چھٹی قسط – سونے کی چڑیا

محمود غزنوی نے جب راجہ جے پال کو شکست دی اور جب وہ سومنات کے بُت توڑنے جا رہا تھا تو اسے ہر طرح کا لالچ دیا کہ وہ مندر کے بُت نہ توڑے مگر اس نے کہا کہ میں بت شکن ہوں اور پھر محمود غزنوی تاریخ کے اوراق میں بت شکن کے نام سے ہمیشہ کے لئے زندہ رہ گیا  ۔ ۔ ۔  ایک غیر مصدقہ روایت ہے کہ جب نبی اکرم(ص) نے کعبے کے بت توڑے تو ایک بت “منات“  ۔ ۔ ۔ نام کا کسی طرح سے بچ گیا یا اسکے ٹکڑوں کو ہندوستان لے آیا گیا  ۔ ۔ ۔ اور وہیں اسے جوڑ کر اسکی پوجا کی گئی  ۔ ۔ ۔اور اسی وجہ سے سومنات کا مندر مشہور تھا اور یہ ہی وجہ تھی کہ محمود غزنوی نے اس بت کو توڑا  ۔ ۔ ۔ ۔
مسلمانوں کو اصل عروج ہندوستان میں یہاں سے ہی ہوا ، اور ہندوستان کے رہنے والوں نے مسلمان حکمرانوں کے بہتر اور اچھے سلوک کی وجہ سے اور بزرگان دین کی کاوشوں سے جوق در جوق اسلام قبول کرنے لگے ، اسکی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ راجے مہاراجوں کے ظلم سے تنگ تھے اور دوسرے اونچی اور نیچی ذات کے ھندوؤں کے درمیان بہت فرق آ چکا تھا ۔ ۔ ۔  جس نے مسلمانوں کے لئے راہ ہموار کی  ۔۔ ۔
مسلمان عربوں نے ناصرف ہندوستان کے لوگوں کے دلوں پر اثر کیا بلکے یہاں کی تہذیب و ثقافت پر بھی اثر انداز ہوئے  ۔ ۔ ۔ اور پھر ہندوستان کی تہذیب جو پہلے سے ہی ایران روم اور یونان کی تہذیبوں کی آمیزیش سے رانگین تھی عرب مسلمانوں نے اسے مذید حسین بنا دیا
محمود غزنوی کے ہی حسن سلوک کا کرشمہ تھا کہ جس نے خاندان غلاماں کو بارویں صدی میں اقتدار  سے نوازا  ۔ ۔ ۔ قطب الدین ایبک اور التتمش جیسے بادشاہوں نے سلطنت کی بھاگ دوڑ سنبھالی ، قطب مینار آج بھی اس دور کی عظمت کی یاد دلاتا ہے  ۔ ۔ ۔ قطب مینار کے بارے میں ایک روایت ہے کہ اگر کوئی شخص اسکے آہنی خو کو اپنے بازو میں پوری طرح سمیٹ لے تو اسکی ہر خواہش پوری ہو جائے گی  ۔ ۔ ۔ تو آپ میں سے جو بھی قطب مینار جائے تو یہ کام ضرور کرے  ۔  ۔  ۔۔
خاندان غلاماں کے بادشاہ بہت متقی اور پرہیز گار تھے خاصکر التتمش علماء کرام کو بہت عزت دیتا تھا  ۔ ۔ ۔  التتمش کی ہی سمجھداری تھی کہ شمال کی جانب سے اٹھنے والے فتنے چنگیز خان کی تاتاری افواج نے ہندوستان کو اتنا نقصان نہییں پہنچایا جتنا بغداد کی سلطنت کو  ۔ ۔ ۔ ۔
مارکوپولو نے اسی زمانے میں ہندوستان کا سفر کیا اور اسکی عظمت کے قصے بیان کیے ہیں  ۔ ۔ ۔
خاندان غلاماں کے بعد خلجی خاندان برسر اقتدار آیا اور تقریباً ایک سو سال تک ہندوستان تغلق خاندان کے زیر اثر رہا  ۔ ۔ ۔  ۔
اور پھر ایک بار  ۔ ۔ ۔ تیمورلنگ نے ہندوستان کو روند ڈالا  ۔ ۔ ۔ تیمور ایک جارح فاتح تھا  ۔ ۔  تاریخ اسے اچھے لفظوں سے یاد نہیں کیا جاتا  ۔ ۔ ۔ شاید اس لیئے کہ وہ ایک تاتاری منگول تھا اور اس نے بھی ظلم کے ساتھ لوگوں کو قتل کیا  ۔ ۔ ۔ ۔
تیمور کے جانے کے بعد اندرونی خلفشار بڑھ گیا اور ہندوستان چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہو گیا جس کی وجہ سے ایک طرف بہامی ریاست تھی تو دوسری طرف لودھی خاندان کی حکومت  ۔ ۔۔  اور پندرھویں صدی میں جب واسکو ڈی گاما نے ہندوستان کا سفر کیا تو کچھ ہی عرصے کے بعد پُرگالیوں نے گوا کو فتح کیا اور یہاں سے ہی برصغیر میں مسلمانوں کے علاوہ دوسری قوموں کا تسلط شروع ہوا  ۔ ۔ ۔اور قطب شاہی کے بعد پانی پت کے میدان میں ایک ترک چغتائی ظہیر الدین بابر نے کابل کو فتح کرنے کے بعد عظیم مغل سلطنت کی بنیاد رکھی ۔ ۔۔ ۔  جو آنے والے وقتوں میں ہندوستان کو سونے کی چڑیا کا نام دی گئی  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(جاری ہے )
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: