اے بیمار وطن

اے، بیمار وطن ، تیری کیا دوا کروں
 زخم زخم اے دھرتی ماں،تیری کیا دوا کروں
 
 
تیرے بیٹے ، تیرے قاتل
خوں سے بھرے ہیں تیرے ساحل
ولیوں کی بستی ہے یہ
جس میں بھرے ہیں سب جاہل
 
 
عشق ہی نہیں سچا ، خود کو کیا فنا کروں
تیرے سپنے بھی میں بھولا، کیسے اب وفا کروں
 
 
تو دیس ہے دل والوں کا
تو دھرتی ہے متوالوں کی
ہر دل میں تو ہی دھڑکتا ہے
تجھ پر حکومت جیالوں کی
 
 
خود کو جلاکہ اب میں کیا ضیاء کروں
بیچ کہ اپنی دھرتی ماں ، کیسے اب حیا کروں
 
 
بتا مجھے میں کیا کروں
ذلت میں کب تک جیتا رہوں
اپنا مجرم ، منصف خود ہی ہوں
کس سے جا کہ پھر گلہ کروں
 
 
ظلمتوں کے دور میں اب تو میں ڈرا کروں
بزدل  ہوں ، پھر بھی خود سے لڑا کروں
 
 
 
اے بیمار وطن تو ہی بتا  ۔ ۔ میں کیا کروں میں کیا کروں!!!!
 
 
 
تو آباد رہے شاد رہے آزاد رہے
اے میرے وطن دل کے چمن
تیرے لئے بس یہ ہی میں
دعا کروں!!!!
 
Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by Unknown on مئی 18, 2008 at 1:44 صبح

    اسلام علیکم،اظہر آپ نے بہت اچھی نظم لکھی ہے یہ کس (شاعر) کی ہے ۔ میں اسے اپنے بلاگ پر پوسٹ کرنا چاہتا ہوں۔

    جواب دیں

  2. Posted by Azhar Ul Haq on مئی 18, 2008 at 5:28 صبح

    عدنان شکریہ ، یہ نظم میری اپنی ہے آپ جہاں چاہیں اسے پیش کر دیں

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: