آزادی کی کہانی – ساتویں قسط – مغلیہ دور

بابر نے ایک مظبوط سلطنت کی بنیاد رکھی اسکی سلطنت کابل سے کندھار تک اور ہمالیہ سے گوالیار تک پھیل گئی ۔ ۔ ۔ بابر کا بیٹا تھا ہمایوں  ۔ ۔ ۔ کہا جاتا ہے کہ ہمایوں بیمار ہوا تو اس نے دعا مانگی کہ ہمایوں کی بیماری اسے یعنی بابر کو لگ جائے  ۔ ۔ ۔ اور ایسا ہی ہوا اور جب بابر دنیا سے رخصت ہوا اور ہمایوں تحت نشین ہوا ۔ ۔ ۔ مگر اسے کچھ ہی عرصے کے بعد سلطنت سے ہاتھ دھونے پڑے  ۔۔ ۔ ایک افغان شیر شاہ سوری نے کابل تا دھلی اپنی حکومت قائم کی اور ایک یادگار تاریخ رقم کی ، اس دور کی ترقی کی یادگار شیر شاہ سوری کی سڑک (جسے گرینڈ ٹرنک یا جی ٹی روڈ بھی کہا جاتا ہے ) مثال ہے ، اسی راستے کو کبھی جرنیلی سڑک بھی کہا جاتا تھا  ۔  ۔ یہ سڑک کلکتہ سے شروع ہو کر کابل تک جاتی ہے  ۔ ۔  ۔ انفرا اسٹریکچر کے علاوہ اسنے کافی اصلاحات کیں ، جس میں ڈاک کا نظام اور مواصلات کو بھی بہتر کیا  ۔ ۔ ۔
تقریباً پندرہ برس کے بعد ہمایوں نے ایران کے راستے حملہ کر کہ اپنی سلطنت واپس لی اور اسی دوران ہندوستان میں ایک نئے مذہب کی بنیاد پڑی  ۔ ۔ ۔جسے گرونانک نے پھیلایا ، لوگ اسے سکھ مذہب کے نام سے جانتے ہیں  ۔۔ ۔ سکھ مذہب کی وجہ وہ ہی تھی جو بدھ مت کی تھی  ۔ ۔ ۔ ہندو تو دوغلی قوم تھی ہی مگر مسلمانوں میں بھی ایسے لوگوں کا غلبہ ہو چکا تھا ۔ حتہ کہ بزرگان دین کی وجہ سے بہت اچھا معاشرہ تھا مگر پھر بھی گرو نانک نے اسلام اور ہندو مت سے مایوس ہو کر یہ مذہب بنایا  ۔ ۔ ۔ سکھ توحید کے قائل ہیں اور اعمال کا تصور بھی اسلام جیسا ہی ہے  ۔۔ ۔ مگر شرک کرتے ہیں  ۔۔ ۔ گرونانک صاحب کو خدا کا حصہ مانتے ہیں  ۔ ۔ ۔ مگر سکھ مذہب پھر بھی اسلام سے زیادہ قریب ہے  ۔ ۔ ۔ حتہ کہ موجودہ گولڈن ٹیمپل (امرتسر) کا سنگ بنیاد حضرت میاں میر نے رکھا  ۔ ۔ ۔ تھا ۔ ۔ ۔
ہمایوں کا دور حکومت ہندوستان کو اکھٹا کرنے میں لگا اور اسکی فتوحات کے بعد اسکا بیٹآ اکبر تحت نشین ہوا  ۔ ۔ ۔ اکبر اعظم کا بھی زیادہ وقت جنگوں میں گذرا اور سازشوں سے نپٹتا رہا مگر اکبر کے دور میں ہندؤں کو بہت آسانیاں ملیں اسکی وجہ اسکی ہندو بیوی جودھا بائی بھی تھی (کچھ جگہ پر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جودھا بائی جہانگیر کی بیوی تھی  ۔ ۔ ۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اکبر نے جو سیاسی شادیاں کیں تھیں ان میں راجپوت ہندو عورت اسکی بیوی ضرور تھی ) اور اکبر کی اسی ملی جلی سوچ نے دین احمدی کو جنم دیا  ۔ ۔ ۔  جسکی وجہ سے آج بھی اکبر کو ایک بڑا سیکولر حکمران مانا جاتا ھے
اکبر کے ہی عہد میں انگریزوں نے اس سرزمین پر تجارتی کمپنی بنا کہ قدم رکھا  ۔ ۔ ۔ اس کمپنی کو سولہ سو عیسوی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے قائم کیا گیا اور اسکے کے تھوڑے عرصے کے بعد ہالینڈ میں یونائیٹڈ ایسٹ انڈیا کمپنی بھی بنائی گی اور پھر ہندوستان کی سونے کی چڑیا کو پھنسانے کے لئیے جال تیار ہونے لگے  ۔ ۔ ۔
(جاری ہے )
Advertisements

One response to this post.

  1. Posted by خاور on اگست 7, 2008 at 8:34 شام

    جی جناب والی اپنے اکبر مغل صاحب نے جو مذہب بنایا تھا اس کا نام دین الہی تھا جی اور ان صاحب نے کچھ خدائی وغیرھ بھی کی تھی ـپاکستان میں تو ان مغلوں کو اسلام کا ٹھیکیدار بنا کر هی پیش کیا جاتا هے آگر یه غیر ملکی حمله آوروں کو جب پيٹ بھر کر کھانے کو ملا تو ان کو شراب ، زنانیوں اور نشے سے علاوھ جو وقت ملتا تھا اس میں یه لوگ قتل و غارت فرمایا کرتے تھے ـاپنے اورنگزیب عالمگير صاحب کا تو مشہور ہے ناں جی که انہوں نے ناں تو کوئی نماز چھوڑی ہے اور ناں هی کوئی بھائی ـ

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: