بے نظیر کا قتل اور ہماری قوم

بہت سوچا مگر سمجھ نہیں آ رہا کہ آخر ہماری حکومت بے نظیر کے قتل میں اسکی موت کی وجوہات کو کیوں اتنی اہمیت دے رہی ہے ، اس سانحے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد ہماری سرعت تجزیاتی ٹیم نے جو کہا وہ آج دنیا کی بہترین تحقیقاتی ٹیم بھی کہ رہی ہے ، مگر اس کی وجوہات کیا ہے اس کی سمجھ نہیں آ رہی  ۔ ۔ کہ آخر حکومت یہ ثابت کرنے پر کیوں تلی ہے کہ بے نظیر کی موت گولی سے نہیں ہوئی  ۔ ۔۔؟؟
میں نے بہت سوچا  ۔ ۔  تو کچھ سوالات ذہن میں ابھرے
١۔ حکومت یہ کہنے کی کوشش کر رہی ہے ، موت کی وجہ خود کش حملہ ہے ، کیونکہ ہتھیار سے وار کو تو کتنے ہی طریقوں سے روکا جا سکتا ہے مگر خود کش حملے کو نہیں
٢۔ حکومت اپنی ان کوتاہیوں یا حرکتوں کی پردہ پوشی چاہتی ہے جو اسنے قتل کے شواہد مٹانے کے حوالے سے سرانجام دئیے ، جیسے جائے وقوع کا دھو دینا ، پوسٹ مارٹم نہ کرنا وغیرہ
٣۔ عوام کی توجہ قتل کرنے والوں سے ہٹانا ، کیونکہ ایک خیال یہ بھی تھا ، کہ گولی سنیپر کی بھی ہو سکتی ہے ، جو کسی دور کے مقام سے چلائی گئی تھی  ۔ ۔ ابھی تک یہ بات نہیں کی جا رہی کہ قاتل کے پیچھے کیا عوامل تھے  ۔ ۔۔  حکومت اتنی زیادہ اپنی صفائیاں کیوں دے رہی ہے  ۔ ۔  یاد رہے کہ مشرف اور آرمی کے درمیان ایک محاذ آرائی شروع ہو چکی تھی  ۔ ۔ بے نظیر کی ڈیل کو لے کر
٤۔ حکومت نے اپنے ابتدائی ثبوتوں پر زور نہیں دیا تھا ، جیسے بیت اللہ محسود کی وہ مبینہ ٹیپ جسے سنایا گیا تھا ، القاعدہ کے رہنماؤں کے بیان اور دوسرے بیانات جو وقوتاً فوقتاً حکومت کے لوگوں کی طرف سے آئے ۔
٥۔ بے نظیر کے قتل کا فائدہ سب سے زیادہ کسکو پہنچا ؟ ، میری نظر میں مشرف کو ، مشرف نے بار بار کہا کہ ہم تو پہلے ہی کہ رہے تھے کہ عوامی اجتماعات خطرناک ہیں ، اور بے نظیر اسلام پسندوں کا پسندیدہ ٹارگٹ ہونگی ۔  ۔ اور یہ ہی پیغام وہ مغرب کو دیتے رہے ہیں  ۔۔  دوسرا مشرف کو اپنے اوپر سے ق لیگ کا لیبل ہٹانا تھا  ۔ ۔
٦۔ بے نظیر کے بعد قوم متحد ہونے کے بجائے بکھرتی جا رہی ہے ، پنجاب کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے ، پنجابیوں کو سندھیوں ،بلوچیوں ، مہاجروں اور حتہ کہ پٹھانوں تک کا دشمن دکھایا جا رہا ہے ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عوامی سطح پر رابطے اچھے ہیں اور خواص ہی یہ آگ بھڑکا رہے ہیں  ۔ ۔ ۔
٧۔ عوام پہلے ہی بنیادی ضروریات زندگی کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی ہے ، اسے بے نظیر کے قتل کی تحقیقات سے زیادہ دلچسپی نہیں ( چہلم اور بے نظیر کے مزار پر آمد کے جلوسوں کی مثال نہیں چلے گی ، کیونکہ وہ لوگ بھی امید کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ) اب حکومت کبھی بھی نہیں چاہے گی کہ عوام کسی بھی طور کوئی سیاسی ایشو لے کر انتخابات پر اثر انداز ہوں  ۔ ۔۔
٨۔ مشرف نے پہلے ہی کہ دیا ہے کہ اس دفعہ ووٹ کم پڑیں گے ، مگر جو پڑیں گے وہ مشرف کے حق میں ہونگے ، اگر بے نظیر کے اصل قاتل سامنے آ جاتے ہیں تو یہ کھیل بگڑ سکتا ہے ، مشرف نے چاہے دکھاوے کے انتخابات کروانے ہوں مگر کروانے ضرور ہیں
٩۔ بے نظیر کے قتل کی وجہ سے جو ہمدردیاں ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے پیدا ہوئیں تھیں ، وہ انتخابات کو ایک مہینہ ملتوی کر کہ اگر ختم نہیں کی گئیں تو کم ضرور ہو گئیں ہیں ، اس میں کافی زیادہ قصور پیپلز پارٹی کا اپنا بھی ہے ، خاصکر زرداری کو چئیرمین بنانا اور بلاول کو آگے لانا  ۔ ۔ ۔ پیپلز پارٹی میں مزید تقسیم ہو رہی ہے ، لاشوں کی سیاست تو اسے ورثے میں ملی تھی مگر اب پارٹی آمریت اور خاندانی چپقلش بھی سامنے آ رہی ہے  ۔ ۔ (فاطمہ بھٹو کے کالم اس بات کی گواہی ہیں )
١٠۔ مختصر یہ کہ حکومت نے اپنی بات منوا لی ، بین الاقوامی حیثیت میں بھی اور داخلی حیثیت میں بھی ، مشرف اپنی جگہ موجود ہیں اور رہیں گے ، پاکستان ایک کے بعد ایک بحران میں جا رہا ہے ، الیکشن بہت خونی ہونگے ، بے نظیر کا قتل اس سلسلے کا پہلا خون تھا  ۔ ۔  مشرف اب مغرب کو قائل نہیں کر پا رہے ، طالبان افغانستان میں مضبوط ہو رہے ہیں ،  فاٹا میں مقامی دشمن اب ایک نئے دشمن کو جنم دے رہے ہیں ، فوج کو پیشہ وارانہ زمہ داریوں میں لگایا جا رہا ہے ، عوام میں روشن خیال اور بنیاد پرستوں کے درمیان محاذ آرائی بڑھ رہی ہے ، غریب اور امیر کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں درمیانی طبقہ یا تر غریب ہو رہا ہے یا پھر امیر  ۔ ۔ ۔
اب ان سب کا حل کیا ہے ؟
حل صرف ایک ہے ، اور وہ ہے انقلاب  ۔ ۔ ۔ جب تک ہر گھر پر ان حالات کا منفی اثر نہیں ہو گا اس وقت تک ہم لوگ نہیں سدھریں گے ، ہم نام اسلام کا لیتے ہیں کام ہم کافروں سے بدتر کرتے ہیں  ۔ ۔ اب دعا سے کچھ نہیں ہو گا   ۔ ۔ ۔ نہ ہی کوئی پیر فقیر ہمیں بچا سکتا ہے ، کیونکہ اگر ایسا ہو سکتا تو بغداد والے اتنی تباہیاں نہیں دیکھتے  ۔ ۔ ۔ جہاں کے متبرک مقاموں کو قتل گاہ بنا دیا گیا  ۔ ۔ ۔
جب تک ہم اپنی انفرادیت ختم نہیں کرتے ، کچھ نہیں ہو سکتا ، میں مثال دے سکتا ہوں انٹر نیٹ پر موجود فورمز کی ، اور بلاگز کی جہاں کا ہر بندہ (مجھ سمیت) اپنے آپ کو تیس مار خان سمجھتا ہے ، اور اپنے آپ کو نیک اور شریف گردانتا ہے اور اپنے آپ کو ہر قصور سے مبرا قرار دیتا ہے ، یہ لوگ پڑھے لکھے ہیں ، سب سمجھتے ہیں ، علم و عمل کو بھی جانتےہیں   ۔ اگر یہ ہی خود میں  ۔ ۔ عاجزی اور انکساری پیدا کر لیں تو ہماری آدھی بیماریاں ختم ہو جائیں  ۔ ۔ ۔ مگر کیا کریں  ۔ ۔ ۔ ہم اپنی “پہچان “ کھونا نہیں چاہتے  ۔ ۔ ۔ اور قوم جیسے “ہجوم“ کا حصہ بننا نہ مجھے پسند ہے  ۔ ۔ ۔ نہ کسی اور کو  ۔ ۔۔
تو پھر کیا مایوس ہو جائیں ؟؟ نہیں نہیں  ۔ ۔ ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ، ہم جیسے لوگوں کے ساتھ تاریخ میں بار بار وہ سب کچھ ہوا ہے جو ہونا چاہیے تھا  ۔ ۔  بیداری ہو گی  ۔ ۔ بے شک کچھ عرصے کے لئے  ۔ ۔ مگر شاید  ۔  ۔ کافی کچھ کھونے کے بعد  ۔ ۔۔
Advertisements

One response to this post.

  1. اور انقلاب بھی اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک لوگ خود سڑکوں پر نہیں آئیں گے، کیونکہ خمینی بھی اس وقت تک نہیں آ سکتا جب تک 10 لاکھ افراد تہران کی گلیوں کوچوں میں شاہ وقت کا تختہ الٹنے کا عزم نہیں کر لیتے۔ اظہر بھائی ہم پاکستانی مکمل طور پر منافق ہو چکے ہیں، ہم کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ۔ زبانوں پر کچھ اور اور ذہنوں میں کچھ اور۔ باتیں انقلاب اور خیالات ؟؟؟ کبھی کبھار سوچنے پر دماغ سن ہو جاتا ہے تو مایوسی چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے لیکن پھر کسی امید کی کرن کی آس پر ایک بار پھر جینے کی امنگ پیدا ہو جاتی ہے۔ امید کی یہ کرن کب شعلہ بنے گی؟ شاید ہمارے بعد۔۔۔۔۔۔۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: