زندہ کو لاش بنا دیتے ہیں

زندہ کو لاش بنا دیتے ہیں
یقیں کو کاش بنا دیتے ہیں
 
 
میرے دیس کے حاکم ہیں ایسے
دیس کو تاش بنا دیتے ہیں
 
 
 
جسکو اخلاق کہتی ہے دنیا
ہم تو معاش بنا دیتے ہیں
 
 
کچھ نہی بدلا ما سوائے پہناوا
یہ بود و باش بنا دیتے ہیں
 
 
زردار ہیں حاکم شریفوں پر
غرباء کو قلاش بنا دیتے ہیں
 
 
پیٹ کا دوزخ بھرے کا کب تک
توانا کو فراش بنا دیتے ہیں
 
بچھڑ جائے جسکا کوئی اپنا
زندگی اسکی تلاش بنا دیتے ہیں
 
 
لوح سے خوں ٹپکتا ہے اظہر
قلم سے خراش بنا دیتے ہیں
 
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: