی میں میر قاسم کو شکست ہوئی اور انگریزوں نے بینگال بیہار اور اڑیسہ پر اپنا راج قائم کر دیا  ۔ ۔ ۔۔
جب میسور کی پہلی لڑائی میں انگریز مقابلہ نہ کر سکے تو انہوں نے حیدر علی کے ساتھ امن کا معاہدہ کیا  ۔ ۔ جو دراصل ایک چالاکی تھی اور انگریز مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لئے وقت چاہتے تھے  ۔۔ ۔
دس سال بعد ١٧٨٠ میں چار کی لڑائی کے بعد انگریز پھر غداروں کی وجہ حیدر علی کو ہرانے میں کامیاب رہے اور پٹس انڈیا ایکٹ ١٧٨٤ کے مطابق انگریزوں نے تجارت کے ساتھ ساتھ حکومت کرنے کے ضوابط بھی طے کرنے شروع کر دئیے  ۔ ۔ ۔
سترہویں صدی کے اختتام پر ٹیپو سلطان اور انگریزوں کے درمیان پہلی مرتبہ جنگ ہوئی اور انگریزوں نے ایک بار پھر ٹیپو جیسے سلطان کی قیادت اور بہادری کو دیکھتے ہوئے پینترا بدلہ اور سرنگا پٹم میں ایک امن معاہدہ کیا  ۔ ۔ ۔۔
ٹیپو سلطان ایک بہادر اور جری سالار تھا ، وہ حیدر علی کا سب سے بڑا بیٹآ تھا ، انگریزوں نے گو حیدر علی کو شکست دی تھی مگر معاہدے کے پابند بھی تھے اس لئے وہ میسور پر حاکمیت نہ کر سکے ، حیدر علی کی وفات کے بعد ٹیپو سلطان میسور کا حاکم بنا اور اسنے حیدرآباد دکن کے نظام اور مرہٹوں کی مدد سے انگریزوں کے خلاف جنگ لڑی  ۔۔ ۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے عثمانیہ سلطنت اور افغانستان اور حتہ کہ نپولین بونا پارٹ سے بھی مدد چاہی تھی مگر ان تک یہ خط بہت دیر سے پہنچا  ۔ ۔ ۔
(جاری ہے )
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: