چُپ چاپ پاکستان

 
آج ٹی وی سے ایک پروگرام آتا ہے “بولتا پاکستان“ ، مگر کافی دنوں سے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے سارا پاکستان خاموش ہو  ۔ ۔۔  خود کش حملوں نے ہماری زبانیں کُنگ کر کہ رکھ دیں ہیں ، ہماری آنکھیں پتھرا گئیں ہیں اور ہم جیسے پتھر ہو کہ رہ گئے ہیں  ۔ ۔ ۔ آج ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے یہ سب حالات ہماری بے حسی نے پیدا کئے ہیں ۔ ۔ ۔ 
١٩٤٧ میں جب ہمیں آزادی ملی تو ہم ایک نئی قوم تھے  ۔۔ ۔ نئے نئے جذبے تھے  ۔ ۔ ۔ مگر آہستہ آہستہ وہ جذبے مدھم پڑ گئے  ۔ ۔ ۔ ہم بھول گئے کہ ہم کیوں آزاد ہوئے تھے ؟ جو لوگ آج پاکستان کو ایک سیکولر ملک سمجھنے کے لئے تیار ہیں اور تاریخ کو مسخ کرتے ہیں کہ پاکستان تو سیکولر ملک بنا تھا  ۔۔ ۔ تو میرے خیال میں انکے لئے یہ ایک سوال ہی کافی ہے کہ اگر ایسا تھا تو ایک الگ ملک کی ضرورت کیا تھی ؟ صوبائی خود مختاری تو تھی ہی  ۔۔ ۔ دو قومی نظریے کی کیا ضرورت تھی جبکہ مسلمان اور ہندو ایک ہزار برس اکٹھے گذار چکے تھے  ۔ ۔۔
مگر شاید ان سوالوں کا جواب آئیں بائیں اورشائیں کے علاوہ کچھ بھی نہ ملے  ۔۔ ۔  یا پھر وہ ہی ازلی چُپ  ۔ ۔ ۔ جو ہماری بے حس قوم کا خاصہ ہے  ۔ ۔ ۔
تو کیا کریں  ۔ ۔ ۔؟ یہ وہ سوال ہے جسکا جواب سب کے پاس ہے ، اور وہ ہے کہ ہمیں اب ہجوم سے قوم بننا چاہیے  ۔ ۔ ۔  ویسی ہی قوم جو ١٩٤٧ میں تھی  ۔ ۔ یا پھر ویسی جیسی ١٩٦٥ میں تھی  ۔۔ ۔ ۔
ٹھیک ہے مگر یہ ہو گا کیسے  ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے کہ ہم ایک دوسرے کے برابر ہو جائیں  ۔۔ ۔ ۔ آج جب لاہور کے پوش علاقے میں خود کش حملہ ہوا تو ہمارے چینلز کہ رہے تھے کہ وہاں کیوں ہوا  ۔ ۔  وہاں تو لوگ آرام سے رہنے کے لئے آتے ہیں  ۔۔  ۔ کروڑوں کی ملکیت والے یہ علاقے جن میں وہ لوگ بستے ہیں جنہیں  ۔ ۔ ۔ باقی شہر کے لوگ نالی کے کیڑے نظر آتے ہیں  ۔ ۔ ۔ آج ان پر حملہ ہوا تو یہ کہنے لگے کہ سیکیورٹی برچز ہیں  ۔ ۔ ۔ کیوں  ۔ ۔ اس سے پہلے کے حملوں میں مرنے والے کیڑے مکوڑے تھے ؟
یہ وہ وجہ ہے جسنے ہمیں انتشار کا شکار بنا دیا ہے ، دولت کی غلط تقسیم تو خیر سرمایہ درانہ نظام کی وجہ سے ہے مگر اختیارات کا استعمال تو سرمایہ درانہ نظام کی وجہ سے نہیں  ۔ ۔ ۔  جب تک ہم اپنے جسم کے ہی کچھ حصوں کو ناکارہ سمجھتے رہیں گے  ۔ ۔ ۔ ہمیں یونہی درد ملتے رہیں گے  ۔۔ ۔ چاہے چوٹ جسم کے کسی ناکارہ حصے پر ہی کیوں نہ لگے  ۔  ۔۔
ابنِ صفی نے ایک جگہ لکھا تھا ، خوبصورت الفاظ انسانیت کو چھٹکارا نہیں دے سکتے  ۔ ۔ ۔  جب تک انسانیت کو انسان خوبصورت نہ سمجھے  ۔ ۔ ۔ ۔  آج اس عظیم لکھاری کی بہت ساری باتیں یاد آتیں ہیں  ۔۔  ۔ ۔ اسنے اپنی آخری کہانیوں میں  ۔ ۔ ۔ سرخ ریچھ (روس) کے خاتمے کی پیش گوئی کی تھی اور  ۔ ۔ ۔ موجودہ حالات کا بھی بتایا تھا  ۔ ۔ ۔ اسنے ہمارے شمالی علاقہ جات کے بارے میں آج سے بیس پچیس سال پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہاں کے لوگ کیسے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان کے ساتھ کیسے رہا جائے  ( شکرال اور شمال کا فتنہ جیسی کہانیاں آج حقیقت لگ رہیں ہیں ) امریکہ کا کردار ہمارے شمالی علاقہ جات میں چھپا نہیں ہے  ۔ ۔ ۔
مگر شاید اب ہمارے درمیان کوئی ابن صفی جیسا بالغ نظر نہیں ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ جو خوبصورت الفاظ سے ہمیں انسانیت کا خوبصورت ترین درس دے  ۔ ۔ ۔  اللہ اس عظیم شخص کی مغفرت کرے  ۔ ۔ ۔(آمین)
بات کہاں کی تھی کہاں جا پہنچی  ۔ ۔ ۔ مگر سچی بات یہ ہی ہے کہ شاید ہمارے ہاں اب کوئی ایکس ٹو نہیں اور اگر ہے بھی تو وہ کسی مغربی طاقت کا آلہ کار ہے  ۔۔ ۔ مجھے آج دن تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم مغرب کو ذھانت کا منبہ کیوں سمجھتے ہیں  ۔   ۔۔  شاید اسلیے کہ اب ہم سوچنا ہی نہیں چاہتے  ۔ ۔۔  ۔ ہمیں تھنک ٹینک چاہیے مگر وہ ہمارے مغربی آقاؤں کے ہوں  ۔۔ ۔ ۔
ہم کیوں نہیں سمجھ پا رہے کہ ہم جن سے لڑ رہے ہیں وہ  ۔ ۔  قوم ہزاروں برسوں سے لڑتی آ رہی ہے  ۔   ۔ ۔ آریہ کے زمانے سے  ۔  ۔ نیشا پور (پشاور) سے لیکر قندہار تک اور بولان سے لیکر خیبر تک  ۔  ۔۔ جو قوم آباد ہے  ۔ ۔ ۔۔  اس کو صرف محبت راس آتی ہے  ۔ ۔ ۔ بندوق کی گولی کا جواب انہیں دینا اچھی طرح آتا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔  یہ وہ قوم ہے جو سچ مچ کی آزاد ہے ۔۔۔ یہ لوگ جب محبت کی بولی بولتے ہیں تو رحمان بابا کی آواز آتی ہے  ۔ ۔ ۔ اور جب یہ جنگی رجز پڑتے ہیں تو خوشحال خان خٹک کی شاعری دل گرماتی ہے انکے  ۔۔۔ ۔ ۔  آج بھی ان میں انصاف کا بول بالا ہے  ۔ ۔ ۔ وہ انصاف کرنا جانتے ہیں  ۔ ۔ ۔ اور ہم انصاف کو قید کر کہ رکھتے ہیں  ۔۔ ۔ ۔  کیا یہاں مجھے حضرت علی (رض) کا قول لکھنا ضرور پڑے گا کہ معاشرے کفر پر قائم رہ سکتے ہیں ، نا انصافی پر نہیں  ۔۔۔ ۔  تو وہ لوگ جن سے آج ہماری حکومت لڑ رہی ہے ، اور وہ حکومت جسنے نے انصاف کے پرخچے اڑا دئیے ہیں وہ انصاف کرنے والوں سے شاید صدیوں تک نہ جیت سکے  ۔ ۔ ۔  اور اگر آج ہم انہیں محبت دیں  ۔ ۔ ۔ وہ بات کریں جو رحمان بابا نے کی جو یوسف شیر بانو کی داستان میں ہے جو قصہ خوانی کے بازار سے لیکر سوات کی حسین وادیوں میں کی جاتی ہے تو شاید ہم ان دکھوں سے چھٹکارا پا سکیں  ۔ ۔۔
آج بولتا پاکستان جو چُپ سادھے بیٹھا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔  وہ بے انصافی ہے  ۔ ۔ ۔ اس قوم کے ساتھ  ۔ ۔ ۔ جو انصاف کرنا جانتی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو ہمارے ہی وجود کا ایک حصہ ہے  ۔ ۔ ۔ ۔۔ کیا ہمیں اب بھی چُپ بیٹھنا چاہیے جب ہم ایک زندہ انسان کو آزاد کر کہ زندگی کی قید سے آزاد ہونے والے کی لاش وصول کرتے ہیں  ۔  ۔۔  یہ انصاف ہے ؟ کیا اب بھی ہمیں یہ چُپ لگی رہے گی  ۔ ۔ ۔ ۔ یہ چُپ چاپ پاکستان  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید اب مزید چُپ برداشت نہ کرے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
 
 
انصاف زندہ ہو گا
کہ انصاف کبھی مرتا نہیں
نمرود کی آگ کتنی ہی کیوں نہ ہو
ابراھیم کبھی بھی جلتا نہیں
کربلا ہے ، یزید بھی ہے
حسین کا عزم بدلتا نہیں
ظلم بڑھے تو مٹ جائے
حق کا حکم یہ ٹلتا نہیں
آج غم کی شام ہے بے شک
دکھ کا سورج گو ڈھلتا نہیں
مگر ہے یقیں کہ سحر ہو گی
اندھیرا دیر تلک چمکتا  نہیں  ۔ ۔ ۔
انصاف ہو گا پھر سے
کہ انصاف کبھی مرتا نہیں  ۔ ۔ ۔
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: