چمکتا ہوا روشن اندھیرا !!!۔

مجھے بچپن سے ہی اندھیرے سے ڈر لگتا ہے ، ڈر کیا ہے سمجھ نہیں آتا ، جب ذرا بڑا ہوا تو خود پر جبر کر کہ اس ڈر کو ختم کرنے کی کوشش کی ، مگر نہیں کر پایا  ۔ ۔ ۔ اب جب کہ میں اندھیرے سے مانوس ہو چکا ہوں ، مگر پھر بھی ڈر باقی ہے ، بس اب اندھیرا ذرا بدل گیا ہے  ۔ ۔ میں اسے روشن اندھیرا کہتا ہوں  ۔ ۔ ۔ یا پھر چمکتا اندھیرا  ۔ ۔ ۔ یہ روشن اندھیرا بھی عجیب ہے ، میں اس میں سب کچھ دیکھ سکتا ہوں ، ہر چیز بہت واضح نظر آتی ہے ، مگر پھر بھی اندھیرا لگتا ہے  ۔ ۔ اور جب اندھیرا ہوتا ہے تو ڈر بھی لگتا ہے  ۔ ۔۔
آج ایسا ہی کچھ اندھیرا مجھے اپنے دیس پر نظر آ رہا ہے ، میں اپنے دیس سے دور ہوں مگر مجھے میرا دیس چمکتا دکھائی دیتا ہے ، مگر جب میں اس چمک کو غور سے دیکھتا ہوں تو پتہ چلتا ہے ، کہ یہ خود کش حملوں اور برستی گولیوں کی چمک ہے ۔ ۔ ۔ اور جہاں یہ چمک نہیں وہاں مجھے کچھ برستی آنکھوں کے آنسوؤں کی چمک دکھائی دی ، اور باقی جگہوں پر پسینے کی ان بوندوں کی چمک تھی تو ضروریات زندگی کی تلاش میں یوٹیلٹی اسٹورز کے باہر کھڑی عوام کے ماتھے پر تھی  ۔ ۔ ۔ اتنی چمک اور اتنا اندھیرا  ۔ ۔ ۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے  ۔ ۔۔ بہت زیادہ  ۔ ۔ اتنا تو کبھی میں بچپن میں نہیں ڈرا  ۔ ۔ ۔ مجھے پتہ ہے جب میں ڈرتا تھا تو امی کی گود میں چھپ جاتا تھا  ۔۔ ۔ میرے دیس کی دھرتی بھی ماں جیسی ہے  ۔ ۔ روز کتنے ہی ڈرنے والوں کو اور ڈرانے والوں کو بھی اپنی گود میں لیتی ہے مگر  ۔ ۔  یہ ڈر ہے کہ ختم ہوتا ہی نہیں  ۔ ۔
ایک اور ڈر بھی ہے جو مجھے لوگوں سے لگتا ہے ، میں اکثر کہتا ہوں کہ میں اللہ سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا اللہ کے بندوں سے ڈرتا ہوں ، کیونکہ اللہ کا تو مجھے پتہ ہے کہ وہ میرے حق میں بہتر ہی کرے گا ، یہ بندے جو ہیں نا یہ کبھی بھی اچھا نہیں سوچیں گے میرے لئے  ۔ ۔۔اور اسی لئے ان سے ڈر لگتا ہے  ۔ ۔  ویسے میرے دیس کا ہر باسی دوسرے سے ضرور ڈرتا ہے ، گاہک دوکاندار سے ، دوکاندار گاہک سے ، ووٹر لیڈر سے لیڈر ووٹر سے ، امام مقتدی سے اور مقتدی امام سے  ۔ ۔ ہم سب ایک دوسرے سے ڈرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ بازار میں ہجوم ہو تو ہر کوئی خود کش بمبار نظر آتا ہے ، کہیں پر تنہا ہوں تو ڈکیتی کا اور چھینا جھپٹی کا ڈر رہتا ہے  ۔  ۔۔ مگر ہم عجیب قوم ہیں بالکل اسپین کے بُل فائٹرز کی طرح  ۔ ۔  ہمیں پتہ ہے کہ یہ “بُل“ ہمیں مارے گا ہم پھر بھی لال خون سے تر اپنا پیراھن لے کر اسکے سامنے کھڑے ہوتے ہیں  ۔ ۔ کہ آ بیل مجھے مار  ۔ ۔ اور جب وہ مارتا ہے  ۔ ۔ ۔ تو پھر ہم روتے ہیں چوٹ کھاتے ہیں درد ہوتا ہے  ۔ ۔ اور پھر ہمیں غصہ بھی آتا ہے کہ لوگ یہ تماشا دیکھ کر تالیاں کیوں پیٹ رہے ہوتے ہیں  ۔ ۔ ۔؟؟؟
اگلے کچھ دنوں میں ہم “مقدر “ کے غلاموں کو اپنے “آقا“ منتخب کرنے ہیں  ۔ ۔ یعنی ہمیں وہ “بُل“ منتخب کرنے ہیں جو ہمیں ماریں گے ، اور اگر موقعہ ملا تو ہم انہیں مار دیں گے  ۔ ۔۔  اس کھیل میں ایسا تو چلتا رہے گا نا  ۔ ۔ ۔ خون سے تر  ۔ ۔ پوشاک ۔۔  یہ لال رنگ  ۔ ۔۔ ہمارا پسندیدہ ہے  ۔ ۔ کبھی ہم لال مسجد میں یہ لال رنگ لگاتے ہیں  ۔ ۔  کبھی شمالی علاقہ جات میں  ۔ ۔ ۔ شام کی لالی کو لال خون کے دان سے رنگتے ہیں  ۔ ۔ کبھی ہمارے گالوں کی لالی  ۔ ۔  چمکتی ہے اور کبھی ہم لالی کی دلالی کرنے لگتے ہیں  ۔ ۔ ۔یہ چمک دمک بہت زیادہ ہے مگر  ۔ ۔ پھر بھی اندھیرا گُپ اندھیرا ہے  ۔ ۔ چمکتا ہوا  ۔ ۔ روشن اندھیرا ۔ ۔ ۔۔ ۔
Advertisements

One response to this post.

  1. Posted by Mera Pakistan on فروری 13, 2008 at 2:18 شام

    بہت خوب

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: