نعرہ تکبیر !!!!! دو کہانیاں

کل کی کہانی
 
 
انکا چہرہ جذبے کی شدت سے تمتما رہا تھا ، وہ کہ رہے تھے  ۔۔  ۔ ہم نے جب اسے پکڑا تو پتہ چلا کہ وہ بیچارہ صرف سپاہی رنک کا تھا  ۔ ۔  پہلے تو ہم نے اسے جی بھر کہ ٹھڈے مارے  ۔۔ ۔  مگر پھر ہمارے صاحب آ گئے کہنے لگے ایک فوجی قیدی کو ایسے نہیں مارا جاتا جب وہ قید ہو جائے تو اسکی عذت ہوتی ہے  ۔ ۔ ۔ پھر انہوں نے اسے کھانا کھلوایا اور چائے بھی دی  ۔ ۔ کچھ درد کی گولیاں بھی دیں  ۔ ۔۔ آہستہ آہستہ اسکا ڈر ہم سے دور ہو گیا اور وہ ہم سے گھل مل کر باتیں کرنے لگا  ۔ ۔ ۔ اس وقت تک جنگ بندی ہو چکی تھی  ۔ ۔  ہمیں آرڈر ملا تھا کہ اسے اگلے مورچوں پر ہی رکھنا ہے کیونکہ اسکے بدلے میں ہمیں اپنے قیدی چھڑوانے ہیں  ۔ ۔ ۔
لالہ جی ، آخر آپ ہم سے پنگا لیتے ہی کیوں ہو  ۔ ۔ ۔
پنگا ہم نہیں تم لوگ لیتے ہو
مگر اس دفعہ تو پہل تم نے کی تھی  ۔ ۔
نہیں تم نے کی تھی  ۔ ۔ ۔ تمہاری طرف سے ایک بندہ ادھر جانے کی کوشش کر رہا تھا  ۔ ۔ ۔ تو ہم نے اسے وارننگ فائیر دیا تھا  ۔۔ ۔  مگر تم نے اسے خود پر حملہ سمجھ لیا  ۔ ۔ ۔
تو فئیر آپ نے کمانڈر کو اطلاع کیوں نہیں کی  ۔ ۔
بس جی ہمارے بڑے افسر نے کہا تھا کہ ہم تمہیں تھوڑا سبق سکھا دیں گے  ۔ ۔
مگر ہوا کیا  ۔ ۔۔  تم نے خود سبق سیکھ لیا  ۔ ۔
نہیں جی  ۔ ۔  اصل میں  ۔ ۔ ۔ تم لوگوں کی طرف سے جب وہ نعرہ لگا تھا نا  ۔ ۔  اسنے گڑبڑ کر دی  ۔ ۔
نعرہ ؟؟؟؟
ہاں وہ تم کہتے ہو اللہ اکبر  ۔ ۔ ۔
ہاں وہ نعرہ تکبیر  ۔ ۔۔
ہاں ہاں وہ ہی  ، اسی نے ہمیں دہلا دیا تھا  ۔ ۔ پتہ نہیں کیسی آواز تھی جب تم سب نے ملکر اللہ اکبر کہا  ۔ ۔ تو ہمارے پسینے چھوٹ گئے تھے  ۔ ۔ ۔ اور اوسان خطا ہو گئے تھے  ۔ ۔ ۔ ہمارے مورچے میں صرف دس جوان تھے مگر تمہاری طرف سے آواز سے ایسا لگا کہ جیسے سیکڑوں لوگ ہوں  ۔  ۔ ۔ تم  ۔ ۔ چُپ کیوں ہو گئے ہو  ۔ ۔ ۔؟
جوان  ۔ ۔ کیپٹن نے ہمیں آرڈر دیا
یس سر  ۔ ۔ ۔
اسے بارڈر پر چھوڑ آؤ ۔ ۔
مگر ہم نے تو اسے تبادلے کے لئے استعمال کرنا تھا  ۔ ۔ ۔
نہیں  ۔ ۔ ۔ اب یہ تبادلے کے لئے بیکار ہے  ۔ ۔  اس کا متبادل کوئی نہیں ہو سکتا  ۔ ۔
جیسے آپ کا حکم  ۔ ۔ ۔
اور ہم اسے بارڈر تک لے آئے  ۔ ۔ اور کہا جاؤ  ۔ ۔۔ وہ بارڈر کی طرف بڑھنے لگا  ۔ ۔ ۔ دوسری جانب سے اسے للکارا گیا ، اسنے اپنا نام اور یونٹ کا بتایا اور  ۔  ۔ اور کمانڈر کا بھی بتایا  ۔ ۔ ۔ اور آگے بڑھنے لگا  ۔ ۔  پتہ نہیں ہم میں سے کس نے زور سے نعرہ لگا
نعرا ئے تکبیر
اور سب نے بلند آواز میں اللہ اکبر کہا  ۔ ۔ اور ایسے لگا جیسے زمیں تھرا گئی ہو  ۔ ۔
بارڈر کی طرف جانے والے نے دوڑ لگا دی تھی اور دوسری طرف سے اس پر اسٹین گن کا پورا برسٹ مارا گیا تھا  ۔ ۔ ۔
مجھے آج دن تک اسکے مرنے کا افسوس ہے  ۔ ۔ ۔ مگر کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر ہم نے وہ نعرہ نہ لگایا ہوتا تو شاید وہ ایسے نہ مرتا  ۔ ۔ انکی آنکھوں میں نمی آ گئی تھی  ۔ ۔ ۔ ایک دشمن قیدی کی موت پر جسے اسکے اپنوں نے مار دیا تھا  ۔ ۔  صرف ایک نعرے کی آواز پر  ۔ ۔  ۔
—————————————————————————————

آج کی کہانی

 

نہیں میں شیو نہیں کروں گا ، یہ خلاف شرع ہے

مگر تمہیں ایسا کرنا پڑے گا  ۔ ۔ ورنہ تم مشکوک ہو جاؤ گے
شک کیسا میں نے تو گاڑی کو چلاتے ہوئے دوسری گاڑی سے ٹکرا دینا ہے
نہیں آجکل کیمرے لگے ہیں  ۔۔ ۔ اس میں تمہاری تصور آ جائے گی  ۔ ۔۔
تو کیا ہو گا   ۔  ۔ ؟
دیکھو اگر تم کلین شیو نہیں ہو گے تو وہ اسے مولویوں کی کاروائی سمجھیں گے
سمجھنے دو ۔ ۔ ۔ ہم مولوی نہیں جہادی ہیں
دیکھو جنت میں تمہارا جسم نہیں روح جائے گی  ۔ ۔  انہوں نے اپنا لہجہ سخت کرتے ہوئے کہا  ۔ ۔
وہ تو ٹھیک ہے  ۔۔ ۔ ۔ اچھا ایک اجازت دے دیں
وہ کیا  ۔ ۔
میں بلاسٹ سے پہلے نعرہ تکبیر اللہ اکبر کہوں گا  ۔ ۔ ۔میں چاہتا ہوں میرا آخری لفظ اللہ ہو  ۔ ۔ ۔ اور مجھے یقین ہے کہ وہاں موجود لوگ سارے مسلمان ہونگے اور جواب میں اللہ اکبر ضرور کہیں گے  ۔ ۔۔
ہاں یہ تمہاری مرضی ہے  ۔ ۔
 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور پھر جب وہ اس فوجیوں سے بھرے ٹرک کے قریب پہنچا ، تو منہ باہر نکال کر زور سے کہا  ۔ ۔
نعرہ تکبیر  ۔۔ ۔ ۔
تڑ تڑ تڑ  ۔ ۔ ۔ ۔
یہ وہ آواز تھی جو اسکے کانوں نے آخری بار سنی  ۔ ۔ ۔
اسکی روح نے یہ منظر دیکھا  ۔ ۔ کہ فوجی ٹرک والوں نے اسکے نعرے کا جواب انکے ہاتھوں میں موجود ہتھیاروں سے دیا تھا  ۔ ۔ اسے اپنا بٹن دبانے کا موقعہ بھی نہ ملا تھا  ۔ ۔۔ ۔  ٹرک اس کی گاڑی سے نہیں ٹکرایا تھا بلکہ اسکی گاڑی ایک کھائی میں جا گری تھی  ۔ ۔ فوجی ٹرک سے اتر آئے تھے  ۔ ۔  اور انہوں نے اس جلتی ہوئی گاڑی کو دیکھتے ہوئے زور کا نعرہ لگایا  ۔ ۔
نعرہ تکبیر  ۔ ۔
اللہ اکبر  ۔ ۔ ۔

Advertisements

One response to this post.

  1. Posted by Iftikhar Ajmal on مارچ 13, 2008 at 10:35 صبح

    بہت دل دُکھتا ہے ایسی کہانیاں پڑھ کر ۔ لال مسجد اور جامعیہ حفصہ پر حملہ کیلئے جو کمانڈو کرنل سب سے پہلے بھیجا گیا ۔ وہ اندر جا کر ایکدم واپس باہر نکل آیا تو اس پر اپنے ہی فوجیوں نے فائرنگ کر کے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا تھا ۔ اور جب کئی دن بعد سینکڑوں طلباء و طالبات اور اساتذہ کو شہید کرنے کے بعد فوجی لال مسجد میں داخل ہوئے تو وہ انگلیوں سے فتح کا نشان بنا رہے تھے ۔ اس آپریشن کی نگہبانی ۔ موجودہ آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی اور موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی طارق مجید نے کی تھی

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: