میں چُپ رہوں گا

میں ایک مسلمان ہوں  ۔  ۔ ایک مسلمان کی تعریف کیا ہو گی ، جو اللہ کو ایک مانے ، اور محمد (ص) کو آخری نبی مانے ، قرآن پر ایمان رکھے اور اسپر عمل کرے  ۔۔  ایک حدیث کے مطابق مسلمان اور کافر کے درمیان فرق صرف نماز کا ہے ، ہم میں سے اکثر “نمازی“ ہیں  ۔ ۔  اور ایک اور حدیث کے مطابق تمارا ایمان اس وقت تک پورا نہیں ہوتا جب تک میں (یعنی محمد(ص) ) تمیں تمام انسانوں سے زیادہ عزیز نہ ہو جائیں  ۔ ۔ ۔ پھر مسلمان کی یہ بھی تعریف کی گئی کہ اسکے ہاتھ و زباں سے دوسرے محفوظ رہیں  ۔ ۔ ۔  ہم سب یہ کر رہے ہیں مگر کیا ہم مسلمان ہیں ؟؟
ہماری امت کا فتنہ مال ہے ، اور آج ہم مال کی محبت میں سب کچھ گنوا چکے ہیں ، ہماری نمازیں دکھاوا ہیں ، ہماری زکوتہ ہمارے لئے جگا ٹیکس جیسی ہے رسول خدا (ص) سے محبت ہم نے نعتوں اور گانوں تک محدور رکھی ہے ، اور قرآن کو ہم نے ایک چھوئی موئی قسم کی کتاب بنا دیا ہے  ۔ ۔ ۔ کچھ شک نہیں کہ کچھ عرصے بعد ہم کسی مسجد میں یہ منظر بھی دیکھیں کہ قرآن پڑھنے والا ایک ہے اسکے اردگرد چند محافظ مورچھل لے کر قرآن سے مکھیاں اڑا رہے ہیں  ۔ ۔
کہاں کے مسلمان ہیں ہم ، کہاں کی محبت ہے ہمیں رسول سے کہاں ہم قرآن و حدیث کے داعی بنے پھرتے ہیں  ۔ ۔ وہ نبی جسنے ہمیں جینے کا طریقہ دیا وہ نبی جسنے ہمیں سچ کی راہ دکھائی وہ نبی جسکا سب سے بڑا معجزہ اسکا انسان ہونا تھا ، مجھ سے کتنے ہی لوگوں نے پوچھا کہ دی میسج فلم میں نبی اکرم کا کوئی معجزہ کیوں نہیں دکھایا گیا ؟؟  تو میرا ہمیشہ ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ ہمارے نبی نے ہمیں انسان بن کر رہنا سکھایا  ۔ ۔۔ ہمارے نبی نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو ایک عام انسان نہ کر سکے  ۔ ۔ ۔ اور جن لوگوں نے اس رمز کو سمجھا وہ اس دنیا کے رہبر بنے اور جب ہم نے اس پیغام کو چھوڑا ہم زمانے میں رسواء ہو گئے  ۔ ۔ ۔
کیا رسول سے محبت کا دعویٰ صرف جذباتیت تک ہے ، میں تو اب جب کلمہ پڑھتا ہوں تو اپنے آپ کو سب سے بڑا منافق سمجھتا ہوں ،  کیونکہ یہ شاید دل کی آواز نہیں ہوتی ، رٹا رٹایا جملہ ہوتا ہے  ۔ ۔ ۔ نماز میرے لئے اٹھک بیٹھک ہے  ۔ ۔ ۔ اور قرآن صرف چند مشہور “آیات“ کا گنگنانا ہے  ۔ ۔ ۔
آج جب ایک بار پھر میرے نبی کی شان میں گستاخی کی گئی ہے اور اس گستاخی کا جواب دینے والوں کی بے بسی دیکھی تو چُپ نہیں رہا گیا  ۔ ۔ کیونکہ انکے سامنے مثالیں میرے جیسے مسلمانوں کی دی جاتیں ہیں جو بے عمل ہیں نہیں بلکے کسی بھی کافر سے زیادہ بُرے ہیں  ۔۔  ہم میں انسانیت شاید ختم ہو چکی ہے  ۔ ۔ ۔ دولت کی خاطر ہم اپنی ماں کو بیچنے کے لئے تیار کھڑے ہیں  ۔ ۔  ہمارے لئے آخرت کچھ نہیں  ۔ ۔ صرف دنیا کی زندگی ہی سب کچھ ہے  ۔ ۔ 
آج اس انٹرنیٹ پر مسلمانوں کا ایک جم غفیر ہے ، جو احتجاج کر سکتا ہے ، مگر ہم نے ایک ڈیجیٹل پٹیشن سائین کر کہ اپنا فرض پورا کر دیا ہے مگر اس سے ہوا کیا  ۔ ۔ کیا بگڑا کسی کا  ۔ ۔ زیادہ سے زیادہ ہم جوش میں آ کر اپنا ہی گھر جلا لیتے ہیں  ۔ ۔  مگر کبھی ساتھ مل نہیں بیٹھیں گے  ۔ ۔ ۔
میری نظر میں ہم مسلمانوں کی بنیادی غلطیاں یہ ہیں
١- اسلام کو ہم نے ایک مذہب بنا دیا ہے ، جو چند رسومات اور حرکات کا نام ہے
٢- ایمان کو ہم نے ایک فلسفہ بنا دیا ہے ، جسکی گھتھیاں سلجھانے کے لئے بہت بڑا “مدبر“ ہونا پڑتا ہے
٣- دولت دنیا کو ضرورت کی جگہ ہم نے خواہش بنا لیا ہے ، جو کبھی بھی ختم نہیں ہوتی ، اور ہم ڈر کے مارے اس سے چپکے بیٹھے ہیں
٤- اسلام نے جو فرق ختم کئے تھے ہم نے انہیں افراق کو اسلام کا نام دیا ہے ، ایک خدا ایک رسول اور ایک کتاب پر ہم سب متفق ہیں مگر عمل کے مقام پر ہم سے زیادہ انتشار کسی میں بھی نہیں
٥۔ اسلام نے انسانی نفس کو سمجھ کر بہت کچھ آسان کیا مگر ہم مشکل میں خود کو پھنسانا پسند کرتے ہیں ، عورت کا حصول ہم نے عورت کو ایک “اَن ریچ ایبل“ چیز بنا کہ رکھ دیا ہے ، انسان کو ہم فرشتہ بنانے پر تُل گئے ہیں اور فرشتے کا معیار عورت سے دوری پر ہے
٦- ایک مسلمان عورت نے خود کو آزادی کی چکی میں ایسا پیسا ہے ، کہ اب وہ اپنی کسی ہیت میں اسلام کی نمائیدگی نہیں کر پا رہی ، اسلام نے عورت کو اتنی آزادی دی مگر ہماری مسلمان عورت کے لئے آزادی کا معیار مغربی لباس اور رہن سہن ہی رہا
٧۔ تعلیم کو ہم نے صرف جاننے کا عمل سمجھا ، اعلٰی سے اعلی تعلیم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکی ، ہم نے اپنی سوچ کو بدلنا اپنی بے عزتی سمجھی ، ایک آزاد معاشرے میں مسلمان ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے جبکہ ایک پابند معاشرے میں وہ باؤلا ہو جاتا ہے  ۔ ۔  سعودی عرب کی مثال سامنے ہے  ۔ ۔  جہاں معاشرہ  ایک ذہنی انتشار کا شکار ہے  ۔ ۔ ۔ اور یہ انتشار انہیں کسی اچھی سمت نہیں لے جا رہا ۔ ۔ ہم نے غور کرنا چھوڑ دیا ہے ، علم کو عمل سے الگ کر دیا ہے  ۔ ۔
٨- مسلمانوں کی کاروباری بددیاتنی اب ایک مثال بن چکی ہے ، یہاں یو اے ای میں اب جب کسی کام کے لئے “انشااللہ“ کہا جاتا ہے تو اسکا مطلب ہوتا ہے کہ یہ کام نہیں ہو گا یا بدیر ہو گا  ۔ ۔ 
٩- حکمرانوں کا بدعنوان ہونا اور امراء کا عیاش ہونا سمجھ آتا ہے ، ہم مسلمانوں کا غریب سے غریب آدمی بھی جو یہ جانتا ہے کہ سب اچھائیاں یا برائیاں اللہ کی طرف سے آتییں ہیں اور ہم پر ہر حالت میں شکر و صبر واجب ہے  ۔ ۔  مگر ہم اپنا “اسٹیٹس“ چینج کرنے کے چکر میں صبر و شکر دونوں سے اجتناب کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔
١٠۔ اللہ ہمیں بار بار مواقعے دیتا ہے سنبھلنے کے سدھرنے کے مگر ہم نے قسم کھائی ہے کہ ہم نہیں سدھریں گے ، بڑی بڑی مباحث کریں گے ، تصویر کے جائز ناجائز ہونے پر ، مکھی کو چائے میں ڈبونے سے لیکر ہم باتھ روم کے کموڈ کے حلال یا حرام ہونے پر سوالات کر لیں گے بحث کر لیں گے  ۔ ۔ مگر کبھی بھی اپنے آپ کو بدلنے پر غور نہیں کریں گے  ۔ ۔ ۔
آج بہت رونے کو دل چاہتا ہے ، دعا کرنا چاہتا ہوں ، لب نہیں ہلتے ، ہاتھ نہیں اٹھتے  ۔ ۔  کیا کروں  ۔ ۔ میں بھی تو آپ میں سے ہوں  ۔ ۔ مجھے بھی دولت و دنیا چاہیے  ۔ ۔ مجھے اس سے کیا کہ میرے نبی کی شان میں گستاخی ہوتی ہے یا نہیں ، مجھے اس سے کیا کہ میرے مسلمان بھائی مرتے ہیں یا غربت کی چکی میں پستے ہیں  ۔ ۔ مجھے صرف اپنا سوچنا ہے کہ میں کس طرح سے اپنی زندگی کی آسائشیں بڑھاؤں  ۔ ۔ ۔ کس طرح سے   ۔۔ ۔  خود کو  ۔ ۔ ایک اسٹیٹس سمبل بناؤں  ۔ ۔ ۔ آخرت کس نے دیکھی ہے  ۔ ۔ ۔
بابر عیش کوش ، کہ عالم دوبارہ نیست  (بابر عیش کر لو کہ یہ دنیا دوبارہ نہیں ملنے کی )
میں سب دیکھوں گا سہوں گا  ۔ ۔  مگر میں چُپ رہوں گا  ۔ ۔  میں چُپ رہوں گا
Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by Iftikhar Ajmal on فروری 26, 2008 at 6:03 صبح

    درست لکھا ہے آپ نے لیکن ہمارا بنیادی مسئلہ تعلیم کا فُقدان ہے کیونکہ ہم تعلیم کو صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں جس کے عوض دو وقت کی روٹی حاصل کرنا ہمار مقصد ہوتا ہے نہ کہ علم کی روشنی حاصل کرنا اور جب تک علم کے نور سے سینہ منوّر نہ ہو جائے دین کی سمجھ ناممکن ہے ۔

    جواب دیں

  2. Posted by Azhar Ul Haq on فروری 26, 2008 at 7:43 صبح

    جی انکل بالکل درست کہا آپ نے اسی لئے میں نے لکھا ہے “تعلیم کو ہم نے صرف جاننے کا عمل سمجھا “ اور جہاں تعلیم نہ ہو وہاں اچھی سے اچھی تربیت بھی اثر نہیں کر سکتی  ۔ ۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: